Jun
29
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے حکومت کے ساتھ ہونے والا امن معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان کے ترجمان احمداللہ احمدی نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ حکومت کے ساتھ طے پانے والا امن معاہدہ پہلے ہی سے غیر مؤثر ہوچکا تھا جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ امن معاہدے کے باوجود بھی ڈرون حملے اور فوجی سرگرمیاں جاری تھیں۔
انہوں نے دھمکی دی کہ جب تک وزیرستان میں ڈرون حملے بند نہیں ہوتے وہ سکیورٹی فورسز کے قافلوں اور ان کے مراکز کو نشانہ بناتے رہیں گے۔
اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں مولوی نذیر گروپ کے مقامی طالبان نے کہا تھا کہ ان کا حکومت کے ساتھ ہونے والا امن معاہدہ غیر مؤثر ہوچکا ہے اور وہ اس وقت تک سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنائیں گے جب تک علاقے میں امریکی ڈرون حملے بند نہیں ہوتے۔
جمعرات کو مولوی نذیر گروپ کے ایک کمانڈر شمس اللہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جنوبی وزیرستان میں اس وقت ان کےگروپ کا حکومت کےساتھ کسی قسم کا کوئی امن معاہدہ موجود نہیں۔
تقریباً دو سال قبل حکومت اور حافظ گل بہادر گروپ کےمابین ایک امن معاہدہ بھی طے پایا تھا۔
|
| Published on June 29th, 2009 | No Comments |
|