Archive for the ‘عالمی خبریں’ Category

علماء کی اکثریت نے سیکولر ازم کو لا مذہبیت سے موسوم کیا ہے حالانکہ سیکولر ازم کا مسئلہ میں نہ تو مذہب کو بڑھاوا دینا ہے اور نہ ہی اسے ختم کرنا ہے ۔ سیکولر نظام حکومت میں مذہبی آزاد ی ہے ۔بلکہ وہ ایسے ماحول کی تشکیل دیتا ہے ۔ جہاں لوگوں کو اپنے مذہب ‘عقیدہ ‘ اپنے تصور زندگی کو بیان کرنے کی پوری آزادی ہو ۔سیکولرازم کا مطلب یہ ہے کہ حکومت یا ریا ست ‘ ریاستی معاملات میں کسی خاص گروہ ‘ مذہبی مسلک کی پابند نہ ہوگی ۔بلکہ یہ مذہبی کی بجائے سیکولر ازم ہمہ مذہبی کا نام ہے ۔اور اس میں ہر مذہب کو مذہبی آزادی بھی دی گئی ۔ مگر کسی گروہ کو کسی دوسرے فرد یا گروہ پر اپنے تصورات مسلط کرنے کا کوئی حق بھی نہیں دیا گیا ہے ۔اور یہی وہ مذہبی آزادی کااصول ہے۔جس کو انسانی فطرت قبول کرتی ہے ۔ گویا سیکولرازم جو جمہورت کا جوہر ہے۔جمہوریت تو استوار ہی اس بات پر ہے کہ سوسائیٹی کے ہر فرد کو اپنی رائے دینے کا حق ہے ۔

