Jun
18
مصنف : صہیب احمد خان
Suhaib Ahmad Khan
7,Jaswant Aptt.
16-Jamia Nagar Okhla
New Delhi-25
#9953478474
تنقید ایک اہم ادبی سرمایہ
صہیب احمد شکیل احمدخان
ریسرچ اسکالرشعبہ عربی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ
دنیا میں سب سے زیادہ حیرت انگیز اور دلچسپ تخلیق ذہن انسانی ہے جسمیں سارا خیر وشر اور جلال وجمال سمٹ کر آگیا ہے جس کے اختراع وایجاد کے معمولی نمونے بھی تھوڑی دیر کے لئے حیرت زدہ کردیتے ہےں۔ادب وفنون لطیفہ کا تنوع اور رنگینی بھی اس چھوٹے سے ذہن کا ایک کرشمہ ہے جو اس کے خیر اور جمال کا پرتو ہے ۔یہ حسن وجمال فنون لطیفہ کے ہر گوشے میں جگہ بہ جگہ نظر آتاہے خواہ وہ مصوری ہو یا بت تراشی،فن تعمیر ہو یا موسیقی اورشاعری سارے فنون لطیفہ انسان کوجمالیاتی انبساط دیتے ہیں اور اسکے فکرو نظر میں ارتفاع پیدا کرتے ہیں لیکن شعرو ادب کو ان تمام فنون پر اس لئے فوقیت حاصل ہے کہ اس میں زندگی کا احاطہ کر نے کی سکت زیادہ ہے بقیہ فنون جمالیاتی انبساط تک ہی محدود ہیں لیکن ادب سب سے زیادہ ہماری تہذیبی زندگی کو متاثر کرتا ہے ۔
علماء نے ادب کی تعریف کرتے ہوئے اسے تفسیر حیات کا نام دیا ہے اور تفسیر بغیر تنقیدی شعور کے ممکن نہیں اس لئے تخلیق ادب کے ساتھ ہی تنقید کا عمل بھی شروع ہوجاتا ہے زندگی ہمہ وقت رواں دواں ہے اس میں ہر لمحہ ایک نئے نظرئے اور نئی فکر کا اضافہ ہوتا ہے اس کے امکانات اب محدود نہیں ہیں اس لئے ناقص اور بہتر کی تمیز کے لئے تنقید ایک بنیادی اور اہم عنصر ہے. تنقیدی شعور کے بغیر نہ تو اعلی ادب کی تخلیق ہو سکتی ہے اور نہ ہی فنی قدروں کا تعین ممکن ہے اس لئے اعلی ادب کی تخلیق اور ادب کی پرکھ کے لئے تنقید لازمی ہے۔دوسری طرف بعض علماءکا یہ دعوی ہے کہ اعلی ادب کی تخلیق کے لئے تنقید کا وجود ضروری نہیں بلکہ ان میں سے بعض کا خیال یہ بھی ہے کہ حد سے بڑھی ہوئی تنقید ی گرفت یا فن وادب کا احتساب تخلیقی دھاروں کو فطری ڈھنگ سے بہنے سے روکتا ہے لیکن تنقید اور ادب کے سلسلے میں یہ نقطہ نگاہ غلط مفروضات پر مبنی ہونے کی وجہ سے خاصا گمراہ کن ہے ۔کیونکہ اگر انسان کی فطرت میں چیزوں کو دیکھنے بھالنے،سوچنے سمجھنے اور کوئی صحیح رائے قائم کرنے کے بعد انکو بہتر سے بہتر بنانے کا مادہ نہ ہوتا تو ترقی کی اتنی منزلیں بآسانی طے نہیں ہوسکتیں .زندگی ایک جگہ ٹھہر کر ”قطب از جانمی جنبد “کا مصداق بن جاتی ہے.ئت اجتماعی اور تہذیب وتمدن کا آج کوئی نام بھی نہ جانتا اور یہ نت نئی تبدیلیاں جن سے ہم آئے دن مانوس ہورہے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں کہیں خواب میں بھی نظر نہ آتیں یہ سب انسان کی اسی فطرت کے طفیل ہے کہ ہم زند گی کو انقلاب اور تبدیلیوں سے ہم آغوش پاتے ہیں۔ اس لئے تنقید کا وجود زندگی کے لئے نہایت اہم اور ضروری ہے اگر انسان کو اچھائی برائی کو پرکھنے کی تمیز نہ ہوگی،اگر برائیوں کو اچھائیوں میں تبدیل کرنے کا ہنر اس کو نہ آئے گا اگر اس بات کا احساس نہ ہوگا کہ زندگی کن چیزوں سے زیادہ بہتر ،مکمل اور خوشگوار بن جائے گی اور کن چیزوں سے غیر مکمل اور ناخوشگوار اگر اس کا شعور اس پر یہ امر روشن نہ کردے گا کہ فلاں اصولوں کی شاہراہ پر چل کر زندگی اپنی منزل سے زیادہ قریب ہو جائے گی اور فلاں اصولوں کی اتباع سے اسکو طوالت کا سامنا کرنا پڑے گا تو گویا وہ خود زندگی اور اسکی ابجد سے ناواقف اور کورا رہے گا اس کو یہ بات معلوم نہ ہوگی کہ ارتقاءاور ترقی کسے کہتے ہیں یہ سب چیزیں تنقید ہی کی مرہون منت ہیں انسان کی تنقیدی صلاحیتوں کے سہارے انکا وجود وابستہ ہے ۔
کہا گیا ہے کہ تنقید ادب کے لئے اسی طرح ضروری ہے جس طرح زندہ رہنے کے لئے سانس اس کے بغیر نہ تو ادب کی تخلیق ممکن ہے اور نہ قارئین کا وہ حلقہ پیدا ہو سکتا ہے جو شعرو ادب کی تفہیم وتحسین کی قدرت رکھتا ہو۔تنقیدی شعور کے بغیر ادب کا تصور ممکن نہیں یوں سمجھئے کہ ادب کے ساتھ ہی ادبی تنقید کا آغاز ہوجاتا ہے ۔تخلیقی عمل میں تنقیدی صلاحیت برابر کار فرما رہتی ہے یعنی جب کوئی ادیب یا شاعر کسی فن پارے کی تخلیق میں مشغول ہوتا ہے تو تنقیدی شعور اسکی رہنمائی کرتا رہتا ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ادبی تنقید کا ارتقاءادب کے ارتقاءکے ساتھ وابستہ ہے جس دور میں سماجی زندگی زیادہ پیچیدہ نہیں ہوتی ادب میں بھی سادگی کار فرما ہوتی ہے۔اور ادب کو پرکھنے کے اصول بھی سادہ اور شخصی ہوتے ہیں ۔جیسے جیسے سماج کے باہمی رشتے پرپیچ اور گوناگوں ہوتے جاتے ہیں ادب میں بھی پرکاری اور رنگینی رونما ہوتی ہے اور اسکے تنقید کے اصول بھی نسبتا زیادہ عمومی اور علمی ہوتے جاتے ہیں ۔تنقید کو صرف کسی فنکار کی غلطیاں نکالنے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ غلطیاں اس خیال سے نہیں نکالی جاتیں کہ صرف اسکو نیچا دکھانا ہے اور اسکے فن کی تذلیل کرنی مقصود ہے بلکہ اسکی تہہ میں ایک بلند مقصد ہوتا ہے. جس بنیاد تعمیر کے خیال پر استوار ہوتی ہے اس لئے جو تخریبی تنقیدیں لکھی جاتی ہیں اور اب لکھی جاتی رہی ہیں انکو تنقید کے تحت شمار کرنا عبث ہے۔ کیونکہ اول تو انکا تعلق جذبات سے زیادہ ہوتا ہے اور دوسرے انکی بنیاد زیادہ تر ذاتی بغض وعناد پر ہوتی ہے خلوص وصداقت سے اسکا کوئی سروکار نہیں ہوتا۔اس قسم کی تنقید میں دنیائے ادب کی عظیم ہستیاں الجھی ہوئی ہیں انہیں تمام حالات وکوائف نے تنقید کے متعلق بہت سی غلط فہمیوں کو جنم دیا اور بہت سے نابغہ روزگار ادباءاور باشعور افراداسکے جھانسے میں آگئے۔لامارتین(Lamartin)جیسے لوگوں نے تنقید کو عاجزوں کا حربہ بتایاہے اسی طرح اسٹنڈال(Stendhal)اور دیسرائےلی (Disraili) جیسے دانشوروں نے تنقید کو ابداع میں ناکامی اور شکست کا نشان سمجھ کر سخت غلط فہمی میں گرفتار ہوگئے ۔