ویسے تو آسٹریلیا آکر بس جانے والے بہت سے لوگ پاکستان بننے سے پہلے بھی موجودہ پاکستانی علاقوں سے آ ئے لیکن انکی شناخت پاکستان کے نام سے نہ ہوئی اور وہ سبھی ”گھان“ یا خان کہلائے۔ ۰۹۹۱ کی دہائی میں زیادہ تعداد میں پاکستانی آسٹریلیا وارد ہوئے ہیں۔انکی بالکل درست تعداد شاید کسی کو بھی معلوم نہیں لیکن اندازہ کیا جاتا ہے کہ پورے آسٹریلیا میں کئی ہزار کے قریب پاکستانی ہوں گے جن میں سے پچیس سے تیس ہزار کی تعداد سڈنی اور اس کے گردونواح میں مقیم بتائی جاتی ہے۔ان گذشتہ دس سالوں میں کمیونٹی کے افراد نے وہ دن بھی دیکھے جب ڈی پورٹ ہونے کے ڈر سے کوئی اپنا فون نمبر تک کسی کو نہیں بتایا کرتا تھا اور اس ضمن میں قیصر چیمہ صاحب نے بہت شہر ت حاصل کی کہ انہوں نے بہت سے پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کرا کے پیسے بٹورے۔ لوگ کہتے ہیں کہ آج ترقی کی جس منزل پر وہ کھڑے ہیں اس میں پاکستانیوں کا خون بھی شامل ہے۔کچھ تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو پاکستان یا دیگر ممالک سے مستقل ویزے پر آئے جبکہ بہت سے لوگ سیاحتی، طالب علم یا کسی اور غیر مستقل ویزے کی بنیاد پر آئے مثلاً کسی سیاسی لیڈر کے ساتھ آئے اور پتلی گلی سے نکل لئے یا پھر سیدھے سیدھے بحری جہاز سے ہی چھلانگ لگا دی۔ ہم کسی کو بھی مورد الزام نہیں ٹھہرا رہے۔ بہرحال جس نے جو بھی طریقہ اختیار کیا۔ خواہ جعلی شادیاں کر لیں یا کوئی اور دھوکہ دہی کی واردات کی یہ ان تمام متعلقہ پاکستانیوں کا نجی معاملہ ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب پاکستانیوں سے شادی کرنے سے پہلے لوگوں کی کافی بڑی تعدادکافی ہچکچاہٹ رکھتی ہے۔ حال ہی میں جو پاکستانی آ رہے ہیں ان میں سے اکثر کی پاکستان میں ایجنٹ حضرات غلط رہنمائی کرتے ہیں اور انہیں خوامخواہ کے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں کہ وہاں جاتے ہی ڈالروں کی بارش شروع ہو جائے گی۔ کئی ایسے بھی ہیں جو اسٹوڈنٹ ویزے پر بیوی اور بچوں کو بھی ساتھ لے آئے ہیں کہ یا بیوی تعلیم حاصل کرے گی اور وہ خود پیسہ کمائیں گے یا وہ خود پڑھیں گے اور بیوی نوکری کرے گی لیکن یہاں پر نوکریوں کی صورتحال بہت دگر گوں ہے۔ اگر غلطی سے بھی کسی نے بتا دیا کہ وہ عارضی ویزے پر ہے تو ایسی روایات بھی موجود ہیں کہ تین تین ماہ تک ان سے ٹریننگ کے نام پر کام لے کر انکے پیسے دبا لئے گئے۔ خاص طور پر سیون الیون کے چند مالکان کے نام لئے جاتے ہیں جو نئے آنے والوں یا طالب علموں کو یا تو بالکل پیسے نہیں دیتے یا پھر دیتے ہیں تو بہت کم۔ نئے آنے والوں کی رہنمائی کے لئے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستانی سفارتخانہ یا قونصلیٹ کوئی ادارہ قائم کرتا لیکن اکثر لوگ اس بات کے شاکی ہیں کہ ان اداروں سے انہیں کوئی مدد نہیں ملتی۔ ہو سکتا ہے کہ نجی طور پر چند افراد کچھ لوگوں کی مدد کر بھی رہے ہوں لیکن اجتماعی طور پر ایسا شعور ابھی بیدار نہیں ہوا اور نہ ہی اجتماعی طور پر ایسی کوئی کاوش منظر عام پر آتی ہے کہ کسی سماجی ادارے نے اس سلسلے میں کچھ کردار ادا کیا ہو۔ لے دے کے پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا ہی ایک ایسا نامی ادارہ سامنے آتا ہے جس سے کچھ لوگ بعض توقعات قائم کر لیتے ہیں لیکن اکثر کی توقعات پوری نہیں ہوتیں۔ اب چونکہ میڈیا یا ذرائع ابلاغ کے کسی بھی ذریعے سے ایسی کوئی بھی کاوش منظر عام پر نہیں آتی جو کہ ایسوسی ایشن نے سماجی بہبود کی بنا پر کمیونٹی کے افراد کے ساتھ کی ہو جس کی بنیاد انفرادی ہو۔ میں مانتا ہوں کہ ایسوسی ایشن کے افراد نے پاکستان میں پیش آنے والی افتادکے موقع پر ضرور کچھ رقوم جمع کی ہیں اور انہیں بھجوائی بھی ہیں لیکن انفرادی سطح پر اگر کوئی کام ہوا ہے تو اس کی مناسب تشہیر نہ ہوپانے کی وجہ سے عام لوگ ایسوسی ایشن کی رکنیت حاصل کرنے یا پھر اس کے سالانہ چندے کے لئے بیس ڈالر ز کی رقم دینے کے لئے خود کو آمادہ پاتے ہیں۔ ایک اور مشورہ ایسوسی ایشن کے کرتا دھرتاو¿ں کو دینا چاہوں گا کہ رکنیت کا موجودہ سسٹم غلط ہے۔ آج کل یہ ہو رہا ہے کہ عین الیکشن کے دنوں میں رکنیت سازی کی مہم شروع کی جاتی ہے اور دھڑا دھڑ ووٹ بنائے جاتے ہیں۔ اس طرح سے جو ووٹ بنتے ہیں مزے کی بات یہ ہوتی ہے کہ وہ گذشتہ سال کے لئے ہوتے ہیں اور الیکشن ہونے کے ساتھ ہی وہ رکنیت ساقط ہو جاتی ہے۔ اس مشکل کی وجہ سے ہارس ٹریڈنگ اور ووٹ بائنگ جیسی علت جنم لیتی ہے۔ میں یہ گذارش کروں گا کہ اتفاق رائے سے اس سسٹم کو ختم کر دیا جائے اور ووٹ دے سکنے کی صلاحیت کو کسی خاص مدت تک کے لئے مشروط کر دیا جائے کہ اگر کوئی الیکشن سے فوری پہلے رکن بننا چاہے تو اسے ووٹ ڈالنے کا اہل نہ سمجھا جائے۔ پراکسی کے سسٹم کو غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسکو فی الحال ختم کر دیا جائے اور اگر کوئی رکن موجود نہیں ہے تو اسکا ووٹ شمار نہ ہوگا۔ پاکستان ایسوسی ایشن کے آئین کا غور سے مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے اس کی کسی بھی شق پر عمل نہیں کیا گیا لیکن گذارش کی جاتی ہے کہ آئندہ کم از کم آئین کا ہی احترام کر لیا جائے۔ آئین کے بغور مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں ٹرسٹیز کا بہت اہم کردار ہے۔ ٹرسٹیز کا باکردار، تعلیم یافتہ اور منصف مزاج ہونا ایک اہم شرط ہونا چاہئے اور جس طرح ایسوسی ایشن کے دیگر عہدوں کے لئے انتخابات کئے جاتے ہیں بالکل اسی طرح ٹرسیٹز کے لئے بھی شفاف الیکشن ہونے چاہئیں۔ ا ب یہ تمام اراکین ایسوسی ایشن کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرتے ہوئے ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو کہ واقعی ٹرسٹی بننے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ ایک گزارش یہ ہے کہ ٹرسٹیز کے لئے تعلیم یافتہ ہونے کی شرط لازمی کر دی جائے تاکہ وہی لوگ سامنے آ سکیں جو کہ صرف جی حضوری نہ ہو بلکہ ایسوسی ایشن کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت سے کماحقہ مالا مال ہوں۔ گونج کو معلوم ہوا ہے کہ آئندہ تین ماہ کے اندر ٹرسٹیز کے انتخابات ہونے کے وقت آ گیا ہے اس لئے ہم یہ گذارش کریں گے کہ ابھی سے رکن سازی شروع کر دی جائے اور باقاعدہ صاف اور شفاف طریقے سے ٹرسٹیز کے انتخاب کے لئے مواقع فراہم کئے جائیں۔ ایسوسی ایشن کی سابقہ روایت یہ رہی ہے کہ وہ میڈیا کے سارے افراد کو چند وجوہات کی بنا پر ایک نظر سے نہیں دیکھتی رہی اس لئے یہ بھی التماس ہے کہ میڈیا کے تمام افراد سے رابطہ رکھا جائے قطع نظر اس کے کہ میڈیا کا نقطہ نظر ایسوسی ایشن کے نقطہ نظر سے مختلف ہے۔ ایک اور چیز جو ہمیں نقصان پہنچا رہی ہے وہ ہے ہماری آپس کی تقسیم۔ جن بنیادوں پر ہم پاکستان میں ایک دوسرے سے جوتم پیزار رہتے ہیں وہی تمام جھگڑے ہم بیرون ملک بھی لے آئے ہیں۔ کوئی ارائیں برادری بنانے پر خوش ہے تو کوئی رانا راجپوت برادی پر، پنجابی پنجابی دکاندار سے سودا لینے پر خوش ہے تو اردو بولنے والے صرف اردو بولنے والوں کی حمایت پر تلے ہیں۔ کچھ کسرسیاسی پارٹیوں نے پوری کر دی۔ابھی تو بیرون ممالک بھی بسنے والے پاکستانیوں کو ووٹ کا حق بھی نہیں ہے تو یہ حالت ہے فرض کریں ہمیں ووٹ ڈالنے کا حق مل جائے تو پھر یہاں جوتیوں میں دال بٹنے میں کون سے کسر باقی رہے گی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کوئی ن کا صدر ہے تو کوئی ق کا۔ کوئی پیپلز پارٹی کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے تو کوئی عمران خان کا علم تھامے کھڑا ہے۔ غریب کمیونٹی یہ خیال کرتی ہے کہ شاید اسلام کے سایہ عاطفت میں پناہ ملے تو یہاں تواور بھی آوا بگڑا ہوا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ سبھی اسلام کا نام لیتے ہوئے جگہ جگہ اپنے کاموں میں مصروف ہیں لیکن یہ بھی تو سوچیں کہ اس سے بھائی چارہ تو پیدا نہیں ہوتابلکہ چھوٹی چھوٹی جماعتوں میں کمیونٹی تقسیم در تقسیم ہوتی چلی جار ہے۔ کوئی ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کو تیار نہیں ہے۔ مسالک ، عقیدوں اور فقہی اختلافات نے ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ دس دس بیس بیس پاکستانی مسلمان بھی جگہ جگہ نماز جمعہ کے لئے جمع ہو رہے ہیں۔ ایک عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ علاقے دور دور ہونے کی وجہ سے ایک ہی جگہ نماز کی ادائیگی مشکل ہے۔ یہ عذر سمجھ میں آتا ہے لیکن عید میلاد النبیﷺ یا دیگر مذہبی پروگرام کیوں نہیں ایک جگہ پر مشترکہ طور پر کئے جا سکتے تاکہ ان میں مناسب شان پیدا ہو سکے۔ بھارت ہم سے کافی بڑا ملک ہے اور اس حساب سے انہوں نے اپنی متعدد ایسوسی ایشن بنا رکھی ہیں لیکن جب پندرہ اگست کا دن آتا ہے تو انکی تمام ایسوسی ایشنز ایک جھنڈے کے نیچے جمع ہو کر جو پروگرام پیش کرتی ہیں اس میں ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اب جو چودہ اگست آنے والا ہے اسکو اس طریقے سے منایا جائے کہ پاکستانی کمیونٹی یہ ثابت کر دے کہ مختلف زبانیں، مختلف مسالک اور مختلف عقیدے رکھنے کے باوجود بحیثیت قوم ہم ایک ہیں۔ ایک ایسا عظیم الشان پروگرام پیش کیا جائے جو کہ مثال بن کر رہ جائے۔ چودہ اگست یا تئیس مارچ کو دن منا لینا۔ اخبارات کے خاص شمارے نکال لینا اور اخبارات میں اپنی تصویریں دے کر ایک دوسرے کو مبارکباد کے پیغامات ارسال کرنے سے بڑھ کر بھی ہمیں کچھ کرنا چاہئے۔ جب تک پاکستان ایسو سی ایشن کے پلیٹ فارم سے عوامی سطح پر بہبود کے پروگراموں کی تشہیر نہیں ہوگی عام لوگوں میں سے کوئی بھی اس ادارے کا رکن بننا نہیں چاہے گا۔ صفحہ ختم ہو گیا لیکن بات ختم نہیں ہوئی، کوشش کروں گا کہ اخبار کی آئندہ اشاعتوں میں بھی اس حوالے سے مزید کوئی آگاہی دے سکوں۔ اس وقت تک لئے اجازت چاہتاہوں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان زندہ پاد۔اسلام پائیندہ باد

Leave a Reply