ہندوستان کی ریاست( ہندو اکثریت کے باوجود) مذ ہبی نقطہ نگاہ سے قائم نہیں ہوئی بھار ت میں سیکولر جمہوری نظام ہے۔ لیکن ہندو نے ایک ہندوقوم پرستی اختیار کرلی ہے ۔اور اپنی کثرت اور اکثریت کی بناء پر جو قوت ہندو کے ہاتھ میں ہے اس قوت میں باقی چھوٹی قومیں شریک نہیں رہیں اور فیصلے کی تمام تر طاقتیں ہندوئوں کے ہاتھ میں رہی ہیں ۔ خواہ ہندو اپنی حکومت کو سیکولر کہتے چلے جائیں مگر امر واقعہ یہی ہے کہ فیصلہ کی تمام طاقتیں صرف ہندو کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ہندئوں کے ایک برہمن اونچی ذات کے ہاتھ میں رہی ہیں ۔گویا بھار ت کا سیکولر نظام حکومت لبرل جمہوری اصولوں کے خلاف ، یہ ہندو مذہبی بنیاد پرستی کے زیر اثر ہے ۔ہندو بنیاد پرستی کی وجہ سے بھارت میں مذ ہبی عصبیتیں تھیں جنہوں نے آگے مذ ہبی جھگڑے فرقہ واریت کو جنم دیا بنیادی طور پر بھارت میں سیاست جو کارفر ما تھی ۔اس سیاست کی بنیاد کے نیچے مختلف قسم کی قومی مذ ہبی لسانی عصبیتیں دبی پڑی تھیںاور ان عصبیتو ں نے بھارتی سیکولر ازم کی عمارت کو ضرور ٹیڑھا کردیا ۔اور سیکولر نظام تو مذہبی بنیاد پر ستی کا کسی طور بھی متحمل نہیں ہے ۔پس بھارت کو جس سیکولر جمہوری حکومت پر ناز ہے ہندو قوم کے متعّصبانہ رویے سیکولر لبرل نظریات کو جھٹلا رہے ہیں کیونکہ سیکولر لبرل ازم کا اصل چہرہ اور حقیقت کچھ اور ہے ۔ جو بھارت میں نظر نہیں آتا ،کیونکہ اسکی ہر تقسیم کے پیچھے دراصل پس منظر میں عصبیتیں اور خو د غرضی کے مختلف نام نظر آئیں گے ‘کہیں لسانی جھگڑے اور کہیں مذہبی جھگڑے نظر آئیں گے ‘ کہیں قومی جھگڑے اور کہیں ذات پات کے جھگڑے نظر آئیں گے ۔ مثلاََ چھوٹی ذات کا ہندو جو ہے وہ ہزاروں سال سے اُونچی ذات کے ہندو (برہمن )کے مظالم کا نشانہ بنا ہوا ہے اور ان کی چکی میں پسا جا رہا ہے ‘اور ان کو بھارتی سیکولر نظام حکومت میں کوئی بھی انسانی شرف نصیب نہیں ہوسکا ۔حالانکہ سیکولر مملکت کے آئین کے مطابق شہریوں کے حقوق وفرائض بلاکسی مذہبی امتیاز کے مساوی سمجھنا اور ان کے درمیان مذہبی و لسا نی بنیادوں پرکسی قسم کا امتیاز نہ برتنا ہے ۔گویا بھارت جس سیکولر نظام جمہوریت کا داعی ہے یہ فقط دعویٰ ہے ۔کیونکہ اس نے سیکولر نظام کا لبادہ پہنا ہوا ہے ۔ سیکولر نظام کا اصل چہرہ اور حقیقت کچھ اور ہے ۔کیونکہ سیکولر ازم میں کسی کو اپنا نظریہ اپنا عقیدہ یا اپنا کلچر کسی دوسرے پر تھوپنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔سیکولر ازم بنیادی طور پر جیو اور جینے دو کے اصول پر قائم ہے اور کسی سلیم العقل انسان کو اس اصول سے ایک فی صد بھی اختلاف نہیں ہو سکتا ۔ مگر بھارتی ہندو سماج کلچر میں تو سیکولر نظریات کی روح ناپید ہیں ۔کیونکہ سیکولر نظر یات کی جگہ مذہبی عصبیت ‘یعنی ہندو پنڈت کے نظریات کا بہت بڑا کردار نظر آتا ہے ۔ گویا سیکولر جمہور یت بھی ہندو مذہبی عصبیت کے زیر اثر ہے ۔کانگرس نے ہر دور میں سیکولر ازم عدل و انصاف کے بہت دعاویٰ کئے ہیں۔ لیکن ان دعاوی کے باوجود کانگرس ہندوستان میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت پاسداری اس لئے نہ کرسکی کہ کیونکہ اس کے درپردہ ہندو مفاد تھا ۔ماہرین علم سیاست نے کی سیکولر تشریح کے مطابق انسان کا مذہبی عقیدہ فرد کا مسئلہ ہے سماج یا ریاست کا نہیں ‘ مگر ہندستان میں ہندو جنتا کے ذریعہ مسلمانوں ودیگر چھوٹی قوموں کا زبردست استحصال کیا گیااور ہندوستان کے بعض علاقوں میں بالخصوص مسلمانوںکی شدھی ‘ شدھ کرنے کی تحریک جاری کرکے مسلمانوں پر جبر کرکے ان کو واپس ہندو ازم اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا ۔ ممتاز کالم نگار دانش ور جناب ارشاد حقانی صاحب بھارتی ہندو بنیاد پرستی کے حوالے سے فرماتے ہیں۔” ۔۔صرف آج کے اخبارات کے بعض حوالے دے کر صورتحال واضح کروں گا۔اتوار کے روز آگرہ مین اٹل بہاری واجپائی کی حلیف جماعت آر ۔ ایس ایس کے سہ روزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے سر برہ نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا ہے کہ ٢١ ویں صدی ہندوؤں کی صدی ہوگی اور مسلمانوں کو چاہئے کہ چونکہ ”ان کی رگوں میں رام کرشن کا خون گردش کر رہا ہے” اس لئے وہ بھارتی اور ہندو کلچر کے بڑے دھارے (Main stream) میں واپس آجائیں ۔انہوں نے ہندوستانی عیسا ئیوں کو بھی تنبیہ کی کہ وہ پا پائے روم سے اپنا تعلق توڑ لیں کیونکہ ان کا اور ویٹی کن کا رویہ عدم تحمل اور عدم برداشت کا آئینہ دار ہے۔” بھارتی عیسائی رومن کیتھولک چرچ سے ناطہ توڑ کر بھارتی عیسائی چرچ قائم کریں اور ہندو کلچر کو اپنا لیں”۔۔ بھارت میں پائی جانے والی فضا کی کیفیت کے بارے میں جناب ارشاد حقانی فرماتے ہیں وہاں کروڑوں مسلما نو ں اور کروڑوںعیسائیوںکو ”اپنی ہندوجڑ و ں”کی طرف واپس آنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔سکھوں کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ سکھ تاریخ کا ایک خون آلود باب ہے ۔۔ ۔ کشمیر یوں سے جو سلوک کیا جا رہا ہے اور ان پر جو مظالم ہو رہے ہیں ان سے ہم آگاہ ہیں ۔۔۔ہندو دانشور ہندو ازم کے ایک متحمل ( Tolerant ( مذ ہب ہونے کا تذکرہ کرتے ہیں کیا یہی وہ تحمل Tolerance ( ہے جس کا ہم مشاہدہ کررہے ہیں ۔ہندو مذہب کی تاریخی خصو صیت یہ ہے کہ وہ دوسرے کے مذ ہب کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے اور اسلام یا عیسائیت کے پیرو کار ہونے کی وجہ سے جو جذب ہونے سے انکار کردیں ان کو دھمکی ‘ تخویف اور تہدید سے ہندو ازم میں جذب کرنے سے گریز نہیں کیا جاتا ہے ۔۔۔ ہندوستان کے کیتھولک پادریوں کی نمائدہ تنظیم سی بی آئی نے کہا کہ آر ایس ایس کی طرف سے ہندوستانی عیسائیوں کو پا پائے روم اور ویٹی کن سٹی سے اپنا رشتہ توڑ کر بھارتی MainStream میں واپس آنے کا مشورہ’ نا قبول ہے ۔تنظیم کے سربراہ فادر عما نوئیل نے آر ایس ایس کے سربراہ سے دریافت کیا ہے کہ کیا مسٹر سدھرشن ہندوستان کے جمہوری نظام کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور ایسے ملکوں کی پیروی کرنا چاہتے ہیں جہاں انفرادی آزادیاں بالخصوص مذہبی آزادی موجود نہیں۔۔۔ ( ہندوستان کے ایک مسلمان راہنما)شہاب الدین اور عیسائیوں کے لیڈروں نے آر ایس ایس کے جلسہ میں مسٹر ایڈوانی کی موجودگی پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ایک حکومتی وزیر کو جس نے ایک سیکولر آئین کی پیروی کا حلف اُٹھایاہوا ہے ایک انتہا پسند تنظیم فرقہ وارانہ تنطیم کے جلسہ میں شرکت نہیں کرنی چاہیے تھی ۔۔۔ ( ماخوز از کتاب” پاک بھارت تعلقات ” مرتب کردہ علی جاوید نقوی صفحہ٢٦٠تا٢٦٤ )