ان سادہ دل حضرات کا گمان یہ ہے کہ وہی لوگ ہنر وادب پر تنقیدکرنے کے اہل اور سزاوار ہیں جو خود ان آثار وباقیات کے اندر سے ابداع کی نظیریں ڈھونڈ نکالنے کے کام سے عہدہ برآ ہوسکتے ہوں حالانکہ انکا یہ خیال غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں کیونکہ ہر چیز کی پرکھ کے لئے ،خاص طور سے ابداعی ترکیب کے لے دیگر امر سے زیادہ تحلیلی فہم لازم ہے۔ بنا بریں یہ بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ ناقد کو ابداع کے حصول کے پیچھے دوڑنے کی حاجت نہیں تاکہ منکرین نقد کے بقول یہ طعنے نہ سننا پڑیں کہ یہ لوگ اس میدان کے شکست خوردہ لوگ ہیں ناقد یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ خلق و ترکیب کا کام انجام دے بلکہ اسکی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ ”خلاق اور ترکیب کنندہ“ کے ادب پاروں کی تحلیل و تجزیہ کرے۔
جبکہ ادباءاور ناقدین کی اکثریت نے تنقید کو ادب کی نشو نما اور ترقی کا ضامن بتا یا یہ خیالات میرے ذاتی نہیں بلکہ انگلستان کے مشہور نقاد میتھیوآرنلڈ کے خیالات ہیں جسکے ادبی اور شعری صلاحیتوں کا کوئی بھی ادیب انکار نہیں کرسکتا اسی سطحیت اور گہرائی کا ذکر کرتے ہوئے میتھیو آرنلڈ گیٹے اور بائرن کا مقابلہ کرتا ہے اور اس بات کو ذہن نشین کرتا ہے کہ بائرن کی شاعری اگر چہ حد درجہ دلچسپ اور دلکش ہے لیکن جو گہرائی گیٹے کی شاعری میں ملتی ہے اسکا بائرن کے یہاں فقدان ہے جسکی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ گیٹے کی نظر زیادہ دوررس ودوربین تھی اسمیں تنقیدی صلاحیتیں بائرن سے کہیں زیادہ موجود تھیں اور اس نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا تھا اسلئے اچھے تخلیقی کارناموں کو پیش کرنے کے لئے خود فنکار کو اپنے اندر تنقید کی تخلیقی صلاحیت پیدا کرنی نہایت اہم اور ضروری ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ تنقیدی شعور کی ابتداءکب ہوئی اور تنقید کے مختلف اسالیب کیا ہیں کتب تاریخ کے صفحات یہ اشارہ دیتے ہیں کہ تنقید کا وجود عالم انسانی کے وجود کے ساتھ ہوا ہوگاتنقید کے عام معنی اچھے برے میں تمیز کرنے کے ہیں چونکہ ابتداءآفرینش سے ہی انسان کو اچھی بری چیزوں میں تمیز کرنے کی ضرورت پڑی ہوگی ظاہر ہے کہ یہیں سے اسکے ذہن ودماغ میں تنقیدی شعور پروان چڑھا ہوگااس وقت نہ تو کوئی زبان اور نہ ہی کوئی تہذیب تھی اور تھی بھی تو انسان اتنا باشعور نہ تھا کہ اسکی تاریخ مرتب کر سکے۔جیسے جیسے انسان نے ترقی کی منازل طے کیں انسان نئی تہذیب وثقافت سے روشناس ہوا ویسے ویسے تنقید ی شعور بھی ارتقاءکے منزلیں طے کرتا ہوا اوج کمال کو پہونچ گیا. اگر تنقید کو وسیع معنوں میں لیا جائے تب تو اسکا وجود اس وقت سے نظر آتا ہے جب انسان نے اس دنیامیں اپنا پہلا ادبی کارنامہ گیتوں کی شکل میں پیش کیا. پھردھیرے دھیرےہ فن ادب کا ایک اہم جزءبن گیا۔
