Archive for the ‘پاکستان’ Category

مصنف : صہیب احمد خان

Suhaib Ahmad Khan
7,Jaswant Aptt.
16-Jamia Nagar Okhla
New Delhi-25
#9953478474

تنقید ایک اہم ادبی سرمایہ

صہیب احمد شکیل احمدخان

ریسرچ اسکالرشعبہ عربی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ

دنیا میں سب سے زیادہ حیرت انگیز اور دلچسپ تخلیق ذہن انسانی ہے جسمیں سارا خیر وشر اور جلال وجمال سمٹ کر آگیا ہے جس کے اختراع وایجاد کے معمولی نمونے بھی تھوڑی دیر کے لئے حیرت زدہ کردیتے ہےں۔ادب وفنون لطیفہ کا تنوع اور رنگینی بھی اس چھوٹے سے ذہن کا ایک کرشمہ ہے جو اس کے خیر اور جمال کا پرتو ہے ۔یہ حسن وجمال فنون لطیفہ کے ہر گوشے میں جگہ بہ جگہ نظر آتاہے خواہ وہ مصوری ہو یا بت تراشی،فن تعمیر ہو یا موسیقی اورشاعری سارے فنون لطیفہ انسان کوجمالیاتی انبساط دیتے ہیں اور اسکے فکرو نظر میں ارتفاع پیدا کرتے ہیں لیکن شعرو ادب کو ان تمام فنون پر اس لئے فوقیت حاصل ہے کہ اس میں زندگی کا احاطہ کر نے کی سکت زیادہ ہے بقیہ فنون جمالیاتی انبساط تک ہی محدود ہیں لیکن ادب سب سے زیادہ ہماری تہذیبی زندگی کو متاثر کرتا ہے ۔

علماء نے ادب کی تعریف کرتے ہوئے اسے تفسیر حیات کا نام دیا ہے اور تفسیر بغیر تنقیدی شعور کے ممکن نہیں اس لئے تخلیق ادب کے ساتھ ہی تنقید کا عمل بھی شروع ہوجاتا ہے زندگی ہمہ وقت رواں دواں ہے اس میں ہر لمحہ ایک نئے نظرئے اور نئی فکر کا اضافہ ہوتا ہے اس کے امکانات اب محدود نہیں ہیں اس لئے ناقص اور بہتر کی تمیز کے لئے تنقید ایک بنیادی اور اہم عنصر ہے. تنقیدی شعور کے بغیر نہ تو اعلی ادب کی تخلیق ہو سکتی ہے اور نہ ہی فنی قدروں کا تعین ممکن ہے اس لئے اعلی ادب کی تخلیق اور ادب کی پرکھ کے لئے تنقید لازمی ہے۔دوسری طرف بعض علماءکا یہ دعوی ہے کہ اعلی ادب کی تخلیق کے لئے تنقید کا وجود ضروری نہیں بلکہ ان میں سے بعض کا خیال یہ بھی ہے کہ حد سے بڑھی ہوئی تنقید ی گرفت یا فن وادب کا احتساب تخلیقی دھاروں کو فطری ڈھنگ سے بہنے سے روکتا ہے لیکن تنقید اور ادب کے سلسلے میں یہ نقطہ نگاہ غلط مفروضات پر مبنی ہونے کی وجہ سے خاصا گمراہ کن ہے ۔کیونکہ اگر انسان کی فطرت میں چیزوں کو دیکھنے بھالنے،سوچنے سمجھنے اور کوئی صحیح رائے قائم کرنے کے بعد انکو بہتر سے بہتر بنانے کا مادہ نہ ہوتا تو ترقی کی اتنی منزلیں بآسانی طے نہیں ہوسکتیں .زندگی ایک جگہ ٹھہر کر ”قطب از جانمی جنبد “کا مصداق بن جاتی ہے.ئت اجتماعی اور تہذیب وتمدن کا آج کوئی نام بھی نہ جانتا اور یہ نت نئی تبدیلیاں جن سے ہم آئے دن مانوس ہورہے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں کہیں خواب میں بھی نظر نہ آتیں یہ سب انسان کی اسی فطرت کے طفیل ہے کہ ہم زند گی کو انقلاب اور تبدیلیوں سے ہم آغوش پاتے ہیں۔ اس لئے تنقید کا وجود زندگی کے لئے نہایت اہم اور ضروری ہے اگر انسان کو اچھائی برائی کو پرکھنے کی تمیز نہ ہوگی،اگر برائیوں کو اچھائیوں میں تبدیل کرنے کا ہنر اس کو نہ آئے گا اگر اس بات کا احساس نہ ہوگا کہ زندگی کن چیزوں سے زیادہ بہتر ،مکمل اور خوشگوار بن جائے گی اور کن چیزوں سے غیر مکمل اور ناخوشگوار اگر اس کا شعور اس پر یہ امر روشن نہ کردے گا کہ فلاں اصولوں کی شاہراہ پر چل کر زندگی اپنی منزل سے زیادہ قریب ہو جائے گی اور فلاں اصولوں کی اتباع سے اسکو طوالت کا سامنا کرنا پڑے گا تو گویا وہ خود زندگی اور اسکی ابجد سے ناواقف اور کورا رہے گا اس کو یہ بات معلوم نہ ہوگی کہ ارتقاءاور ترقی کسے کہتے ہیں یہ سب چیزیں تنقید ہی کی مرہون منت ہیں انسان کی تنقیدی صلاحیتوں کے سہارے انکا وجود وابستہ ہے ۔

کہا گیا ہے کہ تنقید ادب کے لئے اسی طرح ضروری ہے جس طرح زندہ رہنے کے لئے سانس اس کے بغیر نہ تو ادب کی تخلیق ممکن ہے اور نہ قارئین کا وہ حلقہ پیدا ہو سکتا ہے جو شعرو ادب کی تفہیم وتحسین کی قدرت رکھتا ہو۔تنقیدی شعور کے بغیر ادب کا تصور ممکن نہیں یوں سمجھئے کہ ادب کے ساتھ ہی ادبی تنقید کا آغاز ہوجاتا ہے ۔تخلیقی عمل میں تنقیدی صلاحیت برابر کار فرما رہتی ہے یعنی جب کوئی ادیب یا شاعر کسی فن پارے کی تخلیق میں مشغول ہوتا ہے تو تنقیدی شعور اسکی رہنمائی کرتا رہتا ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ادبی تنقید کا ارتقاءادب کے ارتقاءکے ساتھ وابستہ ہے جس دور میں سماجی زندگی زیادہ پیچیدہ نہیں ہوتی ادب میں بھی سادگی کار فرما ہوتی ہے۔اور ادب کو پرکھنے کے اصول بھی سادہ اور شخصی ہوتے ہیں ۔جیسے جیسے سماج کے باہمی رشتے پرپیچ اور گوناگوں ہوتے جاتے ہیں ادب میں بھی پرکاری اور رنگینی رونما ہوتی ہے اور اسکے تنقید کے اصول بھی نسبتا زیادہ عمومی اور علمی ہوتے جاتے ہیں ۔تنقید کو صرف کسی فنکار کی غلطیاں نکالنے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ غلطیاں اس خیال سے نہیں نکالی جاتیں کہ صرف اسکو نیچا دکھانا ہے اور اسکے فن کی تذلیل کرنی مقصود ہے بلکہ اسکی تہہ میں ایک بلند مقصد ہوتا ہے. جس بنیاد تعمیر کے خیال پر استوار ہوتی ہے اس لئے جو تخریبی تنقیدیں لکھی جاتی ہیں اور اب لکھی جاتی رہی ہیں انکو تنقید کے تحت شمار کرنا عبث ہے۔ کیونکہ اول تو انکا تعلق جذبات سے زیادہ ہوتا ہے اور دوسرے انکی بنیاد زیادہ تر ذاتی بغض وعناد پر ہوتی ہے خلوص وصداقت سے اسکا کوئی سروکار نہیں ہوتا۔اس قسم کی تنقید میں دنیائے ادب کی عظیم ہستیاں الجھی ہوئی ہیں انہیں تمام حالات وکوائف نے تنقید کے متعلق بہت سی غلط فہمیوں کو جنم دیا اور بہت سے نابغہ روزگار ادباءاور باشعور افراداسکے جھانسے میں آگئے۔لامارتین(Lamartin)جیسے لوگوں نے تنقید کو عاجزوں کا حربہ بتایاہے اسی طرح اسٹنڈال(Stendhal)اور دیسرائےلی (Disraili) جیسے دانشوروں نے تنقید کو ابداع میں ناکامی اور شکست کا نشان سمجھ کر سخت غلط فہمی میں گرفتار ہوگئے ۔ان سادہ دل حضرات کا گمان یہ ہے کہ وہی لوگ ہنر وادب پر تنقیدکرنے کے اہل اور سزاوار ہیں جو خود ان آثار وباقیات کے اندر سے ابداع کی نظیریں ڈھونڈ نکالنے کے کام سے عہدہ برآ ہوسکتے ہوں حالانکہ انکا یہ خیال غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں کیونکہ ہر چیز کی پرکھ کے لئے ،خاص طور سے ابداعی ترکیب کے لے دیگر امر سے زیادہ تحلیلی فہم لازم ہے۔ بنا بریں یہ بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ ناقد کو ابداع کے حصول کے پیچھے دوڑنے کی حاجت نہیں تاکہ منکرین نقد کے بقول یہ طعنے نہ سننا پڑیں کہ یہ لوگ اس میدان کے شکست خوردہ لوگ ہیں ناقد یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ خلق و ترکیب کا کام انجام دے بلکہ اسکی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ ”خلاق اور ترکیب کنندہ“ کے ادب پاروں کی تحلیل و تجزیہ کرے۔

