یہ تاریخی مضمون جناب ڈاکٹر میاں احسان باری نے 1973میں تیار کیا۔ اسی کو تقسیم کرنے پر 26مئی 1974کو سابقہ ربوہ اور حال چناب نگر کے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباءکا قادیانیوں سے جھگڑا ہوا جس پر قادیانیوں نے ان پر سوات سے واپس آتے ہوئے 29مئی 1974کو اسی اسٹیشن پرمسلح حملہ کر ڈالا اور 187طلباءکو زخمی کیا۔ اس واقعہ کی بازگشت پوری دنیا میں سنی گئی تو تحقیقات کیلئے ہائیکورٹ کے فل بنچ جس کی سربراہی جسٹس صمدانی کر رہے تھے‘ کو تفویض کی گئی ۔ڈاکٹر احسان باری کے مطابق انہوں نے اسی پمفلٹ کو وجہ تنازعہ قرار دیتے ہوئے اسکے مندرجات قادیانیوں کی تمام کتب منگوا کر حوالہ جات کی نسبت سے چیک کیے‘ تو یہ تمام کفریہ کلمات اور خرافات ان کتب سے حرف بحرف ثابت ہو گئیں۔ ان کے مطابق پھر یہی پمفلٹ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا مفتی محمود اور مولانا شاہ احمد نورانی نے بحثوں کے دوران پیش کیا۔ تمام قومی اسمبلی کے ممبران نے بھی ان حوالہ جات کو دیکھا حتیٰ کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو یہ تاریخی مضمون پیش کیاگیا۔ تمام حلقے ان کفریہ کلمات کو انکی کتابوں میں مندرج دیکھ کر سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور سخت سٹپٹائے۔ بالآخر 7ستمبر 1974کو قومی اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ یہ پمفلٹ پھر عوام اور اسلامیان پاکستان کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے تا کہ وہ ان مرتدین کی سازشوں کو سمجھیں اور حکمران اور پاکستانی عوام انکی چالوں میں ہرگزہرگزنہ آئیں۔ آمین ۔
خدا کے دشمن ، خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ، عامة المسلمین کے دشمن ، ننگ دین و ننگ وطن مرزائی ٹولے کی ناپاک و مکروہ سازشوں سے پردہ اٹھتا ہے۔ان کو ان ہی کی اپنی تحریروں کے آئینوں میں دیکھئے اور خدارا سوچئے اور فیصلہ کیجئے کیا یہ ہمارے دوست ہیں یا بد ترین دشمن ….؟ کیا یہ دل آزار اور اشتعال انگیز تحریریں مسلمانوں کیلئے قابل برداشت ہیں اور امت مسلمہ ایسے لوگوں کو گوارا کر سکتی ہے….؟
دعویٰ خدائی :نمبر ۱ : میں نے اپنے تئیں خدا کے طور پر دیکھا ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور میں نے آسمان کو تخلیق کیا ہے۔(آئینہ کمالات صفحہ ۴۶۵، مرزا غلام احمد قادیانی )
نمبر۲: خدا نمائی کا آئینہ میں ہوں۔ (نزول المسیح ص ۴۸)
نمبر ۳: ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جو حق اور بلندی کا مظہر ہو گا ، گویا خدا آسمان سے اترے گا۔ (تذکرہ ط ۲ص ۶۴۶(انجام آتھم ص ۲۶)
نمبر ۴: مجھ سے میرے رب نے بیعت کی۔ ( دافع البلاءص ۶)
نبوت کے دعوے : نمبر ۱ پس مسیح موعود (مرزا غلام احمد ) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ہاں!اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔ (کلمہ الفصل صفحہ ۸۵۱مصنفہ مرزا بشیر احمد ایڈیشن اول )۔گویا ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ” کے معنی ان کے نزدیک ہیں ” لا الہ الا اللہ مرزا رسول اللہ ” (نعوذ باللہ ) جو دوبارہ قادیان میں آیا ہے۔
نمبر ۲ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تین ہزار معجزات ہیں۔(تحفہ گولڑویہ صفحہ ۷۶مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی ) میرے معجزات کی تعداد دس لاکھ ہے۔ (براہین احمدیہ صفحہ ۷۵ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )۔
نمبر ۳: انہوں نے (یعنی مسلمانوں نے) یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے ….ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی …. قدر کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے ورنہ ایک نبی تو کیا‘ میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی ہونگے۔ (انوار خلافت، مصنفہ بشیر الدین محمود احمد صفحہ ۲۶)
نمبر ۴: ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں (بدر۵مارچ 1908ئ)۔
نمبر ۵: میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا اور میرا نام نبی رکھا۔ (تتمہ حقیقة الوحی ۸۶)۔
نمبر ۶: اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے یہ کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے‘ کذاب ہے‘ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔ ( انوار خلافت صفحہ ۵۶)۔
نمبر ۷: یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ (حقیقت النبوت مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ قادیان ص ۸۲۲)۔