یہ بتانا فی الحال ایک مشکل امر ہے کہ کب اور کس نے تنقید کے لفظ کو وضع کیا اور کیو ںکر زبان زد ہوکر عوام وخواص کی زبان پر رائج ہوا مگر اردو زبان میں عربی وفارسی کے ان تمام مفاہیم کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس مادہ(ن ق د)نون قاف دال کو عربی کے باب تفعیل میں لے جاکر اس کے ہم وزن تنقید بنایا گیا اور عربی و فارسی ادب کا وہ لغوی ،ادبی اور فنی مفہوم جو نقد کے لفظ سے ادا ہوتا تھا وسعت پزیر ہو کر عوام وخواص کی زبان پر رائج ہوا بلکہ وہ افکاروخیالات بھی اس تنقید کے لفظ نے سمو لئے جو انقلاب فرانس کے بعد مغربی مفکرین و ناقدین کے اندر عام تھے۔مغربی اصطلاح Criticismکی اردو ترجمانی تنقید بھی اسی معنی و مفہوم میں استعمال ہونے لگاجسے جگر نے شعری انداز میں کچھ یوں کہا ہے
تنقید حسن مصلحت خاص عشق ہے یہ جرم گاہ گاہ کئے جارہا ہوں میں
کوئی بھی ادیب یا تنقید نگاراس بات سے منحرف نہیں ہوسکتا کہ یونانیوں نے سب سے پہلے ادب اور تنقید پر روشنی ڈالی اور ادبی کارواں کو معراج کمال کی دہلیز پر لے جاکر کھڑا کیا. پروفیسر بوچر نے افلاطون کی تنقیدی بصیرت کی داد دیتے ہوئے کہا ہے کہ افلاطون نے سب سے پہلے فلسفیانہ تنقید پر روشنی ڈالی اور اس کا سنگ بنیاد رکھا۔تنقید پر ارسطو کی کتاب ”بوطےقا“یورپ میں سب سے پہلی کتاب ہے اس کتاب سے صرف تنقیدی رجحانات کا ہی پتہ نہیں چلتا بلکہ اصول نقد پر بھی روشنی پڑتی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اُس زمانے میں ارسطو نےادبی فن پاروں کو پرکھنے کے لئے جو اصول معین کئے وہ اسکی بے پناہ تنقیدی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔ رزمیہ شاعری ،المیہ اور طربیہ پر اس نے جسطرح سے بحث کی ہے وہ تنقید کا بہت بڑا شاہکار ہے. مغربی ادب کا تنقیدی شعور ایک عرصہ تک ارسطو کے بتائے ہوئے اصولوں سے بہت زیادہ متاثر رہا ارسطو کی اتباع کرتے ہوئے اطالوی نقاد لانجائنس نے فن شاعری میں ”De Arte Poetica “کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں اسنے بہت سے کلاسیکی تنقید کے اصول مرتب کئے ہیں جو ارسطو اور ہوریس کے نظرئے کے عین مطابق معلوم ہوتے ہیں بالخصوص شائستگی (Decorum)کا نظریہ ،اسی طرح نشاة ثانیہ کا عظیم نقاداسکالی گر””Scaligerارسطو سے بہت متاثر تھا. فن شاعری میں ارسطو کی کتاب Poeticsکے نام پر Poetikکے نام سے اسکی مایہ ناز شاہکار منظر عام پر آیا اسکے علاوہ اسکا ایک اور ہم عصر سر من تورنوMinturnoبھی ارسطو اور ہوریس کا پیرو تھا۔
ادبی نقد کے سلسلہ میں یورپ ،جو دراصل روم اور یونان کی روایات کا حامل ہوا آہستہ آہستہ بڑی بڑی تبدیلیوں کا باعث بن گیا یہ اسکی تمام شقوں،شعبوں اور ادب وفرہنگ میں انقلاب لے آیا پھر مختلف ادوار سے گذرتے ہوئے دیگر زبان وادب میں منتقل ہوئی اور دھیرے دھیرے اس کے مختلف دبستاں وجود میں آئے اور تقریبا سبھی دبستانوں میں ادباء نے طبع آزمائی کی ۔عصر حاضر میں ادبی نقد نے بڑی وسیع دنیا بنا لی ہے ان گوناگوں طریقوں اور روشوں کی بنا پر جنہیں ناقدین اور سخن سنجوں نے برتے ہیں اور برت رہے ہیں فن نقد نے مختلف مباحث اور مسائل کے ابھرنے کا موقع فراہم کیا ہے عجیب وغریب وسعت کے ساتھ ہر روز ایک نئے علم کا اظافہ ہورہا ہے اور ناقدوں کی ایک نئی دنیا وجود میں آتی ہے جو نئے نئے نکات پیش کرتی اور انکشافات کے جوہر دکھاتی ہے بشرطیکہ ادباءاور نقاد اپنی ذمہ داریوں کوپوری طرح محسوس کریں اورتنقیدی زاویوں کا پاس ولحاظ رکھیں۔