جبکہ ادباءاور ناقدین کی اکثریت نے تنقید کو ادب کی نشو نما اور ترقی کا ضامن بتا یا یہ خیالات میرے ذاتی نہیں بلکہ انگلستان کے مشہور نقاد میتھیوآرنلڈ کے خیالات ہیں جسکے ادبی اور شعری صلاحیتوں کا کوئی بھی ادیب انکار نہیں کرسکتا اسی سطحیت اور گہرائی کا ذکر کرتے ہوئے میتھیو آرنلڈ گیٹے اور بائرن کا مقابلہ کرتا ہے اور اس بات کو ذہن نشین کرتا ہے کہ بائرن کی شاعری اگر چہ حد درجہ دلچسپ اور دلکش ہے لیکن جو گہرائی گیٹے کی شاعری میں ملتی ہے اسکا بائرن کے یہاں فقدان ہے جسکی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ گیٹے کی نظر زیادہ دوررس ودوربین تھی اسمیں تنقیدی صلاحیتیں بائرن سے کہیں زیادہ موجود تھیں اور اس نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا تھا اسلئے اچھے تخلیقی کارناموں کو پیش کرنے کے لئے خود فنکار کو اپنے اندر تنقید کی تخلیقی صلاحیت پیدا کرنی نہایت اہم اور ضروری ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ تنقیدی شعور کی ابتداءکب ہوئی اور تنقید کے مختلف اسالیب کیا ہیں کتب تاریخ کے صفحات یہ اشارہ دیتے ہیں کہ تنقید کا وجود عالم انسانی کے وجود کے ساتھ ہوا ہوگاتنقید کے عام معنی اچھے برے میں تمیز کرنے کے ہیں چونکہ ابتداءآفرینش سے ہی انسان کو اچھی بری چیزوں میں تمیز کرنے کی ضرورت پڑی ہوگی ظاہر ہے کہ یہیں سے اسکے ذہن ودماغ میں تنقیدی شعور پروان چڑھا ہوگااس وقت نہ تو کوئی زبان اور نہ ہی کوئی تہذیب تھی اور تھی بھی تو انسان اتنا باشعور نہ تھا کہ اسکی تاریخ مرتب کر سکے۔جیسے جیسے انسان نے ترقی کی منازل طے کیں انسان نئی تہذیب وثقافت سے روشناس ہوا ویسے ویسے تنقید ی شعور بھی ارتقاءکے منزلیں طے کرتا ہوا اوج کمال کو پہونچ گیا. اگر تنقید کو وسیع معنوں میں لیا جائے تب تو اسکا وجود اس وقت سے نظر آتا ہے جب انسان نے اس دنیامیں اپنا پہلا ادبی کارنامہ گیتوں کی شکل میں پیش کیا. پھردھیرے دھیرےہ فن ادب کا ایک اہم جزءبن گیا۔

یہ بتانا فی الحال ایک مشکل امر ہے کہ کب اور کس نے تنقید کے لفظ کو وضع کیا اور کیو ںکر زبان زد ہوکر عوام وخواص کی زبان پر رائج ہوا مگر اردو زبان میں عربی وفارسی کے ان تمام مفاہیم کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس مادہ(ن ق د)نون قاف دال کو عربی کے باب تفعیل میں لے جاکر اس کے ہم وزن تنقید بنایا گیا اور عربی و فارسی ادب کا وہ لغوی ،ادبی اور فنی مفہوم جو نقد کے لفظ سے ادا ہوتا تھا وسعت پزیر ہو کر عوام وخواص کی زبان پر رائج ہوا بلکہ وہ افکاروخیالات بھی اس تنقید کے لفظ نے سمو لئے جو انقلاب فرانس کے بعد مغربی مفکرین و ناقدین کے اندر عام تھے۔مغربی اصطلاح Criticismکی اردو ترجمانی تنقید بھی اسی معنی و مفہوم میں استعمال ہونے لگاجسے جگر نے شعری انداز میں کچھ یوں کہا ہے

تنقید حسن مصلحت خاص عشق ہے یہ جرم گاہ گاہ کئے جارہا ہوں میں

کوئی بھی ادیب یا تنقید نگاراس بات سے منحرف نہیں ہوسکتا کہ یونانیوں نے سب سے پہلے ادب اور تنقید پر روشنی ڈالی اور ادبی کارواں کو معراج کمال کی دہلیز پر لے جاکر کھڑا کیا. پروفیسر بوچر نے افلاطون کی تنقیدی بصیرت کی داد دیتے ہوئے کہا ہے کہ افلاطون نے سب سے پہلے فلسفیانہ تنقید پر روشنی ڈالی اور اس کا سنگ بنیاد رکھا۔تنقید پر ارسطو کی کتاب ”بوطےقا“یورپ میں سب سے پہلی کتاب ہے اس کتاب سے صرف تنقیدی رجحانات کا ہی پتہ نہیں چلتا بلکہ اصول نقد پر بھی روشنی پڑتی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اُس زمانے میں ارسطو نےادبی فن پاروں کو پرکھنے کے لئے جو اصول معین کئے وہ اسکی بے پناہ تنقیدی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔ رزمیہ شاعری ،المیہ اور طربیہ پر اس نے جسطرح سے بحث کی ہے وہ تنقید کا بہت بڑا شاہکار ہے. مغربی ادب کا تنقیدی شعور ایک عرصہ تک ارسطو کے بتائے ہوئے اصولوں سے بہت زیادہ متاثر رہا ارسطو کی اتباع کرتے ہوئے اطالوی نقاد لانجائنس نے فن شاعری میں ”De Arte Poetica “کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں اسنے بہت سے کلاسیکی تنقید کے اصول مرتب کئے ہیں جو ارسطو اور ہوریس کے نظرئے کے عین مطابق معلوم ہوتے ہیں بالخصوص شائستگی (Decorum)کا نظریہ ،اسی طرح نشاة ثانیہ کا عظیم نقاداسکالی گر””Scaligerارسطو سے بہت متاثر تھا. فن شاعری میں ارسطو کی کتاب Poeticsکے نام پر Poetikکے نام سے اسکی مایہ ناز شاہکار منظر عام پر آیا اسکے علاوہ اسکا ایک اور ہم عصر سر من تورنوMinturnoبھی ارسطو اور ہوریس کا پیرو تھا۔

ادبی نقد کے سلسلہ میں یورپ ،جو دراصل روم اور یونان کی روایات کا حامل ہوا آہستہ آہستہ بڑی بڑی تبدیلیوں کا باعث بن گیا یہ اسکی تمام شقوں،شعبوں اور ادب وفرہنگ میں انقلاب لے آیا پھر مختلف ادوار سے گذرتے ہوئے دیگر زبان وادب میں منتقل ہوئی اور دھیرے دھیرے اس کے مختلف دبستاں وجود میں آئے اور تقریبا سبھی دبستانوں میں ادباء نے طبع آزمائی کی ۔عصر حاضر میں ادبی نقد نے بڑی وسیع دنیا بنا لی ہے ان گوناگوں طریقوں اور روشوں کی بنا پر جنہیں ناقدین اور سخن سنجوں نے برتے ہیں اور برت رہے ہیں فن نقد نے مختلف مباحث اور مسائل کے ابھرنے کا موقع فراہم کیا ہے عجیب وغریب وسعت کے ساتھ ہر روز ایک نئے علم کا اظافہ ہورہا ہے اور ناقدوں کی ایک نئی دنیا وجود میں آتی ہے جو نئے نئے نکات پیش کرتی اور انکشافات کے جوہر دکھاتی ہے بشرطیکہ ادباءاور نقاد اپنی ذمہ داریوں کوپوری طرح محسوس کریں اورتنقیدی زاویوں کا پاس ولحاظ رکھیں۔

ناقد کواول نفس اثر،اسلوب فکر اور طرز بیاں کا مطالعہ کرکے اسکے نمایاں مختصات وصفات کا تعین کرنا چاہئے اور تاریخی اور اجتماعی شواہد وقرائن کو اثر کے وجود کے زمانہ کی تعیین اور تشخیص کےلئے کام میں لانا چاہئے اسی طرح نقد کے وقت انتساب کے وضعی،جعلی اور منحول ہونے کے مسئلہ سے غافل نہ ہونا چاہئے پوری دنیا کی ادبیات میں اس طرح کے نمونے ملتے ہیں ،مفکرلوئی کزےمیان اپنی شہرہ آفاق تصنیف”Criticism in the making“ میں رقم طراز ہے کہ نقاد کے لئے ضروری ہے کہ اس کے ذہن میں بہت سے ذہنوں کی صلاحیتیں جمع ہوں .اگر ایسا نہیں تو گویا وہ تنقید نگار ہے ہی نہیں مگر تخصیص کے اس دور میں یہ بات تقریبا ناممکن ہے چونکہ تنقید نگار کا کام بہت پیچیدہ ہوتا ہے اسلئے ضروری ہے کہ اسکا مطالعہ وسیع اور نظر گہری ہو کیونکہ ناقد کا کام صرف یہ نہیں ہے کہ ادبی اثر وبقیہ کے لکھنے والے اورعام پڑھنے والے کے درمیان واسطہ کا کام انجام دے اور ان لطائف ودقائق جو ادبی آثار میں ملتے ہیں اگر کوئی انکی طرف توجہ نہ دے تو اسے غافل اور بے نصیب نہ رہنے دے بلکہ ان لطائف اور نوادر کو معلوم کرکے انکی توجہ مبذول کرائے اگر ان آثار میں کچھ معائب اور نقائص نظر آتے ہیں جنکی طرف عوام دھیان نہیں دیتی ہے اور ان آثار سے متعلق بےکار خوش فہمی اور مبالغہ میں مبتلا ہوگئی ہے تو انکو آشکارا کرکے منظر عام پر لائے اور ان ادبی آثار کو بے نقاب کرکے انکی حقیقی قدرو قیمت اور اصل بہا کو معلوم و متعین کرےلیکن یہ خدمات صرف وہی تنقید نگار انجام دے سکتا ہے جو بغض و عناد سے پاک و صاف ہو جو داخلیت اور ذاتی مفاد سے بلند ہوکر ادب کو پرکھنے کا حوصلہ رکھتا ہو،جو محاسن کو اجاگر کرنے کے باوجود محض داد وتحسین میں گم ہوکے نہ رہ جائے جو معائب کا پتہ بھی لگائے اور اسے ہمدردانہ انداز میں واضح بھی کرے اورجسکی تنقید میں خارجیت اور معروضیت کا عنصر بھی نظر آئے۔ اس طرح معلوم ہوا کہ نقاد کو کسی ادبی پرکھ کے سلسلے میں کئی فرائض انجام دینے پڑتے ہیں وہ صرف جذبات و احساسات کا شارح یا مفسر ہی نہیں ہوتا بلکہ اسے تاریخ،سماجیات،اقتصادیات ،نفسیات اور جمالیات کی روشنی میں کسی ادب پارے کو پرکھنا ہوتاہے تنقید کسی ادب پارے کے سلسلے میں معلومات بھی فراہم کرتی ہے ،تشریح بھی کرتی ہے ،تجزیہ بھی اور تاریخ ،نفسیات ،جمالیات ،تہذیب ومعاشرت کے اثرات کے روشنی میں اسکے فنی اقدار کا تعین بھی کرتی ہے۔

