Jun
18
علماء کی اکثریت نے سیکولر ازم کو لا مذہبیت سے موسوم کیا ہے حالانکہ سیکولر ازم کا مسئلہ میں نہ تو مذہب کو بڑھاوا دینا ہے اور نہ ہی اسے ختم کرنا ہے ۔ سیکولر نظام حکومت میں مذہبی آزاد ی ہے ۔بلکہ وہ ایسے ماحول کی تشکیل دیتا ہے ۔ جہاں لوگوں کو اپنے مذہب ‘عقیدہ ‘ اپنے تصور زندگی کو بیان کرنے کی پوری آزادی ہو ۔سیکولرازم کا مطلب یہ ہے کہ حکومت یا ریا ست ‘ ریاستی معاملات میں کسی خاص گروہ ‘ مذہبی مسلک کی پابند نہ ہوگی ۔بلکہ یہ مذہبی کی بجائے سیکولر ازم ہمہ مذہبی کا نام ہے ۔اور اس میں ہر مذہب کو مذہبی آزادی بھی دی گئی ۔ مگر کسی گروہ کو کسی دوسرے فرد یا گروہ پر اپنے تصورات مسلط کرنے کا کوئی حق بھی نہیں دیا گیا ہے ۔اور یہی وہ مذہبی آزادی کااصول ہے۔جس کو انسانی فطرت قبول کرتی ہے ۔ گویا سیکولرازم جو جمہورت کا جوہر ہے۔جمہوریت تو استوار ہی اس بات پر ہے کہ سوسائیٹی کے ہر فرد کو اپنی رائے دینے کا حق ہے ۔
ہندوستان کی ریاست( ہندو اکثریت کے باوجود) مذ ہبی نقطہ نگاہ سے قائم نہیں ہوئی بھار ت میں سیکولر جمہوری نظام ہے۔ لیکن ہندو نے ایک ہندوقوم پرستی اختیار کرلی ہے ۔اور اپنی کثرت اور اکثریت کی بناء پر جو قوت ہندو کے ہاتھ میں ہے اس قوت میں باقی چھوٹی قومیں شریک نہیں رہیں اور فیصلے کی تمام تر طاقتیں ہندوئوں کے ہاتھ میں رہی ہیں ۔ خواہ ہندو اپنی حکومت کو سیکولر کہتے چلے جائیں مگر امر واقعہ یہی ہے کہ فیصلہ کی تمام طاقتیں صرف ہندو کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ہندئوں کے ایک برہمن اونچی ذات کے ہاتھ میں رہی ہیں ۔گویا بھار ت کا سیکولر نظام حکومت لبرل جمہوری اصولوں کے خلاف ، یہ ہندو مذہبی بنیاد پرستی کے زیر اثر ہے ۔ہندو بنیاد پرستی کی وجہ سے بھارت میں مذ ہبی عصبیتیں تھیں جنہوں نے آگے مذ ہبی جھگڑے فرقہ واریت کو جنم دیا بنیادی طور پر بھارت میں سیاست جو کارفر ما تھی ۔اس سیاست کی بنیاد کے نیچے مختلف قسم کی قومی مذ ہبی لسانی عصبیتیں دبی پڑی تھیںاور ان عصبیتو ں نے بھارتی سیکولر ازم کی عمارت کو ضرور ٹیڑھا کردیا ۔اور سیکولر نظام تو مذہبی بنیاد پر ستی کا کسی طور بھی متحمل نہیں ہے ۔پس بھارت کو جس سیکولر جمہوری حکومت پر ناز ہے ہندو قوم کے متعّصبانہ رویے سیکولر لبرل نظریات کو جھٹلا رہے ہیں کیونکہ سیکولر لبرل ازم کا اصل چہرہ اور حقیقت کچھ اور ہے ۔ جو بھارت میں نظر نہیں آتا ،کیونکہ اسکی ہر تقسیم کے پیچھے دراصل پس منظر میں عصبیتیں اور خو د غرضی کے مختلف نام نظر آئیں گے ‘کہیں لسانی جھگڑے اور کہیں مذہبی جھگڑے نظر آئیں گے ‘ کہیں قومی جھگڑے اور کہیں ذات پات کے جھگڑے نظر آئیں گے ۔ مثلاََ چھوٹی ذات کا ہندو جو ہے وہ ہزاروں سال سے اُونچی ذات کے ہندو (برہمن )کے مظالم کا نشانہ بنا ہوا ہے اور ان کی چکی میں پسا جا رہا ہے ‘اور ان کو بھارتی سیکولر نظام حکومت میں کوئی بھی انسانی شرف نصیب نہیں ہوسکا ۔حالانکہ سیکولر مملکت کے آئین کے مطابق شہریوں کے حقوق وفرائض بلاکسی مذہبی امتیاز کے مساوی سمجھنا اور ان کے درمیان مذہبی و لسا نی بنیادوں پرکسی قسم کا امتیاز نہ برتنا ہے ۔گویا بھارت جس سیکولر نظام جمہوریت کا داعی ہے یہ فقط دعویٰ ہے ۔