Archive for the ‘مقامی خبریں’ Category

گونج (خصوصی رپورٹ)پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا میں ٹرسٹی بننے کا خواب دیکھنے والے سعد ملک عرف بوبی کی فون کال وصول ہوئی کہ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن)آسٹریلیا کے باقاعدہ دفتر کا افتتاح 15 کلیپ ہیم روڈ آبرن میں رکھا ہے جس میں خاص طور پر مقامی صحافیوں کو مدعو کیا گیا ہے۔انہوں نے یہ وضاحت کی کہ ظہرانے کا بندوبست ہے اس لئے ایک بجے دوپہر تشریف لائیں اور وقت کی پابندی ضرور کیجئے گا۔ جو پتہ دیا گیا تھا وہاں جا کے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ وہ اصل میں موصوف کا ”وئرہاوس“ بھی ہے جہاں پر پہلے سے ایک دفتر موجود ہے۔ واضح رہے کہ چھتوں پہ انسولیشن لگانے کا جو حکومتی پلان بری طرح ناکام ہوا ہے اس سلسلے میں بوبی ملک صاحب نے شعیب حنیف اور چند دیگردوستوں کے ساتھ مل کے پانچ عدد کمپنیاں کھول رکھی تھیں۔ مدیرگونج کو وہ رجسٹر بھی دکھائے گئے جن کے تحت انسولیشن کا کام کیا جاتا رہا ہے۔دستاویزات سے یہی ثابت ہوتا تھا کہ تمام کام بہت باقاعدگی کے ساتھ کیا گیا۔یہ الگ بات ہے کہ پے در پے حادثات کی وجہ سے حکومت آسٹریلیا کو یہ انسولیشن کا پورا پروگرام ہی اچانک بند کرنا پڑا۔ اس بہتی گنگا میں کس کس نے اپنے ہاتھ دھوئے اس کے بارے میں کبھی وقت ملا تو الگ رپورٹ لکھی جا سکتی ہے۔ میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ آسٹریلیا میں خاص طور پر پاکستانی کمیونٹی کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ یہاں پر ایسی ایسی نابغہ روزگار شخصیات پائی جاتی ہیں کہ الامان والحفیظ۔پاکستان ایسوسی ایشن میں متعدد وائس پریزیڈنٹ ہیںجن میں سے ایک ”حافظ شاہد اقبال“ بھی ہیں۔ حافظ صاحب صحیح معنوں میں سیاہ سی شخصیت لگتے ہیں کیونکہ سیاہ سی لیڈروں میں جو خوبیاں پائی جاتی ہیں وہ ان میں بدرجہ اتم موجود ہیں البتہ ایک اضافی خوبی ان میں یہ ہے کہ وہ بات بہت کھل کر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے کہا کہ ہماری کمیونٹی کی یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ یہاں پر جو شخص کسی چیز کا دعویٰ کرتا ہے وہ اسکا اہل نہیں ہوتا۔ انہوں نے خاص طور پر کہا کہ وہ لوگ صحافی کہلانے پر مصر ہیں جنہیں اپنا نام بھی درست لکھنا نہیں آتا۔ پاکستان ایسوسی ایشن کے ٹرسٹی ہیں تو ان میں سے بیشتر اپنا نام بھی ٹھیک سے نہیں لکھ سکتے۔ جب وہ کچھ زیادہ تلخ اور سچی باتیں کرنے لگے تو انہیں یاددہانی کرائی گئی کہ یہ سب باتیں آن ریکارڈ ہو رہی ہیں تو وہ گویا ہوئے” مجھے اسکی کوئی پرواہ نہیں“۔