نمبر ۸: مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا ، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں ، اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بد قسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔ (کشتی نوح صفحہ ۶۵، طبع اول قادیان ۲۰۹۱ئ)
تمام انبیاءکا مجموعہ : دنیا میں کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ میں آدم ہوں۔ میں نوح ہوں ، میں ابراہیم ، میں اسحاق ہوں ، میں یعقوب ہوں ، میں اسماعیل ہوں۔ میں داود ہوں ، میں موسیٰ ہوں ، میں عیسیٰ ابن مریم ہوں ، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ ( تتمہ حقیقت الوحی ، مرزا غلام احمد ص ۴۸)۔
نبوت مرزا غلام احمد قادیانی پر ختم: اس امت میں نبی کا نام پانے کیلئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں ہیں۔ (حقیقت الوحی ، مرزا غلام احمد صفحہ ۱۹۳)۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ۔نمبر ۱: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھالیتے تھے حالانکہ مشہو رتھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔ (جھوٹے پر لعنت) (مکتوب مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار الفضل ۲۲فروری ۴۲۹۱ء)
نمبر ۲: مرزا قادیانی کا ذہنی ارتقاءآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا۔ ( بحوالہ قادیانی مذہب صفحہ ۶۶۲، اشاعت نہم مطبوعہ لاہور )
نمبر ۳: اسلام محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پہلی رات کے چاند کی طرح تھا اور مرزا قادیانی کے زمانہ میں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہو گیا۔ (خطبہ الہامیہ صفحہ ۴۸۱)۔
نمبر ۴: مرزا قادیانی کی فتح مبین آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح مبین سے بڑھ کر ہے۔ (خطبہ الہامیہ صفحہ ۳۹۱)۔
نمبر ۵: اس کے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لیے چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔ ( اعجاز احمدی مصنفہ غلام احمد قادیانی ص ۱۷)
نمبر ۶ :
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(قاضی محمد ظہور الدین اکمل۵۲اکتوبر ۶۰۹۱ئ)۔
نمبر ۷۔ دنیا میں کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔ (حقیقت الوحی ص ۹۸ از مرزا غلام احمد قادیانی )۔
نمبر ۸: اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد صلعم کو اتارا تا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرے۔ (کلمہ الفصل ص ۵۰۱، از مرزا بشیر احمد )۔
نمبر ۹: سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ ( دافع البلاءکلاں تختی ص ۱۱، تختی خورد ص ۳۲، انجام آتھم ص ۲۶)۔
نمبر ۰۱۔ مرزائیوں نے ۷۱جولائی ۲۲۹۱ءکے ( الفضل) میں دعویٰ کیا کہ یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ (استغفر اللہ)۔
نمبر۱۱۔ مرزا غلام احمد لکھتے ہیں : خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے۔( ایک غلطی کا ازالہ صفحہ نمبر ۰۱)۔
نمبر ۲۱: منم مسیح زماں و منم کلیم خدا منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
ترجمہ ! میں مسیح ہوں‘ موسیٰ کلیم اللہ ہوں اور محمد اور احمد مجتبیٰ ہوں۔ (تریاق القلوب ص ۵، مصنفہ غلام احمد قادیانی )
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین۔نمبر۱: آپ کا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا)خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں ، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ ( ضمیمہ انجام آتھم ،حاشیہ ص ۷ مصنفہ غلام احمد قادیانی )۔
نمبر ۲: مسیح (علیہ السلام ) کا چال چلن کیا تھا ، ایک کھاو¿ پیو ، نہ زاہد ، نہ عابد نہ حق کا پرستار ، متکبر ، خود بین ، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔ (مکتوبات احمدیہ صفحہ نمبر ۱۲ تا ۴۲ جلد ۳)۔
نمبر ۳: یورپ کے لوگوںکو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔ (کشتی نوح حاشیہ ص ۵۷ مصنفہ غلام احمد قادیانی )۔
نمبر ۴: ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو ‘ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ (دافع البلاءص ۰۲)۔
نمبر ۵: عیسیٰ کو گالی دینے ، بد زبانی کرنے اور جھوٹ بولنے کی عادت تھی اور چور بھی تھے۔ ( ضمیمہ انجام آتھم ص ۵،۶)۔
