اسرائیل نے کہا کہ ہے کہ وہ حال ہی میں غزہ امداد لے کر جانے والے قافلے پر اپنے فوجیوں کے حملے کی خود تحقیقات کروائے گا۔ دریں اثناء بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے اسرائیل سے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کمیٹی نے غیر معمولی طور پر ایک سخت بیان میں کہا کہ اسرائیل کا محاصرہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔کمیٹی نے ضروری سامان کے بغیر کام کرنے والے ہسپتالوں، ہر روز کی بجلی کی بندش اور پینے کے لیے مضر صحت پانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ کی کل آبادی کو سزا دے رہا ہے۔
کمیٹی نے حماس پر بھی الزام لگایا کہ وہ ریڈ کراس کو چار سال سے ان کی قید میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت تک رسائی نہ دے کر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔اسرائیلی کمانڈو نے غزہ شہر کے لیے امداد لے کر جانے والی کشتیوں پر حملہ کر دیا تھا جس میں کئی ترک کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔
اسرائیلی حملے کے بعد بین الاقوامی سطح پراسرائیل کی طرف سے غزہ کے محاصرے کی پرزور مذمت کی گئی تھی۔
اسرائیلی حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اب کہا گیا ہے کہ مذکورہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس میں دو بین الاقوامی مبصر بھی شامل ہوں گے۔
بین الاقوامی مبصرین میں شمالی آئرلینڈ کے سابق سیاستدان اور امن کے نوبل انعام یافتہ ڈیوڈ ٹرمبل اور ریٹائرڈ کینیڈین جنرل کین واٹکن شامل ہیں۔
اسرائیل نے اقوام متحدہ کے زیر انتظام تحقیقات کروانے کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔ اسرائیلی کابینہ پیر کو مجوزہ تحقیقات کی منظوری دے گی۔امریکہ نے اپنے رد عمل میں امید ظاہر کی ہے کہ اسرائیل بغیر کسی تاخیر کے تحقیقات کروانے کے بعد اس کے نتائج منظر عام پر لائے گا۔
امریکی انتظامیہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کروائے گا.

آسٹریلیا میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اب ایک قابل ذکر تعداد رہائش پذیرہے لیکن اسکے باوجودافسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بحیثیت مجموعی ہم لوگ کچھ خاص ترقی نہیں کر سکے. اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن میری دانست میں ایک دوسرے پر عدم اعتمادی اور بدگمانی نے بھی ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے. یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ اس بات کا شکوہ کرتے پائے جاتے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہیں وہی خود بھی اس عمل میں مبتلا ہوتے ہیں. یہ ایک قدرتی امر ہے کہ معاشرتی رہن سہن کے اعتبارسے بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہوتی ہے. اب اس بنا پر کسی ہم وطن کو کم تر سمجھنا کسی طور زیب نہیں دیتا. پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں کہ جو شخص سب کو خوش رکھ سکے وہ منافق ہوتا ہے. یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ سبھی لوگ ایک وقت میں آپ سے خوش ہو سکیں. بہرحال حتی الامکان کوشش یہ کرنی چاہئے کہ افہام و تفہیم اور بھائی چارے کی فضا قائم رکھی جائے اور ایک دوسرے کے بارے میں خوامخواہ کی غلط فہمیوں کو فروغ نہ دیا جائے. ایک دوسرے کے بارے میں حسن ظن رکھنے سے ہی ہم ایک صحتمند معاشرے کی بنیاد رکھ سکیں گے. اتفاق میں برکت ہوتی ہے اور جن کمیونٹیوں نے بھی یہ راز پا لیا ہے وہ آج ترقی کی جن منازل پر کھڑی ہیں پاکستانی صرف اسکا تصورہی کر سکتے ہیں. دور کیوں جائیں. ہمارے دیکھتے دیکھتے بنگلادیشی کمیونٹی نے اپنا آپ منوا لیا ہے. وہ کامیاب میلے کروا چکے ہیں اور اب شنید ہے کہ منٹو کے علاقے میں جہاں وہ اکثریت میں ہیں انہوں نے اپنا ایک مرکز بنانے کے لئے جگہ بھی خرید لی ہے لیکن اس کے برعکس پاکستانیوں کو دیکھیں تو صرف شیخ چلی کے خواب دیکھے اور دکھائے جاتے ہیں. قصہ کچھ یوں ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ جسمانی طور پر تو آسٹریلیا میں وجود رکھتے ہیں لیکن ذہنی طور پر ہمارا تعلق پاکستان اور وہاں ہر چلنے والی گندی سیاست سے ہی رہتا ہے. یہاں آنے کے بعد بھی ہم میں سے اکثر لوگ وہی سیاست یہاں کے جمہوری ماحول میں بھی چلانا چاہتے ہیں اور اپنی اجارہ داری اور موقع پرستی کے وہ تمام حربے یہاں بھی استعمال کئے جاتے ہیں جنکی کم ازکم آسٹریلیا میں نہ گنجائش ہے اور نہ ہی ضرورت. اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی اچھے مقصد کے حصول میں دو بھائیوں، دو دوستوں یا دو ہم وطنوں میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے اور اگر اختلاف رائے معقول ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگراختلاف رائےشخصیاتی مخاصمت کی شکل اختیار کر لے تو یہ بات ٹھیک نہیں ہوتی. ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھنا چاہئے. خاص طور پر کسی سماجی یا رفاہی ادارے کی بنیاد ڈالتے وقت افہام و تفہیم اور بھائی چارے کے ساتھ ساتھ اختلاف رائے رکھنے کے باوجود صحتمند بنیادوں پر تعاون استوار رکھنااشد ضروری ہوتا ہے. ابھی حال ہی میں کچھ مزید پیش رفت پاکستانی کمیونٹی میں دیکھنے میں آ رہی ہے . بات کچھ اس طرح یے کہ یہ ہمارا قومی وتیرہ بن چکا ہے کہ ہم نہ صرف یہ کہ کچھ نہ کریں اور ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں بلکہ اگر کوئی کرنا بھی چاہتا ہے اور کر بھی رہا ہے تو اس کے سر میں مٹی ڈال کے اسے رسوا کیا جائے. کمیونٹی میں چند ہی گنے چنے لوگ ہیں جو کہ سامنے دکھائی دیتے ہیں. اب ان میں سے کتنے ہیں جو حقیقت میں کمیونٹی کا درد دل میں رکھتے ہیں ورنہ بہت سے لوگوں کا ایجنڈا سامنے نہیں آتا. ہم خیال لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر ایک مقصد کے حصول کے لئے جمع کر نا کم از کم پاکستانی کہلانے والے لوگوں کے لئے کافی مشکل امر ہے. یہاں پر زیادہ تر لوگوں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ پیسے یا تعلقات کی بنا پر بغیر انتخاب کرائے انہیں صدر، نائب صدر یا جنرل سیکریٹری چن لیا جائے اور باقی کے لوگ انکی بالادستی پر سرتسلیم خم کریں. یہ ہمارا پاکستانی نقطہ نظر ہے جس سے مفر ممکن نہیں لیکن میں یہ کہنا چاہوں گا کہ جہاں پر سماجی یا رفاہی اداروں کی بنیاد رکھے جانے کا تعلق ہے وہاں پر ایسا نقطہ نظر رکھنا نقصان پہنچاتا ہے. ایسے اداروں میں کوئی کسی کا ذاتی ملازم نہیں ہوتا.ہونا یہ چاہیے کہ ایک دوسرے کا احترام ہو اور جہاں اختلاف رائے پیدا ہو رہا ہے اسے مناسب طریقے سے دور کیا جائے.ابھی حال ہی میں پی اے ایف نامی ایسوسی ایشن وجودمیں آئی ہے. ابھی اسکا وجود کاغذات میں ہی ہے لیکن ابھی سے اس کے بارے میں لوگوں میں تحفظات پائے جاتے ہیں. ادارہ گونج کو شنید ملی تھی کہ شفقت عباس نامی کوئی عہدے دار ہیں جو پاکستان ایسوسی ایشن کی نااہلی کی بنا پر اس سے الگ ہونا چاہتے ہیں اور کوئی گروہ بندی ہو رہی ہے. بعد میں سنا کہ ان کے ساتھ دوسرے عہدے دار حافظ گلزار بھی شامل ہو گئے ہیں پھر معلوم ہوا کہ سابق جنرل سیکریٹری انصاف علی خان بھی اس گروہ کے ساتھ شامل ہیں. تاہم پھر اطلاع ملی کہ ان حضرات نے مجموعی طور پر ایسوسی ایشن سے اس بنا پر استعفی دے دیا ہے کہ وہ لوگ کوئی کام آئین کے مطا بق نہیں کر رہے. خطرہ یہ محسوس ہو رہا تھا کہ شاید ایسوسی ایشن ماضی کی طرح ایک بار پھر دو دھڑوں میں بٹ جائے گی لیکن اس بار کچھ مزید پیش رفت ہوئی.لیورپول کےراشیا ریستوران میں ڈاکٹر علی سرفراز کی جانب سے پاکستانی ہائی کمشنر کو دعوت ظہرانہ دی گئی جو انہوں نےقبول کر لی کیونکہ وہ یہی چاہتی ہیں کہ پاکستانی برادری ترقی کرے. اس تقریب کے انعقاد میں ڈاکٹر علی سرفراز کے ساتھ ساتھ جس نے محنت کی وہ حافظ گلزار بتائے جاتے ہیں لیکن جب 19 جون کو فیڈریشن کا باقاعدہ اجلاس بلایا جانا مقصود تھا اس میں حافظ گلزار کو غائب کر دیا جاتا ہے. وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ فیڈریشن کے مجوزہ آئین میں ایسی تبدیلی چاہتے تھے جو کہ مناسب نہیں تھی اور اندازہ یہ ہوتا تھا کہ فیڈریشن میں شامل ہونے کے لئے وہ اپنی کچھ شرائط منوانا چاہتے ہیں اوریہ بھی بتایا گیا کہ چونکہ خدشہ تھا کہ فیڈریشن میں بھی سیاسی محاذ آرائی شروع ہو جائے گی اس لئے انہیں باہر نکال دیا گیا. یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری محمد آصف خان اور حافظ گلزار کی کبھی آپس میں نہیں بنتی. نتیجہ صاف ظاہر تھا کہ وہ گیم سے ہی باہر کر دئے گئے.ہمیں بجا طور پر یہ اندیشہ ہے کہ اگر فیڈریشن ان بنیادوں پر کھڑی ہو بھی گئی تو زیادہ دن نہیں چل سکے گی.اس لئے ڈاکٹر علی سرفراز جیسے جہاندیدہ لوگوں کو افراد کے چناو میں دھیان سے کام لینا چاہئےورنہ کشتی کا ساحل پہ ہی ڈونے کا اندیشہ ہے.