پس آر ایس ایس کی ہندو انتہا پسندتنظیم ہندوستان کی سیکولرریاست یعنی ہندوستان کی سیاست اور معاشرے ‘ کو ہندوانہ بنانا چاہتی ہے ۔ پس سیکولر ریاست میںکانگرس کے لیڈر و ں نے بھی ا لیکشن جیتنے یا اپنی مقبولیت کے گراف اُونچا رکھنے کے لئے سیکولر اصولوں کی پاسداری کی بجائے ہندو ازم(اور ہندو انتہا پسندی ) کا درپردہ ساتھ دینے کا عندیا دیا ہوا ہے ۔ پس ہندوستان کے لیڈروں کو ہندو ازم( ہندو انتہا پسندی) کے آسان نسخہ کی تلاش رہی ہے۔بھارتی جنتا پارٹی کے پاس بھی ( الیکشن جیتنے کا)یہ بہت آسان فارمولا ہے جسے انہوں نے ماضی میں باری مسجد کے خلاف ایجی ٹیشن کے دوران بہت چابکدستی سے استعمال کیا کہ حاشیہ پر یہ رہنے والی یہ پارٹی جلد ہی ہندوستانی سیاست کا یہ مرکزی کردار بن گئی ۔

بھارتی جنتا پارٹی ( جو بجرنگ ‘ شیو سینا’ راشڑ یا سیوک سنگھ ‘جن سنگھ ‘ ہندو مہا سبھا انتہا پسند جماعتوں کا ملغوبہ ہے ) کی واجپائی دور حکومت نے ( بظاہر ایک قدم جو ذ ات برادری کی تقسیم کے خلاف اُٹھایا ) ذات برادری کی بجائے اقتصادی حالت کی تحفظات کی بنیاد بنایا ۔ مگر یہ بھی ایک ڈھونگ تھا حالانکہ بی جے پی والے مذہبی اختلافات سے سیاسی فائدہ اُٹھا نے کیلئے فرقہ وارانہ فسادات کروانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔پس کانگرس ہو یا جنتا پارٹی ان سب کی سیاست کی بنیاد مسلمانوں کے لہو اور ہڈیوں سے استوار کرنا ہے گزشتہ اکسٹھ سال سے ہندوستان میںسینکڑوں مسلم کش فسادات ہوئے ہیں۔جس میں نہ جانے کتنے مسلمان شہید ہوچکے ہیں۔گجرات میں جس بیدردی سے مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی ‘وہ بھارتی ذہنیت کا شرمناک مظاہرہ تھا ۔بستیوں کی بستیاں پیوند زمین کردی گئیں ۔مسلمانوں کو گھرو ںمیں بند کرکے راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا ۔بے خانماں افراد کے کیمپوں تک کو نذر آتش کردیا گیا ۔یہاں تک کہ کوچہ و بازار خون مسلم سے رنگین ہوگئے ۔

مگر دوسری طرف کانگرس اور جنتا پارٹی سیکولر ازم کی داعی جماعتیں معاشرے میں ذات برادری ملکی تقسیم کو اور مذہبی انتہا پسندی کو ہندوستان میں ہمیشہ کم کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ پس ایک مذہبی انتہا پسند جماعت بھارتی جنتا پارٹی کے اس قسم کے تحفظات قائم کرنے کے فقط دعویٰ ہیں مگر ان تحفظات پر عمل درآمد کی کبھی نوبت ہی نہیں آتی ۔کیونکہ بالخصوص مسلما نو ں کو ملازمتوں میں تحفظات مہیا کرنے کا حکومت ( جس نے بطاہر سیکولرازم غیر جانبداری کا لبادہ پہنا ہوا ہے ) کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ۔یہ سب دکھاوے ( اور بھارتی سیکولر ازم کا ڈھونگ ہے ) ہیں اور ایسے اعلانوں سے بھارتی جنتا پارٹی والے فقط یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی جماعت کانگرس کے مقابلہ میں غریبوں کے زیادہ ہمدرد ہے۔

بھارتی جنتا پارٹی کا ووٹ اُونچی ذاتوں میں ہی ہے۔ظاہر ہے کہ بی جے پی کا ایسے اعلان اپنے ہی ووٹ بینک کے لئے ہوتے ہیں ۔کہاجاتا ہے کہ آئینی طور پر بھارت ایک سیکولر ملک ہے یعنی وہاں ہر فرد کو اپنے مذہب کے مطابق جینے کا پورا حق حاصل ہے لیکن زمینی حقائق اسکے برعکس ہیں۔ بھارت کے سماج میں اقلیتوں کے حقوق بالخصو ص مسلمانوں کے حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔ اقلیتوں کے جان و مال کی کوئی حفاظت نہیںگرجاگھر ،مساجد غیر محفوظ ہیں اور بابری مسجد جلا دی جاتی ہے گویا بھارتی سیکولر جمہوریت کے اصول فقط دعو ے کی حد تک رہ گئے ہیں۔ پس جب تک ہندوستان مسئلہ کشمیر کے حل پر توجہ نہ دے گا بھارت اور پاکستان کے درمیان مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی کو تقویت ملتی رہے گی ۔