ناقد کواول نفس اثر،اسلوب فکر اور طرز بیاں کا مطالعہ کرکے اسکے نمایاں مختصات وصفات کا تعین کرنا چاہئے اور تاریخی اور اجتماعی شواہد وقرائن کو اثر کے وجود کے زمانہ کی تعیین اور تشخیص کےلئے کام میں لانا چاہئے اسی طرح نقد کے وقت انتساب کے وضعی،جعلی اور منحول ہونے کے مسئلہ سے غافل نہ ہونا چاہئے پوری دنیا کی ادبیات میں اس طرح کے نمونے ملتے ہیں ،مفکرلوئی کزےمیان اپنی شہرہ آفاق تصنیف”Criticism in the making“ میں رقم طراز ہے کہ نقاد کے لئے ضروری ہے کہ اس کے ذہن میں بہت سے ذہنوں کی صلاحیتیں جمع ہوں .اگر ایسا نہیں تو گویا وہ تنقید نگار ہے ہی نہیں مگر تخصیص کے اس دور میں یہ بات تقریبا ناممکن ہے چونکہ تنقید نگار کا کام بہت پیچیدہ ہوتا ہے اسلئے ضروری ہے کہ اسکا مطالعہ وسیع اور نظر گہری ہو کیونکہ ناقد کا کام صرف یہ نہیں ہے کہ ادبی اثر وبقیہ کے لکھنے والے اورعام پڑھنے والے کے درمیان واسطہ کا کام انجام دے اور ان لطائف ودقائق جو ادبی آثار میں ملتے ہیں اگر کوئی انکی طرف توجہ نہ دے تو اسے غافل اور بے نصیب نہ رہنے دے بلکہ ان لطائف اور نوادر کو معلوم کرکے انکی توجہ مبذول کرائے اگر ان آثار میں کچھ معائب اور نقائص نظر آتے ہیں جنکی طرف عوام دھیان نہیں دیتی ہے اور ان آثار سے متعلق بےکار خوش فہمی اور مبالغہ میں مبتلا ہوگئی ہے تو انکو آشکارا کرکے منظر عام پر لائے اور ان ادبی آثار کو بے نقاب کرکے انکی حقیقی قدرو قیمت اور اصل بہا کو معلوم و متعین کرےلیکن یہ خدمات صرف وہی تنقید نگار انجام دے سکتا ہے جو بغض و عناد سے پاک و صاف ہو جو داخلیت اور ذاتی مفاد سے بلند ہوکر ادب کو پرکھنے کا حوصلہ رکھتا ہو،جو محاسن کو اجاگر کرنے کے باوجود محض داد وتحسین میں گم ہوکے نہ رہ جائے جو معائب کا پتہ بھی لگائے اور اسے ہمدردانہ انداز میں واضح بھی کرے اورجسکی تنقید میں خارجیت اور معروضیت کا عنصر بھی نظر آئے۔ اس طرح معلوم ہوا کہ نقاد کو کسی ادبی پرکھ کے سلسلے میں کئی فرائض انجام دینے پڑتے ہیں وہ صرف جذبات و احساسات کا شارح یا مفسر ہی نہیں ہوتا بلکہ اسے تاریخ،سماجیات،اقتصادیات ،نفسیات اور جمالیات کی روشنی میں کسی ادب پارے کو پرکھنا ہوتاہے تنقید کسی ادب پارے کے سلسلے میں معلومات بھی فراہم کرتی ہے ،تشریح بھی کرتی ہے ،تجزیہ بھی اور تاریخ ،نفسیات ،جمالیات ،تہذیب ومعاشرت کے اثرات کے روشنی میں اسکے فنی اقدار کا تعین بھی کرتی ہے۔