انا للہ و انا علیہ راجعون
بڑے افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ سڈنی کی معروف شخصیت چوہدری شعیب حنیف کے بھائی چوہدری اویس حنیف کی اہلیہ بچے کی ولادت کے دوران انتقال کر گئیں. ادارہ گونج چوہدری شعیب اور انکے اہل خانہ کے غم میں برابرکا شریک ہے اور دعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں اور لواحقین کو صبر جمیل کی طاقت عطا فرمائیں. آمین

گونج (خصوصی رپورٹ)میں اسے پاکستانیوں کی بدقسمتی کہوں گا کہ جہاں ملکی سطح پر ہمیں مناسب قیادت نصیب نہیں ہوئی وہاں بیرونی ممالک میں بھی خاص طور پر آسٹریلیا کے دیگر شہروں کی طرح سڈنی میں بھی پاکستانیوں کا کوئی پرسان حال نہیں. تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ پاکستانی کہلانے والے بہت سے ہم وطن آسٹریلیا کو وطن ثانی بنا چکے ہیں. انکی بالکل درست تعداد کا تعین تو بہت مشکل ہے حالانکہ یہ کام پاکستانی سفارتخانہ بخوبی انجام دے سکتا تھا کہ آسٹریلیا میں آنے والے تمام پاکستانیوں کی کوئی ڈاٹا بیس بنائی جاتی تاہم میرے خیال میں ایسا کچھ نہیں ہے. بحیثیت قوم ہم میں بہت سی خامیاں پائی جاتی ہیں. جان کی امان پاتے ہوئے میں چند ایک کا ذکر کروں گا اور وہ بھی اس نیت سے کہ مقصد تنقید برائے تنقید نہیں ہے بلکہ تنقید برائے اصلاح بات کر رہاہوں تاکہ اسکی روشنی میں اگر بات معقول ہو تو اسے اپنایا جائے.میں یہ سوال بہت سے دانشوروں اور زعما کہلانے والے لوگوں سے پوچھ چکا ہوں کہ آخر غلطی کس سے ہوئی اور کہاں پر ہوئی لیکن کسی کے پاس بھی کوئی مناسب جواب نہیں تھا. میں یہاں پر کچھ کہنے کی جسارت کروں گا لیکن ساتھ ہی یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ کچھ ضروری نہیں کہ میں جو بھی لکھ رہاہوں اس سے آپ سوفیصد اتفاق کریں لیکن اتنی گذارش ضرور کروں گا کہ اگر بات دل کو لگے تو ہاں میں ہاں ضرور ملائیے گا. آپ یقینی طور پر اس بات سے اتفاق کریں گے کہ جب تک مسلمان اللہ تبارک و تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر صحیح انداز سے چلتے رہے تو دنیا میں انکا غلبہ تھا. آج اگر مسلمانوں پر یہ حالت آ چکی ہے کہ ایک مکھی مارتے ہوئے تو شاید کسی کے دل میں کوئی جذبہ ترحم ابھرتا ہولیکن ایک مسلمان کا خون بہاتے ہوئے کوئی آنکھ نم نہیں ہوتی اور کسی کو احساس ندامت نہیں ہوتا . اگر اسکی وجہ تلاش کی جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اسلام میں کوئی کمی واقع ہو چکی ہے کہ اللہ تعالی ہم سے ناراض ہو گئے ہیں. آج بھی صدق دل سے توبہ کرلیں اور اصلاح نفس سے آغاز کر دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ایک بار پھر دنیا میں غلبہ حاصل نہ کر لیں. بات دور نکل گئی. یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی جو حکومت قائم تھی وہ سوائے چند ایک مغلیہ فرمانروا از قسم اورنگ زیب عالمگیر کے ملوکیت اور شہنشاہیت کی بنیاد پر قائم تھی اور یہی وجہ ہے کہ جو برائیاں ایسی حکومت میں پائی جا سکتی ہیں وہ ان میں موجود تھیں جن کی وجہ سے شکست و ریخت کا ایسا سلسلہ قائم ہوا کہ ہزاروں میل کی دوری سے تاجروں کا بھیس بدل کر آنے والی استعماری قوتوں کومسلمانوں پر برتری حاصل ہو گئی اور اس کے بعد تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہم نے انگریزوں کی غلامی میں کئی سال گذار دئے.بالآخر اللہ سبحانہ و تعالی نے مسلمانوں کی حالت زار پر کرم کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح جیسا رہنما ہمیں عطا کر دیا جس نے اپنی صحت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہمیں ایک ایسا ملک دلوا دیا جو آج بھی قائم و دائم ہے اور انشا اللہ تعالی رہتی دنیا تک قائم رہے گا. ضرورت اب اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نسلوں میں وہ جذبہ منتقل کرتے رہیں جس کے تحت ایک آزاد وطن حاصل کیا گیا تھا. اچھی سوچ رکھنے والے تمام احباب مل بیٹھیں اور اس بات پر غور کریں کہ ہم پاکستان کے لئے کیا کر سکتے ہیں یہ نہ سوچیں کہ پاکستان کو ہمارے لئے کیا کرنا چاہئے.وہ ہم وطن جو بیرونی ممالک کو اپنا وطن ثانی بنا چکے ہیں انکی اولادوں سے یہ توقع رکھنا تو فضول ہے کہ انہیں پاکستان یا نظریہ پاکستان سے کوئی قدرتی لگاو ہو گا. لیکن پھر بھی والدین کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ انہیں اپنے وطن اور اسکی پاکیزہ رسوم و روایات سے جوڑے رکھیں.میرے خیال میں ایک طریقہ اصلاح کا یہ بھی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص جس میں میں خود بھی شامل ہوں اپنے اپنے گریبان میں منہ ڈال کر یہ سوچے کہ جس اچھائی کا مطالبہ میں دوسروں سے کر رہاہوں خود بھی اس پر عمل پیرا ہوں یا نہیں. دوسروں کی آنکھوں میں پڑے تنکوں کی نشاندہی سے پہلے خود کی آنکھوں میں پڑے شہتیروں کو نکال لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ترقی نہ کر سکیں. یہ کہنا بالکل درست نہیں ہو گا کہ ہماری کمیونٹی میں اچھی سوچ رکھنے والوں کی کوئی کمی ہے یا کچھ بھی نہیں ہو رہا. بہت سے ایسے افراد کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جو کہ بہت کچھ کر رہے ہیں لیکن شکوہ یہ ہے کہ بہت سے وہ دوست جو انفرادی طور پر بہت سے اچھے کام کرتے ہیں وہ اجتماعی طور پر کوئی بہتری لانے میں ناکام ہو جاتے ہیں اور یہی وہ مشکل ہے جس کاجواب ڈھونڈ لیا جائے تو مسئلہ حل ہو جائے گا.19 جون کی دوپہر کو ذائقہ ریستوران میں ایک نام نہاد ظہرانے کا انتظام کیا گیا تھا جس میں کمیونٹی کے ایک صد کے لگ بھگ افراد نے شرکت کی جنہیں یہ بتایا گیا کہ پاکستانی آسٹریلین فیڈریشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے. چھ ٹائپ شدہ صفحات پر مشتمل اغراض و مقاصد کی تفصیل بھی مدعوئین میں بانٹی گئی جس کے ہر صفحے پر یہ الفاظ بھی تحریر تھے کہ یہ ایک نہایت خفیہ دستاویز ہے اور اسکی عام تشہیر درست نہیں. تاہم اس کے مطالعے سے علم ہوا کہ سات نکاتی اغراض و مقاصد کے تحت یہ فیڈریشن بنائی گئی ہے اور وہ یہ ہیں:.
1. آسٹریلیا بھر میں واقع تمام پاکستانی تنظیموں کو ایک چھتری تلے لانا.
2. تعلیمی، ثقافتی اورسماجی کاروائیوں کے ذریعے آگہی کو فروغ دینا.
3. مختلف ایسی تقاریب کا انعقاد جن کے ذریعے پاکستانی ہنرمندوں،فنکاروں، دانشوروں ، لکھاریوں ، شعرا اور دیگر ایسےلوگوں کی حوصلہ افزائی جنہوں نے کوئی امتیازی کارنامہ انجام دیا ہو.
4. پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین دوستانہ تعلقات میں مزید بہتری لانےکی تگ و دواور اس ضمن میں پاکستانی و آسٹریلوی سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے تعلقات میں مزید بہتری لانے کی کاوش
5آسٹریلیا میں پاکستانی کمیونٹی کی بہبود کی خاطر ایک مرکز کا قیام جہاں پر سماجی و رفاہی سرگرمیاں عمل میں لائی جائیں
6. نئے وارد ہونے والے مہاجرین اور نوجوان نسل کی معلومات کی خاطر ایک مرکز اطلاعات کا قیام
7. پاکستان سے متعلق معلومات کی فراہمی کے لئے ایک لائبریری و مرکز کا قیام
ان سات نکات پر عمل درآمد کرنے کے لئے پاکستان آسٹریلیا فیڈریشن قلیل المعیاد و طویل المعیاد منصوبوں پر عمل کرے گی. یہ تمام منصوبے اس وقت عمل پذیر ہوں گے جب ہماری قلیل مدتی مرکزی کمیٹی کا قیام عمل میں آ جائے گا.
اس کے بعد فیڈریشن کی طرف سے دعوت دی گئی کہ جو بھی انکے اٍغراض و مقاصد سے متفق ہو وہ فیڈریشن کا رکن بن سکتا ہے لیکن اس ضمن میں کوئی درخواست فارم منسلک نہیں کیا گیا تھا. سردست جو سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا چناو کیا گیا ہے انکے نام اور عہدے درج ذیل ہیں:.
سرپرست اعلی………………………………………………ڈاکٹر علی سرفراز
صدر……………………………………………………………….سید عتیق الحسن
نائب صد………………………………………………………اعجاز احمد خان
نائب صدر…………………………………………………….شفقت عباس
جنرل سیکریٹری…………………………………………محمد آصف خان
جوائنٹ سیکریٹری………………………………….. کامران یوسف
میڈیا سیکریٹری………………………………………. اشعر صدیقی
کلچرل سیکریٹری…………………………………….. ثریا حسن
اسپورٹس سیکریٹری……………………………….. عمران بٹ
یوتھ سیکریٹری……………………………………….. شیر محمد
خزانچی……………………………………………………… خالی ہے
سیکریٹری بہبود اطفال…………………………… عاصم کمال
اراکین سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی…………………..انیس سید، فہد، محمد یوسف ، محمد علی،
کینبرا، میلبورن، برزبین، پرتھ، ایڈیلیڈ، اور ہوبارٹ کے کمیٹی ممبران کی جگہ فی الحال خالی ہے.
فیڈریشن کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کرنے کے لئے ایک سات رکنی ایڈوائزری بورڈ بھی بنایا گیا ہے جس میں سردست پانچ افراد شامل ہیں حاجی محمود، ڈاکٹر علی سرفراز، فہیم رشیدی، ڈاکٹر پرویز ، اور سعد ملک. دو جگہیں فی الحال خالی ہیں.
جہاں تک پیشکش کا تعلق ہے کاغذات میں ٹائپ شدہ دعوے، اغراض و مقاصد اور انکے حصول کی کاوشیں فی الحال تو ایک تمنا سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں لیکن ادارہ گونج کو پوری توقع ہے کہ اگر ماضی کی غلطیوں سے کچھ سبق سیکھ لئے گئے ہیں تو وہ کم از کم فیڈریشن کے اس پلیٹ فارم پر نہیں دہرائے جائیں گے.ہر مخلص پاکستانی کی طرح میری یہ تمنا ہے کہ فیڈریشن جن اغراض و مقاصد کو لے کر سامنے آئی ہے وہ اس میں جلد از جلد کامیاب ہو تاکہ کمیونٹی مستفیدہو سکے. اس ضمن میں میں پاکستانی کمیونٹی سے بھی گذارش کروں گا کہ ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کیا کریں جو اپنے وقت اور سرمایہ کمیونٹی کی بہبود کے لئے خرچ کرتے ہیں.اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو.آمین

