معزز قارئین کرام ! السلام و علیکم: گونج اخبار کے ذریعے اور اس سے پہلے دیس پردیس، ماہنامہ پاکستان اور ہفت روزہ اوورسیز کے ذریعے میں ملک و قوم کی بہت سالوں سے خاموش خدمت کر رہا ہوں۔ آنے والے وقت میں جب کوئی شخص آسٹریلیا میں صحافت کی تاریخ رقم کرے گا اور وہ باضمیربھی ہوا تو صحافت میں میری خدمات سے چشم پوشی نہیں کرے گا۔ اخبار نکالنا ایک کٹھن کام ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کی ناراضگی بھی مول لینی پڑتی ہے اور یہ بہت زیادہ مشکل ہو جاتا ہے کہ سبھی لوگ آپ کے ہمخیال ہوں۔میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ جسے میں صحیح سمجھتا ہوں اسے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پیش کر دیا جائے اور فیصلے کا حق قارئین کو دے دیا جائے۔اکثر یہ سوال بھی کیا جاتا ہے جسے میں تجاہل عارفانہ کا نام دیتا ہوں کہ آخر یہ ڈاکٹر خالد رشید ساگر نامی شخص چاہتا کیا ہے؟ اور اس کی گونج کو کیسے بند کیا جا سکتا ہے؟ویسے تو بہت سے مسائل ہیں لیکن آئیے ایک ایک کرکے انکا جائزہ لیتے ہیں۔میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ ذاتی حیثیت سے اگر کوئی پاکستانی کوئی غلط کام کرتا ہے تو اسکو چھیڑنا میرا شیوہ نہیں ہے لیکن جب بھی کوئی شخص کوئی پلیٹ فارم استعمال کرے گا اور پھر کوئی غلط حرکت کرے گا تو میں سمجھتا ہوں کہ ایک باضمیر انسان اور صحافی ہونے کی حیثیت سے یہ میرا فرض بنتا ہے کہ میں اس کے عمل سے دوسروں کو آگاہ کروں۔ یہاں پر یہ بھی وضاحت کرتا چلوں کہ کمیونٹی میں ایسے بھی لوگ ہیں جو اس کے بھی خلاف ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ جو کوئی جو کچھ بھی کرتا رہے اسے اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے۔ ذرا خیال کریں کہ اگر ہر شخص کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو پھر معاشرے میں کیسی افراتفری پیدا ہوسکتی ہے۔میں مثال دے کر واضح کرتا ہوں۔ گونج کی سابقہ اشاعتوں میں وجیہہ بٹر صا حبہ جو کہ آسٹریلیا کے معروف پاکستانی وکیل پرویز بٹر کی صاحبزادی ہیں کے بارے میں لکھا گیا۔اسکی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے یہاں کے ایک انگریزی میگزین کو جو انٹرویو دیا تھا وہ اپنی ذاتی حیثیت سے نہیں دیا تھا بلکہ پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا کی جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے دیا تھا۔اس لئے انکی پریشان خیالی کو دور کرنا میں نے اپنا فرض سمجھا اور ”روشن خیال مسلمان“ کے نام سے میں نے ایک مضمون لکھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آسٹریلیا میں دین کے علمبرداروں میں سے بھی کوئی اٹھتا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر وہ مہر بہ لب رہے۔ اب جبکہ وہ ایسوسی ایشن سے الگ ہو چکی ہیں اور اب وہ ایک عام پاکستانی نژاد آسٹریلوی شہری ہیں اس لئے کم از کم گونج میں انکے بارے میں آپ مزید کچھ نہیں پڑھیں گے۔ یہی حال شاعر کہلانے والے سعید خان صاحب کا تھا کہ وہ بھی اردو سوسائٹی اور ایسوسی ایشن کے اہم مناصب پر فائز رہنے کے ساتھ ساتھ کونسلر بھی تھے۔ اس لئے ان کی حرکات وسکنات پر اکثر لکھا جاتا رہا۔ خاص طور پر جب انہوں نے ایک متنازعہ شخصیت افتی نسیم صاحب (صاحبہ) کو امریکہ سے بلوایا۔ اب جبکہ سعید صاحب تمام مناصب سے فارغ ہو چکے ہیں اس لئے انکا کوئی قول و فعل میری نظر میں اس قابل نہیں ہے کہ مزید اس پر کچھ لکھا جائے اور نہ ہی کمیونٹی کو اس سے کوئی دلچسپی ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر اکرم حسن اور اعجاز خان کے کردار پر اگر گونج میں کبھی کچھ لکھا بھی گیا تو اسکی بھی یہی وجہ تھی کہ وہ پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا کا پلیٹ فارم استعمال کررہے تھے۔ اب جبکہ وہ کوئی بھی عوامی پلیٹ فارم استعمال نہیں کر رہے اس لئے وہ ایک عام شہری ہیں۔البتہ انہوں نے جاتے وقت پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا کے جو نام نہاد الیکشن کروائے وہ سخت ترین قابل اعتراض ہیں کیونکہ انہوں نے جان بوجھ کر اسی مسلسل روایت کو فروغ دیا کہ جس کے پاس پیسے ہوں وہ ادا کر کے ایسوسی ایشن کی کوئی بھی پوسٹ خرید سکتا ہے۔ اس ضمن میں گونج کی سابقہ اشاعتوں میں کافی تفصیل لکھی جا چکی ہے اور میں واضح کر چکا ہوں کہ اس ساری دھاندلی کی ذمہ داری خود پاکستانی کمیونٹی پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ خاموشی سے بیٹھی یہ سب کچھ ہوتا دیکھ رہی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آخر ہم ایسے کیوں نہ کرتے کیونکہ کوئی شخص بھی پیسے ادا کر کے ایسوسی ایشن کی رکنیت لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ میں یہ بات مانتا ہوں کہ یہ سچ ہے کوئی بھی پیسے ادا کر کے آگے نہیں آنا چاہتا لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ میدان خالی دیکھ کر پیسے ادا کرکے من پسند لوگوں میں عہدوں کو بانٹ دیا جائے اور اس طرح صحیح جمہوری طرز عمل کا گلا گھونٹ دیا جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایسوسی ایشن کی تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہوتیں کہ فلاں طالب علم کی مالی مدد کی گئی، فلاں جگہ فلاں مالی یا سماجی بہبود کا کام کیا گیا تو لوگ ضرور اسکی رکنیت حاصل کرتے لیکن جب کمیونٹی دیکھ رہی ہے کہ ان کے دئے ہوئے رکنیت کے چندے سے صرف کسی بڑے ہوٹل میں 23 مارچ یا 14 اگست کا دن منا کر چند لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ملک و قوم کی بہت زیادہ خدمت ہورہی ہے توپھر وہ دل برداشتہ ہوجاتے ہیں۔مجھے ایک دو فون بھی آئے جس میں یہ کہا گیا کہ ہم نے بھی یہاں رہنا ہے آپ نے بھی یہاں رہنا ہے کیوں نہ اس معاملے کو بات چیت سے طے کیا جائے۔میں نے یہ جواب دیا کہ آخر بات چیت سے کیا طے ہو جائے گا؟ جو کام ہی غلط طریقے سے کیا گیا ہے۔ جس چیز کی بنیاد ہی غلط ڈالی گئی ہے میں تو کیا کمیونٹی کا کوئی بھی باضمیر شخص اسکو پسند نہیں کر رہا۔ یہی لوگ جو چور دروازے سے داخل ہو کر کمیونٹی کی خدمت کا دعویٰ لے کر حاضر ہوئے ہیں۔ اوپن اور فئر الیکشن کرائیں اور پراکسی وغیرہ کے پرانے ہتھکنڈے استعمال نہ کریں۔ باقاعدہ ووٹ لے کر آئیں خواہ یہی لوگ دوبارہ منتخب ہوجائیں کمیونٹی انکا استقبال کرے یا نہ کرے گونج اخبار ضرور کرے گا۔ اگر غریب اور مسکین پاکستانی عوام زرداری جیسے غنڈے ، چور اور ملک دشمن کو برداشت کر رہی ہے تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے۔اس ضمن میں مزید پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ چونکہ کمیونٹی کے اشخاص میں خود ہی ابھی یہ شعور بیدار نہیں ہوا کہ انہیں ایسوسی ایشن کا باقاعدہ رکن بننا چاہئے اور اپنے ووٹوں کا صحیح استعمال کرکے خود بھی سماجی خدمات میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے میں نے یہ طے کیا ہے کہ بقول شخصے اداروں کو مضبوط بنانا چاہئے۔ ”الیکشن“ خواہ متنازعہ ہی تھے لیکن جو لوگ اب عہدے داران منتخب ہو چکے ہیں انہیں کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے تاکہ سماجی ادارے مضبوط ہوں اور ایک اچھی روایت قائم ہو سکے۔ اس سلسلے میں ایسوسی ایشن کے چند عہدے داران سے گونج کی ملاقاتیں ہوئی ہیں جن میں گونج نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ ایسوسی ایشن کو میڈیا کے ساتھ روابط بڑھانے چاہئیں اور سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا تاکہ جو بھی سماجی خدمات ہو رہی ہیں ساری کمیونٹی اس سے آگاہ رہے۔ گونج کی سابقہ اشاعت میں پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا کے نو منتخب صدر افتخار رانا کے حوالے سے جو خبر شائع ہوئی تھی۔ رانا برادری کے ایک سرکردہ رکن نے جنہوں نے فی الحال اپنا نام شائع نہ کرنے کی درخواست کی ہے گونج سے ایک ملاقات میں یہ وضاحت کی کہ افتخار رانا کے حوالے سے جو خبر شائع کی گئی ہے وہ بے بنیاد ہے کیونکہ نیپ کی اس رپورٹ میں جس افتخار کاذکر ہے وہ رانا افتخار نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں وہ حقائق اکٹھا کر رہے ہیں۔ ادارہ گونج نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ جیسے ہی وہ تمام ثبوت پیش کر دیں گے انہیں گونج میں شامل اشاعت کر دیا جائے گا۔ یہاں پر ایک بار پھر وضاحت کرتا چلوں کہ کسی پر خوامخواہ کیچڑ اچھالنا کم از کم گونج اخبار کا شیوہ نہیں ہے۔قارئین کرام! میرا کالم کہتا ہوں سچ میں مزید اضافے حاضرہیں. نہایت خوشی کی بات یہ ہے کہ گونج کے قارئین کی ایک قابل ذکر تعداد ہوتی جا رہی ہے اور آپکی طرف سے ملنے والی ای میلز اور دیگر ذرائع سے جو رابطے ہماری ستائش کے لئے کئے جاتے ہیں انکے لئے ہم انکے مشکور ہیں.پاکستانی کمیونٹی کی تازہ ترین صورتحال میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا. یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہی جو چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے. کہا جاتا ہے کہ پاکستانیوں کا فنکشنل لٹریسی ریٹ 6 سے دس فیصد ہے. کوئی بھی قوم اس وقت تک صحیح معنوں میں ترقی نہیں کر سکتی جب تک اسکا لٹریسی ریٹ یعنی شرع خواندگی 40 فیصد تک نہ ہو.
جس شرع سے پاکستانیوں کی استعداد ہے وہی شرع آسٹریلیا میں پاکستانی کمیونٹی میں دکھائی دیتی ہے بلکہ یہاں پر یہ شرع اور بھی کم ہے. شکایت ان پڑھ لوگوں سے تو کی جا سکتی ہے لیکن جب نام نہاد پڑھے لکھے اشخاص بھی جاہلانہ رویہ اور اجڈ پن کا مظاہرہ کریں تو وہاں پر اعتراض کی گنجائش بنتی ہے. میری صرف ایک چھوٹی سی گذارش ہے . اگر ہم میں سے ہر شخص بشمول میں یہ وتیرہ اختیار کر لے کہ کسی بھی دوسرے شخص کے بارے میں بغیرکوئی چھان بین کئے افواہ نہ اڑائی جایا کرے تو صورتحال کافی حد تک سدھر سکتی ہے ورنہ جس طرح کے حالات جا رہے ہیں ان میں کوئی اچھائی دکھائی نہیں دیتی. ہمیں ملکی مفاد کی خاطر ذاتی مفادات اور پسند و ناپسند کو پس پشت رکھنا ہو گااور ملکی مفاد کی خطر کسی ایسے شخص سے بھی ہاتھ ملانا پڑتا ہے جس کے نظریے سے اختلاف ہو تو ضرور دوستی کا ہاتھ بڑھائیں ہو سکتا ہے کہ آپ نے کسی بھی شخص کے بارے میں صرف سنی سنائی باتوں پر اکتفا کرتے ہوئے بغیر اس کو جانے اسکا کوئی غلط امیج اپنے ذہن میں بٹھا رکھا ہو جب کہ وہ شخص آپکے بنائے ہوئے خودساختہ امیج کے بالکل برعکس ہو.
اختلاف رائے رکھنا ایک جمہوری حق ہوتا ہے جو کوئی بھی نہیں چھین سکتا۔بات کچھ زیادہ لمبی ہو گئی اللہ نے چاہا تو پھر ملاقات ہو گی۔ اللہ نگہبان٭