اور ہماری گورنمنٹ نے جہادی مولویوں کی ایماء پر کشمیر کی جنگ آزادی کو جہاد کے نام پر لڑنے کافیصلہ کیا تھا ۔گویا اس نام نہاد جہاد نے کشمیری ہندو تشخص ‘ اورمسلم تشخص کو لڑا کر ان کے درمیان مزید نفرتیں پیدا کردی ہیں ۔ جس سے مذہبی انتہا پسندی کوپاکستان اور بھارت میں فروغ حاصل ہوا ہے۔ علاوہ اسکے کشمیر کی جنگ آزادی کے” کاز” کو جہادی خود کش حملوں نے سخت نقصا ن پہنچا یاہے ۔ جس سے مظلوم کشمیری قوم کی حق آزادی کی جدوجہد پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ گویا مظلوم کشمیری اپنی آزادی کے مقصد اور منزل سے دور جا رہے ہیں اور دنیا کی حمایت رفتہ رفتہ کھو رہے ہیں ۔ دونوں ملکوں کے درمیان مذہبی نفرت اور عصبتیوں کو تقویت مل رہی ہے۔ پاکستان میں بھی مذہبی منافرتوں اور خودکش حملوں ‘دہشت گرد ی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اس نے پاکستان کی اقتصادیات اور اس کے امن و امان کو غارت کیا ہوا ہے ۔بمبئی میں حالیہ دہشت گردی کے سانحہ کو بھارت نے بہانہ بنا کر پاکستان کو جارحیت کا نشانہ بنانے کا عزم کیا ہے۔ گویا پاکستان پر بھارتی جارحیت کے خطرات کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ پس ہندوستان میں ہندو پنڈت کے نظریات ، اور پاکستان میں جہاد ی مولوی بنیاد پرستوں کی جگہ دونوں ملکوں کو صحیح سیکولر جمہوری اصولوں کی پاسداری سے ہی امن نصیب ہو سکتا ہے

پاکستان نے ایک مرتبہ پھر جماعتہ الدعوۃ اور کالعدم لشکر طیبہ کے اراکین کی گرفتاری کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ حکومت اس تاثر کی نفی کرتی ہے کہ یہ کارروائی کسی دباؤ یا کسی کے کہنے پر کی جا رہی ہے لیکن صاف ظاہر ہے اس کی پشت پر امریکہ اور بھارت کا مطالبہ تھا۔

لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ آخر کیوں حکومت پاکستان صرف اسی وقت حرکت میں آتی ہے جب دنیا کے کسی بڑے شہر میں کوئی بڑا دہشت گردی کا واقع رونما ہوتا ہے۔ پہلے مذمت، پھر تردید اور بعد میں گرفتاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ شدت پسندوں کی وجہ سے جو جگ ہنسائی ہوتی ہے وہ تو ہے ہی لیکن حکومتی ردعمل سے رہی سہی عزت بھی خاک میں مل جاتی ہے۔

ایسا اس مرتبہ پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے۔ ماضی میں بھی اس قسم کا انکار اور اقرار کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا رہا ہے۔ کئی گرفتار افراد بعد میں معاملے کے ٹھنڈا ہونے پر خاموشی سے رہا بھی کر دیئے جاتے تھے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم کیوں ایسی نوبت آنے دیتے ہیں؟ ہم کیوں اپنا گھر درست نہیں رکھ سکتے؟ کیا ہماری پالیسی ہمیشہ عالمی دباؤ کے نتیجے میں طے کی جائے گی یا جب یہ خطہ جنگ کے دہانے پر پہنچ جائے گا ہم حرکت میں آیا کریں گے؟

مشیر داخلہ رحمان ملک نے جمعرات کو ایک مرتبہ پھر اعلان کیا کہ انہیں ہندوستان کی جانب سے مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف ابھی تک کوئی شواہد فراہم نہیں کیے ہیں۔ ایسے میں پھر جن لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے وہ کس بنیاد پر پکڑے جا رہے ہیں۔

کیا آپ نے اپنی تحقیقات میں ان کے خلاف کوئی ثبوت جمع کیے ہیں یا یہ محض وہ روایتی معمول کی کارروائی ہے جو اکثر ہماری پولیس کارکردگی دکھانے کے لیے علاقے کے دو چار بدنام افراد کو حراست میں لے کر ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے؟

انڈیا کے صنعتی شہر ممبئی میں 26 نومبر کی رات ہونے والے دہشت گردی کے نو مختلف واقعات کا الزام پاکستان پر لگایا گیا۔ ایک طرف ابھی دہشت گردوں کی کارروائیاں جاری تھیں تو دوسری طرف انڈیا کی خفیہ ایجنسیوں اور سیکیورٹی اداروں نے لمحوں میں اس واقعہ کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا دیا۔ انڈیا اپنے ملک میں ہونے والے کسی بھی واقعہ کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دیتا ہے اور آج تک کسی بھی الزام کا ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ چاہے معاملہ بھارتی پارلیمنٹ پر 2002ء میں حملے ، احمد آباد میں خونریزی یا سمجھوتہ ایکسپریس کے حادثے کا ہو۔ پاکستان جب بھی انڈیا سے ثبوت کی بات کرتا ہے تو دوسری طرف سے صرف الزامات کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ اگر انڈین خفیہ ایجنسیاں اتنی متحرک ہیں کہ دہشت گردی کے واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کے دوران ہی انہیں اس بات کا پتہ چل جاتا ہے کہ اس واقعہ کے پیچھے کون لوگ ملوث ہیں تو انہیں یہ کیوں پتہ نہیں چل سکا کہ تین شاندار ہوٹلوں، ایک ہسپتال، ریلوے اسٹیشن، ایک معروف ریسٹورنٹ اور جیوش سنٹر کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد وہاں کیسے پہنچے۔ انہوں نے بھاری تعداد میں اسلحہ کہاں سے حاصل کیا۔ ایک ہی وقت میں شہر کے مختلف علاقوں میں منظم انداز میں اپنی کارروائیاں کیسے کیں۔