پینٹاگون، امریکی ارضیاتی سروس اور امریکی امدادی تنظیم یو ایس ایڈ کے اندازے کے مطابق افغانستان میں معدنیات کے ذخائر کی مالیت کم از کم نو سو ارب ڈالر کے قریب ہے۔امریکہ کے جیولوجیکل سروے کے مطابق ان معدنیات میں بڑی مقدار میں لوہے اور تانبےکے ساتھ ساتھ قیمتی لیتھیم کے ذخائر شامل ہیں۔افغانستان کی وزارتِ معدنیات کے ترجمان جواد عمر کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں معدنیات کی اصل مالیت کے بارے میں تو نہیں بتا سکتے لیکن اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ ملک کی ترقی میں یہ اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔اگر معدنیات کو نکالا جاتا ہے تو افغانستان خود کفیل ہو سکتا ہے، اور اسے کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ہو گی۔
صدر حامد کرزئی کے ترجمان وحید عمر نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سروے سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق ملک میں موجود معدنیات کی مالیت ایک کھرب ڈالر ہے۔’ ملک میں موجود تمام معدنیات کا سروے نہیں کیا گیا لیکن جو بھی دریافت ہوئیں ان کی مالیت ایک کھرب ڈالر ہے۔‘تاہم یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس وقت یہ معلومات منظر عام پر کیوں لائی گئی ہیں۔
امریکہ کے جیولوجیکل سروس نے افغانستان میں موجود معدنیات کے ذخائر کے متعلق سال دو ہزار سات میں رپوٹ جاری کی تھی۔ امریکہ نے گزشتہ سال دسمبر میں ان معدنیات کی مالیت کا انداز لگا لیا تھا۔اس کے بعد جون چودہ کو ایک کھرب مالیت کی معدنیات کی رپورٹ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہوئی تھی۔
بی بی سی کے جلِ میکگئورنگ کا کہنا ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب افغانستان اور وہاں قائم حکومت کی تنہائی میں اضافہ ہو رہا ہے، یہ ظاہر کرنا کہ افغانستان میں بڑی تعداد میں سونے کے ذخائر موجود ہیں، افغانستان کے مسئلے کے بین الاقوامی حل اور جنگ سے متاثر ملک کو قیمتی انعام دینا ہو سکتا ہے۔‘
دریافت ہونے والے ذخائر میں لیتھیم بھی شامل ہے جو موبائل فون سے لیکر لیپ ٹاپ کی بیٹری میں استعمال ہوتا ہے اور اس کی مستقبل میں گاڑیوں کی بیٹریوں میں استعمال ہو گا۔
لوہا: چار سو اکیس ارب ڈالر
تانبہ: ستائیس ارب ڈالر
کوبالٹ: اکیاون ارب ڈالر
گولڈ: پچیس ارب ڈالر
اس وقت بولیویا کے پاس لیتھیم کے سب سے زیادہ ذخائر ہیں۔
اس کے علاوہ افغانستان میں نیوبئیم کے ذخائر بھی موجود ہیں جو سٹیل کو مزید مضبوط کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔
معدنیات کی دریافت امریکی ارضیاتی سروس نے افغان حکومت کے ساتھ مل کر کی ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے پینٹاگون کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’ افغانستان لیتھیم کا سعودی عرب‘ بن سکتا ہے۔
اس سے پہلے ہی افغان صوبے لوغر میں ایک چینی کمپنی کی مدد سےتانبے کے ذخائر نکالنے کا منصوبے بنایا گیا ہے۔
معدنیات کو زمین سے نکالنے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر معدنیات کی صعنت لگانے کے لیے کئی سال درکار ہونگے اور ایسا کرنے کے لیے امن کا موجود ہونا لازمی ہے، سرمایہ داروں کو سکیورٹی ضمانت دینا مشکل ہو گا۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ افغانستان نے معدنیات کی دریافت کا خیر مقدم کیا ہے کیونکہ اسے شدت سے ترقی کی ضرورت ہے، لیکن معدنیات کی دریافت مسئلے کا راتوں رات حل نہیں ہے۔‘معدنیات کو زمین سے نکالنے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر معدنیات کی صعنت لگانے کے لیے کئی سال درکار ہونگے اور ایسا کرنے کے لیے امن کا موجود ہونا لازمی ہے، سرمایہ داروں کو سکیورٹی ضمانت دینا مشکل ہو گا۔نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان کی سٹریٹجک اہمیت بڑھتی ہے تو افغانستان میں امریکہ سمیت خطے کے ممالک چین اور بھارت اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کریں گے۔
سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈی میں سینئر ریسرچ فیلو سٹیفن سانوک کا کہنا ہے کہ افغانستان میں معدنیات نکالنا آسان کام نہیں ہے۔’ ان کے خیال میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے کہ افغانستان جیسے ملک میں جہاں فوجی کارروائی چل رہی ہے وہاں سے ایسی معدنیات کو نکالا جا سکے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’افغانستان میں نہ صرف مواصلات کا بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں بلکہ ان کے پاس قوانین بھی نہیں جو سرمایہ داروں کو راغب کر سکیں، روزگار کے لیے یہ ایک بڑا موقع ہے جس کی مدد سے ایک لمبے عرصے تک شدت پسندی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔‘

گزشتہ دنوں القلم جرنلسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی بیداری ءصحافت کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جہاں نامور صحافیوں ،کالم نگاروں ،شاعروں اور مختلف مکتبہءفکر کے لوگوں کو مفکرِ پاکستان ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔پریس کلب شیخوپورہ میں ہونے والی اِس تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد وِرک ،خلیل الرحمٰن قادری،حیدر جاوید سید،پروفیسر اکرم سعید،طاہر مسعود ساجد،چوہدری غلام احمد،شیخ ندیم احمد،رانا سرور،سلطان حمید راہی،شیخ مُحسن عرفان،رانا محمد اکرم،سہیل احد،جاوید معراج ،شہزاد احمد ورک،ریاض اکبر معصومی،شوکت ناز،عبدالرشید ندیم،سیف الرحمٰن سیفی ، منظور احمد مغل،عظیم احمد یزدانی ،مقبول احمد ناز،ملک محمد بوٹا،ایوب شیخ اور دیگر نامور صحافیوں اور ادبی شخصیات کی موجودگی اِس بات کی گواہی تھی کی وطنِ عزیز کا دانشور طبقہ اِس ملک کی بہتری کے لئے کچھ کرگزرنا چاہتا ہے ۔دور دراز سے آئے ہوئے مہمانوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ ملکی حالات کے پیشِ نظر بیدار ہوںاور وطنِ عزیز کی سلامتی کی خاطر اپنا اپنا کردار ادا کریں ۔مقررین کی تقریریں ملک کے مایوس کُن حالات کی عکاسی کر رہی تھیں۔ملک کہاں کھڑا ہے؟عوام کس حال میں ہے؟گورنس نام کی کسی شے کا کہیں کوئی وجود نہیں۔ڈھونگ ،ڈھکوسلے اور ڈرامے عام ہو گئے ہیں۔معیشت کس طرح فریکچرہو چکی ہے؟روپے کا حشر نشر ہو رہا ہے ۔ادارے تشنج کی کس شدت سے دوچار ہیں؟۔مقررین صحافیوں کو بےدار کرنے کے لئے نہ صرف ملکی حالات بتا رہے تھے بلکہ وہ اُنہیں طرح طرح کے مشوروں سے بھی نواز رہے تھے۔کانفرنس کے مہمانِ خصوصی جناب خلیل الرحمٰن قادری صاحب تھے ،آخر میں اُن کی تقریر نے اُس وقت تمام حاضرین کی آنکھیں کھول دیں جب اُنہوں نے بتایا کہ ہمیں باہر سے سستی بجلی مِل رہی ہے اور ہماری حکومت سستی بجلی لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔قادری صاحب کے انکشاف پر حاضرین نے حکومت کو تنقید کا نشانہ تو بنایا لیکن افسوس کہ کسی نے اِس بات کی جانب توجہ نہیں دی کہ اِس وقت ہم خود اپنی بجلی بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ہماری حکومت اُس جانب توجہ نہیں دے رہی۔میں حکومت اور صحافیوں کی توجہ اِس جانب مرکوز کرنا چاہتا ہوں اور اُنہیں بتانا چاہتا ہوں کہ کرہ ارض پر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں اور دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث پانی کی شدید قلت ایک خوفناک صورتحال میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے. دنیا میں پانی کے بڑھتے ہوئے مسئلے کے تقابل میں مسلسل واقع پذیر ہونے والی آبی قلت اور بقائے حیات کے لئے اسکی اشد اہمیت کے پیشِ نظر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آئندہ جنگیں پانی کے ذخائر کے لئے ہوں گی۔پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد ہندوستان نے دریائے بیاس،ستلج اور راوی کی نہروں کا پانی روک لیاجس سے ہندوستان اور پاکستان میں پانی کی تقسیم کا جھگڑا پیدا ہو گیا بالآخر 1960ءمیں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ”سندھ طاس کا معاہدہ پانی “ طے ہوا جِس کی رو سے تین مشرقی دریاﺅں دریائے ستلج،دریائے بیاس اور دریائے راوی کا تمام پانی ہندوستان کو دے دیا گیا اور تین مغربی دریاﺅں دریائے چناب ،دریائے جہلم اور دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے استعمال کے لئے طے ہوا جس کے استعمال کے لئے تین ڈیم منگلا،تربیلا اور چشمہ بنائے گئے اور اِن دریاﺅں اور ڈیموں کے پانی کو دریائے ستلج اور دریائے راوی کی نہروں کو پہنچانے کے لئے 8رابطہ نہریں بنائی گئیں۔دریائے جہلم ،چناب اور جہلم کا پانی اِن تین ڈیموں میں ذخیرہ کرنے اور بعد ازاں چاروں صوبوں کی نہروں کے لئے ابھی تک استعمال ہو رہا ہے ۔سندھ طاس کے معاہدہ 1960ءکے بعد ڈیموں اور رابطہ نہروں کی تکمیل کے سبب ہندوستان نے 1970ءمیں دریائے ستلج اور دریائے راوی کا پانی مکمل طور پر اپنے استعمال میں لانا شروع کر دیاجس سے پاکستان شدید آبی بحران کا شکار ہو گیااور پاکستان کے دریاﺅں میں دھول اُڑنے لگی اور اِس آبی بحران کی وجہ سے آب گاہوں کی رونقیں ماند پڑ گئیں۔آبی حیات اور انسانی زندگی بچانے کے لئے اِن دریاﺅں میں پانی آنا بے حد ضروری ہے لیکن افسوس کہ پاکستان کے ہمسایہ ملک کو نہ تو آبی حیات کی زندگی سے کوئی غرض ہے اور نہ ہی انسانی زندگیوں کی کوئی پرواہ۔ اِس تمام تر صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان کی آبی ضرورت اِس امر کی متقاضی ہے ہمیں دستیاب پانی کے ایک ایک قطرے کو زرعی اور اقتصادی استحکام کی خاطر بروئے کار لانے کے لئے فوری طور پر طویل المعیاد آبی منصوبے شروع کرنے چاہئیں لیکن بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بڑھکیں تو بہت ماری گئیں کہ ہم کالا باغ ڈیم اور دوسرے ڈیم ضرور بنائیں گے لیکن یہ بڑھکیں صرف اخباری بیانات کی حد تک رہیں۔دراصل شائد ہمارے حکمران یہ نہیں جانتے کہ کالا باغ ڈیم صرف ایک ترقیاتی منصوبے کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ قومی سوچ،فکراور ترقی کی تڑپ کا امین ہو کر ایک جذبے میں ڈھل کر کبھی کسی صحافی کے قلم کی نوک سے صفحہءقرطاس کی زینت بنتا ہے اور کبھی کسی مدبر کے ذہن کی گہرائیوں سے فکر کی پھوار کی طرح پھوٹتا ہے،کہیں یہ کسی طالبِ علم کے لب پر ایک تمنا ہے اور کبھی مزدور کے دل سے نکلتی ایک آواز،کبھی یہ بندہءمزدور کے تیشہ چلاتے ہاتھوں میں نظر آتا ہے اور کہیں ایک انجینئر کے ماتھے پر پڑی تفکر کی سلوٹوں میں اُبھرتا ہے ۔یہ سوچ ،یہ فکر،یہ زینت ،یہ تمنا،یہ آواز اُسی نغمہ اللہ ہو کی آواز ہے جو تحریک پاکستان کے دوران ہماری روح کا ترانہ رہی اور جس کی دھن ایک تسبیح کے دانوں سے مرتب ہو کر لازوال ساز کی آواز میں ڈھل گئی ۔لیکن ہمارے حکمرانوں کو شائد ابھی تک اسکی عملی افادیت کا علم ہی نہیں ہو سکا اور اگر ہے تو معلوم نہیں کہ اسکی فوری تعمیر میں رکاوٹ کس چیز کی ہے۔دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے اور ہم ابھی اسی جھگڑے سے باہر نہیں نکلے کہ ” کالاباغ ڈیم بننا چاہئے/کالا باغ ڈیم نہیں بننا چاہئے“ ۔پاکستان کے کروڑوں لوگ چیخ چلا رہے ہیں کہ انصاف دینے والوں سے بے انصافی ہو رہی ہے اور انہیں انصاف ملنا چاہئے. اُن کروڑوں لوگوں کی اس پکار کو کوئی نہیں سُن رہا بلکہ اُن چند جاگیرداروں کی آواز حکمرانوں کے کانوں میں فوراً پڑتی ہے جو یہ کہہ دیتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم نہیں بننا چاہئے اور انکی اس بات کو بنیاد بنا کر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ چاروں صوبوں کو اعتماد میں لینے کے بعد کالا باغ کی تعمیر شروع کی جائے گی۔میں حکومتِ وقت سے صرف ایک سوال کرتا ہوں کہ اگر پاکستان کی سالمیت خطرے میں ہو تو کوئی بھی اقدام کرنے سے پہلے عوام کو اعتماد میں لیا جائے گا یا حکومت اپنی مرضی سے اقدام اُٹھائے گی؟۔اگر حکومت اپنی مرضی سے فوری اقدام ضروری سمجھے گی تو حکومتِ وقت کو یہ جا ن لینا چاہئے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے بغیر پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے گی کیونکہ قحط ذدہ ملکوں کے لوگ اپنے ملک کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کرتے ہیں اور ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اگر پاکستان میںفوری طور پر نئے آبی ذخائر کی تعمیر یقینی نہ بنائی گئی تو چند سال تک یہاں کی عوام بھی پانی کی بوند کو ترسے گی کیونکہ ہمارا ہمسایہ ملک ہماری معیشت تباہ کرنے کے لئے مکمل منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے اور ہماری طرف آنے والے دریاﺅں کا پانی روکنے کے لئے منصوبے پایہءتکمیل تک پہنچا رہا ہے۔بہر حال میں حکومتِ وقت سے یہی اپیل کرتا ہوں کہ خدا راہمارے ملک کو بچائیں اور ملکی معیشت کو تباہی سے بچانے کے لئے کالا باغ ڈیم کی فوری تعمیر کا آغاز کر دیں۔دوسر ی جانب میں چاروں صوبوں کے عوام سے بھی ایک مودبانہ گزارش کرتا ہوں کہ میرے پیارے پاکستان کو بچا سکتے ہیں تو بچا لیں کیونکہ اگر ہم آپس میں لڑتے رہے تو باہر سے کوئی بھی ہماری مدد کو نہیں آئے گا ۔یہ صوبائی تعصب ختم کرکے پاکستان کے مفاد کی خاطر ایک جان ہو جائیں کیونکہ ہم جب تک ایک قوم کی شکل اختیار نہیں کریں گے تب تک ہمارے ملک کو بیک گئیر لگا رہے گا۔کہتے ہیں ہمسائے کا منہ سرخ ہو تو بعض لوگ تھپڑ مار کر اپنا منہ سرخ کر لیتے ہے. پس ہمیں بھی اسی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا اور اپنے ہمسائے ملک چین کو مثال بناتے ہوئے اپنے پاکستان کو بھی ترقی کی راہوں پر گامزن کرنا ہوگا۔آئیے ہم سب مل کر پاکستان کو ڈوبنے سے بچائیں۔