مگر نقطہ نظر کے اختلاف کی وجہ سے آج تنقید مختلف دبستانوں میں منقسم ہوگئی ہے.کوئی تاثراتی تنقید پر ایمان رکھتا تو کہیں جمالیاتی تنقید کا شور ہے ،کسی کے نزدیک نفسیاتی تنقید اصل تنقید ہے ،تو کوئی مارکسی تنقید کا قائل ہے کسی نے اسلوبیاتی تنقید کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا غرض ہہ کہ تنقید کے متعلق اس طرح کے مختلف نظریات وجود میں آئے جن سے نقطہ نظر کے اختلاف کا پتہ چلتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تنقید کے اسطرح ٹکرے نہیں کئے جا سکتے کیونکہ وہ ان سب کے مجموعے کا نام ہے تنقید کے لئے ان سبھی عناصر کا پایا جانا ضروری ہے ،تنقید خوردہ گیری یا چینی کا نام نہیں ہے،تنقید گلستاں میں کانٹو ں کی تلاش نہیں ہے ،تنقید جزءسے کل پر حکم لگانا نہیں ہے اور نہ ہی تنقید کوئی عدالتی فیصلہ یا ہر شاعر کا درجہ متعین کرنے کے لئے کو ئی فارمولا ہے بلکہ تنقید تو یہ بتلاتی ہے کہ آپ میوہ فروش کے پیمانے سے سونا نہیں تول سکتے تنقید ایک فن ہے جیسا کہ رچرڈس کا خیال ہے ”جو کام ڈاکٹر جسم کے لئے کرتا ہے ،تنقید ادب کے لئے ادب کرتی ہے وہ ذہنی سطح کا معیار طے کرتی ہے “ اردو کے مایہ ناز ادیب اور نقاد پروفیسر احتشام حسین کے مطابق”تنقید منطق کی طرح ہر علم و فن کی تشکیل و تعمیر میں شریک ہے بلکہ وجدان وجمال کے جن گوشوں تک منطق کی رسائی نہیں ہے تنقید وہاں پہنچتی ہے ،رنگ وبو اور کیف وکم کے غیر متعین دائرے میں صرف قدم ہی نہیں رکھتی بلکہ ابہام میں توضیح کا جلوہ اور بےتعینی میں تعین کی کیفیت پیدا کرتی ہے اسی طرح تنقید کے سلسلہ میں جب اصول کی گفتگو کےجائے تو طبعی اور اقتصادی علوم کے علاوہ ایک اور ایسے علم سے کام لینے کی ضرورت پڑے گی جو ان علو م کے منافی نہ ہوتے ہوئے بھی ان سب کے علاوہ کوئی بات ایسی بتا سکے جس سے فیصلہ میں مدد ملے“

ان تمام کو ہیش نظر رکھ کر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ تنقید کے لئے ادبی ذوق یا ادبی مطالعہ کافی نہیں ہے اس لئے اقدار کے تعین کے وقت دوسرے علوم کے علم کی ضرورت ہوتی ہے جس کے ذریعہ تنقید نگار معاصر ادب یا کلاسیکی فن پاروں میں اسکے عہد،سوسائٹی ،اقتصادی ،تہذیبی اور سیاسی حالات جمالیاتی تصورات،نفسیاتی عوامل،صناعانہ فنکاری،زبان وبیان،بدیع واسلوب اور ہیئت کا مطالعہ کرتا ہے تنقید کی اعلی ترین منزل یہی ہے جہاں تمام عوامل میں ایک توازن کے ساتھ ادب کو پرکھنے کی کوشش کی جائے اظہار کے سبھی پہلووں اورعلوم کے سبھی گوشوں پر نظر رکھنے کے بعد جو نقاد قدروں کے تعین کی کوشش کرتا ہے وہی ادب کے ساتھ انصاف کرتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادبی تنقید کے لئے بنیادی اصول یہی ہے کہ تمام علوم تہذیبی کشمکش ،تغیرات وتبدل اور زندگی کے مطالبات اور فنی وجمالیاتی قدروں کو سامنے رکھنے کے بعد کسی فن پارے پر تنقید کی جائے اور ایسی ہی تنقید صحت مند یا سائنٹفک کہلانے کی مستحق ہوگی۔

تحریر: ڈاکٹر خالد رشید ساگر

کاافی عرصے سے اس موضوع پر لکنا چاہتا تھا کیونکہ مجھے شدت سے یہ احساس ہوا کہ اس موضوع پر پاکستانی مارکیٹ میں کوئی معیاری کتاب مہیا نہیں ہے۔ یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ اس کتاب میں دیا گیا بیشتر مواد انٹرنیٹ اور دوسرے ذرائع میں موجود ہے لیکن ہمارے اکثر پاکستانی انگریزی زبان سے بہتر طریقے سے روشناس نہ ہونے کہ وجہ سے ان معلومات سے بہرہ ور نہیں ہو سکتے۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں میرے اپنے تجربات کا نچوڑ بھی شامل ہے جو شاید کسی اور ذریعے سے میسر نہیں آ سکتا تھا۔ بہرحال یہ کتاب اپنی نوعیت کی ایک مخصوص کوشش ہے اور مجھے امید ہے آپ اسے پسند کریں گے۔ اگر اس کو پڑھنے کے دوران آپکو ایسا لگے کہ کوئی معلومات صحیح نہیں ہیں تو مجھے ضرور اطلاع کر دیجئے گا تاکہ میں آئندہ اشاعت میں اسکی تصحیح کر سکوں۔ آسٹریلیا میں پاکستانیوں کی آمد کوئی تازہ واقع نہیں ہے بلکہ کئی سال پہلے یعنی پاکستان بننے سے قبل کوئٹہ کے علاقے سے بلوچ ساربانوں کو یہاں اونٹوں کے ذریعے آسٹریلیا کے دور دراز علاقوں میں ڈاک کی ترسیل کے لئے بلوایا گیا تھا۔ انہیں غلط طور پر افغان یا غان کہہ کر پکارا گیا اور انہی کی یاد میں آسٹریلیا میں ابھی تک ایک ٹرین چلتی ہے جسے غان ایکسپریس کہتے ہیں۔ چونکہ ان ابتدائی دنوں میں نہ تو یہاں کوئی مسجد تھی اور نہ ہی حلال گوشت کا کوئی تصور تھا اس لئے ان بلوچوں کی نسلیں آہستہ آہستہ یہاں کی ثقافت میں گم ہو گئیں۔ تاہم انہوں نے آسٹریلیا کے ایک علاقے Alice Springsمیں اپنی مساجد قائم کیں جن میں کچھ ابھی تک چل رہی ہیں بلکہ حال ہی میں انہیں دوبارہ آباد کیا گیاہے۔ یوں تو پاکستان بننے کے بعد پاکستان سے لوگ یہاں پر منتقل ہوتے رہے لیکن white australia policyیعنی صرف گورے رنگ کے لوگوں کو ترجیحاً یہاں آباد کرنے کی حکمت عملی کی وجہ سے انکی تعداد بہت محدود رہی۔ جب یہ حکمت عملی ترک کر دی گئی تو پاکستانی بھی یہاں پر آنے لگے۔ لیکن اولمپک کھیلوں کے بعد اور پھر نائین الیون کے واقعے کے بعد پاکستانیوں کے یہا ں آنے کا سلسلہ دراز ہوا۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پورے آسٹریلیا میں لگ بھگ تیس ہزار سے زیادہ تعداد میں پاکستانیوں کی تعداد ہو گی جن میں طلبائ، ریفیوجی اور مستقل شہری موجود ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستانی سفارتخانے نے نہ تو اس امر میں کبھی کوئی دلچسپی لی ہے اور نہ ہی انہوں نے پاکستانیوں کی کوئی خاص مدد کی ہے۔ اس لئے ہونا تو یہ چاہئے کہ پاکستانیوں کی صحیح تعداد کے بارے میں سفارتخانہ ہمیں کوئی معلومات مہیا کرے لیکن ایسا نہیں ہے۔ آسٹریلیا ایک ایسا ملک ہے جہاں بڑی تعداد میں ہر سال افرادی قوت درکار ہوتی ہے۔ دنیا بھر کے دیگر ممالک کی حکومتیں اس ضمن میں اپنے شہریوں کی مدد کرتی ہیں لیکن شاز ہی کوئی ایسا کیس ہو گا جس میں پاکستانی حکومت نے کسی پاکستانی کے آسٹریلیا آنے کے سلسلے میں کوئی مدد کی ہوگی ورنہ یہاں پر سبھی لوگ اپنی کوششوں اور کاوشوں سے آتے ہیں۔ یہاں تک بھی ہوا ہے کہ کئی پاکستانی سفیر بھی یہاں آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ اس کے علاوہ حبیب بنک اور پی آئی اے کے کئی ملازمین نے پاکستان جانے کے بجائے آسٹریلیا میں رہنے کو ترجیح دی۔ آسٹریلیا کے امیگریشن کے قوانین بہت پیچیدہ ہیں اور ویزوں کی ہزاروں قسمیں ہیں۔ ایک عام آدمی جس کی انگریزی زبان کی سوجھ بوجھ اچھی بھی ہو وہ ان پیچیدگیوں کو نہیں سمجھ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا کے ویزے کے سلسلے میں باقاعدہ رجسٹرڈ مائگریشن ایجنٹ سے مدد لینا اچھا رہتا ہے۔ یہ پاکستان تو ہے نہیں کہ ہر ماجھا گاما کوئی بھی کام شروع کر لے اور اس کو کوئی پوچھنے والا بھی نہ ہو۔ کہا جاتا ہے کہ قوانین کی سختی اور ان پر عمل درآمد کے حوالے سے آسٹریلیا دنیا بھر میں سرفہرست ہے۔ اس لئے مائگریشن ایجنٹس کو بھی رجسٹرکیا جاتا ہے اور انکی کارکردگی پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔ اگر وہ کبھی دھوکہ دہی کے مرتکب ہوں اور انکو رجسٹرسے خارج بھی کر دیا جاتا ہے۔ بلکہ کچھ عرصے تک انکا نام ایک عدد black list میں بھی ڈال دیا جاتا ہے تاکہ وہ مزید لوگوں کو دھوکہ نہ دے سکیں۔ اس لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ آپ اگر کسی مائگریشن ایجنٹ کا چناو¿ کریں تو اس سے اسکا MARAکا رجسٹریشن نمبر دریافت کریں۔ MARA مخفف ہے مائگریشن ایجنٹس رجسٹریشن اتھارٹی ۔ نمبر پوچھنے کے بعد آپ اسی پھر یقین نہ کریں بلکہ MARA کی ویب سائٹ www.mara.com.au