انڈیا کی طرف سے پہلے یہ الزام لگایا گیا کہ پاکستان سے کشتی میں سوار افراد دہشت گردی کیلئے ممبئی پہنچے جبکہ یہ سفر 560 ناٹیکل میلوں پر محیط ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی بھی چھوٹی کشتی پر اتنا لمبا سفر طے نہیں کیا جاسکتا دوسری طرف انڈیا کی سمندری حدود میں اس کی بحری مشقیں بھی جاری تھیں۔ ایسی صورتحال میں یہ کیسے ممکن ہے کہ دہشت گرد اسلحے سمیت ممبئی پہنچ جائیں۔ انڈین ریڈار سسٹم اور دوسرے سیکیورٹی انتظامات سے بچ کر ممبئی پہنچنا دہشت گردوں کیلئے کیسے ممکن ہے۔ انڈیا کی طرف یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ پاکستان فوری طور پر آئی ایس آئی کے ڈی جی کو انڈیا بھیجے جس پر ہمارے محترم وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پہلے تو رضا مندی ظاہر کردی مگر پھر ملک بھر کے تمام طبقوں کی طرف سے اس بات کی شدید مخالفت کی گئی جس کی بناء پر یہ کہا گیا کہ ایسا نہیں کیا جارہا۔ بعد ازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس بات کی تائید کی گئی کہ پاکستان نہ تو ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی اور نہ ہی اس کے کسی نمائندے کو انڈیا بھیجے گا لیکن اگر انڈیا کے پاس ممبئی کے واقعے میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کے کسی بھی قسم کے شواہد موجود ہیں تو وہ پاکستان کے حوالے کئے جائیں تاکہ حکومت پاکستان اپنے قانون کے مطابق مذکورہ افراد کیخلاف کارروائی کرسکے۔

انڈیا کی طرف سے پاکستان پر ممکنہ حملے کی دھمکیوں کے جواب میں امریکہ، نیٹو اور عالمی برادری کو واضح طور پر بتا دیا گیا کہ اگر انڈیا نے ایسی حماقت کی تو اسے نہ صرف سبق سکھایا جائیگا بلکہ افغانستان کے بارڈر پر متعین پاکستانی فورسز کو وہاں سے ہٹا کر انڈین بارڈر کے ساتھ لگایا جائیگا تاکہ انڈین جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جاسکے۔ حکومت پاکستان کے اس اقدام کے بعد امریکہ اور دوسری بڑی طاقتوں نے فوری طور پر انڈیا اور پاکستان دونوں سے رابطے شروع کردیئے تاکہ ممکنہ جنگ کے خطرے کو ٹالا جاسکے۔

انڈین دھمکیوں کے نتیجے میں پاکستانی قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈر متحد ہو گئے۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طرف سے اسلام آباد میں منعقد کی گئی کل جماعتی قومی کانفرنس میں 58 سے زیادہ سیاسی رہنمائوں نے شرکت کی اور وطن عزیز کی سلامتی اور تحفظ کیلئے حکومت اور فوج کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ کانفرنس میں ممبئی حملوں کی مذمت اور افسوسناک واقعے پر انڈیا سے اظہار ہمدردی بھی کیا گیا لیکن ساتھ ہی اس عزم کا واضح الفاظ میں اعادہ کیا گیا کہ پاکستانی قوم اپنی خودمختاری، وقار اور سا لمیت پر کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کریگی۔ پاکستانی سیاسی قیادت نے یہ ثابت کردیا کہ ان کے ذاتی اختلافات اپنی جگہ مگر وہ ملکی دفاع کے معاملے پر ایک ہیں اور انڈین جارحیت کا مل کر جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اگرچہ ہماری حکومت کے پاس اس بات کے متعدد ثبوت موجود ہیں کہ بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کو انڈین مدد حاصل ہے اور یہ مدد پاکستان کے امن و امان کو تباہ کرنے کیلئے افغانستان میں موجود انڈین قونصل خانے متحرک ہیں اور وہ دہشت گردوں کو مالی مدد اور ہتھیاروں کی فراہمی کے علاوہ ٹریننگ بھی دیتے ہیں۔ اس تمام تر صورتحال کے باوجود ہماری سابقہ اور موجودہ حکومت بے شرمی اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کبھی بھی انڈیا سے پُرزور احتجاج نہیں کرسکی اور نہ ہی عالمی برادری کو انڈیا کی طرف سے دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے آگاہ کرسکی ہے۔ ہماری حکومت کی اس کمزوری کے باعث انڈین خفیہ ایجنسی ”را” نے اپنے مذموم عزائم کو تاحال جاری رکھا ہوا ہے۔ دوسری طرف انڈیا کے اندر مختلف ریاستوں میں آزادی اور علیحدگی پسندی کی متعدد تحریکیں زوروں پر ہیں جن کو دبانے کیلئے انڈین حکومت اور آرمی پیسے اور طاقت کا بھرپور استعمال کررہی ہے مگر تمام تر کوششوں کے باوجود آج بھی انڈیا کے 44 فیصد اضلاع میں صورتحال انتہائی خراب ہے۔

حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ جارحانہ سفارتکاری کا انداز اپنائے اور عالمی برادری کو اس حقیقت سے آگاہ کرے کہ انڈیا خطے میں امن و امان کو ملیا میٹ کرنے پر تلا ہوا ہے لہٰذا اس کو بے جا اور خصوصی بنیادوں پر اسلحے کی فراہمی روکی جائے اور دوسری طرف افغانستان میں انڈین خفیہ اداروں کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کا بھی نوٹس لیا جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان انڈیا کو ہر معاملے میں منہ توڑ جواب دے۔