محمد اکرم خان فریدی۔کالم نگار،
36۔مجاہد نگر ،شیخوپورہ شہر
فون نمبر03024500098
ای میل۔akramkhanfaridi@gmail.com

گونج(خصوصی رپورٹ) اتوار کی صبح کو سڈنی کی معروف سماجی شخصیت ڈاکٹر علی سرفراز کا فون پیغام وصول ہوا کہ فوری طور پر ان سے رابطہ کیا جائے. رابطے پر اطلاع ملی کہ لیورپول کے ممتاز پاکستانیوں نے پاکستان کی ہائی کمشنر کو لیورپول کے ایک مقامی ریستوران ’’راشیا‘‘ میں ظہرانے کی دعوت دی ہے جس میں مجھے بھی مدعو کیا گیا. اس دعوت میں کمیونٹی کے دو صد کے لگ بھگ لوگوں نے شرکت کی جن میں بعض اپنی بیگمات کو بھی ساتھ لائے تھے. پہلے تو یہ خیال ہوا کہ شاید یہ دعوت ان لوگوں نے دی ہے جو کہ پہلے پاکستان ایسوسی ایشن آسٹریلیا کے مستعفی عہدے داران تھے لیکن پھر یہ خیال غلط ثابت ہوا کیونکہ یہ دعوت پاکستانیوں کی ایک نئی فیڈریشن کے زیر اہتمام دی گئی تھی جس کے عہدے داران کا فی الحال ایڈہاک بنیادوں پر چناو کیا گیا ہے. گونج کو اس فیڈریشن کے مجوزہ جنرل سیکریٹری آصف خان نے بتایا کہ کافی عرصے سے اس بات کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی تھی کہ پاکستانیوں کی ایک ایسی فیڈریشن ہونی چاہئیے جو کہ تمام پاکستانیوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرے جہاں سے ان کے مسائل کا نہ صرف ادراک کیا جائے بلکہ انکے مناسب حل کی کوششیں بھی کی جائیں. انہوں نے مزید بتایا کہ فیڈریشن کا باقاعدہ اجلاس ذائقہ ریستوران میں ہفتہ 19 جون کو رکھا گیا ہے جس میں تمام عہدے داران کا باقاعدہ تعارف کروایا جائے گا. سردست یہ بتایا گیا کہ ڈاکٹر علی سرفراز مجوزہ فیڈریشن کے سرپرست اعلی ہوں گے. صدر معروف صحافی سیدعتیق الحسن ، نائب صدر اعجاز خان (یہ پاکستان ایسوسی ایشن آسٹریلیا کے سابق صدر اعجاز خان نہیں)جبکہ جنرل سیکریٹری کی پوسٹ محمد آصف خان کو دی گئی ہے. تقریب مختصر لیکن باوقار تھی.تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز کیا گیا. تلاوت حافظ گلزار صاحب نے کی جس کے بعد صدر عتیق الحسن نے مہمان خصوصی کا شکریہ ادا کیااور لیورپول کونسل کے پاکستانی نژاد کونسلر غلام جیلانی صاحب کو دعوت دی گئی کہ وہ کچھ مختصر خطاب کریں.جیلانی صاحب نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستانی کمیونٹی کی یہ بد قسمتی ہے کہ اردو زبان کو وہ مقام حاصل نہیں جس کی وہ حقدار ہے. اس ضمن میں انہوں نے اردو سوسائٹی کا بھی ذکر کیا کہ یہ ادارہ بھی فعال ثابت ہو سکتا تھا لیکن انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ اردو سوسائٹی اپنا کردار صحیح معنوں میں ادا نہیں کر سکی اور سوائے سال میں ایک آدھ مشاعرہ کرا لینے کے انہوں نے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا. واضح رہے کہ غلام جیلانی صاحب ایک شاعر بھی ہیں اور اردو سوسائٹی میں کافی عرصے سے فعال بھی رہے ہیں. ڈاکٹر علی سرفراز نے اردو کے بجائے انگریزی میں خطاب کرنا پسند کیا حالانکہ مدعوئین میں سے ایک بھی انگریز نہیں تھا. اس بات کی البتہ خوشی ہوئی کہ ہائی کمشنر ہر ہرایکسی لینسی فوزیہ نسرین نے قومی زبان کو ترجیح دی . وہ تمام مدعوئین میں گھل مل گئیں اور سب لوگوں کی باتوں کو بھی توجہ سے سنا اور اپنے ساتھ یادگار تصاویر بنوانے والوں کی فرمائش بھی پوری کی. البتہ کچھ مدعوئین نے اس حقیقت پر اعتراض کیا کہ ہماری ہائی کمشنر الٹے ہاتھ سے کھانا کھا رہی تھیں.