کیونکہ اس نے سیکولر نظام کا لبادہ پہنا ہوا ہے ۔ سیکولر نظام کا اصل چہرہ اور حقیقت کچھ اور ہے ۔کیونکہ سیکولر ازم میں کسی کو اپنا نظریہ اپنا عقیدہ یا اپنا کلچر کسی دوسرے پر تھوپنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔سیکولر ازم بنیادی طور پر جیو اور جینے دو کے اصول پر قائم ہے اور کسی سلیم العقل انسان کو اس اصول سے ایک فی صد بھی اختلاف نہیں ہو سکتا ۔ مگر بھارتی ہندو سماج کلچر میں تو سیکولر نظریات کی روح ناپید ہیں ۔کیونکہ سیکولر نظر یات کی جگہ مذہبی عصبیت ‘یعنی ہندو پنڈت کے نظریات کا بہت بڑا کردار نظر آتا ہے ۔ گویا سیکولر جمہور یت بھی ہندو مذہبی عصبیت کے زیر اثر ہے ۔کانگرس نے ہر دور میں سیکولر ازم عدل و انصاف کے بہت دعاویٰ کئے ہیں۔ لیکن ان دعاوی کے باوجود کانگرس ہندوستان میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت پاسداری اس لئے نہ کرسکی کہ کیونکہ اس کے درپردہ ہندو مفاد تھا ۔ماہرین علم سیاست نے کی سیکولر تشریح کے مطابق انسان کا مذہبی عقیدہ فرد کا مسئلہ ہے سماج یا ریاست کا نہیں ‘ مگر ہندستان میں ہندو جنتا کے ذریعہ مسلمانوں ودیگر چھوٹی قوموں کا زبردست استحصال کیا گیااور ہندوستان کے بعض علاقوں میں بالخصوص مسلمانوںکی شدھی ‘ شدھ کرنے کی تحریک جاری کرکے مسلمانوں پر جبر کرکے ان کو واپس ہندو ازم اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا ۔ ممتاز کالم نگار دانش ور جناب ارشاد حقانی صاحب بھارتی ہندو بنیاد پرستی کے حوالے سے فرماتے ہیں۔” ۔۔صرف آج کے اخبارات کے بعض حوالے دے کر صورتحال واضح کروں گا۔اتوار کے روز آگرہ مین اٹل بہاری واجپائی کی حلیف جماعت آر ۔ ایس ایس کے سہ روزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے سر برہ نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا ہے کہ ٢١ ویں صدی ہندوؤں کی صدی ہوگی اور مسلمانوں کو چاہئے کہ چونکہ ”ان کی رگوں میں رام کرشن کا خون گردش کر رہا ہے” اس لئے وہ بھارتی اور ہندو کلچر کے بڑے دھارے (Main stream) میں واپس آجائیں ۔انہوں نے ہندوستانی عیسا ئیوں کو بھی تنبیہ کی کہ وہ پا پائے روم سے اپنا تعلق توڑ لیں کیونکہ ان کا اور ویٹی کن کا رویہ عدم تحمل اور عدم برداشت کا آئینہ دار ہے۔” بھارتی عیسائی رومن کیتھولک چرچ سے ناطہ توڑ کر بھارتی عیسائی چرچ قائم کریں اور ہندو کلچر کو اپنا لیں”۔۔ بھارت میں پائی جانے والی فضا کی کیفیت کے بارے میں جناب ارشاد حقانی فرماتے ہیں وہاں کروڑوں مسلما نو ں اور کروڑوںعیسائیوںکو ”اپنی ہندوجڑ و ں”کی طرف واپس آنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔سکھوں کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ سکھ تاریخ کا ایک خون آلود باب ہے ۔۔ ۔ کشمیر یوں سے جو سلوک کیا جا رہا ہے اور ان پر جو مظالم ہو رہے ہیں ان سے ہم آگاہ ہیں ۔۔۔ہندو دانشور ہندو ازم کے ایک متحمل ( Tolerant ( مذ ہب ہونے کا تذکرہ کرتے ہیں کیا یہی وہ تحمل Tolerance ( ہے جس کا ہم مشاہدہ کررہے ہیں ۔ہندو مذہب کی تاریخی خصو صیت یہ ہے کہ وہ دوسرے کے مذ ہب کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے اور اسلام یا عیسائیت کے پیرو کار ہونے کی وجہ سے جو جذب ہونے سے انکار کردیں ان کو دھمکی ‘ تخویف اور تہدید سے ہندو ازم میں جذب کرنے سے گریز نہیں کیا جاتا ہے ۔۔۔ ہندوستان کے کیتھولک پادریوں کی نمائدہ تنظیم سی بی آئی نے کہا کہ آر ایس ایس کی طرف سے ہندوستانی عیسائیوں کو پا پائے روم اور ویٹی کن سٹی سے اپنا رشتہ توڑ کر بھارتی MainStream میں واپس آنے کا مشورہ’ نا قبول ہے ۔تنظیم کے سربراہ فادر عما نوئیل نے آر ایس ایس کے سربراہ سے دریافت کیا ہے کہ کیا مسٹر سدھرشن ہندوستان کے جمہوری نظام کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور ایسے ملکوں کی پیروی کرنا چاہتے ہیں جہاں انفرادی آزادیاں بالخصوص مذہبی آزادی موجود نہیں۔۔۔ ( ہندوستان کے ایک مسلمان راہنما)شہاب الدین اور عیسائیوں کے لیڈروں نے آر ایس ایس کے جلسہ میں مسٹر ایڈوانی کی موجودگی پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ایک حکومتی وزیر کو جس نے ایک سیکولر آئین کی پیروی کا حلف اُٹھایاہوا ہے ایک انتہا پسند تنظیم فرقہ وارانہ تنطیم کے جلسہ میں شرکت نہیں کرنی چاہیے تھی ۔۔۔ ( ماخوز از کتاب” پاک بھارت تعلقات ” مرتب کردہ علی جاوید نقوی صفحہ٢٦٠تا٢٦٤ )
پس آر ایس ایس کی ہندو انتہا پسندتنظیم ہندوستان کی سیکولرریاست یعنی ہندوستان کی سیاست اور معاشرے ‘ کو ہندوانہ بنانا چاہتی ہے ۔ پس سیکولر ریاست میںکانگرس کے لیڈر و ں نے بھی ا لیکشن جیتنے یا اپنی مقبولیت کے گراف اُونچا رکھنے کے لئے سیکولر اصولوں کی پاسداری کی بجائے ہندو ازم(اور ہندو انتہا پسندی ) کا درپردہ ساتھ دینے کا عندیا دیا ہوا ہے ۔ پس ہندوستان کے لیڈروں کو ہندو ازم( ہندو انتہا پسندی) کے آسان نسخہ کی تلاش رہی ہے۔بھارتی جنتا پارٹی کے پاس بھی ( الیکشن جیتنے کا)یہ بہت آسان فارمولا ہے جسے انہوں نے ماضی میں باری مسجد کے خلاف ایجی ٹیشن کے دوران بہت چابکدستی سے استعمال کیا کہ حاشیہ پر یہ رہنے والی یہ پارٹی جلد ہی ہندوستانی سیاست کا یہ مرکزی کردار بن گئی ۔
بھارتی جنتا پارٹی ( جو بجرنگ ‘ شیو سینا’ راشڑ یا سیوک سنگھ ‘جن سنگھ ‘ ہندو مہا سبھا انتہا پسند جماعتوں کا ملغوبہ ہے ) کی واجپائی دور حکومت نے ( بظاہر ایک قدم جو ذ ات برادری کی تقسیم کے خلاف اُٹھایا ) ذات برادری کی بجائے اقتصادی حالت کی تحفظات کی بنیاد بنایا ۔ مگر یہ بھی ایک ڈھونگ تھا حالانکہ بی جے پی والے مذہبی اختلافات سے سیاسی فائدہ اُٹھا نے کیلئے فرقہ وارانہ فسادات کروانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔پس کانگرس ہو یا جنتا پارٹی ان سب کی سیاست کی بنیاد مسلمانوں کے لہو اور ہڈیوں سے استوار کرنا ہے گزشتہ اکسٹھ سال سے ہندوستان میںسینکڑوں مسلم کش فسادات ہوئے ہیں۔جس میں نہ جانے کتنے مسلمان شہید ہوچکے ہیں۔گجرات میں جس بیدردی سے مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی ‘وہ بھارتی ذہنیت کا شرمناک مظاہرہ تھا ۔بستیوں کی بستیاں پیوند زمین کردی گئیں ۔مسلمانوں کو گھرو ںمیں بند کرکے راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا ۔بے خانماں افراد کے کیمپوں تک کو نذر آتش کردیا گیا ۔یہاں تک کہ کوچہ و بازار خون مسلم سے رنگین ہوگئے ۔