اسلام آباد (گونج رپورٹ) ذرائع کے مطابق 64پاکستانیوں کے قتل کے ملزم لیفٹیننٹ کرنل ارساد پروہت کو حکومت پاکستان بھارت سے طلب کرنیوالا ہے۔ اِس بارے میں متعلقہ اداروں نے ہوم ورک مکمل کر لیا ہے۔ بھارتی فوج کے حاضر سروس لیفٹیننٹ کرنل اِرساد پروھت نے مبینہ طور پر 18فروری 2007ء کو نئی دِلی سے سمجھوتہ ایکسپریس کے ذریعے لاہور واپس آنیوالے 64 پاکستانی شہریوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا .اِسکے لئے اُس نے اپنے انٹیلی جنس اِداروں کے پلان کے مطابق سمجھوتہ ایکسپریس میں بارود رکھوا کر اسے آگ لگا دی اور 64 پاکستانی جل کر خاکستر ہو گئے۔ کرنل ارساد پروھت سمجھوتہ ایکسپریس جلانے کے کیس میں اُس وقت ماخوذ ہوا جب بھارت کے اینٹی ٹیررسٹ سکواڈ کے اعلیٰ عہدیدار ہیمانت کرکرے نے بھارتی علاقے میلاگان بم دھماکوں کی تحقیقات میں اپنی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل ارساد پروھت کو ملوث پایا . دوران تفتیش اس فوجی افسر کے سمجھوتہ ایکسپریس سانحے میں ملوث ہونے کے شواہد مل گئے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی وزارت داخلہ اور متعلقہ ادارے پاکستانیوں کے اِس مبینہ قاتل کو بھارت سے طلب کرنے والے ہیں۔ ہیمنت کرکرے نے چونکہ کرنل پروھت کو سمجھوتہ ایکسپریس سانحے میں ملوث ثابت کیا تھا اسلئے بھارتی ایجنسی کے اہلکاروں نے ممبئی کے فائیو سٹار ہوٹل میں دھماکے کے فوری بعد عین اس وقت اُسے پیچھے سے گولی مار کر ہلاک کر ڈالا۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان بھارت سے مطلوب دہشت گردوں کی فہرست تیار کر رہا ہے . اس میں لیفٹیننٹ کرنل ارساد پروھت کا نام موجود ہوگا۔

نیو یارک (گونج نیوز) پاکستان کے متعدد شہروں کے اہم و حساس مقامات پر خفیہ حملوں اور کمانڈو ایکشن کیلئے بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے اسرائیل سے مدد اور امریکی حمایت حاصل کرلی ہے اور اس سلسلے میں اس کی حکمت عملی آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے۔ اسرائیلی جریدے اور امریکی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جمعہ اور ہفتے کی درمیان شب گکھڑ پلازہ اور گیریژن ورکشاپ میں لگنے والی آگ کی تحقیقات کو بھی اسی رخ سے دیکھنا ہوگا۔ رپورٹ میں محرم الحرام کے دوران دہشت گردی کے خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق 375 صفحات پر مشتمل اسرائیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی انتہا پسند، یہودی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد میں اہم عہدے پر فائز شخص گیورا شومیز اور وادم میخائلزو ممبئی حملوں کے دوسرے دن یعنی 28 نومبر کو بھارت میں موجود تھے۔ ان دونوں شخصیات نے دہلی میں بھارت کی سیاسی، عسکری اور خفیہ ایجنسیوں کی اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور دو دن قیام کے بعد واپس اسرائیل روانہ ہوگئے۔ ان ملاقاتوں کے بعد 4 دسمبر کو گیورا شومیز نے ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ بھارت نے پاکستان کے سرحدی علاقوں اور اہم حساس مقامات بشمول اہم تجارتی مراکز، فوجی تنصیبات، بڑے ہوٹلوں، ریلوے ٹریکس، رابطہ پلوں، دینی مدارس، امام بارگاہوں، جامع مساجد، اثر و رسوخ رکھنے والی و مقبول سیاسی شخصیات اور نجی ٹی وی چینلز و اخبارات کے دفاتر کو نشانہ بنا سکتا ہے اور ان حملون کیلئے بھارت نے اسرائیل سے مدد طلب کی تھی جس کے بعد موساد کے 6 عہدیداروں کو بھارت بھیجا گیا ہے۔ شومیز کا کہنا تھا کہ ان 6 عہدیداروں نے بھارتی عہدیداروں کے ساتھ مل کر پاکستان کیخلاف نئی حکمت عملی پر غور شروع کردیا ہے جس کا بنیادی مقصد پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کرنا ہے تاکہ بھارت کی جانب سے کسی بھی پیش قدمی کی صورت میں بھارتی فوج کی مدد کی جا سکے۔ امریکی ریاست نیویارک سے شائع ہونے والے مشہورجریدے کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام نے اسرائیلی مدد صرف اِس لئے حاصل کی ہے تا کہ پاکستان میں ایسی مخصوص دہشتگرد کاروائیاں عمل میں لائی جا سکیں جن کا سارا الزام پاکستان میں موجود انتہا پسند عناصر، طالبان تحریک اور القاعدہ پر ڈالا جا سکے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے، حکومت و عوام کی توجہ اسی طرف مرکوز ہو گی تو بھارت پاکستان کو مزید بدنام کرانے کیلئے اپنا موقف عالمی برادری پر آسانی سے واضح کرسکے گا۔