آج پاکستان کایوم آزادی ( یوم استقلال Independence Day ( انتہائی جو ش و خروش سے منایا جا رہا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان 1947 ء میں برٹش حکمرانوں سے آزاد ہو کر معرض وجود میں آیا۔ 14 اگست کا دن پاکستان میں سرکار ی سطح پر قومی تہوار کے طور پر بڑے دھوم دھام منایا جاتا ہے جبکہ بچے ، جوان اور بوڑھے سبھی اس روز اپنا قومی پرچم فضاءمیں بلند کرتے ہوئے اپنے قومی ہیروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ پورے ملک میں ہر طرف جشن چراغاں ہوتا ہے اور ایک میلہ کا سا سماں بندھ جاتا ہے۔ اسلام آباد جو کہ پاکستان کا دارلخلافہ ہے اسکو انتہائی شاندار طریقے سے سجایا جاتا ہے، جبکہ اسکے مناظر کسی جشن کا ساسماںپیدا کر رہے ہوتے ہیں۔اور یہیں ایک قومی حیثیت کی حامل تقریب میں صدر پاکستان اور وزیراعظم قومی پرچم بلند کرتے ہوئے اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم اس پرچم کی طرح اس وطن عزیز کو بھی عروج و ترقی تک پہنچائیں گے۔ ان تقریبات کے علاوہ نہ صرف صدارتی اور پارلیمانی عمارات پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے بلکہ پورے ملک میں سرکاری اور نیم سرکاری عمارات پر بھی سبز ہلالی پرچم پوری آب و تا ب سے بلندی کا نظارہ پیش کر رہا ہوتا ہے۔ یوم اسقلال کے روز ریڈیو، ٹی وی اور انٹرنیٹ پہ براہ راست صدر اور وزیراعظم پاکستان کی تقاریر کو نشر کیا جاتا ہے اور اس عہد کی تجدید کی جاتی ہے کہ ہم سب نے مل کراس وطن عزیز کو ترقی، خوشحالی اور کامیابیوں کی بلند سطح پہ لےجانا ہے۔
سرکاری طور پر یوم آزادی انتہائی شاندار طریقے سے مناتے ہوئے اعلی عہدہ دار اپنی گورنمنٹ کی کامیابیوں اور بہترین حکمت عملیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے عوام سے یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے تن من دھن کی بازی لگاکر بھی اس وطن عزیز کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھیں گے اور ہمیشہ اپنے لیڈر قائداعظم محمد علی جناح کے قول ایمان، اتحاد اور تنظیم کی پاسداری کریں گے۔
14 اگست کو پاکستان میں سرکاری طور پر تعطیل ہوتی ہے، جبکہ سرکاری ونیم سرکاری عمارات میں چراغاں ہوتا ہے اور سبز ہلالی پرچم لہرایاجاتا ہے۔اسی طرح تمام صوبوں میں مرکزی مقامات پر تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے او ر ساتھ ساتھ ثقافتی پروگرام کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔پاکستان کے تمام شہروں میں مئیر (ناظم) قومی پرچم بلند کرتے ہیں جبکہ کثیر تعداد میں نجی اداروں کے سربراہان پرچم کشائی کی تقاریب میں پیش پیش ہوتے ہیں۔سکولوں اور کالجز میں بھی پرچم کشائی کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رنگارنگ تقریبات، تقاریر اور سیمینارز کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ گھروں میں بچوں ، جوانوں اور بوڑھوں کا جوش و خروش توقابل دید ہوتا ہے جہاں مختلف تقریبات کے علاوہ دوپہر اور رات کے کھانے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے اور بعد ازاں سیروتفریح سے بھی لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ رہائشی کالونیوں ، ثقافتی اداروں اور معاشرتی انجمنوں کے زیراہتمام تفریحی پروگرام تو انتہائی شاندار طریقے سے منائے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں مقبرہءقائداعظم پر سرکاری طور پر گارڈ کی تبدیلی کی تقریب کا انعقاد ہوتا ہے ۔ اسی طرح واہگہ باڈر پر بھی ثقافتی اور میوزیکل تقریبات میں گارڈز کی تبدیلی کا عمل وقوع پزیر ہوتا ہے جبکہ غلطی سے واہگہ باڈر کراس کرنے والے قیدیوں کی دوطرفہ واپسی کا عمل بھی وقوع پاتا ہے۔
بر صغیر پاک و ہند پرمسلمانوں نے ایک ہزار سال حکمرانی کی ،نہایت با حسن طریقے سے وسیع سلطنت کو فلاحی بنانے میں کامیاب ہوئے ،اس کامیابی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ حکمران ملک میں قرآن و سنت کے نظام پر عمل کرتے تھے۔ اکبر بادشاہ نے سب سے غلط راستہ کا ا نتخاب کیا انھوں نے ہندومت اور اسلام کے اصولوں کو یکجا کر کے دین الہی کا ڈھونگ رچایا جہاں لو گوں کے اخلاق پست ہو گئے یوں ایک مسلم معاشرے میں ہندوانہ رنگ نظر آنے لگا۔اس کے بعدمسلمانو ں کے ساتھ وہی کچھ ہوا جس کا اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے جب تک مسلمانوں نے اللہ کے رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا ملک و قو م پران کی حکمرانی تھی لیکن جہاںیہ لو گ دین اسلام سے منحرف ہو گئے اللہ تعالیٰ نے ان سے اقتدار چھین لیا اور عذاب کی صورت میں ان پر انگریز مسلط کر دیئے ،جنھوں نے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے. تعلیم مال اور اسباب سے محروم کر دیا ،ہندووں اور انگریزوں نے مسلمانوں کو زند گی کے ہر شعبے میں پست اور رسوا کیا۔تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں نے خود ملک و قوم سے غداری نہیں کی انھیں کوئی شکست سے دوچار نہیں کر سکا ۔
دو قومی نظریہ ہی تحریک پاکستان کا سبب بنا۔ پاکستان کی بنیاد اسلام پر رکھی گئی۔ لاکھوں مسلمانوں نے اسلام کے تحفظ اور کفار سے آزادی کے لئے ہی پاکستان کے نام پر بے مثال قربانیاں دیں۔ پاکستان کو دنیا کا پہلا نظریاتی ملک ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ جس کی عوام کا نعرہ تھا۔پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ قائداعظم محمدعلی جناح،علامہ اقبال ،سرسید احمدخان اور ان جیسے دیگر رہنماوں نے سوئی ہو ئی مسلمان قو م کو جگایا۔علامہ اقبال ایک عظیم مفکر اور مدبر تھے وہ کسی صورت غلامی کو پسند نہیں کرتے تھے اس لئے انھوں نے اپنی شاعری ،تحریروں اور تقریروں کا سہارا لیکر پاک وہند کے مسلمانوں میں زندگی کی نئی روح پھونک دی۔ سرسید ا حمدخان نے مسلمانوں میں تعلیمی میدان میں انقلاب پر پا کیا۔قائد اعظم کی صورت میں مسلمانوں کو ایک عظیم راہنما ملا جنھوں نے مسلمان قوم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اورآزادی کی تحریکیں چلائیں جس میں انھیں کامیابی نصیب ہو ئی بالاآخر14 اگست 1947ءکو مسلمانوں کو ایک آزادمملکت حاصل ہو ی۔
63سالوں پر محیط آزادی کے سفر پر نظرڈالیں تو معلوم ہو گا کہ قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد کوئی ایسا حکمران نہیں آیا جس نے ملک و قوم کی بہتر انداز سے خدمت کی ہو سیاسی بحران اور دشمن کی چالوں سے ملک کو نقصان ہوتا رہا۔ 1958میں ملک پاکستان بحران کی نظر ہوا جب سیاسی پرٹیوں نے اقتدار حاصل کرنے کی جدوجہد کی اور 18اکتوبر 1958ءمیں صدرپاکستان ایوب خان نے ملک میں مارشل لا کے نفاذکا اعلان کردیا۔1956 کا آئین معطل کر دیا وزیر بر طرف کردئیے گئے اسمبلیاں توڑ دی گئیں۔ ستمبر 1965ء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان حق اور باطل کی جنگ ہو ئی اس سترہ روزہ جنگ میں پاکستانی عوام نے فوج کے ساتھ ملکر نہایت عیار اور اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا مقابلہ کیااور فتح حاصل کی ،5مارچ 1969ء کو صدرایوب خان نے بڑھتے ہوئے سیاسی بحران ا ور بگڑتی ہو ئی صورتحال کے پیش نظر صدرات سے استعفی دے دیا اور ملک کی سر براہی بری فوج کے کمانڈر انچیف جنرل محمد یحیی خان کے سپر کردی ،انھوں نے ملک میں دوسری بار مار شل لاء نافذکر کے قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دیں اور وزارتیں اور آئین معطل کر کے چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر اور پھر صدر پاکستان کے اختیارات سنبھال لئے۔دشمن نے 1971ءمیں ایک اور چال چلی جس سے مشر قی پاکستان کی علیحد گی کا افسو ناک و اقعہ پیش آیا۔ 4اپریل 1979کو مسٹر بھٹو کو راولپنڈی جیل میں پھانسی دی گئی۔صدر پاکستان جنرل محمد ضیا ءالحق7اگست 1988ئکو مختصر دورے سے فوجی یونٹوں کا معائنہ کر نے کے بعد واپس آرہے تھے کہ ان کے طیارہ کو حادثہ پیش آگیا۔صدر پاکستان غلام اسحق خان نے بد عنوانی ،نااہلی اور ناکارکردگی کی بنیادوں پر وزیراعظم نواز شریف اور ان کی حکومت کو 18اپریل 1993ءکو چلتا کیا اور نئے انتخابات کے لئے 14جولائی 1993ء کی تاریخ دےدی۔1993،بے نظیر بھٹو کی حکومت قائم ہوئی۔فروری 1997کے الیکشن میں اکثریتی ووٹ حاصل کر کے جناب نواز شریف نے ثابت کر دیا کہ وہ پاکستان کے نہایت ہر دل عز یز اور کامیاب سیاستدان ہیں ،1999ءمیں وزیراعظم اور فوج کے درمیان بد اعتمادی کی فضا پیدا ہو ئی جس کے نتیجے میں فو ج کو 12اکتوبر 1999ءکو وزیراعظم کو بر طرف کر کے ملکی انتظام سنبھالنا پڑا۔آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے چیف ایگز یکٹو کے نام پر ملک کاانتظام خود سنبھالیا۔یہی وہ نقطہ آغاز تھا جس سے آج ملک کے اس نہج پر پہنچ گیا جس کا نقصان کو ئی ادا نہیں کر سکتا۔پرویز مشرف کے 9سالہ تاریک دور میں پاکستان اپنا بہت کچھ کھو بیٹھا۔1ستمبر 2001ءکے واقعہ کے بعد امریکی حکومت کی جنگ میں انسداد دہشت گردی میں شرکت اختیار کی۔اور اس جنگ میں شرکت کا آج ہر پاکستانی خمیازہ بھگت رہا ہے اسکے غلط فیصلہ سے آج پاکستان میدان جنگ بنا ہو اہے لاکھوں پاکستانی امریکہ کے حوالے کردئے جن کا آج تک کو ئی سراغ نہیں لگ سکا پوری سرحد میں نام نہاد جنگ کی آگ لگادی ملک میں خود کش بم دھماکوںکا آغاز ہو ا،پے درپے بم دھماکے شروع ہوئے ،لال مسجد کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ،طاقت کے زرو پر وہ سب کچھ کیا جو پرویز مشرف کا دل چاہ رہا تھا۔سرحد کی تباہ کن صورتحال، ملک میں دہشت گردی خودکش بم دھماکے، لال مسجد کا سانحہ،ایمرجنسی ،آئین کو توڑنا ،عدلیہ کا بحران ،ملک میں توانائی کا بحران ان جیسے کئی واقعات کا ذمہ دار پرویز مشرف ہے ملک کو جہاں تر قی کی ضرورت تھی وہاںان 9سالوں میں ملک کوناقابل تلافی نقصا ن پہنچایا گیا۔
اگر مختلف شبعہ زندگی پہ نظر ڈالی جائےتو ملک پاکستان میں کسی شبعہءزندگی میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نصیب نہیں ہوئی ۔ تعلیم اسی پسماندگی کا شکار ہے جہاں طبقاتی تقسیم کا عمل دخل نظر آتا ہے۔ سیاست روائتی ڈگر سے ہٹ کر سہ رخی پالیسی کا شکار ہو چکی ہے جہاں کہ عوامی طور پر عدم دلچسپی کا اظہار نمایاں ہے۔ عدل و انصاف کے شعبہ میں عدالتی نظام بھی آمریت کے شکنجے میں رہا ہے اور حال ہی میں وکلا ء اور سول سوسائٹی کی بھرپور تحریک آخر رنگ لائی اور 16 مارچ 2009 ءمیں تمام جج بحال ہوئے اور ایک آزاد عدلیہ سامنے آئی جس سے عوام کو بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔اقتصادی شعبہ میںکوئی نمایاں ترقی نہیں ہوئی حالانکہ پاکستان میں دنیا کا بہترین آبی نظام موجود ہے۔اور اسی طرح میعشت کے تمام شعبوں میں ذھین ترین لوگ موجود ہیں مگر غیر جامع پالیسیوں کے باعث کوئی افادہ حاصل نہ کر سکے بلکہ کشکول لیکر امداد کیلئے دنیا میں مارے مارے پھرتے ہیں اور آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے قرضوں تلے دبے جا رہے ہیں۔ معاشی بد حالی ، غربت ، بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے لوگ زندگی سے تنگ آچکے ہیں ، جو تو کچھ حیثیت رکھتے ہیں وہ ملک چھوڑ کر بیر ون ممالک ہجرت کر رہے ہیں اور باقی بدحالی کا شکار دیوار سے لگے کھڑے ہیں۔
اس سے پہلے کہ حالات کا پنجہ ہمارے گریبان تک پہنچے ہمیں ان کو سلجھانا ہے۔کیا ہم سیل رواں کے بہتے دھارے پر رکھی ہوئی کائی کی طرح حالات کی موجووں کے تھپڑے کھاتے ہوئے کسی انجانے گرداب میں اپنا وجود کھوجائیں گے؟ نہیں!ہم تو طلاطم خیز موجووں کا سینہ چیرنے والے ایسے سفینے ہیں جو خیر وعافیت کے کنارے کی طرف گامزن ہیں۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے سامنے میری عمرسے دوگنا بڑے شخص کے سوال نے جب مجھے حیرت میں ڈال دیا تھا۔ گوہر صاحب ! میںنے ساری زندگی اس وطن عزیز کی خدمت کی ہے ،ایک مشہور کالج میں طلبا و طالبات کوہسٹری پڑھاتا رہا ہوں ،اب ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہوں، ہمارا کیا بنے گا؟ اب ہم کونسی ہسٹری لکھ رہے ہیں اور اب اور کتنا خون بہناباقی ہے ؟ میری زبان انکو جواب دیتے ہوئے گنگ ہوگئی۔ اس وطن عزیز کو کس کی نظر لگ گئی ہے اس کشتی کو منجھدار سے کون نکالے گا؟ ہاں ہمیں اب خواب خرگوش سے جاگنا ہے اور حالات کو سلجھانا ہے اور اپنا ذاتی کردار اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے اداکرناہے۔ اب مزید کنارہ کشی کے اہل نہیں ہیں، پہلے ہی اپنے کیے کی سزابھگت رہے ہیں، جہاں ہم سب اپنی اپنی بولیاں بولتے ہیں وہاں ہمیں اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ دنیا کے نقشہ پر ہم ایک ملک و قوم کی حیثیت سے اپنی شناخت رکھتے ہیں اور ہمیں اس شناخت کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ ہم ایک قوم ہیں مگر اپنی ثقافت روایات، تہذیب و تمدن ہے جو اغیار کی نظر میں کھٹک رہا ہے۔ اپنے وجود کی شناخت کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔بیرونی اندیشوں اور اندرونی خلفشاروں کا ایک ہی حل ہے کہ ہم ایک قوم کےطرح سوچیں، ہمیں بارش کا پہلا قطرہ بننا ہے جو اس سرزمین وطن کو سیراب کردے۔ ہم تو ایک سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار ہیں ہر اینٹ دوسری اینٹ کو جوڑے ہوئے ہے ایک وجود کا احساس پیدا کرنا باقی ہے۔ہمیں دوسری تہذیبوں کے درمیان اپنے وجود کو برقرار رکھنا ہے۔ انٹرنیٹ اور میڈیا کے اس دور میں جہاں دنیا کے ایک کنارے پہ سرکنے والے پتھر کی بازگشت دنیا کے دوسرے کنارے پر سنائی دیتی ہے وہاں ہماری شناخت کہیں کھو تو نہیں رہی۔ ہمیں اپنی نئی نسل کےلئے سوچنا ہے جو حالات کے رحم و کرم پہ ہے۔ اس سے پہلے کہ ہمارا وجود کھو جائے ،ہمیں اپنی شناخت کو اجاگر کرناہے، آج ہم جس مشکل میں ہیں اُسے مضبوط فیصلوں سے ہی مضبوط بنایا جا سکتاہے ۔ہم جس بھی رنگ میں رنگے جا رہے ہیں اس کا تو اب احساس بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ روزمرہ معاملات اب اس تربیت کے باعث ہمیں مختلف دکھائی دیتے ہیں ہمارے رسم و رواج کے اندر جو کچھ ملاوٹ ہو چکی ہے شاید اس کا خمیازہ آئندہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔ اس نئے دور کی نئی تہذیب کے جو ثمرات ہمیں مل رہے ہیں اس کا credit اس ذہن کو دینا چاہیے جس نے کامیابی کے ساتھ اپنا رنگ ہمارے اوپر رنگ دیا ہے اور ہمیں پتا بھی نہیں چلنے دیا۔ اُمید یہ ہے کہ ہم ، جو کہ اس دلدل میں بُری طرح پھنس چکے ہیں اور بچنے کیلئے ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں، اگلے مرحلے (Stage)پہ اپنا وجود کھو چکے ہوں گے۔
جہاں ہمارے پاس دوسروں کی بُرائیاں کرنے کیلئے بہت وقت ہے وہاں ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کی جرات نہیں کرتے۔ اپنے آپ کواحساس (Realize) دلانے کا وقت بھی نہیں۔
یہ سلسلہ اگر یونہی چلتا رہا تو نامعلوم کتنی نسلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا آج اگر ہم کم از کم اتنی ہمت کر لیں کہ اپنی آنکھوں کی پٹی اُتار کر غیر جانبدار ہو کر اپنے ارد گرد بدلتے ہوئے زندگی کے رنگوں کو اپنی ”ذاتی“ آنکھوں سے دیکھ کر فیصلہ کریں کہ آیا ہم سب کچھ صحیح کر رہے ہیں یا کچھ غلط بھی ہو رہا ہے؟ آیا ہم اتنے لاپرواہ ہیں اور کیا ہمارے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں؟ ہم کب تک معاملات سے پہلوتہی کرتے رہیں گے اور کب اپنے مقام پہ رہتے ہوئے اپنا اپنا فرض دیانتداری سے ادا کریں گے؟
آج ہمیں بارش کا پہلا قطرہ بننا ہے
تم کچھ دیر رک جاوابر ہونے تک