پر جا کر اس امر کی تصدیق کرلیں کہ مذکورہ ایجنٹ واقعی رجسٹرڈ ہے اور وہ بلیک لسٹ نہیں ہے۔ پاکستان کے دو شہروں فیصل آباد اور سیالکوٹ سے بہت سے پاکستان یا زیارتی ویزے پر یا پھر صنعتی شہر ہونے کی وجہ سے بزنس ویزوں پر بھی آسٹریلیا آ رہے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق پاکستان میں ایجنٹ حضرات سات سے آٹھ لاکھ روپے ایسے لوگوں سے وصول کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس طرح کے لوگوں کے پاس معلومات کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ یہاں آنے کے بعد بھی وہ لاوارثوں کی طرح پھرتے رہتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ ریفوجی ویزہ ڈال دیتے ہیں۔ ریفیوجی ویزہ کیا ہے؟

اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق ریفیوجی اسے کہا جاتا ہے جسے اس کے اپنے ملک میں اسکی نسل، قومیت، مذہب، کسی سیاسی رائے یا کسی سماجی پارٹی میں رکنیت کی وجہ اپنے ملک میں جان کا خطرہ ہو۔ وہ اپنے ملک میں رہتے ہوئے سرکاری اداروں سے مدد حاصل نہ کر سکتا ہو یا پھر اپنی جان کے خوف سے وہ مدد حاصل نہ کرنا چاہتا ہو۔ درخواست دیتے وقت وہ اپنے پیدائش والے ملک سے باہر ہو۔ اب اکثر پاکستانیوں کو اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہوتیں یا پھر پاکستان میں ایجنٹ حضرات انہیں گمراہ کرتے ہیں۔ انکو اپنے سات آ ٹھ لاکھ روپوں سے غرض ہوتی ہے او ر انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ اس بیچارے نے وہ پیسے کتنی محنت سے حاصل کئے ہیں۔ اسے گمراہ کیا جاتا ہے کہ جیسے ہی وہ آسٹریلیا جائے گا اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا۔ یہاں پر کام بھی وافر مقدار میں موجود ہے۔ بہت سے لوگ اپنے ویزے بھی ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ میں گذشتہ کئی سالوں کے عملی تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اکثر پاکستانی جو سات سات آٹھ آٹھ لاکھ روپے خرچ کر کے یہاں پر وزٹ ،بزنس یا طالب علم کا ویزہ لے کر آتے ہیں اور پھر طرح طرح کی جھوٹی کہانیاں گھڑ کے اس خیال سے ریفیوجی کیس دائر کردیتے ہیں کہ وہ مستقل طور پر آسٹریلیا میں رہ سکیں گے انہیں جلد ہی اپنی غلطی کااحساس ہو جاتا ہے۔ بہت سے ایجنٹ حضرات آسٹریلیا میں موجود ہیں جو اس رقم سے بہت کم رقم میں آپکو آسٹریلیا کا مستقل رہائشی ویزہ دلوا سکتے ہیں۔ میں جتنے بھی پاکستانیوں کو اپنے کام کے دوران ملا ہوں ان میں بڑی کثیر تعداد میں ایسے لوگ تھے جن کی عمر، تعلیم اور تجربہ اتنا تھا کہ اگر وہ باقاعدہ طور پر آسٹریلیا کی ہجرت کے لئے درخواست دائر کرتے تو وہ بآسانی یہاں پر آسکتے تھے۔ آپکو آسٹریلیا کے بارے میں معلومات دیتے چلیں کہ آخر آسٹریلیا ہے کہاں اور اسکی بنیادی معلومات کیا ہے؟ کسی زمانے میں آسٹریلیا کو کالے پانی کی سزا کہاجاتا تھا اور برطانیہ اپنے مجرموں کو سزا کاٹنے کے لئے یہاں بھیجا کرتا تھا۔ پھر جن قیدیوں کی سزا پوری ہوتی گئی وہ واپس نہیں گئے اور انکی نسلیں یہاں پر آباد ہونے لگیں۔ یہاں کے اپنے رہنے والوں کو ابورجنی کہا جاتا ہے۔ امریکہ کے ریڈ انڈینز کے طرح ابورجنیز کی نسلوں کا بھی شروع شروع میں بہت بے دردی سے صفایا کیا گیا۔ یہاں پر پانی کی کمی ہے۔ اس لئے اسکو خشک جزیرے کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ اسکو down underکہہ کر بھی پکارا جاتا ہے کیونکہ یہ دنیا کے بالکل ایک کنارے پر واقع ہے۔ اگر دنیا کے گلوب کو دیکھیں تو یہ سب سے نیچے دکھائی دے گا اور یہی اس کے نام کی وجہ ہے۔ یہاں پر چونکہ موسم دنیا کے دیگر ممالک سے بالکل الٹا ہے اس لئے شروع شروع میں دسمبر کے مہینے میں آموں کو دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ یہاں پر سب سے زیادہ گرم مہینہ دسمبر کا ہوتا ہے اور سب سے زیادہ سرد مہینہ جولائی کا ہوتا ہے۔پاکستان سے آنے والوں کے لئے شروع شروع میں یہ چیز بھی عجیب دکھائی دیتی ہے۔ آسٹریلیامیں کام کرکے کوئی راضی نہیں ہوتا۔ حکومت کو بھی پتہ ہے اور دیگر تمام سرکاری ، نیم سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو بھی پتہ ہے کہ یہاں پر کام زیادہ بڑی تعداد میں مہیا نہیں ہے اور اسکی وجہ یہاں پر مزدوروں کے سخت قوانین اور دیگر لیبر لاز ہیں جنکی وجہ سے کوئی عقل کا اندھا ہی ہوگا جو آسٹریلیا میں کاروبار شروع کرنے کا ارادہ کرے گا۔ یہ بھی سبھی جانتے ہیں کہ چین نے دنیا بھر کے سرمایہ دار ممالک کی راتوں کی نیند حرام کر رکھی ہے اور دنیا بھر میں سستی اشیا ءکا ایسا لنڈا بازار گرم کر دیا ہے کہ پاکستان کی تو بات چھوڑیں امریکہ جیسے ملک کو بھی پریشانی ہو رہی ہے۔ ایسی بات نہیں ہے کہ آسٹریلیا میں ایسے لوگ نہیں ہیں جنہیں اپنے ملک سے پیار نہیں ہے۔ اکثر اوقات مارکیٹ میں آپکو proudly made in Australiaکا لیبل لگی اشیاءدکھائی دیں گی لیکن بہت ہی کم ایسے لوگ ہوں گے جنکو اگر جرابوں کا جوڑا دو ڈالرز میں مل رہا ہو تو وہ تقریبا ویسی ہی جرابوں کے جوڑے کے گیارہ ڈالرز صرف اس لئے دیں گے کہ وہ آسٹریلیا کی بنی ہیں۔ اس طرح کی حب الوطنی کوئی دکھانے کو تیار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے کارخانے اور دیگر مصنوعات تیار کرنے والے ادارے آسٹریلیا سے باہر کے ممالک میں اپنی اشیا ءتیار کرکے پھر آسٹریلیا میں درآمد کرتے ہیں جسکی وجہ سے انکو اپنی مصنوعات سستی پڑتی ہیں۔ پھر بھی وہ چین کامقابلہ نہیں کرسکتے۔ یہاں پر ہر سال ہزاروں کی تعداد میں بچے اور بچیاں پڑھ کر نکلتے ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں انکو کام بھی میسر نہیں ہے۔ حکومت بھی یہ بات جانتی ہے اور باقی لوگوں کو بھی اسکا علم ہے۔ انکو خاموش رکھنے کے لئے یا تو انہیں مفت تعلیم دلوائی جاتی ہے۔ یعنی بہت سے طلباءاو طالبات خوامخواہ کے مزید کورس کرتے ہیں اور حکومت سے طالب علم الاو¿نس لیتے رہتے ہیں۔ یہاں پر طرح طرح کے الاونسز ملتے ہیں۔ان الاو¿سنز نے کئی لوگوں کو معذور بنا کر رکھ دیا ہے۔ وہ اگر کام کریں تو انہیں نقصان ہوتا ہے اس لئے وہ کام کرنے کے بجائے فارغ بیٹھ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن اس طرح کے الاو¿نسز لینے والوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ایک لفظ استعمال کیا جاتا ہے doleیعنی دوسرے لفظوں میں اگر کسی کے بارے میں کہا جائے کہ وہ doleلیتا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ وہ خیرات لے رہا ہے۔ عام آسٹریلوی doleلینے والوں کو پسند نہیں کرتے کیونکہ وہ بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ حکومت کے پاس جو پیسہ ہوتا ہے وہ عوام کے ٹیکسوں سے ہی حاصل کیا جاتا ہے اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے لوگ عام عوام پر بوجھ ہوتے ہیں۔کسی زمانے میں doleکا یہ سسٹم اتنااچھا محسوس ہوتا تھا کہ لوگ ہوائی اڈے سے اپنے گھر کو بعد میں جایا کرتے تھے سوشل سیکیورٹی کے دفتر میں اپنا نام پہلے لکھوایا کرتے تھے۔ اس لئے آسٹریلیا کو gravy trainکا لقب بھی دیا گیا۔ doleکے تمام لوگ حقدار ہوا کرتے تھے اور اس ضمن میں کوئی خاص قوانین نہیں تھے لیکن آہستہ آہستہ ان قوانین میں سختی لائی گئی ۔ پہلے چھ مہینے کی رہائش کی پابندی لگائی گئی اور اب یہ پابندی دوسال کے لئے ہے یعنی کوئی بھی نیا آنے والا اس وقت تک doleکا مستحق نہیں ہو سکتا جب تک وہ دو سال تک اپنے خود کے پیسوں سے گذارا نہ کرے۔ البتہ اب بھی جو لوگ بچوں کے ساتھ یہاں پر آتے ہیں اور یہ ثبوت دے سکیں کہ ان کے پاس رہن سہن اور گذارے کے لئے پیسے نہیں ہیں یا انہیں کسی نے بتایا نہیں تھا تو بچوں کے گذارے کے لئے کچھ doleمل جاتی ہے لیکن واضح رہے کہ یہ رقم اتنی کافی نہیں ہوتی۔ بس اس سے صرف زندہ رہا جاسکتا ہے۔پوائنٹ سسٹم کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے۔ پوائنٹ سسٹم میں عمر، تجربہ، قابلیت، زبان کی اہلیت کو مختلف پوائنٹس دئے گئے ہیں۔ عمر جتنی کم ہو گی پوائنٹ اتنے زیادہ ہوں گے۔ اسی طرح تعلیم اور تجربہ جتنا زیادہ ہوگا پوائنٹ اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ مائگریشن کے لئے عمر کی زیادہ سے زیادہ حد45سال ہے۔ اس سے زیادہ عمر کے لوگ یہاں عام ویزے پر نہیںآسکتے۔ البتہ اگر کوئی بہت مالدار آدمی ہے اور اپنا سرمایہ آسٹریلیا منتقل کرنے کے بعد اس بات کا ثبوت دے سکے کہ وہ حکومت آسٹریلیا پر بوجھ نہیں بنے گا تو وہ بھی دیگر قسم کے ویزوں پر یہاں آسکتا ہے۔ جو بھی معلومات میں یہاں پر دے رہا ہوں یہ صرف معلومات تک ہی محدود ہیں اور میں ایسی کوئی ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ نیکی کروں اور برائی مول لے لوں۔ آپ صرف میری ہی باتوں پر یقین نہ کیجئے گا یہ صرف تھوڑی سی رہنمائی کی خاطر دی جارہی ہیں ۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے ہر طرح سے تسلی کرلیں اور کسی قابل مائیگریشن ایجنٹ سے ضرور رجوع کریں۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ اگر آپ کو اطمئنان ہے کہ آپ فارمز کو اچھی طرح پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں تو مائیگریشن ایجنٹس کی ضرورت نہیں رہتی لیکن ان سے رجوع کرنا اس لئے بھی اچھا رہتا ہے کہ وہ قوانین کی پیچیدگیوں سے آگاہ ہوتے ہیں۔ آسٹریلیا میں مستقل رہائش کے بہت سے طریقے ہیں لیکن اس کا دارومدار اس امر پر بھی ہے کہ آپ یہاں پر کس ویزے پر تشریف لائے ہیں۔ زیادہ تر لوگ وزٹ یا پھر کچھ لوگ بزنس ویزے پر آتے ہیں اور پھر یہاں آ کر کسی نہ کسی کے کہنے پر ریفیوجی ویزے کی درخواست دے دیتے ہیں اور پھر بعد میں جب ملک واپس جانا پڑتا ہے تو پچھتاتے ہیں۔

