گونج (خصوصی رپورٹ) اگر انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش کے حکومتی ریکارڈز کو سچ مان لیا جائے تو ٹینس کی سٹار کھلاڑی ثانیہ مرزا انتہائی غربت میں رہتی ہیں۔حکام کے مطابق انہیں ایک تفتیش کے دوران ایک غریبوں کو دیا جانے والا ایک خصوصی شناختی کارڈ ملا ہے جس پر ثانیہ مرزا کی تصویر اور نام ہے۔وزیاناگرام ضلع سے جاری ہونے والا یہ کارڈ بتایا ہے کہ نہ صرف ثانیہ مرزا غریب ہیں بلکہ شادی شدہ بھی ہیں۔ ان کے شوہر کی عمر بیس سال ہے۔حقیقت میں دنیا کی ٹاپ رینکنگ کھلاڑیوں میں شامل ثانیہ مرزا غیر شادی شدہ ہیں۔’بی پی ایل‘ (بیلو پاورٹی لائنز) یعنی ’غربت کی لکیر سے نیچے‘ کے نام سے جانے والے یہ شناختی کارڈز ان افراد کو دیے جاتے ہیں جو انتہائی غریب ہوتے ہیں۔ ان کارڈز کی وجہ سے انہیں سستے چاول (دو روپے فی کلو)، پینشن، گھر اور مفت علاج کی سہولت ملتی ہے۔یہ جعلی کارڈ وزیاناگرام ضلع کے ایک گاو¿ں ویپادو کے محصولات کے محکمے کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔ثانیہ مرزا انڈیا کے امیر ترین کھلاڑیوں میں سے ہیں جو حیدرآباد کے ایک انتہائی متمول علاقے میں رہتی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بی پی ایل کارڈ صرف شادی شدہ جوڑوں کو اس وقت دیا جاتا ہے جب وہ خود حکام کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور ان کی اکٹھے تصویر کھینچی جاتی ہے۔لیکن اس شناختی کارڈ پر دو الگ الگ تصویریں ہیں، ایک ثانیہ مرزا کی اور دوسری ’ان کے شوہر‘ مسٹر نارائنا کی۔ایسا لگتا ہے کہ نارائنا غیر شادی شدہ ہیں اور انہوں نے ٹینس سٹار کا نام اور تصویر اپنے سے چپکا دی ہے۔ریاست کے وزیرِ اعلیٰ وائے ایس راجہ شیکھر ریڈی اس بات پر بہت ناراض ہیں اور انہوں نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔انہوں نے غصے میں حکام سے کہا ہے کہ ’معلوم کریں کہ جس آفیسر نے ثانیہ مرزا کے نام والا کارڈ جاری کیا ہے وہ پاگل تو نہیں۔ کس طرح کوئی یہ کر سکتا ہے۔ یہ غیر ذمہ داری کی انتہا ہے۔‘حکومت کا اب کہنا ہے کہ اس طرح کے پینتالیس لاکھ کے قریب بوگس کارڈ جاری ہوئے ہیں اور ان کو ختم کرنے کے لیے اگلے ماہ سے ایک مہم شروع کی جائے گی۔