نمبر ۶: یسوع اس لیے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکتا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور خراب چلن ، نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداءہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کادعویٰ شراب خوری کا ایک بد نتیجہ ہے۔ (ست بچن ، حاشیہ ، صفحہ ۲۷۱، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )
حضرت علی کرم اللہ وجہ کی توہین : پرانی خلافت کا جھگڑا۔ چھوڑو اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی ( مرزا صاحب ) تم میں موجود ہے۔ اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی (حضرت علیؓ) کو تلاش کرتے ہو۔(ملفوظات احمدیہ ، ۱۳۱جلد اول )
حضرت فاطمہ الزاہراؓ کی توہین :حضرت فاطمہ ؓنے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔ ( ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص ۹مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )۔
حضرت امام حسینؓ کی توہین:نمبر۱ : دافع البلاءمیں ص ۳۱پر مرزا غلام احمد نے لکھا ہے میں امام حسین ؓسے بر تر ہوں۔
نمبر۲: مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ (اعجاز احمدی صفحہ ۹۶)۔
نمبر ۳: اور میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسینؓ دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔ (اعجاز احمدی صفحہ ۱۸)۔
نمبر ۴: کربلا ئیست سیر ہر آنم صد حسین اس در گر یبانم
میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ میرے گریبان میں سو حسین پڑے ہیں۔ (نزول المسیح ص ۹۹مصنفہ مرزا غلام احمد )۔
نمبر ۵: اے قوم شیعہ ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں سے ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔ (دافع البلاءص ۳۱، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )۔
نمبر ۶ : تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے۔۔۔۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔ ( اعجاز احمد ی ص ۲۸، مصنفہ مرزا غلام احمد )۔
اس عبارت میں مرزا صاحب نے حضرت حسین ؓکے ذکر کو “گوہ” کے ڈھیر سے تشبیہ دی ہے۔
مکہ اور مدینہ کی توہین ۔نمبر۱: حضرت مسیح موعود نے اسکے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں نہ آئے‘ مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماو¿ںکا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔ (مرزا بشیر الدین محمود احمد مندرجہ حقیقت الرویا ص ۶۴)۔
نمبر ۲: قرآن شریف میں تین شہروں کا ذکر ہے یعنی مکہ اور مدینہ اور قادیان کا۔ (خطبہ الہامیہ ص ۰۲حاشیہ)
مسلمانوں کی توہین۔نمبر۱: ک±ل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا اور میری دعوت کی تصدیق کر لی مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔ (آئینہ کمالات ص ۷۴۵)۔
نمبر۲: جو دشمن میرا مخالف ہے‘ وہ عیسائی ، یہودی ، مشرک اور جہنمی ہے۔ (نزول المسیح ص ۴، تذکرہ ۷۲۲)۔
نمبر ۳: میرے مخالف جنگلوں کے سور ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔ (نجم الہدیٰ ص ۳۵ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)۔
نمبر ۴: جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔ ( انوارالاسلام ص ۰۳مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)۔
اسلام کی مقدس اصطلاحات کا ناجائز استعمال ۔ نمبر۱: ام المومنین کی اصطلاح کا استعمال مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کیلئے کیا جاتا ہے۔یہ اصطلاح نبی کریم ﷺکی ازواج مطہرات کیلئے مخصوص ہے۔
نمبر۲ سیدةالنساءکی اصطلاح بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی بیٹی کیلئے استعمال کی جاتی ہے حالانکہ حدیث پاک کی رو سے یہ اصطلاح صرف خاتون جنت حضرت فاطمة الزہراءرضی اللہ تعالیٰ عنہا کیلئے مخصوص ہے۔
دین اسلام کی توہین ۔قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی نبوت کے بغیر دین اسلام لعنتی ، شیطانی ، مردہ اور قابل نفرت ہے۔ (ضمیمہ براہین پنجم ص ۳۸۱، ملفوظات ص ۷۲۱جلد۱)۔
تمام مسلمان کافر ہیں : نمبر۱: جو شخص مجھ پر ایمان نہیں رکھتا‘ وہ کافر ہے۔ (حقیقت الوحی نمبر ۳۶۱، از مرزا غلام احمد قادیانی )۔
نمبر۲: ک±ل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد ) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ (آئینہ صداقت ص ۵۳، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان )۔
نمبر ۳: تحریک احمدیت اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو اخبار بدر نمبر ۳۴، جدل ۲قادیان

Leave a Reply