مصنف : فاروق قیصر

بھارت میں ممبئی کے تاج اور اوبرائے ہوٹلوں پہ دہشتگردوں کے افسوس ناک حملوں سے بھارت کو شائد اتنا صدمہ نہ پہنچا ہو جتنا صدمہ ہمارے اُن پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو پہنچاجنہوں نے بھارت کی فلم اندسٹری اور ٹی وی چینلز سے معاہدے کررکھے ہیں۔ بقول سرگم، آجکل ٹی وی کے پرائیویٹ چینلز پہ جس طرح کے مزاحیہ پروگرام دیکھنے کو مل رہے ہیں ان سے ٹی وی دیکھنے والوں کو سنجیدہ رہنے کیلئے ٹی وی بند کرنا پڑتا ہے۔ایسے پروگرام ہر چینل پہ اتنے زیادہ پھیل چکے ہیں کہ ان میں مزاح کو ڈھونڈنا اسامہ اور ملا عمر کو ڈھونڈنے کے مترادف ہو چکا ہے۔ایک زمانہ تھا ریڈیو پہ مہدی حسن، غلام علی اور فریدہ خانم کی آواز سن کر انہیں دیکھنے کی خواہش ہوا کرتی تھی۔ آجکل علاقائی چینلز پہ سنگرز کو ٹی وی پہ دیکھ کر لوگ دوبارہ ریڈیو کی جانب راغب ہوتے جا رہے ہیں۔ بے تحاشہ ٹی وی چینلزکا ایک یہ فائدہ ہوا ہے کہ لوگ اب بور پروگرامز پہ تنقید نہیں کرتے، اسلئے کہ وہ کوئی بھی مکمل پروگرام دیکھنے کے عادی نہیں رہے۔مکمل پروگرامز دیکھنے والوں کو عام زبان میں اخبار یا کسی شو بز میگزین کا رپورٹریا تبصرہ نگار کہا جاتا ہے۔ سنا ہے اس برادری میں بلڈ پریشر کی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے اور ڈاکٹر انہیں دوا کے ساتھ ٹی وی کے مکمل پروگرامز سے پرہیزکرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ ایک زمانے میں ٹی وی اور ناظرین پہ سرکار کا کنٹرول ہوتا تھا چنانچہ ناظرین کو وہی کچھ دیکھنا پڑتا تھا جو سرکار چاہتی تھی ۔ اب سرکار کے ہاتھ ٹی وی کا صرف کنٹرول ہوتا ہے جبکہ نا ظرین کے ہاتھ میں ٹی وی کا ”ریموٹ کنٹرول“ ہوتا ہے۔ جب ٹی وی پہلے پہل گھروں میں آیا تو گھر کی خواتین اسے کھلم کھلا دیکھا کرتی تھیں،کیبل کے آنے کے بعد انہیں چوری چوری دیکھنا پڑتا ہے۔ مزاح کے شعبے میں بھی چوری اور نقل اب عام ہونے لگی ہے۔ بقول سرگم، ہمارے ہاں اردو ادب میں کسی کی نظم یا نثر نقل کرنے والے کو بہت کچھ، جبکہ ٹی وی میں کچھ نہیں کہا جاتا۔ کچھ عرصہ پہلے نقل کو انگریزی میں کاپی کرنا اور آجکل انسپائر ہونا کہتے ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں اب کتاب کا کم اور کاپی کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ کاپی رائٹ قانون رائج ہونے کے بعد ہمارے اکثر ادیب اسکا مطلب ”کاپی از رائٹ“ لیتے ہیں۔ ایک عادی چور چوری کرکے مال چھپاتا ہے جبکہ ادبی چور چوری کر کے مال چھاپتا ہے۔ ویسے بھی ہمارے ادب میں چوری کی کوئی سزا نہیں البتہ مذہب میں ایسی سزا ہے کہ اگر کوئی لکھے ہاتھ پکڑا جائے تو پھر اس ہاتھ سے لکھ نہ پائے اور باقی زندگی اسی ہاتھ کو دکھا کر وہ پیٹ بھرتا پھرے۔ کچھ لوگ ”نقل عریانی“ کی آڑ میں ”نقل مکانی“ بھی کرجاتے ہیں۔کسی نے بتایا کہ فلاں رائٹرنقل مکانی کرگئے ہیں۔ پوچھاکیا امریکہ یا کینڈا شفٹ ہو گئے ہیں؟ جواب ملا، ”نہیں، ہیں تو وہ پاکستان میں ہی“۔ پوچھا تو پھر نقل مکانی کیسے ہوئی؟ بولے، انہوں نے فلاں صاحب کے مکان کی نقل میں مکان بنایا ہے۔ بتایا کہ فلاں صاحب تو ڈیفنس میں کرائے کے مکان میں رہتے ہیں تو بولے، یہی تو نقل مکانی کی ہے۔ انہوں نے بھی فلاں صاحب کی نقل میں اسی علاقے میں کرائے کا مکان لے لیا ہے۔ کچھ شاعروں اور ادیبوں میں اپنایت کا انگ کوٹ کوٹ کے بھرا ہوتا ہے جس سے وہ پرائے کو بھی اپنا بنا لیتے ہیں، چنانچہ وہ دوسروں کی تحریریں اور شعر اتنی اپنایت سے لکھتے پڑھتے ہیں کہ انکے اپنے اپنے سے لگنے لگتے ہیں۔ البتہ فیض #صاحب کی طرح کچھ شاعر ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنا ہی کلام ایسے پڑھتے ہیں جیسے کسی کا کلام یاد کر کرکے پڑھ رہے ہوں۔

