لاہور (نمائندہ گونج) جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر اور آخری بانی رکن میاں طفیل محمد طویل علالت کے بعد شیخ زید اسپتال میں 20 روز زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کرگئے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ،ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین ،گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ،جماعت اسلامی کے امیر منور حسن، سند ھ کے امیر اسداللہ بھٹو،کراچی کے امیر محمد حسین محنتی ، حافظ نعیم الرحمن اور برجیس احمد نے میاں طفیل محمد کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کو اپنی جوار رحمت میں جگہ اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ وزیراعظم نے مرحوم کی دینی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف، گورنر پنجاب سلمان تاثیر، میاں محمد نواز شریف، چوہدری شجاعت، پرویز الٰہی، مونس الٰہی، عمران خان، اعجازالحق ،پیپلز پارٹی کے رہنماء پروفیسر این ڈی خان ، وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی اور دیگرسیاسی رہنماو¿ں نے بھی میاں طفیل محمد کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیاہے۔ تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی پاکستان کے بانی امیر مولانا مودودی ؒکے بعد 1972ءسے 1987ءتک امیر جماعت اسلامی رہنے والے میاں طفیل محمد نے 95 سال کی عمر پائی۔ مرحوم کو 20 روز قبل برین ہیمرج ہوا تھا جن کو شیخ زید ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں پر وہ جانبر نہ ہوسکے۔ میاں طفیل محمد 1914ءمیں بھارت کی ریاست کپورتھلہ ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ میاں طفیل محمد جماعت اسلامی پاکستان کے 80 بانی ارکان میں سے ایک بانی رکن تھے جنہوں نے مولانا مودودیؒ کے ساتھ مل کر جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ میاں طفیل محمد کی نماز جنازہ آج منصورہ میں بعد نماز جمعہ ادا کی جائے گی۔ میاں طفیل محمد کی اہلیہ پہلے ہی وفات پاچکی ہیں۔ مرحوم کے پسماندگان میں 4 بیٹے اور 8 بیٹیاں شامل ہیں۔ میاں طفیل محمد نے کچھ کتابوں کے تراجم بھی کئے، خصوصاً سید علی ہجویری ؒ کی شہرہ آفاق تصنیف کشف المحجوب کا جو ترجمہ مرحوم میاں طفیل محمد نے کیا وہ سب سے زیادہ موثر اور قبول عام ہے۔ میاں طفیل محمد کا انتقال پوری اسلامی دنیا میں یقینا ایک المناک واقعہ ہے۔

Leave a Reply