ہمارا دشمن کون؟؟؟؟ (کیا ہندوستان ہمارا دشمن ہےِ؟

وطن عزیز ، پاکستان کلمہ طیبہ کی بنا پر معرض وجود میں آیا تھا ، دو قومی نظریہ ہی اس کے استحکام و دوام کا سبب ہے ۔ مسلمان اور ہندو اپنے مذہب ، ثقافت اور طرز معاشرت کے انداز میں دو مختلف قومیں ہیں ۔ حیرت کی بات ہے کہ تاریخ سے عدم واقفیت کی بنا پر پاکستان کے نہ صرف نوجوان طبقے بلکہ بعض بزرگ حضرات اور سیاست دان اور قومی لیڈر و رہنما بھی بھارتی پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر بھارت سے گھل مل کر رہنا پسند کر رہے ہیں ۔ ہندو بنیے سے مل کر پیار کی پینگیں جھولانا چاہئیں ۔ کہ ہمارا دین اسلام تعصب کا درس نہیں دیتا وسعتِ قلب کا سبق دیتا ہے ۔ ہندوستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے ۔ سالوں اور صدیوں ہمارے اسلاف و آباءاجداد مل جل کر رہے ، ان کی ایسی تاویلوں سے دین و وطن کی اقدار سے نابلد لوگ گمراہ ہو رہے ہیں ۔
قبل اس کے کہ ہندومت اور سکھ دھرم کے عقائد اور ان کے لیڈروں کے نظریات کو پیش کیا جائے پہلے اپنے اللہ کا فرمان جسے کلام متین میں واضح کیا گیا ہے ۔ ملاحظہ فرمایا جائے ۔
خالق کائنات اپنی الہامی کتاب ، قرآن پاک میں یوں فرما رہے ہیں ۔
(( وَلاَ یَزَالُونَ یُقَاتِلُونَکُم حَتّٰی یَرُدُّوکُم عَن دِینِکُم اِنِ استَطَاعُوا ))
( البقرہ : 217 )
” اور یہ لوگ کافر تم سے ہمیشہ جنگ کرتے رہیں گے حتیٰ کہ اگر قابو پاویں تو تمہیں تمہارے دین سے منحرف کر دیں ۔ “
(( یٰاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا الکٰفِرِینَ اَولِیَآئَ مِن دُونِ المُومِنِینَ اَتُرِیدُونَ اَن تَجعَلُوا لِلّٰہِ عَلَیکُم سُلطٰنًا مُّبِینًا ))
( النساء: 144 )
” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ ۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو ۔ “
سورہ اٰل عمران میں اس مضمون کو یوں واضح کیا گیا ہے ۔
(( یٰاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا بِطَانَۃً مِّن دُونِکُم لاَ یَالُونَکُم خَبَالاً وَدُّوا مَا عَنِتُّم قَد بَدَتِ البَغضَآئُ مِن اَفوَاہِہِم وَمَا تُخفِی صُدُورُہُم اَکبَرُ قَد بَیَّنَّا لَکُمُ الاٰیٰتِ اِن کُنتُم تَعقِلُونَ ))
( آل عمران : 118 )
” اے ایمان والو ! اغیار کو اپنا رازداں و معتمد نہ بناؤ ۔ وہ تمہیں خرابی پہنچانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے ۔ وہ پسند کرتے ہیں وہ چیز جس سے تمہیں نقصان ہو ۔ ان کے مونہوں ( زبانوں ) سے ان کا بغض ظاہر ہو چکا ہے ۔ اورجو ان کے سینوں نے چھپا رکھا ہے وہ اس سے بھی بڑا ہے ۔ ہم نے تمہارے لیے اپنی آیات صاف بیان کر دی ہیں ۔ اگر تم عقل رکھتے ہو ۔ “
مکرم قارئین ! خالق حقیقی کی واضح رہنمائی کے بعد اب ذرا خیال فرمائیے گا ۔ کہ کیا ہندو ، سکھ ، پارسی ، دھرے اور یہود و نصاریٰ کافر قومیں نہیں…. ؟ ان کی دشمنی واضح نہیں…. ؟ آج دنیائے اسلام باون ممالک پر مشتمل ہے ۔ مگر متحد نہیں ہے ۔ کفار نے ہمارے اندر نفاق پیدا کر رکھا ہے ۔ امریکہ اور برطانیہ نے خصوصاً مسلمان ریاستوں کو اپنی کالونیاں سمجھ رکھا ہے ۔ اور ہندو نے کوئی موقعہ ہاتھ سے گنوایا نہیں جب مسلمانوں پر ظلم نہ ڈھائے ہوں ۔ ذرا ان کے رہنماؤں کے نظریات کا جائزہ لیں ۔ شاید ہم سب انہیں ازلی دشمن جان کر اپنا دامن بچا لیں….
مشہور کانگریسی اور آریہ سماجی رہنما ، لالہ ہر دیال اپنے کتابچے ” میرے وچار “ میں یوں لکھتا ہے :
” ہندوستان اور پنجاب میں ہندو نسل کی بقا کی خاطر چار چیزیں بہت ہی ضروری ہیں ۔ ان کے بغیر ہم ( ہندو ) محفوظ نہیں رہ سکتے ۔ “
لالہ ہردیال کے چار پیغام زیر تحریر لائے جاتے ہیں ۔
1 ہندو سنگھٹن یعنی ہندو اتحاد ۔
2ہندو راج
3 مسلمانوں کی شدھی : کسی نہ کسی طور پر مسلمانوں کو ہندو دھرم اپنانے پر مجبور کرتا ہے ۔
4 افغانستان اور سرحدی علاقوں کی تسخیر ،
آج کے حالات میں اس کے پیغام کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے ۔ امریکہ سے مل کر افغانستان کے سچے مسلمانوں کو دہشت گرد کے زمرے میں لا کر انہیں شہید کیا جا رہا ہے ۔ ہمارے سرحدی اور جری مسلمانوں کو شہید کیا جا رہا ہے ۔ جنہیں ہمارے قائداعظم رحمہ اللہ نے بھی پاکستان کے بے لوث محافظ فرمایا تھا ۔ پاک و افغان بارڈر محفوظ تھا ۔ جسے کمزور کیا جا رہا ہے ۔ امریکی سازش کے تحت ہمارے حکمران پاک آرمی سے ہی سرحدی مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں ۔ کتنے دکھ کی بات ہے ۔
گاندھی جو کہ ہندوؤں بلکہ بھارتی مسلمانوں میں بھی مقبول سمجھا جاتا ہے اور افسوس بعض مسلمان اسے اپنا نجات دہندہ بھی گردانتے ہیں ۔ ذرا اس کا نظریہ بھی پڑھ لیں ۔ آہنسا اور عدم تشدد کا نام نہاد مہاتما ، موہن داس کرم چند گاندھی کا بیان یہ ہے ۔ ” ہندومت ان عیسائیوں اور مسلمانوں کو تلوار کے زور سے بھی مجبور کرنے سے تامل نہیں کرے گا ۔ کہ وہ گاؤکشی کو بند کر دیں ۔ ( بحوالہ الفضل و سٹیٹمین 9مارچ 1918 ) گاندھی بھلا یہ بیان کیسے نہ دیتا ۔ جبکہ خالص ہندو ہونے کے ناطے اس کی سوچ کا محور ” ارتھ شاستر “ تھا ، جس کا قانون یہ کہتا ہے : ” جو کوئی کسی گائے کی چوری کرے ، تشدد کا نشانہ بنائے ، یا اسے کسی ذریعے سے نقصان پہنچائے اس کو قتل کر دینا چاہئیے ۔ ( بحوالہ ارتھ شاستر صفحہ نمبر160 )
قارئین محترم : شاید پاکستان میں موجود وہ حضرات جو ہندو کی دوستی اس لیے پسند کرتے ہوں کہ یہ تو پچھتر سالہ پرانی بات ہے ۔ اب تو زمانہ بدل چکا ہے نئی روشنی پیدا ہو چکی ہے ۔ ہندو اب ایسی سوچ اور ایسا تعصب نہیں رکھتے تو ان کا خام خیال ہے ۔ ہندو اپنے عقیدے ، دھرم اور سوچ سے ذرہ بھر بھی پیچھے نہیں ہیں ۔ بلکہ وہ تو پہلے سے بھی مسلمانوں کے ساتھ زیادہ تعصب رکھتے ہیں ۔
ہریانہ ( بھارت ) کے ہندوؤں کے بارے 2002ءمیں خبر اس طرح شائع ہوئی ۔
” ہریانہ میں چند نیچ ذات ( شودر ، دلت ) کے چند ہندو پہلے سے مری ہوئی گائے کی کھال اتار رہے تھے کہ اونچی ذات ( برہمن و کشتھری ) کے ہندو وہاں جا پہنچے ۔ اس جرم کی پاداش میں پانچ نچلی ذات کے ہندوؤں کو اس مردہ گائے کی کھال اتارنے پر قتل کر دیا گیا ہے ۔
( جنگ لندن 18-10-2002 )
ہندوؤں کے نزدیک مسلمان قوم ملیچھ ( ناپاک ، غلیظ ، وحشی ) سمجھی جاتی ہے ۔ ہندو مسلمان قوم ( جو ان کے گھاس پھونس کھاتے ” خدا “ گائے کو ہڈیوں سمیت چبا جاتے ہیں ) کو کیسے معاف کر سکتے ہیں ۔ اس کافر قوم کا نظریہ وہی پرانا ہے ۔ وہی عقیدہ اب تک ان کے خون میں رس بس چکا ہے ۔ ان کے رہنماؤں ، گاندھی ، اور پرتاب سنگھ وغیرہ نے انہیں یہ سبق دیا ہے ۔ ذرا نوٹ فرما دیں ۔
” اگر تم ایک گائے کی خاطر کراچی سے مکہ تک کے تمام مسلمانوں کو بھی ختم کر دو تو بھی تھوڑا ہے ۔ “
درج ذیل ایک اور خبر پڑھئیے گا ۔ ( بمطابق نوائے وقت لندن 28-02-2003 )
ہندو انتہا پسندوں کے مذہبی اجتماع ، دھرم سنسادہ میں گائے کے تحفظ اور احترام پر زور دیا گیا ہے ۔ اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ گائے کو قومی ورثہ ، قومی جانور قرار دیا جائے ۔ اس کے تحفظ کیلئے علیحدہ وزارت قائم کی جائے ، گاؤماتا کے تحفظ کیلئے 5 ارب روپے کا خصوصی فنڈ قائم کیا جائے اسے ذبح کرنے کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جائے جس کی سزا عمر قید یا موت مقرر کی جائے ۔
( بحوالہ نوائے وقت لندن )
بھارت سے شائع ہونے والے ایک انگریزی جریدے جینٹل مین ( Gentleman ) کو دئیے جانے والے انٹرویو میں بال ٹھاکرے نے تو دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے ۔