مگر نقطہ نظر کے اختلاف کی وجہ سے آج تنقید مختلف دبستانوں میں منقسم ہوگئی ہے.کوئی تاثراتی تنقید پر ایمان رکھتا تو کہیں جمالیاتی تنقید کا شور ہے ،کسی کے نزدیک نفسیاتی تنقید اصل تنقید ہے ،تو کوئی مارکسی تنقید کا قائل ہے کسی نے اسلوبیاتی تنقید کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا غرض ہہ کہ تنقید کے متعلق اس طرح کے مختلف نظریات وجود میں آئے جن سے نقطہ نظر کے اختلاف کا پتہ چلتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تنقید کے اسطرح ٹکرے نہیں کئے جا سکتے کیونکہ وہ ان سب کے مجموعے کا نام ہے تنقید کے لئے ان سبھی عناصر کا پایا جانا ضروری ہے ،تنقید خوردہ گیری یا چینی کا نام نہیں ہے،تنقید گلستاں میں کانٹو ں کی تلاش نہیں ہے ،تنقید جزءسے کل پر حکم لگانا نہیں ہے اور نہ ہی تنقید کوئی عدالتی فیصلہ یا ہر شاعر کا درجہ متعین کرنے کے لئے کو ئی فارمولا ہے بلکہ تنقید تو یہ بتلاتی ہے کہ آپ میوہ فروش کے پیمانے سے سونا نہیں تول سکتے تنقید ایک فن ہے جیسا کہ رچرڈس کا خیال ہے ”جو کام ڈاکٹر جسم کے لئے کرتا ہے ،تنقید ادب کے لئے ادب کرتی ہے وہ ذہنی سطح کا معیار طے کرتی ہے “ اردو کے مایہ ناز ادیب اور نقاد پروفیسر احتشام حسین کے مطابق”تنقید منطق کی طرح ہر علم و فن کی تشکیل و تعمیر میں شریک ہے بلکہ وجدان وجمال کے جن گوشوں تک منطق کی رسائی نہیں ہے تنقید وہاں پہنچتی ہے ،رنگ وبو اور کیف وکم کے غیر متعین دائرے میں صرف قدم ہی نہیں رکھتی بلکہ ابہام میں توضیح کا جلوہ اور بےتعینی میں تعین کی کیفیت پیدا کرتی ہے اسی طرح تنقید کے سلسلہ میں جب اصول کی گفتگو کےجائے تو طبعی اور اقتصادی علوم کے علاوہ ایک اور ایسے علم سے کام لینے کی ضرورت پڑے گی جو ان علو م کے منافی نہ ہوتے ہوئے بھی ان سب کے علاوہ کوئی بات ایسی بتا سکے جس سے فیصلہ میں مدد ملے“
ان تمام کو ہیش نظر رکھ کر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ تنقید کے لئے ادبی ذوق یا ادبی مطالعہ کافی نہیں ہے اس لئے اقدار کے تعین کے وقت دوسرے علوم کے علم کی ضرورت ہوتی ہے جس کے ذریعہ تنقید نگار معاصر ادب یا کلاسیکی فن پاروں میں اسکے عہد،سوسائٹی ،اقتصادی ،تہذیبی اور سیاسی حالات جمالیاتی تصورات،نفسیاتی عوامل،صناعانہ فنکاری،زبان وبیان،بدیع واسلوب اور ہیئت کا مطالعہ کرتا ہے تنقید کی اعلی ترین منزل یہی ہے جہاں تمام عوامل میں ایک توازن کے ساتھ ادب کو پرکھنے کی کوشش کی جائے اظہار کے سبھی پہلووں اورعلوم کے سبھی گوشوں پر نظر رکھنے کے بعد جو نقاد قدروں کے تعین کی کوشش کرتا ہے وہی ادب کے ساتھ انصاف کرتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادبی تنقید کے لئے بنیادی اصول یہی ہے کہ تمام علوم تہذیبی کشمکش ،تغیرات وتبدل اور زندگی کے مطالبات اور فنی وجمالیاتی قدروں کو سامنے رکھنے کے بعد کسی فن پارے پر تنقید کی جائے اور ایسی ہی تنقید صحت مند یا سائنٹفک کہلانے کی مستحق ہوگی۔
|
| Published on June 18th, 2009 | No Comments |
|