جھوٹ اور سازش کا پردہ کبھی نہ کبھی تو فاش ہوتا ہے اور چاک ہوتا ہے۔ ”سیمی” بھارتی مسلمان طلبہ کی تنظیم ہے جو بھارت میں ہندو انتہا پسندی سے تحفظ کے لئے قائم ہے۔ اس پر اکثر الزام لگتا رہتا ہے کہ وہ دہشت گردی میں ملوث ہے۔ سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا سے تعلق رکھنے والے اکثر مقدمات سے دوچار ہیں اور ریاستی ظلم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ وہ بیچارے بار بار آواز اٹھاتے ہیں کہ بھارتی مسلمانوں کے ساتھ جو سیکولر ریاست کو مساوی سلوک کرنا چاہئے اسکی بجائے بھارتی سرکار اور بھارتی ریاستی ادارے مسلمانوں کو اپنے برے سلوک ‘ استحصال اور ظلم سے دوچار کرتے ہیں۔ بھارت کے سیکولر اور لبرل مسلمان جن میں معروف اداکارہ اور رکن پارلیمنٹ شبانہ اعظمیٰ مسلمانوں اور ہندوئوں کے مشترکہ سیکولر بھارت کے لئے آواز اٹھاتی رہتی ہیں اور جامع مسجد دہلی کے امام کے خلاف بھی آواز اٹھاتی رہتی ہے۔ جو صرف مسلمانوں کے حقوق کے لئے اکثر آواز اٹھاتے ہیں او ر آجکل نئی مسلمان سیاسی جماعت کی ضرورت بیان کرتے ہیں۔

لیکن کیسی دلچسپ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ارون دھتی رائے جیسی عالمی شہرت کی حامل ناول نگار کو کشمیر میں مسلمان مظلوم نظر آتے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی کے حق میں آواز اٹھاتی ہے۔ گویا بھارت ”تبدیلی” سے عملاً دوچار ہے ایک طرف بھارتی ریاست بھارت بھر میں مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے میں مصروف رہتی ہے اور ہندو ازم کے تسلط اور استحصال سے بچنے ے لئے ”سیمی” یعنی سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا کے ذریعے اپنے حقوق کی آواز اٹھاتی ہے تو اسے دہشت گرد ثابت کیا جاتا ہے اور اس کے قائدین کو ریاستی مقدمات کے شکنجے میں جکڑ دیا جاتا ہے جبکہ کشمیر کی غیر مسلح جدوجہد آزادی کو کچلنے کے لئے چھ سات لاکھ بھارتی فوج کشمیر میں ہے۔ اسرائیل کے جرنیل کئی بار کشمیر کے حوالے سے سرینگر کے دور ے کرتے ہیں اور بھارت اور کشمیر کے لئے فلسطینی عوام کو کچلنے کے تجربے پیش کرتے ہیں۔ حال ہی میں ایک امریکی جرنیل بھی سیاچن کا تین روزہ دورہ کرچکے ہیں۔ اسرائیل ‘ امریکہ اور بھارت کے مشترکہ اہداف اور عزائم کیا ہیں کشمیر اور سیاچن کے حوالے سے ؟