سرگم ڈکشنری کے مطابق دانشوروں کے دوست وہی ہوتے ہیں جو انکی تعریف کرتے ہیں۔ اورجو دوست تعریف نہیں کرتے وہ بھی دانشور ہی ہوتے ہیں۔ سرگم کایہ بھی کہنا ہے کہ شاعروں ادیبوں کے دوست وہی ہوتے ہیں جو ان سے کم درجے کے شاعر یا ادیب ہوں۔ پرخلوص دوستی وہ ہوتی ہے جس میں بزنس نہ ہو۔ جیسے امجد اسلام امجد کی دوستی کسی نائی سے ہو۔ اسی طرح مطلب کی دوستی وہ ہوتی ہے جیسے پاکستان کی دوستی سعودی عرب، امریکہ یا برو نائی سے ہو۔ آجکل ادیبوں میں مزاح لکھنے والے بہت کم پیدا ہو رہے ہیں۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مردوں کو شادی کے لئے کوئی مزاحیہ عورت نہیں ملتی جس سے کوئی مزاح پیدا ہوسکے۔ ہمارے ہاں بڑے بڑے مزاح نگار اپنی اولادمیں کوئی مزاح نگار شائد اس لئے پیدا نہ کرسکے کہ وہ فیملی پلاننگ کی افادیت سے تو آگاہ تھے مگر ”ہم امید سے ہیں“ کی مقبولیت اور اسکے بے تحاشہ چلنے کا انہیں اندازہ نہ تھا۔ کچھ بڑے مزاح نگار ایسے ہیں جنہوں نے بہت کم لکھا اور لوگوں نے بہت زیادہ سمجھا۔ کچھ مزاح نگاروں نے زیادہ لکھا اور لوگوں نے انہیں اتنا ہی سمجھا جتنا اگر وہ نہ لکھتے تو سمجھے جاتے۔ خواتین مزاح لکھتی نہیں البتہ مزاح پیدا کرتی ہیں۔بقول انکل سرگم، مزاح شادی کے بعد ہی جنم لیتا ہے ۔ مزاح شادی سے پہلے جنم لے لے تو لوگ خوا مخواہ سا شک کرنا شروع کردیتے ہیں۔ تو جناب، ہمارے ہاں ایک طرف تو ہم بھارت سے دوستی کا سرکاری ہاتھ بڑھا رہے ہیں تو دوسری طرف ہمارے کچھ سیانے ہاتھ بڑھانے سے گھبرا بھی رہے ہیں کہ کہیں وہ ہمارا ہاتھ کھینچ ہی نہ لے۔ ایک طرف ہم بھارتی فلموں کا بندبارڈر کھول رہے ہیں تو دوسری طرف ہمارے بہت سے ٹی وی اور فلمسازبھارتی فلموں کی مقبولیت سے ڈر بھی رہے ہیں۔ بھارتی فلموں کی طرح ایک عرصے سے ہم بھارتی ٹی وی چینلز کے موسیقی کے پروگرامز بھی کاپی کررہے ہیں۔جبکہ ہمارے ہاں ساٹھ سالوں سے یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کہ موسیقی حلال ہے یا حرام؟ پھر بھی ہم ہر سال گلوکاروں کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا اعلیٰ سول ایوارڈز سے نوازتے بھی ہیں۔ ہم بھارتی ٹی وی چینلز پہ چلنے والے اخلاق باختہ لطیفوں کے پروگرام کی بھی ہوبہو کاپی کرتے ہیں، فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ بھارتی لطیفوں کے پروگرام اخلاق باختہ ہوتے ہیں اور ہمارے پرائیویٹ ٹی وی چینل پہ چلنے والے حواس باختہ۔ہمارے بہت سے علاقائی پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی حالت تو ایسی ہے جیسی آجکل ق لیگ کی ہے۔ یہ علاقائی ٹی وی چینل دیکھ کر ہمارا دل اُسے کوسنے کو کرتا ہے جس نے بے تحاشہ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کھولنے کی آزادی دی۔ تو جناب ہماری وفاقی وزیر اطلاعات اور وفاقی وزیر ثقافت سے درخواست ہے کہ وہ بھارتی ٹی چینلز کے فضائی حملوں سے بچنے کیلئے طالبان کی طرح تورا بورا کی غاروں میں چھپنے کی بجائے ”ففٹی ففٹی“ ”الف نون“ ”کلیاں“ اور الفا براو چارلی جیسے معیاری پروگراموں کی توپوں سے انکا مقابلہ کریں ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہماری فلموں کی طرح ہمارے ٹی وی چینلز پہ بھی بھارتی پروگراموں کا ترنگا لہرانے لگے گا۔

مصنف : پروفیسر ڈاکٹر خالدرشید ساگر

میں پورے یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ مدارس مجموعی طور پر اسلام کو نئے زمانے کے مطابق پیش نہیں کرتے۔ معدودے چند ایسے مدارس کے جو ایسا کرتے ہیں زیادہ تر مدارس ایسے ہی ہیں جو پرانی روایات کو ہی دہراتے چلے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے تنگ نظری پیدا ہوتی ہے۔ جب وہ اسلام کی بات کرتے ہیں تو وہ آج کے معاشرتی ماحول کو بالکل خاطر میں نہیں لاتے۔ مثال کے طور پر اہلحدیث کو دیکھ لیں جو کہ عام طور پر سعودی عرب کے دانشوروں کے خیالات کو اپنا لیتے ہیں اور پھر انکی آراءکو مسلمانوں پر فتووں کی صورت میں ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ یہ مسلمان دوسرے مسلم ممالک میں رہتے ہیں۔ جہاں تک عبادات کے معاملات کا تعلق ہے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان کے بارے میں مسلمہ قوانین تبدیل نہیں ہو سکتے لیکن دوسرے معاملات میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ یہ جو معاملات زندگی ہیں ان کے بارے میں جو فتاوی دئے جاتے ہیں وہ سعودی عرب کے معاشرے میں تو تسلیم کئے جا سکتے ہیں جبکہ وہی فتاوی دوسرے ممالک میں نہیں چل سکتے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب کا کوئی مفتی یہ فتویٰ دے سکتا ہے کہ دوسرے مسالک کے ماننے والوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنا جائز نہیں ہے لیکن بھارت میں جہاں مسلمان دوسرے مسالک بلکہ مذاہب کے درمیان رہتے ہیں ان کے لئے ایسا فتویٰ مضحکہ خیز ہو گا۔ فتاوی جات وقت اور جگہ کی مناسبت سے دئے جاتے ہیں اس لئے کوئی ایک فتویٰ جو ایک خاص موقع پر خاص حالات میں دیا گیا تھا وہی فتویٰ ہر جگہ لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

کسی نئی تبدیلی کو مدارس میں اس لئے بھی خاطر میں نہیں لایا جا تا کیونکہ مدارس میں عام طور پر قوانین قدیمہ(فقہ) پڑھایا جاتاہے۔ مدارس میں طلباءکو موجودہ سماجی مسائل سے بے بہرہ رکھا جاتا ہے۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے طلباءکو حالات حاضرہ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ حالانکہ بہت سے مسلم دانشوروں نے ان معاملات پر لکھا ہے لیکن ان کتابوں کو مدارس میں شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شروع اسلام میں دینی اور دیگر علوم کو علیحدہ رکھا جاتا تھا۔اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ مدارس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تبدیلی آئی ضرور ہے لیکن اسکی رفتار خاطر خواہ نہیں ہے۔ جب ہم مدارس میں تبدیلیوں کی بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی خیال میں رکھنا ہوگا کہ آخر ان مدارس کے اہم اغراض و مقاصدکیا ہیں؟ انکے اہم مقاصد یہ ہیں کہ مسلم دانشور تیار کئے جائیں۔ اس لئے اگر کوئی تبدیلی لائی جائے تو وہ اس بنیادی مقصد کو زیر غور رکھ کے ہی لائی جانی چاہیے۔اس لئے میرے خیال میں جب دینی مدارس سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ انکے پاس زیرتعلیم طلباءکوتفصیلی طور پر سائنس اور حساب کی تعلیم بھی دی جانی چاہئے تو یہ مطالبہ غلط ہے۔ میرے خیال میں بنیادی حساب کے ساتھ ساتھ سماجی سائنس کے بنیادی اصولوں کو مدرسے کے نصاب میں شامل کر دینا چاہئے۔سماجی سائنس کا مدارس کے نصاب تعلیم میں شامل کیا جانا اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ فارغ التحصیل طالب علم سماجی طور پر اسلام کو بہتر طور پر پیش کر سکیں۔