” اگر بھارت میں امن قائم کرنا ہے ، اسے مستحکم کرنا ہے ۔ اسے دنیا کی طاقت بنانا ہے ۔ تو یہاں کے بسنے والے پندرہ کروڑ مسلمانوں کو ہندو بنانا ہوگا ، بھارت کے اندر سے ” اسلام “ کا وجود ختم کرنا ہوگا ۔ “
ہندو کی دشمنی کوئی نئی نہیں ہے اور نہ ہی یہ ختم ہو سکتی ہے ۔ مگر افسوس کہ پاکستانی لیڈر ہندو کو بھائی گردان رہے ہیں ۔ نظر تو یہ آتا ہے کہ یہ رہنما دینی و وطنی اقدار سے بے بہرہ ہیں ۔ اب ذرا ایک پمفلٹ کی تحریر ملاحظہ فرمائیے گا ۔جو حال ہی میں صوبہ گجرات ( بھارت ) میں ویشوا ہندو پریشد کے صوبائی لیڈر ” چینو این بھائی پٹیل “ کی طرف سے تقسیم کیا گیا ہے ۔ اس میں ہندو نوجوانوں کے جذبات کو مسلمانوں کے خلاف غلط و بے بنیاد پروپیگنڈا کرتے ہوئے یوں ابھارا ہے ۔ پمفلٹ کی تحریر کچھ اس طرح ہے ۔
” تمام مسلمان سلاطین مغلیہ بادشاہ اکبر اعظم سمیت بڑے جلاد ، سگ گزیدہ ، پاگل ، آمر ، حملہ آور اور لٹیرے تھے ۔ انہوں نے دو کروڑ بے گناہ ہندوؤں کو قتل کر دیا تھا ۔ اور یہ مسلمان ( ملیچھ ) چار چار شادیاں کرتے ہیں ۔ اپنی نسل تیزی سے بڑھا رہے ہیں ۔ خطرہ ہے کہ وہ ہندوستان میں رہ کر دوسرے پاکستان کا مطالبہ نہ کر دیں ۔
پھر کہتا ہے آٹھ ہزار میل کے فاصلے پر امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور دس ہزار افغان مسلمانوں کو مار ڈالا جبکہ ہندوستان مسلمانوں کی دہشت گردی ایذا دہی سے گزشتہ تیرہ سو سال سے لڑ رہا ہے ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہندو نوجوان مسلمانوں کو ختم کر دیں ۔
ہندوانہ تعصب کی انتہا ہو چکی ہے ۔ انہوں نے اپنے کئی ایک صوبوں کے نام بھی تبدیل کر دئیے ہیں ۔ مثلاً اترپردیش ، آندھرا پردیش ، مادھیر پردیش ، نامل ناڈو ، مہارا شٹر وغیرہ…. احمد آباد کا نام بدل کر ناوتی ، بمبئی کا نام بدل کر ممبئی اور حیدر آباد دکن کے نام کو اس طرح توڑ پھوڑ دیا گیا ہے ۔ کہ ان کی ( ہندو ) نوجوان نسل اسلامی ریاست کے تصور کو بھی بھول جائے ۔
21 جنوری 2002ءکو سٹیٹ گورنمنٹ نے ایک سرکلر جاری کیا ہے ۔ کہ تمام سکولوں میں ” دھرتی پوجا “ کی جائے طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ تمام طلبہ و طالبات ( ہندو و مسلمان ) اکٹھے ہو جایا کریں ۔ خالص گھی کے ایک سو دئیے جلائیں اور اونچی آواز سے سنسکرت زبان میں ” اشلوک “ کو گایاکریں ۔ یہ دھرتی کی پوجا کرائی جا رہی ہے ۔
قارئین کرام ! ہندو قوم اپنے عقیدے اور نظریات کے نفاذ کی خاطر کئی طرح کے ہتھکنڈے اور دھندے استعمال کر رہی ہے ۔ دشمنی کی انتہا ہے ہمارے مقدس مقامات ( مساجد ) کو شہید کر رہی ہے ۔ اور ہماری رواداری کی بھی مثال نہیں ملتی کہ ہم ان کے پلید و ناپاک اور بے بنیاد مندروں کی حفاظت کر رہے ہیں ۔ ان کے زائرین کی بڑی حفاظت کی جاتی ہے اور وہ ہمارے مسلمانوں کو بارڈر پار باضابطہ داخل ہونے پر بھی شہید کر رہے ہیں ۔ میچ دیکھنے گئے ، اتفاقاً ویزہ گم ہو گیا تو ہمارے معصوم خالد محمود لاہور کے ٹیچر کو بڑی سفاکی سے شہید کر دیا گیا ۔ اسی طرح محمد اکرم جو ذہنی توازن کھو جانے کی صورت میں غلطی سے بارڈ پار کر گیا ہندوستانی درندوںنے اسے شہید کر دیا ۔ دونوں کی لاشیں واہگہ بارڈر کے راستے لاہور بھیج دیں ۔
کبھی ہندوؤں ، سکھوں اور اغیار نے ہمارے کسی تہوار کو منایا ہو ؟ مگر افسوس ہم پر ہماری کوتاہیوں کے پیش نظر ہندوستانی حکومت کے بیباکانہ پروپیگنڈے اور بیہودہ فلموں کے ذریعے پاکستان میں غیر اسلامی کلچر کا زہر پھیل رہا ہے ۔ راجیو گاندھی کی بیوہ کے منہ سے نکلی ہوئی بات پوری ہو چکی ہے اس غیر اسلامی کلچر کا آج یہ نتیجہ ہے کہ ان کے بسنت کے تہوار کو پاکستانی اسلام زادے اور اسلام زادیاں رقص و سرور اور شراب نوشی کی محفلیں جما کر مناتے ہیں ۔ مکانوں کی چھتوں گلی کوچوں میں انڈین فلموں کی دھن پر بھنگڑے ڈالے جاتے ہیں ۔ یہ ہے ہمارا منہ بولتا تہذیبی زوال ، غیر اسلامی اقدار کی چھاپ اور مسلم ثقافت سے کھلی بغاوت…. ! کیا یہ ان شہداءکے مقدس خون سے غداری کے مترادف نہیں…. ! جنہوں نے سرزمین وطن کو اپنے مقدس خون سے سانچا تھا ۔ کاش ! ہمارے جوان اپنی 40 ہزار بیٹیوں کی فریاد سن رکھے ہوتے جنہیں ہندو و سکھ اٹھا کر لے گئے اور وہ ہندو بچوں کو جنم دے رہی ہیں ۔ کاش ! انہیں اس دردناک واقعہ کی یاد رہ جاتی جب 1947ءکی پہلی پاکستانی عیدالفطر کے موقعہ پر ہماری پاک دامن و باحیاءخواتین کے نازک اعضاءکو کاٹ کر ان سے ٹرین بھر کر واہگہ بارڈر کے راستہ لاہور روانہ کیا گیا اور لکھا گیا ” عیدالفطر کا تحفہ وصول کریں ۔ “
یہ حقیقت ہے کہ بھارت کے ہندوؤں نے کبھی بھی مسلمانوں کا وجود ہندوستان میں برداشت نہیں کیا ۔ وہ مسلمانوں کی تباہی کیلئے ہر قسم کا روپ دھار سکتے ہیں ۔ مسلمان حکمرانوں کے زمانے میں بھی ہندو ہر قسم کی ریشہ دوانیاں کرتے رہے ۔ صدیوں پہلے ایک مشہور مؤرخ البیرونی اپنی مشہور کتاب ” کتاب الھند “ میں لکھتے ہیں ۔
” ہندو مذھب میں ہم سے کلی مغائرت رکھتے ہیں ۔ غیروں کو یہ لوگ ملیچھ ( ناپاک ) کہتے ہیں ۔ اس لیے وہ غیروں کو ملنا جلنا ، شادی بیاہ کرنا ، قریب جانا یا مل بیٹھنا اور مل کر کھانا پینا جائز نہیں سمجھتے ، یہی وجہ تھی کہ ہندوؤں نے مسلمانوں کو ایذا پہنچانا ، دکھ دینا ، زلیل کرنا ، بائیکاٹ کرنا اور نفرت سے دور رکھنا اور قتل و غارت گری سے نیست و نابود کرنا اپنی زندگی کا لازمی جزو بنا لیا تھا ۔
آج جبکہ امریکہ 11/9 کا بہانہ تراش کر مسلم امہ پر چڑھ دوڑا ہے ۔ ہندو کی دشمنی یہودیت سے پیچھے نہیں ۔ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازشوں ، جاسوسی اور بغاوت میں پیش پیش ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے محسن پاکستان کے توسط سے پاکستان کو ایٹمی قوت بخشی ہے ۔ نہیں تو اس ازلی دشمن نے کبھی کا پاکستان پر حملہ کیا ہوتا ، جاسوس بھیج کر ، دھماکے کروا کر اپنے غبار نکال رہا ہے ۔ ایسے مکار و عیار و پرفریب ہمسایہ ملک سے دوستی کرنا احمقوں کی جنت میں بسنے سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دوست و دشمن پہنچاننے کی توفیق دے ۔
بھارت ہمارا دوست ملک ہر گز نہیں ہے ۔ حال ہی میں ایک انتہا پسند ہندو ” سنگھ “ نے مسلمان دشمنی پر مبنی ایک کتاب ” ہندو پروٹوکول “ شائع کی ہے ۔ جسے برطانیہ کی مارکیٹ میں خوب پذیرائی ملی ہے ۔ لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہو چکی ہے ۔ کتاب میں سے چند خطرناک اور انسانیت سوز حربے ملاحظہ فرمائیے گا ۔
1 مسلمانوں کے علاقوں میں فحاشی عام پھیلائی جائے ۔
2 مسلمانوں کے گھروں میں ملازمت کر کے انکی عورتوں کے ساتھ جنسی تعلقات پیدا کریں تا کہ ان کے گھر ہندو بچے پیدا ہوں ۔
3 اسرائیل کا ساتھ دیں کیونکہ وہ مسلمانوں کا بڑا دشمن ہے ۔
4 مسلمانوں کے کاروباری اداروں میں ملازمت اختیار کر کے ان کے کاروبار برباد کرنے کی کوشش کریں ۔
5 اگر آپ ہسپتالوں میں کام کر رہے ہیں ۔ تو مسلمان کے ہر نوزائیدہ بچے کے کان میں ” ہر اوم “ کہیں ۔
6 مسلمانوں کے ساتھ دوستی پیدا کریں ۔ ان کا اعتماد حاصل کر کے پھر ان کی پیٹھ پر چھرا گھونپ دیں ۔
7 غیر مسلموں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کریں ۔
8 مسلمانوں کے اندر نشہ خوری اور رنڈی بازی پھیلائیں ۔
9 سنگھ نے یہ سبق اپنی قوم کو دیا ہے ۔
مسلمانوں خصوصاً پاکستانی مسلمانوں کو یہ توقع کیسے ہو سکتی ہے ۔ کہ بھارت مسلمانوں کا دوست ملک ہے ہمیں اپنے نظام تعلیم اور میڈیا کے ذریعے اپنی نوجوان نسل کو بنےے کی دشمنی سے آگاہ کرنا چاہئیے ۔ وگرنہ ہماری نئی نسل نظریہ پاکستان سے قطعی منحرف ہو جائے گی ۔