مگر دوسری طرف کانگرس اور جنتا پارٹی سیکولر ازم کی داعی جماعتیں معاشرے میں ذات برادری ملکی تقسیم کو اور مذہبی انتہا پسندی کو ہندوستان میں ہمیشہ کم کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ پس ایک مذہبی انتہا پسند جماعت بھارتی جنتا پارٹی کے اس قسم کے تحفظات قائم کرنے کے فقط دعویٰ ہیں مگر ان تحفظات پر عمل درآمد کی کبھی نوبت ہی نہیں آتی ۔کیونکہ بالخصوص مسلما نو ں کو ملازمتوں میں تحفظات مہیا کرنے کا حکومت ( جس نے بطاہر سیکولرازم غیر جانبداری کا لبادہ پہنا ہوا ہے ) کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ۔یہ سب دکھاوے ( اور بھارتی سیکولر ازم کا ڈھونگ ہے ) ہیں اور ایسے اعلانوں سے بھارتی جنتا پارٹی والے فقط یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی جماعت کانگرس کے مقابلہ میں غریبوں کے زیادہ ہمدرد ہے۔
بھارتی جنتا پارٹی کا ووٹ اُونچی ذاتوں میں ہی ہے۔ظاہر ہے کہ بی جے پی کا ایسے اعلان اپنے ہی ووٹ بینک کے لئے ہوتے ہیں ۔کہاجاتا ہے کہ آئینی طور پر بھارت ایک سیکولر ملک ہے یعنی وہاں ہر فرد کو اپنے مذہب کے مطابق جینے کا پورا حق حاصل ہے لیکن زمینی حقائق اسکے برعکس ہیں۔ بھارت کے سماج میں اقلیتوں کے حقوق بالخصو ص مسلمانوں کے حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔ اقلیتوں کے جان و مال کی کوئی حفاظت نہیںگرجاگھر ،مساجد غیر محفوظ ہیں اور بابری مسجد جلا دی جاتی ہے گویا بھارتی سیکولر جمہوریت کے اصول فقط دعو ے کی حد تک رہ گئے ہیں۔ پس جب تک ہندوستان مسئلہ کشمیر کے حل پر توجہ نہ دے گا بھارت اور پاکستان کے درمیان مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی کو تقویت ملتی رہے گی ۔
اور ہماری گورنمنٹ نے جہادی مولویوں کی ایماء پر کشمیر کی جنگ آزادی کو جہاد کے نام پر لڑنے کافیصلہ کیا تھا ۔گویا اس نام نہاد جہاد نے کشمیری ہندو تشخص ‘ اورمسلم تشخص کو لڑا کر ان کے درمیان مزید نفرتیں پیدا کردی ہیں ۔ جس سے مذہبی انتہا پسندی کوپاکستان اور بھارت میں فروغ حاصل ہوا ہے۔ علاوہ اسکے کشمیر کی جنگ آزادی کے” کاز” کو جہادی خود کش حملوں نے سخت نقصا ن پہنچا یاہے ۔ جس سے مظلوم کشمیری قوم کی حق آزادی کی جدوجہد پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ گویا مظلوم کشمیری اپنی آزادی کے مقصد اور منزل سے دور جا رہے ہیں اور دنیا کی حمایت رفتہ رفتہ کھو رہے ہیں ۔ دونوں ملکوں کے درمیان مذہبی نفرت اور عصبتیوں کو تقویت مل رہی ہے۔ پاکستان میں بھی مذہبی منافرتوں اور خودکش حملوں ‘دہشت گرد ی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اس نے پاکستان کی اقتصادیات اور اس کے امن و امان کو غارت کیا ہوا ہے ۔بمبئی میں حالیہ دہشت گردی کے سانحہ کو بھارت نے بہانہ بنا کر پاکستان کو جارحیت کا نشانہ بنانے کا عزم کیا ہے۔ گویا پاکستان پر بھارتی جارحیت کے خطرات کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ پس ہندوستان میں ہندو پنڈت کے نظریات ، اور پاکستان میں جہاد ی مولوی بنیاد پرستوں کی جگہ دونوں ملکوں کو صحیح سیکولر جمہوری اصولوں کی پاسداری سے ہی امن نصیب ہو سکتا ہے
|
| Published on June 18th, 2009 | No Comments |
|