میں تو عام طور پر مدارس کی تعلیم کو لوہے کی ٹوپی سے تشبیہہ دیتا ہوں۔ جس طرح پاکستان کے ایک مزارپر کئی سالوں سے بچوں کے ساتھ ایک ظلم اسلام کے نام پر روا ہو رہا ہے کہ اچھے خاصے بچوں کو اس مزار کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے اور وہاں ان کے سروں پر لوہے کی ٹوپی پہنا دی جاتی ہے۔ ان بچوں کا جسم تو بڑا ہو جاتا ہے لیکن انکے دماغ چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ بعد میں ان بچوں کو ہرے رنگ کے کپڑے پہنوا کر ان سے بازاروں میں بھیک منگوائی جاتی ہے۔ اس ظلم کے حوالے سے میرا الگ سے مضمون بھی مطالعہ کیجئے۔ ہاں تو مدارس میں دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلباءکا سر بھی چھوٹا رہ جاتا ہے اور وہ اپنے مدرسے اور اپنے مخصوص فقہ سے الگ کسی کا بھی نقطہ نظر سننے کو تیار نہیں ہوتے۔ آپ کسی بھی فتوے کے قانونی اور سماجی پہلو کو اس وقت تک تفصیل سے بیان نہیں کر سکتے جب تک آپکو اس ملک کی سماجی حقیقتوں کا علم نہ ہو جہاں پر مذکورہ فتویٰ جاری کیا گیا تھا۔اس لئے دینی طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ دنیا کے موجودہ سماجی حالات کے بارے میں بھی مطالعہ جاری رکھے، حالات حاضرہ سے بھی باخبر ہو اور دنیا کے حالات بھی اس کے مدِ نظر ہوں۔ کچھ مدارس نے ایسا کرنے کی کوشش کی بھی لیکن وہ زیادہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکے۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ دینی مدارس کے طلبا ءکو موجودہ دانشوروں اور قرآن کے مفسروں کی کتابوں سے بھی روشناس کرایا جانا ضروری ہے۔ ایسے لوگوں کی کتابیں بھی دکھائی جائیں جو اپنے آپ کو روشن خیال یا لبرل سمجھتے ہیں تاکہ طلبہ کو دوسروں کے نقطہ نظر سے آگاہی حاصل ہو تاکہ انکو معلوم ہو کہ کون کس سطح پر سوچ رہا ہے۔

ابھی تک تو یہی ہو رہا ہے کہ مدارس میں قدیم دانشوروں کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں جو کہ انہوں نے اپنے زمانے تک کی ترقی اور نمو کے مدنظر لکھیں تھیں۔ آج کی اسلامی دنیا میں جو ترقی ہو رہی ہے یا جو حالات پیش آ رہے ہیں انکے پیش نظر یہ بہت ضروری ہے کہ دین کے بارے میں موجودہ سائنسی حالات کے پیش نظر نئی کتابیں لکھی جائیں اور نئی تفسیریں بھی لکھی جانی چاہئیں۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے میرا بھی یہی ایمان ہے کہ قرآن پاک میں قیامت تک کا علم سمو دیا گیا ہے۔ ٹیسٹ ٹیوب بے بی، فیکس مشینیں، دیگرسائنسی آلات، ہیومن کلوننگ یہ سب نئے زمانے کے انکشافات ہیں انکو سامنے رکھ کر قرآن پاک کی نئی تفاسیر کی ضرورت ہے کیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آنے والی ہر نسل رہنمائی کے لئے قرآن سے بے دریغ مدد لے سکتی ہے۔ کیونکہ قرآن ہر زمانے کے لئے مشعل راہ رہا ہے اور قیامت تک رہے گا۔ان حالات میں دو سو سال پہلے کی تفاسیر و تراجم کو مدارس میں پڑھاتے رہنا کسی بھی صورت میں جائز اور فائدہ مند نہیں ہے۔ نئے زمانے کے مطابق قرآن کی نئی تفسیروں کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر ابھی تک کچھ مدارس میں دارالحرب اور دارالاسلام کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے۔ یہ اصطلاحات کسی زمانے میں استعمال کی جاتی تھیں۔ اس درس کا قرآنی تعلیم سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ آج کوئی دارالحرب اور دارالاسلام نہیں ہے اس لئے مدارس میں اسکی تعلیم دیا جانا آج کے ماحول میں بے معنی ہے۔ میرا یہ بھی خیال ہے کہ مختلف زبانیں بھی طلبا کو مدارس میں سکھائی جانی چاہئیں جن میں انگریزی بھی شامل ہو۔ کچھ مدارس میں اب انگریزی پڑھائی جاتی ہے لیکن اسکا معیار ٹھیک نہیں ہوتا۔ ایسے بھی علما پائے جاتے ہیں جو انگریزی زبان کے ہی سرے سے مخالف ہیں ۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ اس طرح مدارس کے طلبا ءراہ سے بھٹک جائیں گے۔ میں ایسے درجنوں لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے مدارس سے تعلیم حاصل کی اور اسکے بعد یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور وہ ابھی تک اسلام پر پوری طرح قائم ہیں جبکہ میں درجنوں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو کہ مدارس میں تعلیم پانے کے دوران بھی نماز سے غافل رہے۔ جو نقطہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ انگریزی زبان کی تعلیم حاصل کرنے سے دینی طالب علم اسلام سے دور ہو جائے گاتو یہ غلط خیال ہے۔

اگر علمائے کرام انگریزی اچھی طرح جانتے ہوں تو وہ دین کو موجودہ حالات میں عام لوگوں کے سامنے زیادہ اچھی طرح پیش کر سکتے ہیں۔ دوسرے مسالک کے مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے جانے کا طریقہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ مسلمانوں کے ہر مسلک میں کچھ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو دوسرے مسلک کے مسلمانوں کو کافر کہہ دیتے ہیں اور وہ کھلم کھلا یہ کہتے ہیں کہ وہی ہیں جو اسلام پر ہیں اور انکا تعلق فرقہ ناجیہ سے ہے۔ کچھ اہلِ حدیث علماءانہی خطوط پر سوچتے ہیں۔ لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو یہ سوچ نہیں رکھتے۔ اہلحدیث یہ سمجھتے ہیں کہ جتنا اسلام کا انہیں پتہ ہے وہ دوسرے نہیں جانتے اس لئے وہ سب کے سب کافر ہیں۔ میرے خیال میں1960کی دہائی کے بعد حالات زیادہ خراب ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے مسالک کی بحث اتنی شدید نہیں ہو اکرتی تھی۔ اس سے پہلے اہلحدث یہ تو کہا کرتے تھے کہ انکا ”اسلام“ صحیح اور سچا اسلام ہے لیکن وہ دوسرے مسلمانوں کو کافر کہنے سے اجتناب کرتے تھے لیکن 1960ءکے بعد اہلحدیث علماءاور دیوبندی و بریلوی علماءکے درمیان ایک طرح کی جنگ شروع ہو گئی اور سب نے ایسی کتابیں لکھیں جن میں ایک دوسرے کو کافر لکھا اور کہا گیا اور یہ تک کہا گیا کہ وہ سرے سے اسلام سے ہی خارج ہیں۔ اس کی ایک وجہ سعودی عرب کا بڑھتا ہوا اثر بھی تھا۔ کیونکہ اہلحدیث کے اکثر علماءنے سعودی عرب کی جامعات سے تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی تھی لہٰذا انکے دماغ بھی دولے شاہ کے چوہوں کی مانند چھوٹے رہ گئے۔ اس طرح کے چھوٹے دماغ کے علماءاب کھلم کھلا حنفیوں کو جو کہ انڈوپاک میں زیادہ بڑی تعداد میں ہیں، کافر کہنے لگ گئے۔ یہ بات یقینا مضحکہ خیز تھی۔ میں سمجھتا ہوں ہو سکتا ہے کہ اہلحدیث کی دانست میں بعض حنفی مسلمانوں کے چند اعمال ایسے ہوں جو کہ قرآن و سنت سے مطابقت نہ رکھتے ہوں لیکن اسکا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ انہیں دائرہ اسلام سے ہی خارج تصور کیا جائے۔ بالکل اسی طرح ان دیوبندیوں کا یہ دعویٰ کہ تمام اہلحدیث اسلام سے خارج ہیں بالکل غیر اسلامی عمل ہے۔ ایک دیوبندی عالم نے تو حد کر دی۔ اس نے یہ تک لکھ دیا کہ اہلحدیث دنیا کا سب سے بڑا فتنہ ہیں۔ عام طور پر اس طرح کے حملے ذاتیات کی سطح پر ہوتے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ مسالک کے یہ اختلافات صرف اقتدار اور قوت کا مظاہرہ کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔ اس قسم کے علماءکے لئے حضرت علامہ اقبال ؒ بجا طور پر فرما گئے ہیں کہ ” دین ملا فی سبیل اللہ فساد“۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسا کہ سیاسی طور پر مخالف گروہ ایک دوسرے سے ایسے معاملات پر جھگڑتے ہیں جو کہ متنازعہ ہوتے ہیں۔اور انکا مقصد صرف اپنے ہم خیال لوگوں کو ساتھ ملا کر اپنی قوت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح چند مولانا حضرات ایسے ہوتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ جس اسلام پر عمل کر رہے ہیں وہی سچا اسلام ہے اور باقی سب لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اس اسلام پر عمل کریں۔

مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مدارس میں ایسے مباحث پر پابندی ہے جہاں علمی باتیں کی جاتی ہوں۔ طلباءکو اس طرح سے تربیت دی جاتی ہے کہ وہ شعلہ نوا مقرر بن جائیں تاکہ وہ اس طرح کی تقاریر کر سکیں جن میں دوسرے مسالک کے لوگوں کو خارج از اسلام ہونا ثابت کردیں۔مساجد میں دئے گئے خطبات کو سن لیں ان میں اکثر ایک ہی طرح کی جذبات سے بھرپور تقریرہوتی ہے۔ اس سے ان علماءکا غرور ظاہر ہوتا ہے جن کی یہ خام خیالی ہوتی ہے کہ بات کرنے کا حق صرف انہی کو حاصل ہے۔ انہی کو سب کچھ پتہ ہے اور دوسرے کسی بھی شخص کو جو انکی مخالفت کرے انہیں خدائی بیر ہو جاتا ہے اور وہ اسکو رسوا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔انکی اس سفلی حرکت کو دیکھیں اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کا عمل دیکھیں کہ ایک بار ایک بدو مسجد میں داخل ہوکر اس کے اندر پیشاب کرنے بیٹھ گیا۔ جب صحابہ کرام ؓنے یہ دیکھا تو وہ بہت ناراض ہوئے لیکن سرکار دوعالم ﷺ نے انکو رکنے کو کہا۔ انہوں نے صحابہ کرام ؓکو حکم دیا کہ وہ اس جگہ کو دھو ڈالیں جہاں اس بدو نے پیشاب کیا تھا۔ اور اس کے بعد بہت خاموشی سے بدو کو سمجھایا کہ مسجد میں پیشاب نہیں کیا کرو۔ یہ ہے وہ طریقہ ایسے لوگوں سے بات کرنے کا جو آپ سے متفق نہیں ہوتے۔ ایسے لوگ جو دوسرے مسالک یا مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں ان سے بات کرتے وقت ہمارا رویہ کیسا ہونا چاہئیے اس واقعے سے اسکی طرف بخوبی اشارہ ہوتا ہے۔

بے شک جو اختلافات مسالک کے درمیان در آئے ہیں وہ آسانی سے ختم نہیں ہو سکتے لیکن ہم یہ تو کر سکتے ہیں کہ ان اختلافات کے ساتھ ایک دوسرے کو برداشت کرکے اکھٹے رہنا سیکھیں۔ یہ ہمیشہ خیال رکھیں کہ علماءکے ایک دوسرے سے اختلافات کبھی ختم نہیں ہوسکتے۔ یہ ہمیشہ جاری رہیں گے۔ لیکن وہ ایک د وسرے سے افہام و تفہیم اور بات چیت کا دروازہ ایک دوسرے کو کافر کافر کہہ کر بند نہ کر دیا کریں۔ مسائل اس وقت زیادہ شدت اختیار کر لیتے ہیں جب انکو عوام کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ اور جب علماءعوام کو اپنے ساتھ ملا کرچلنے کی کوشش کرتے ہیں تو زیادہ خطرناک صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ بہت سی صورتوں میں توان اختلافات کا مقصد مادی فوائد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ آپ اپنے مسلک میں شدت اختیار کریں گے اتنی ہی بڑی رقم اپنے حامیوں سے بٹورنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اتنے ہی زیادہ اسلام کے ٹھیکیدار کا لقب بھی آپکو مل جائے گا۔ میں یہاں پر بابری مسجد کی مثال دوں گا۔ کتنا بڑا المیہ درپیش ہوا ۔جب 1992ءمیں بابری مسجد کو کچھ ہندو انتہاءپسندوں نے شہید کر دیا۔ بھارت کی جامعہ سلفیہ کے علماءنے مختلف مسالک کے مولویوں کو اکٹھا کیا جہاں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسجد کے شہید کئے جانے کے خلاف متحدہ مہم چلائی جائے گی۔ یہ اتحاد صرف چند روز قائم رہا اور بالآخر ٹوٹ گیا۔ میرے خیال میں اس قسم کے اتحاد اس لئے بھی تھوڑی مدت تک کے لئے ہوتے ہیں کیونکہ درمیان میں شخصیات پرستی کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ذاتی مفاد، نئے زمانے کی تعلیم اور مولویوں میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی کمی اسکی وجہ ہوتی ہے۔اس طرح کے مولویوں نے اسلام کو بہت تنگ نظر سے دیکھا ہوتا ہے اس لئے دوسروں کو برداشت کرنے کا مادہ ان میں سرے سے پیدا ہی نہیں کیا جاتا۔ علماءبجا طور پر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اسلام اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے۔ ان الدین عنداللہ الاسلام۔ اس میں تمام مسلمانوں اور مولویوں میں اتفاق رائے ہے۔ نااتفاقی وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں یہ مسئلہ پیش ہوتا ہے کہ دوسروں کو اسلام کی طرف بلایا کیسے جائے؟ کچھ ایسے مولوی بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ غیر مسلم لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کر دو۔ اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ ان سے کسی قسم کے روابطہ نہ رکھے جائیں۔ لیکن دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جن میں میں بھی شامل ہوں کہ مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کے لوگوں سے بالکل لا تعلق ہو کر نہیں رہنا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری خطبہ مبارک پڑھیں جس میں انہوں نے فرمایا کہ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنائے گئے تھے۔ یہ ہے بین الاقوامی بھائی چارے کا عظیم الشان پیغام جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیا۔ اس حوالے سے دنیا کے سب لوگ ہمارے انسانی بھائی ہیں۔ لیکن اگر وہ مسلمان بھی ہیں تب وہ ہمارے اسلامی بھائی ہوتے ہیں یعنی بھائی چارے اور اخوت کا رشتہ ایک ملت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم دوسروں تک اسلام جو ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس کا پیغام پہنچائیں۔یہ پیغام سب سے بہتر اسی صورت میں پہنچ سکتا ہے کہ ہم اس پر پہلے تو خود عمل کریں اور اس کے بعد اپنے مختلف عمل سے غیر مسلم ہماری طرف خودبخود متوجہ ہوں گے کہ یہ شخص بظاہر مجھ جیسا ہوتے ہوئے ہر اس عمل سے کیوں بے زار ہے جس پر میں عمل کرتا ہوں۔ لا اکراہ فی الدین۔ دین میں کسی کے ساتھ زبردستی نہیں ہے۔ لیکن جب ایک مسلمان اپنے عمل اور اپنی باتوں سے غیر مسلم کو اپنی طرف متوجہ کرے گا تو وہ ضرور اسلام کی حقانیت کو تسلیم کر لے گا بشرطیکہ اللہ تعالیٰ نے اسکے کانوں اور دل پر مہر نہ لگا دی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہیں ہدایت بخشتے ہیں۔ مجھے یہ بھی کہنے دیجئے کہ ہمارے بہت سے مولوی حضرات بین المذاہب بات چیت کے لئے نہ تو تیار ہیں اور نہ ہی باقاعدہ اس بارے میں تعلیم رکھتے ہیں حالانکہ آج کے دور میں اس کی اشد ضرورت ہے۔ بہت ہی کم مدارس ایسے ہیں جن کے طلباءکو دوسرے مذاہب کے بارے میں کوئی تعلیم دی جاتی ہو۔ عیسائیت یا یہودیت کے بارے میں اگر کچھ بتایا بھی جاتا ہے تو وہ ناکافی ہوتا ہے۔ طلباءکو اس طرح نہیں سکھایا جاتا جیسے کہ ان مذاہب کے ماننے والے اسکو سیکھتے ہیں۔ طلباءکو صرف ان سے بحث مباحثے کو جیتنے کے لئے کچھ بتایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب ان سے بات کی جاتی ہے تو ہمارے ذہنوں میں بالکل اسی طرح انکے دین کے بارے میں چند خیالات ڈال دئے جاتے ہیں جیسا کہ انکے ذہنوں میں ہمارے دین کے بارے میں ہوتے ہیں۔ہم بھی وہی جرم کرتے ہیں جس جرم کا مجرم ہونے کا الزام ہم غیر مسلموں پر لگاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کو اس طرح نہیں پڑھا جیسا کہ ہم پڑھتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مدارس میں دوسرے مذاہب کے طلبا ءکو بلا کر انکے دین کے بارے میں بھی طلباءکو آگاہ کیا جانا ضروری ہے تاکہ مسلمان طلباءاس سطح پر دوسرے مذاہب کو دیکھ سکیں جہاں سے غیر مسلم دیکھتے ہیں تاکہ وہ ان سے بات چیت کے لئے زیادہ بہتر طور پر تیار ہو سکیں۔

میں نے1976ءمیں پاکستان کو خیر باد کہا اور گذشتہ کئی سالوں کے دوران میں کئی مذاہب کے لوگوں سے ملا ہوں۔ یہ سال میرے لئے بہت اہم تھے۔ انکی وجہ سے میرے علم میں اضافہ ہوا اور میں نے اسلام کو بھی ایک نئے زاویے سے دیکھا۔مثال کے طور پر جب میں پاکستان میں تھا تو میرا کوئی ہندو جاننے والا نہیں تھا۔ لیکن جب میں قطر گیا تو وہاں پر ہندو اور سکھوں کے علاوہ دیگربہت سے ادیان کو ماننے والوں سے ملاقات رہی۔ یہاں آسٹریلیا میں میرے ایک جاننے والے سکھ گیانی ہیں۔ ان سے بات چیت کے بعد سکھوں کے مذہب کے بارے میں میرے کچھ خیالات میں تبدیلی آئی اور گیانی جی کو میں نے اسلام کے قرآن و حدیث سے جو حوالے دتو وہ یہ کہہ اٹھے کہ اگر آپ جو کہہ رہے ہیں وہ صحیح اسلامی تعلیم ہے تو ہمیں اس کے بالکل برعکس پڑھایا اور بتایا گیا ہے۔ مدراس پر یہ الزام جو پاکستان میں خاص طور پر روشن خیال کہلانے والے چند مسلمان لگا رہے ہیں کہ مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے یہ الزام سراسر بودا اور بے بنیاد ہے۔ اس الزام کی سرے سے کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔ ہاں میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ مدارس میں اس طرح تشدد پسندی کی تعلیم ضرور دی جاتی ہے جو کہ غیر مسلموں کے خلاف استعمال نہیں کی جاتی بلکہ یہ تشدد پسندی اسلام کے اندر پائے جانے والے مختلف مسالک کے درمیان اختلافات کو مزید ہوا دینے کے کام آتی ہے۔