دنیا کی معلوم تاریخ پر نظر ڈالیں یا دوسرے مذاہب کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس میں عورت کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ ہر دور میں خواتین کی حیثیت مردوں کے مقابلے میں بہت ہی کم تر نظر آتی ہے ۔ ان کو معاشرے میں نہایت گھٹیا مقام دیا جاتا تھا۔ اہل مذہب ان کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دیتے تھے اور ان سے دور رہنے میں عافیت محسوس کرتے تھے ۔ اور اگران سے کچھ رابطہ یا تعلق ہوتا بھی تو ایک ناپاک او ر دوسرے درجے کی مخلوق کی حیثیت سے ہوتا جوصرف مردوں کی ضروریات کو پورا کرنے لیے پیدا کی گئی تھی۔ یونانی اساطیر میں ایک خیالی عورت پانڈورا کو تمام انسانی مصائب کا ذمہ دار ٹھرایا گیا تھا۔ اسی طرح یہود و نصاریٰ کی مذہبی خرافات میں حضرت حوا علیہا السلام کوحضرت آدم علیہ السلام کے جنت سے نکالے جانے کا باعث قرار دیا گیا تھا۔چنانچہ عورت پر بہت طویل عرصہ ایسا گزرا کہ وہ کوئی قابل لحاظ مخلوق نہ تھی۔ یہ اسلام ہی کا کارنامہ ہے کہ حواء کی بیٹی کو عزت و احترام کے قابل تسلیم کیا گیا اور اس کومرد کے برابر حقوق دیے گئے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلامی تاریخ کی ابتدا ہی عورت کے عظیم الشان کردار سے ہوتی ہے۔
اسلا م کا آغاز حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی لازوال اور بے مثل قربانیوں سے ہوتا ہے ۔اس وقت ضعیف و ناتواں سمجھی جانے والی صنف نازک عزم و ہمت کا کوہ گراں اورحوصلہ افزائی کا سرچشمہ بن کرنبوت محمدی کا سہارا بن جاتی ہے۔ جب پہلی وحی نازل ہوئی اور غار حراء سے نکل کر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لائے تو گھبراہٹ اور پریشانی کے سائے آپ کا پیچھا کر رہے تھے مگرسیدہ خدیجہ اپنے شوہر کی پاکبازی، بلند اخلاق اور انسان دوست کردار کی گواہ بن کر نبوت پر سب سے پہلے ایمان لے آئیں اور فرمایا کہ ’’اے مجسمہ صدق و امانت! اللہ تعالیٰ آپ جیسے بلند کردار کو کبھی پریشانی اور گھبراہٹ کے سایوں کے سپرد نہیں کرے گا۔ انہوں نے اپنا وقت ،مال اور جان، سب کچھ اسلام پر نچھاور کردیا۔یہاں تک کہ اسلام کے راستے میں پہلے شہید حضرت حارث بن ابی ہالہ نے حضرت خدیجہ کی کوکھ سے جنم لیا تھا۔وہ آپ کے سابق شوہرسے تھے اور نبی مہربان کی گود میں پلے تھے۔
ایک عورت کا مقام دیکھنا ہے تو پھر اللہ کے فرمانبردار بندے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فرمانبردار بیوی حضرت حاجرہ کو دیکھیں ۔ انھوں نے اللہ اور اپنے خاوند کے حکم کی تعمیل میں بے آب وگیاہ وادی میں رہنا قبول کرلیا تھا۔پھر جب وہ اسماعیل علیہ السلام کے لیے ،پانی کی تلاش میں دیوانہ وار صفا اور مروہ کے درمیان دوڑیں تو اللہ نے ان کی فرمانبرداری اور خلوص کی قدر کرتے ہوئے، ان کے اس عمل کی تقلید قیامت تک کے لیے تمام مردوں اور عورتوں پر لازم کردی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں مسلم خواتین نے زندگی کے ہر شعبہ میں بھرپور کردار ادا کیا ۔ علم سیکھنے سکھلانے کا میدان ہو یا معاشرتی خدمات کا میدان، اللہ کی راہ میں جہاد کا موقع ہو یا سیاست و حکومت کے معاملات ہوں، سب میں خواتین کا واضح، روشن اور اہم کردار ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں صحابہ کرام اور صحابیات سب ایک ساتھ شریک ہوتے تھے اور دین کی باتیں پوچھتے اور سمجھتے تھے۔ جب خواتین نےنبی کریم سے شکایت کی کہ خواتین سے متعلق کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ہم اپنے باپ دادا اور بھائیوں کی موجودگی میں نہیں کرسکتیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین کے لئے ایک دن الگ سے مخصوص کردیا جس میں مرد شریک نہیں ہوتے تھے۔ اس طرح خواتین ہفتے میں چھ دن مردوں کے ساتھ اور ایک دن الگ سے حاضر ہو کر اپنے مسائل کا حل پوچھتی تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم کے نزدیک خواتین کی تعلیم و تربیت مردوں سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔
خصوصی حالات ،مثلا،میدان جنگ میں مسلم خواتین، مجاہدین کو پانی پلاتی تھیں، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور اس کار خیر میں کسی بڑے یا چھوٹے کی تفریق نہیں تھی ۔حتی کہ غزوہ احد میں حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ بھی اس کار خیر میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے موجود تھیں۔ اسی طرح علم کی تدریس، تعلیم کے فروغ اور حدیث کی روایت میں ابتدائی دور کی مسلم خواتین نے سرگرم کردار ادا کیا۔
اسلام نے عورت اور مرد کے دائرہ کا ر کو الگ الگ کر کے عورت کو گھر کے اندر عزت و احترام کا مرتبہ دیا ہے۔ چونکہ مرد تخلیقی اعتبار سے مشکلات اور صعوبتیں برداشت کرنے کے قابل ہے اس لیے اسلام نے معاشی مسائل کی تمام ذمہ داری مرد پر عائد کرکے گھریلو معاملات کو عورت کے سپرد کیا ہے۔اللہ نے مرد کو فیصلے کی قوت عطا فرمائی ہے۔کیونکہ کوئی نظام بھی کسی صاحب امر ،منتظم یا امیر کے بغیر نہیں چل سکتا ،اس لیے خاندان کے معاملات میں مرد کو امیر یا حاکم بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ باقی تمام معاملات میں عورت کو مرد کے مساوی حقوق دیے گئے ہیں۔قرآن مجید میں ارشاد ہے:

لَہُنَّ مِثْلُ الَّذِی عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوف
دستور کے مطابق عورتوں کے تم پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے تمہارے ان پر ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن جزا اور سزا کے معاملے میں بھی عورت اور مرد کو برابر رکھا ہے۔ ارشاد ہے:

”من عمل صالحاً من ذکر اوانثیٰ وھو مومن فلنحیینّہ حیاۃ طیّبۃ ولنجزینّھم اجرھم باحسن ما کانوا یعملون ”
جو شخص بھی نیک عمل کرے گا وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہو ہم اسے پاکیزہ حیات عطا کریں گے اور انھیں ان اعمال سے بہتر جزا دیں گے جو وہ زندگی میں انجام دے رہے تھے ”۔

اسلام بغیر کسی رکاوٹ کے عورت کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ ہر قسم کے مالی معاملات انجام دے اور عورت کو اس کے سرمایہ کا مالک شمار کرتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے

لِلرِّجَالِ نَصِیبٌ مِمَّا اکْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِیبٌ مِمَّا اکْتَسَبْنَ
“مردوں کے لئے وہ حصہ ہے جو انھوں نے کمایا ہے اور عورتوں کے لئے وہ حصہ ہے جو انھوں نے کمایا ہے“۔
اہل مغرب نے عورت کو مادر پدر آزادی دے کر اس کا استحصال کیا ہے۔اس پر گھر اور گھر کے باہر دوہری ذمہ داریاں ڈال دی ہیں۔ اس کے برعکس اسلام نے عورت کو عزت اور احترام کا مقام دیا ہے۔ اس کو ماں بنا کر جنت کا سرچشمہ،بہن بنا کر ایثار و قربانی ،محبت اور الفت کا پیکر،بیٹی بنا کراللہ کی رحمت کا عملی اظہاراوربیوی بنا کر راحت و سکون کا ذریعہ قرار دیا ہے۔اسلام نے گھر کے اندر رہ کر آنے والی نسلوں کے کردار و اخلاق کی تعمیر عورت کے سپرد کی ہے۔یہ ایک ایسی عظیم ذمہ داری ہے جو کسی قوم کی بقا اور استحکام کی پہلی شرط ہے۔ دنیا میں وہی قوم اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے جس کی خواتین کردار و اخلاق کی بلندیوں پر ہوں اور علم و اخلاق کے زیور سے آراستہ ،ایک بلند کردار نسل وجود میں لائیں۔