بھارت میں کئی عشروں سے علیحدگی اور آزادی کی تحریکیںچل رہی ہیں جن میں قابل ذکر آسام ‘ ناگالینڈ ‘ ارونا چل پردیش ‘ میزورام ‘ تری پورہ کی آزادی کی تحریکیں ہیں۔ ان تحریکوں میں سے کسی میں بھی مسلمان ملوث نہیں ہیں۔ مگر بھارت کے مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنا بھارتی ریاست کا ایجنڈا بنا ہوا ہے۔ بھارتی صدر ابو الکلام ماضی میں اپنے ریاستی خطاب کے ذریعے آگے پچاس سال میں پاکستان کو بھارت میں ضم ہو جانے کی حکمت عملی بتاچکے ہیں۔ ان حالات میں جبکہ بھارتی مسلمان صرف اپنے ریاستی حقوق مانگتے ہیں اور بھارت کو سیکولر ملک بنانے کا مطالبے کرتے ہیں تو بھارتی ریاستی ادارے بھارت میں ہندو ازم کے پرتشدد احیاء کی تحریکوں کو پشت پناہی کرتے ہیں۔ ویشوا ہندو پریشد ‘ بجرنگ دل شیوا سینا اور ان سب کی ماں سانگ پری وار یہ وہ معاشرتی ‘ تہذیبی ‘ سماجی انتہا پسند تنظیمیں ہیں جو مسلمان کش اور عیسائی کش کردار کے ساتھ اکثر سامنے آتی رہتی ہیں ۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوانے میں مشرقی پاکستان کی ہندو آبادی کی تنظیموں نے واضح کر دار ادا کیا تھا۔ پھر مکتی باہنی کی تشکیل اور جدوجہد میں واضح بھارتی کردار ‘ مالی مدد اور اسلحہ اور تربیت شامل تھا۔ پاکستان کو دنیا بھر میں جارح ‘ توسیع پسند ثابت کرنے کے لئے کبھی پاکستانی فوج کو روگ آرمی ثابت کیا جاتا رہا ہے اور کچھ پاک فوج اور آئی ایس آئی کو بھارت کے اندر عدم استحکام کا ذمہ دار بتایا جاتا رہا ہے۔ جب بھی بھارت میں کوئی واقعہ ‘ دھماکہ ہوتا رہا ہے تو فوراً الزام پاک فوج اور آئی ایس آئی پر لگتا رہا ہے۔ لیکن افغانستان میں بھارت کے لاتعداد قونصل خانے ‘ افغانستان میں تعمیر و ترقی کے منصوبے یہ وہ ہتھیار ہیں جن کو بھارت ‘ پاکستان کے بلوچستان اور قبائلی علاقوں کو غیر مستحکم کرنے کے لئے مسلسل استعمال کرتا ہے جب پاکستان اس پر آواز اٹھاتا ہے تو دنیا کو پاکستان کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ ناکام ریاست بکھر رہی ہے حالانکہ پاکستان ناکام ریاست ہرگز نہیں نہ ہی پاک فوج روگ آرمی ہے البتہ بھارتی انتہا پسند ہندو پاکستان کو نیست و نابود اور بھارتی مسلمانوں اور عیسائیوں کو دوبارہ سے ہندو بنانے کی پالیسی پر ضرور عمل پیرا ہیں۔ حال ہی میں میڈیا میں ایک گرفتار بھارتی کرنل سری کانت نے انکشاف کیا ہے کہ مالیگائوں اور دیگر علاقوں میں بم دھماکے ”سیمی” کو دہشت گرد قرار دینے اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے گئے تھے۔ کرنل سری کانت اور بھارتی فضائیہ کے سابق ونگ کمانڈر سادھو پانڈے کے خلاف بھارتی فوج کے تحقیقاتی اداروں نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ میڈیا میں تو یہی بتایا گیا ہے کرنل سری کانت کے اعترافات اور انکشافات چونکہ اردو اور انگریزی اخبارات میں طویل انداز میں شامل ہوچکے ہیں اور یہ بھی وہ بتاچکے ہیں کہ دھماکوں کے لئے مطلوبہ مواد کشمیر میں موجود بھارتی فوج سے حاصل کیا گیا تھا۔ کالم طویل ہوگیا ہے آخر میں ہم صرف اتنا کہیں گے کہ ہمارے سیکولر اور لبرل جس طرح بھارتی جمہوریت کے گن گاتے رہے ہیں ہمارا انہیں مشورہ ہے کہ اس سیکولر بھارت کے ”اصل” چہرے کا نام و پتہ بھارتی مسلمانوں اور مسیحیوں سے پوچھ لیا کریں۔ بھارتی جمہوریت کے گیت گانے والے بھاری سنگ پریوار کی ذیلی تنظیموں ‘ ویشوا ہندو پریشد ‘ بجرنگ دل ‘ شیوسینا وغیرہ ان ”کارناموں” کو پڑھ لیا کریں کہ غیر انسانی ہونے کی دہائی بھارتی ہندو دانشور اور صحافی بھی دیتے ہیں۔ مثلاً خشونت سنگھ اور کلدیپ نیئر ‘ بھارت کی جمہوریت اور سیکولر ازم محض ایک ”آڑ” اور ”مورچہ” ہے دنیا کو دکھانے کے لئے اور پاکستانی فوج کو بدنام کرنے کے لئے۔ اصل کارنامہ تو بھارتی فوج کے کرنل سری کانت اور سابق ونگ کمانڈر سادھو پانڈے نے سرانجام دیا ہے انتہا پسند ہندو دنیا کے اہداف اور عزائم کی روشنی میں۔

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء اورسابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ممبئی حملوں میں ملوث افراد کے حوالے سے گزشتہ روز کے انٹرویو کو بنیاد بنا کر بھارت کے تمام الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا نے پاکستان کے خلاف دوبارہ پروپیگنڈہ شروع کردیا اوربھارتی میڈیا نے میاں نوازشریف کے انٹرویو کی بنیاد پر کہنا شروع کر دیا ہے کہ اجمل قصاب پاکستانی شہری ہے۔ کانگریس کے سینئر ترین رہنماء کپل سبھال اورکئی دیگر رہنمائوں نے بھی میاں نوازشریف کے اس بیان کو خوش آئند قرار دیا اورکہا کہ یہ پاکستان کی جانب سے اعتراف ہے کہ اجمل قصاب پاکستانی شہری ہے جو ممبئی حملوں میں واحد زندہ بچنے والا حملہ آور ہے۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور اہم ترین جماعت کے رہنماء کی جانب سے انٹرویو کے دوران یہ کہنا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ سیکورٹی ایجنسیوں نے اجمل قصاب کے گائوں اور گھر کا محاصرہ کیوں کیا ہے کہہ کر ڈھکے چھپکے الفاظ میں گویا یہ کہہ دیا کہ اجمل قصاب پاکستانی گائوں کا رہائشی تھا جس کو بنیاد بنا کر بھارتی میڈیا ایک بارپھر اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کر دیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے رہنماء کو پاکستان کوناکام ریاست قرار دینا بھی سمجھ سے بالا تر ہے۔ انہیں احتیاط سے کام لینا چاہیے تھا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے ترجمان محمد صدیق الفاروق کا کہناہے کہ میاں نوازشریف نے قطعاً یہ نہیں کہ اجمل قصاب ایک پاکستانی ہے۔ بھارتی میڈیا کے دعوئوں کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے یہ کہہ کر کہ” میری سمجھ میں نہیں آتاکہ سیکورٹی ایجنسیوں نے اجمل قصاب کے گائوں اور گھر کا محاصرہ کیوں کیا ہے” درحقیقت پاکستانی لا اینڈ آرڈر کے ذمہ دار ایجنسیوں کے بعض اقدامات پر تنقید کی ہے۔