گونج (خصوصی رپورٹ)پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا میں ٹرسٹی بننے کا خواب دیکھنے والے سعد ملک عرف بوبی کی فون کال وصول ہوئی کہ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن)آسٹریلیا کے باقاعدہ دفتر کا افتتاح 15 کلیپ ہیم روڈ آبرن میں رکھا ہے جس میں خاص طور پر مقامی صحافیوں کو مدعو کیا گیا ہے۔انہوں نے یہ وضاحت کی کہ ظہرانے کا بندوبست ہے اس لئے ایک بجے دوپہر تشریف لائیں اور وقت کی پابندی ضرور کیجئے گا۔ جو پتہ دیا گیا تھا وہاں جا کے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ وہ اصل میں موصوف کا ”وئرہاوس“ بھی ہے جہاں پر پہلے سے ایک دفتر موجود ہے۔ واضح رہے کہ چھتوں پہ انسولیشن لگانے کا جو حکومتی پلان بری طرح ناکام ہوا ہے اس سلسلے میں بوبی ملک صاحب نے شعیب حنیف اور چند دیگردوستوں کے ساتھ مل کے پانچ عدد کمپنیاں کھول رکھی تھیں۔ مدیرگونج کو وہ رجسٹر بھی دکھائے گئے جن کے تحت انسولیشن کا کام کیا جاتا رہا ہے۔دستاویزات سے یہی ثابت ہوتا تھا کہ تمام کام بہت باقاعدگی کے ساتھ کیا گیا۔یہ الگ بات ہے کہ پے در پے حادثات کی وجہ سے حکومت آسٹریلیا کو یہ انسولیشن کا پورا پروگرام ہی اچانک بند کرنا پڑا۔ اس بہتی گنگا میں کس کس نے اپنے ہاتھ دھوئے اس کے بارے میں کبھی وقت ملا تو الگ رپورٹ لکھی جا سکتی ہے۔ میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ آسٹریلیا میں خاص طور پر پاکستانی کمیونٹی کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ یہاں پر ایسی ایسی نابغہ روزگار شخصیات پائی جاتی ہیں کہ الامان والحفیظ۔پاکستان ایسوسی ایشن میں متعدد وائس پریزیڈنٹ ہیںجن میں سے ایک ”حافظ شاہد اقبال“ بھی ہیں۔ حافظ صاحب صحیح معنوں میں سیاہ سی شخصیت لگتے ہیں کیونکہ سیاہ سی لیڈروں میں جو خوبیاں پائی جاتی ہیں وہ ان میں بدرجہ اتم موجود ہیں البتہ ایک اضافی خوبی ان میں یہ ہے کہ وہ بات بہت کھل کر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے کہا کہ ہماری کمیونٹی کی یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ یہاں پر جو شخص کسی چیز کا دعویٰ کرتا ہے وہ اسکا اہل نہیں ہوتا۔ انہوں نے خاص طور پر کہا کہ وہ لوگ صحافی کہلانے پر مصر ہیں جنہیں اپنا نام بھی درست لکھنا نہیں آتا۔ پاکستان ایسوسی ایشن کے ٹرسٹی ہیں تو ان میں سے بیشتر اپنا نام بھی ٹھیک سے نہیں لکھ سکتے۔ جب وہ کچھ زیادہ تلخ اور سچی باتیں کرنے لگے تو انہیں یاددہانی کرائی گئی کہ یہ سب باتیں آن ریکارڈ ہو رہی ہیں تو وہ گویا ہوئے” مجھے اسکی کوئی پرواہ نہیں“۔
بہرحال بات ہو رہی تھی پاکستان مسلم لیگ(ن)کے آسٹریلیا کے دفتر کے افتتاح کی۔جب مدیر گونج دئے گئے پتہ پر پہنچے تو وہاں ہو کا عالم طاری تھا۔دور دور تک کسی مہمان کا چہرہ دکھائی نہیں دیا۔ البتہ ملک سعد بوبی صاحب وہاں موجود تھے اور دو ایک دیگر اشخاص بھی وہاں تھے جن کا تعارف نہیں کروایا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہاں پر سید عتیق الحسن صاحب بھی تشریف لے آئے۔ وہ بیچارے بھی میری طرح وقت کے بہت پابند ہیں اس لئے جب انہوں نے دیکھا کہ یہاں پر کوئی خاص بندوبست ہی نہیں ہے کیونکہ انکو بھی یہ کہہ کر بلایا گیا تھا کہ نہ صرف ظہرانہ دیا جائے گا بلکہ پاکستان سے نجی دورے پر تشریف لانے والے ایم این اےعمر سہیل ضیا بٹ صاحب کے ساتھ ایک پریس کانفرنس بھی ہوگی۔ سب سے پہلے جو حیران کن چیز دکھائی دی وہ یہ تھی کہ جس دفتر کا افتتاح کیا جانا مقصود تھا اس کے باہر اسکی حفاظت کے لئے جس کمپنی کا بورڈ لگایا گیا تھا وہ ” چیتا سیکورٹی“ نامی کمپنی تھی۔ ہم نے حیرت کااظہار کیا کہ نواز شریف کا انتخابی نشان تو شیر ہے۔ شیر کی حفاظت چیتے کب سے کرنے لگے تو ہمیں بتایا گیا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ وہ لوگ خوامخواہ زبردستی اپنا بورڈ یہاں لگا گئے ہیں۔ تقریبا تین بجے بار بار کے اصرار پر شعیب حنیف صاحب تشریف لے آئے لیکن مہمان خصوصی عنقاءچڑیا کے پروں کی طرح غائب تھے۔ ظہرانہ تو دور کی بات ہے وہاں خوردونوش کے نام پر سوائے نمکین مونگ پھلی کے اور کچھ نہیں تھا جسے خالی پیٹ کھانے سے فشار خون بہت بڑھ گیا۔کوئی پانچ بجے کے قریب ایک بھاری بھرکم شخصیت کی آمد ہوئی جن کے ساتھ شیخ ادریس کے صاحبزادے مظہر ادریس بھی تھے۔ معلوم ہوا کہ وہی بھاری بھرکم شخصیت عمر سہیل ضیا بٹ صاحب ہیں جو اگر نام نہ بھی بتاتے تو تن و توش سے ہی بٹ دکھائی دیتے تھے۔میں نے آج تک کوئی دبلا بٹ نہیں دیکھا۔ یہ بھی پتہ چلا کہ وہ شاپنگ کرتے کرتے دفتر کا افتتاح کرنے آ گئے تھے اور صرف چند سیکنڈ ہی رکیں گے۔ افتتاح کے نام پر ایک فیتہ کاٹا گیا۔ چند لوگوں نے مہمان خصوصی کے ساتھ تصویریں بھی اتروائیں اور اس بات کا خصوصی اہتمام کیا گیا کہ پس منظر میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے چہرے ضرور دکھائی دیں۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ عمرسہیل ضیابٹ صاحب سڈنی کے مظہر ادریس کے ذاتی دوستوں میں سے ہیں۔وہ نجی دورے پر سڈنی آئے تو یار لوگوں نے موقع مناسب سمجھ کر پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مقامی دفتر کا افتتاح کرنے کا پلان بنا لیا ۔ لامحالہ مظہر ادریس کو بھی مناسب پروٹوکول دیا گیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صحافی بیچاروں کا کیا قصور تھا کہ انہیں ایک بجے سے پانچ بجے تک بھوکا رکھا گیا اور بعد میں بھی ایک سستے سے چاکلیٹی کیک کو کاٹ کر ایک رسم ادا کر دی گئی۔ مہمان خصوصی تو اپنی ادھوری شاپنگ پوری کرنے واپس چلے گئے لیکن وہاں پر ایک طرح سے پریس میٹنگ ہوگئی جس میں تھوڑی دیر بعد لوگ چپکے سے کھسک لئے۔ پریس کے نام پر صرف گونج وہاں پر موجود رہا۔کچھ دیر تک مقامی سیاست، پاکستانی سیاست ، عالمی سیاست اور اسلام کے حوالے سے بات چیت ہوئی جس کے بعد بھوک کی شدت اتنی زیادہ ہو گئی تھی کہ مزید بیٹھنا مشکل ہو رہا تھا اس لئے ان سے اجازت لینا مناسب سمجھا گیا۔ تاہم ہمیں یہ یقین دھانی کرائی گئی کہ جلد ہی جنرل سیکریٹری صاحب ادارہ گونج سے رابطہ کر کے پریس ریلیز جاری کریں گے۔ البتہ جن شخصیات کا تعارف کروایا گیا وہ یہ تھیں۔ شعیب حنیف(سرپرست) حافظ شاہد اقبال(صدر) .مظہر ادریس (جنرل سیکریٹری)یہی نمایاں لوگ تھے باقی عہدوں کے بارے میں بتایا گیا کہ جنرل سیکریٹری مظہر ادریس جلد ہی ایک پریس ریلیز میں تفصیل ارسل کریں گے۔جنرل سیکریٹری مظہر ادریس سے سوال کیا گیا کہ وہ تو عمران خان کی تحریک انصاف کے ساتھ منسلک تھے یکایک انکی سیاسی وفاداری کیوں تبدیل ہو گئی اس پر انہوں نے جو باتیں آن ریکارڈ کیں وہ کچھ یوں تھیں کہ عمران خان ایک نہایت بے وقوف شخص ہے. جو کہتا ہے وہ کرتا نہیں ہے جیسا دکھائی دیتا ہے ویسا وہ ہے نہیں. انہوں نے خاص طور پر وضاحت کی ان کا دل عمران خان کے دورہ آسٹریلیا کے دوران یہ مشاہدہ کر کے بھی کھٹا ہوا جب انہوں نے یہ دیکھا کہ عمران خان کی تقریب میں زاہد منہاس جیسے کم علم، جاہل اور فضول شخص کے ہاتھ میں مائک تھما دیا گیا.انہوں نے وضاحت کی کہ اس سے انکا دل عمران خان سے اچاٹ ہو گیا کہ اس شخص کو گدھے گھوڑے میں تمیز کرنا نہیں آتی. واضح رہے کہ جنرل سیکریٹری صاحب کو بھی اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ سب باتیں آن ریکارڈ ہو رہی ہیں جس پر انکا جواب تھا کہ انہیں اسکی کوئی پرواہ نہیں ہے.