بہرحال بات ہو رہی تھی پاکستان مسلم لیگ(ن)کے آسٹریلیا کے دفتر کے افتتاح کی۔جب مدیر گونج دئے گئے پتہ پر پہنچے تو وہاں ہو کا عالم طاری تھا۔دور دور تک کسی مہمان کا چہرہ دکھائی نہیں دیا۔ البتہ ملک سعد بوبی صاحب وہاں موجود تھے اور دو ایک دیگر اشخاص بھی وہاں تھے جن کا تعارف نہیں کروایا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہاں پر سید عتیق الحسن صاحب بھی تشریف لے آئے۔ وہ بیچارے بھی میری طرح وقت کے بہت پابند ہیں اس لئے جب انہوں نے دیکھا کہ یہاں پر کوئی خاص بندوبست ہی نہیں ہے کیونکہ انکو بھی یہ کہہ کر بلایا گیا تھا کہ نہ صرف ظہرانہ دیا جائے گا بلکہ پاکستان سے نجی دورے پر تشریف لانے والے ایم این اےعمر سہیل ضیا بٹ صاحب کے ساتھ ایک پریس کانفرنس بھی ہوگی۔ سب سے پہلے جو حیران کن چیز دکھائی دی وہ یہ تھی کہ جس دفتر کا افتتاح کیا جانا مقصود تھا اس کے باہر اسکی حفاظت کے لئے جس کمپنی کا بورڈ لگایا گیا تھا وہ ” چیتا سیکورٹی“ نامی کمپنی تھی۔ ہم نے حیرت کااظہار کیا کہ نواز شریف کا انتخابی نشان تو شیر ہے۔ شیر کی حفاظت چیتے کب سے کرنے لگے تو ہمیں بتایا گیا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ وہ لوگ خوامخواہ زبردستی اپنا بورڈ یہاں لگا گئے ہیں۔ تقریبا تین بجے بار بار کے اصرار پر شعیب حنیف صاحب تشریف لے آئے لیکن مہمان خصوصی عنقاءچڑیا کے پروں کی طرح غائب تھے۔ ظہرانہ تو دور کی بات ہے وہاں خوردونوش کے نام پر سوائے نمکین مونگ پھلی کے اور کچھ نہیں تھا جسے خالی پیٹ کھانے سے فشار خون بہت بڑھ گیا۔کوئی پانچ بجے کے قریب ایک بھاری بھرکم شخصیت کی آمد ہوئی جن کے ساتھ شیخ ادریس کے صاحبزادے مظہر ادریس بھی تھے۔ معلوم ہوا کہ وہی بھاری بھرکم شخصیت عمر سہیل ضیا بٹ صاحب ہیں جو اگر نام نہ بھی بتاتے تو تن و توش سے ہی بٹ دکھائی دیتے تھے۔میں نے آج تک کوئی دبلا بٹ نہیں دیکھا۔ یہ بھی پتہ چلا کہ وہ شاپنگ کرتے کرتے دفتر کا افتتاح کرنے آ گئے تھے اور صرف چند سیکنڈ ہی رکیں گے۔ افتتاح کے نام پر ایک فیتہ کاٹا گیا۔ چند لوگوں نے مہمان خصوصی کے ساتھ تصویریں بھی اتروائیں اور اس بات کا خصوصی اہتمام کیا گیا کہ پس منظر میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے چہرے ضرور دکھائی دیں۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ عمرسہیل ضیابٹ صاحب سڈنی کے مظہر ادریس کے ذاتی دوستوں میں سے ہیں۔وہ نجی دورے پر سڈنی آئے تو یار لوگوں نے موقع مناسب سمجھ کر پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مقامی دفتر کا افتتاح کرنے کا پلان بنا لیا ۔ لامحالہ مظہر ادریس کو بھی مناسب پروٹوکول دیا گیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صحافی بیچاروں کا کیا قصور تھا کہ انہیں ایک بجے سے پانچ بجے تک بھوکا رکھا گیا اور بعد میں بھی ایک سستے سے چاکلیٹی کیک کو کاٹ کر ایک رسم ادا کر دی گئی۔ مہمان خصوصی تو اپنی ادھوری شاپنگ پوری کرنے واپس چلے گئے لیکن وہاں پر ایک طرح سے پریس میٹنگ ہوگئی جس میں تھوڑی دیر بعد لوگ چپکے سے کھسک لئے۔ پریس کے نام پر صرف گونج وہاں پر موجود رہا۔کچھ دیر تک مقامی سیاست، پاکستانی سیاست ، عالمی سیاست اور اسلام کے حوالے سے بات چیت ہوئی جس کے بعد بھوک کی شدت اتنی زیادہ ہو گئی تھی کہ مزید بیٹھنا مشکل ہو رہا تھا اس لئے ان سے اجازت لینا مناسب سمجھا گیا۔ تاہم ہمیں یہ یقین دھانی کرائی گئی کہ جلد ہی جنرل سیکریٹری صاحب ادارہ گونج سے رابطہ کر کے پریس ریلیز جاری کریں گے۔ البتہ جن شخصیات کا تعارف کروایا گیا وہ یہ تھیں۔ شعیب حنیف(سرپرست) حافظ شاہد اقبال(صدر) .مظہر ادریس (جنرل سیکریٹری)یہی نمایاں لوگ تھے باقی عہدوں کے بارے میں بتایا گیا کہ جنرل سیکریٹری مظہر ادریس جلد ہی ایک پریس ریلیز میں تفصیل ارسل کریں گے۔جنرل سیکریٹری مظہر ادریس سے سوال کیا گیا کہ وہ تو عمران خان کی تحریک انصاف کے ساتھ منسلک تھے یکایک انکی سیاسی وفاداری کیوں تبدیل ہو گئی اس پر انہوں نے جو باتیں آن ریکارڈ کیں وہ کچھ یوں تھیں کہ عمران خان ایک نہایت بے وقوف شخص ہے. جو کہتا ہے وہ کرتا نہیں ہے جیسا دکھائی دیتا ہے ویسا وہ ہے نہیں. انہوں نے خاص طور پر وضاحت کی ان کا دل عمران خان کے دورہ آسٹریلیا کے دوران یہ مشاہدہ کر کے بھی کھٹا ہوا جب انہوں نے یہ دیکھا کہ عمران خان کی تقریب میں زاہد منہاس جیسے کم علم، جاہل اور فضول شخص کے ہاتھ میں مائک تھما دیا گیا.انہوں نے وضاحت کی کہ اس سے انکا دل عمران خان سے اچاٹ ہو گیا کہ اس شخص کو گدھے گھوڑے میں تمیز کرنا نہیں آتی. واضح رہے کہ جنرل سیکریٹری صاحب کو بھی اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ سب باتیں آن ریکارڈ ہو رہی ہیں جس پر انکا جواب تھا کہ انہیں اسکی کوئی پرواہ نہیں ہے.

معزز قارئین کرام ! السلام و علیکم: گونج اخبار کے ذریعے اور اس سے پہلے دیس پردیس، ماہنامہ پاکستان اور ہفت روزہ اوورسیز کے ذریعے میں ملک و قوم کی بہت سالوں سے خاموش خدمت کر رہا ہوں۔ آنے والے وقت میں جب کوئی شخص آسٹریلیا میں صحافت کی تاریخ رقم کرے گا اور وہ باضمیربھی ہوا تو صحافت میں میری خدمات سے چشم پوشی نہیں کرے گا۔ اخبار نکالنا ایک کٹھن کام ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کی ناراضگی بھی مول لینی پڑتی ہے اور یہ بہت زیادہ مشکل ہو جاتا ہے کہ سبھی لوگ آپ کے ہمخیال ہوں۔میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ جسے میں صحیح سمجھتا ہوں اسے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پیش کر دیا جائے اور فیصلے کا حق قارئین کو دے دیا جائے۔اکثر یہ سوال بھی کیا جاتا ہے جسے میں تجاہل عارفانہ کا نام دیتا ہوں کہ آخر یہ ڈاکٹر خالد رشید ساگر نامی شخص چاہتا کیا ہے؟ اور اس کی گونج کو کیسے بند کیا جا سکتا ہے؟ویسے تو بہت سے مسائل ہیں لیکن آئیے ایک ایک کرکے انکا جائزہ لیتے ہیں۔میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ ذاتی حیثیت سے اگر کوئی پاکستانی کوئی غلط کام کرتا ہے تو اسکو چھیڑنا میرا شیوہ نہیں ہے لیکن جب بھی کوئی شخص کوئی پلیٹ فارم استعمال کرے گا اور پھر کوئی غلط حرکت کرے گا تو میں سمجھتا ہوں کہ ایک باضمیر انسان اور صحافی ہونے کی حیثیت سے یہ میرا فرض بنتا ہے کہ میں اس کے عمل سے دوسروں کو آگاہ کروں۔ یہاں پر یہ بھی وضاحت کرتا چلوں کہ کمیونٹی میں ایسے بھی لوگ ہیں جو اس کے بھی خلاف ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ جو کوئی جو کچھ بھی کرتا رہے اسے اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے۔ ذرا خیال کریں کہ اگر ہر شخص کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو پھر معاشرے میں کیسی افراتفری پیدا ہوسکتی ہے۔میں مثال دے کر واضح کرتا ہوں۔ گونج کی سابقہ اشاعتوں میں وجیہہ بٹر صا حبہ جو کہ آسٹریلیا کے معروف پاکستانی وکیل پرویز بٹر کی صاحبزادی ہیں کے بارے میں لکھا گیا۔اسکی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے یہاں کے ایک انگریزی میگزین کو جو انٹرویو دیا تھا وہ اپنی ذاتی حیثیت سے نہیں دیا تھا بلکہ پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا کی جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے دیا تھا۔اس لئے انکی پریشان خیالی کو دور کرنا میں نے اپنا فرض سمجھا اور ”روشن خیال مسلمان“ کے نام سے میں نے ایک مضمون لکھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آسٹریلیا میں دین کے علمبرداروں میں سے بھی کوئی اٹھتا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر وہ مہر بہ لب رہے۔ اب جبکہ وہ ایسوسی ایشن سے الگ ہو چکی ہیں اور اب وہ ایک عام پاکستانی نژاد آسٹریلوی شہری ہیں اس لئے کم از کم گونج میں انکے بارے میں آپ مزید کچھ نہیں پڑھیں گے۔ یہی حال شاعر کہلانے والے سعید خان صاحب کا تھا کہ وہ بھی اردو سوسائٹی اور ایسوسی ایشن کے اہم مناصب پر فائز رہنے کے ساتھ ساتھ کونسلر بھی تھے۔ اس لئے ان کی حرکات وسکنات پر اکثر لکھا جاتا رہا۔ خاص طور پر جب انہوں نے ایک متنازعہ شخصیت افتی نسیم صاحب (صاحبہ) کو امریکہ سے بلوایا۔ اب جبکہ سعید صاحب تمام مناصب سے فارغ ہو چکے ہیں اس لئے انکا کوئی قول و فعل میری نظر میں اس قابل نہیں ہے کہ مزید اس پر کچھ لکھا جائے اور نہ ہی کمیونٹی کو اس سے کوئی دلچسپی ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر اکرم حسن اور اعجاز خان کے کردار پر اگر گونج میں کبھی کچھ لکھا بھی گیا تو اسکی بھی یہی وجہ تھی کہ وہ پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا کا پلیٹ فارم استعمال کررہے تھے۔ اب جبکہ وہ کوئی بھی عوامی پلیٹ فارم استعمال نہیں کر رہے اس لئے وہ ایک عام شہری ہیں۔البتہ انہوں نے جاتے وقت پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا کے جو نام نہاد الیکشن کروائے وہ سخت ترین قابل اعتراض ہیں کیونکہ انہوں نے جان بوجھ کر اسی مسلسل روایت کو فروغ دیا کہ جس کے پاس پیسے ہوں وہ ادا کر کے ایسوسی ایشن کی کوئی بھی پوسٹ خرید سکتا ہے۔ اس ضمن میں گونج کی سابقہ اشاعتوں میں کافی تفصیل لکھی جا چکی ہے اور میں واضح کر چکا ہوں کہ اس ساری دھاندلی کی ذمہ داری خود پاکستانی کمیونٹی پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ خاموشی سے بیٹھی یہ سب کچھ ہوتا دیکھ رہی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آخر ہم ایسے کیوں نہ کرتے کیونکہ کوئی شخص بھی پیسے ادا کر کے ایسوسی ایشن کی رکنیت لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ میں یہ بات مانتا ہوں کہ یہ سچ ہے کوئی بھی پیسے ادا کر کے آگے نہیں آنا چاہتا لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ میدان خالی دیکھ کر پیسے ادا کرکے من پسند لوگوں میں عہدوں کو بانٹ دیا جائے اور اس طرح صحیح جمہوری طرز عمل کا گلا گھونٹ دیا جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایسوسی ایشن کی تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہوتیں کہ فلاں طالب علم کی مالی مدد کی گئی، فلاں جگہ فلاں مالی یا سماجی بہبود کا کام کیا گیا تو لوگ ضرور اسکی رکنیت حاصل کرتے لیکن جب کمیونٹی دیکھ رہی ہے کہ ان کے دئے ہوئے رکنیت کے چندے سے صرف کسی بڑے ہوٹل میں 23 مارچ یا 14 اگست کا دن منا کر چند لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ملک و قوم کی بہت زیادہ خدمت ہورہی ہے توپھر وہ دل برداشتہ ہوجاتے ہیں۔مجھے ایک دو فون بھی آئے جس میں یہ کہا گیا کہ ہم نے بھی یہاں رہنا ہے آپ نے بھی یہاں رہنا ہے کیوں نہ اس معاملے کو بات چیت سے طے کیا جائے۔میں نے یہ جواب دیا کہ آخر بات چیت سے کیا طے ہو جائے گا؟ جو کام ہی غلط طریقے سے کیا گیا ہے۔ جس چیز کی بنیاد ہی غلط ڈالی گئی ہے میں تو کیا کمیونٹی کا کوئی بھی باضمیر شخص اسکو پسند نہیں کر رہا۔ یہی لوگ جو چور دروازے سے داخل ہو کر کمیونٹی کی خدمت کا دعویٰ لے کر حاضر ہوئے ہیں۔ اوپن اور فئر الیکشن کرائیں اور پراکسی وغیرہ کے پرانے ہتھکنڈے استعمال نہ کریں۔ باقاعدہ ووٹ لے کر آئیں خواہ یہی لوگ دوبارہ منتخب ہوجائیں کمیونٹی انکا استقبال کرے یا نہ کرے گونج اخبار ضرور کرے گا۔ اگر غریب اور مسکین پاکستانی عوام زرداری جیسے غنڈے ، چور اور ملک دشمن کو برداشت کر رہی ہے تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے۔اس ضمن میں مزید پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ چونکہ کمیونٹی کے اشخاص میں خود ہی ابھی یہ شعور بیدار نہیں ہوا کہ انہیں ایسوسی ایشن کا باقاعدہ رکن بننا چاہئے اور اپنے ووٹوں کا صحیح استعمال کرکے خود بھی سماجی خدمات میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے میں نے یہ طے کیا ہے کہ بقول شخصے اداروں کو مضبوط بنانا چاہئے۔ ”الیکشن“ خواہ متنازعہ ہی تھے لیکن جو لوگ اب عہدے داران منتخب ہو چکے ہیں انہیں کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے تاکہ سماجی ادارے مضبوط ہوں اور ایک اچھی روایت قائم ہو سکے۔ اس سلسلے میں ایسوسی ایشن کے چند عہدے داران سے گونج کی ملاقاتیں ہوئی ہیں جن میں گونج نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ ایسوسی ایشن کو میڈیا کے ساتھ روابط بڑھانے چاہئیں اور سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا تاکہ جو بھی سماجی خدمات ہو رہی ہیں ساری کمیونٹی اس سے آگاہ رہے۔ گونج کی سابقہ اشاعت میں پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا کے نو منتخب صدر افتخار رانا کے حوالے سے جو خبر شائع ہوئی تھی۔ رانا برادری کے ایک سرکردہ رکن نے جنہوں نے فی الحال اپنا نام شائع نہ کرنے کی درخواست کی ہے گونج سے ایک ملاقات میں یہ وضاحت کی کہ افتخار رانا کے حوالے سے جو خبر شائع کی گئی ہے وہ بے بنیاد ہے کیونکہ نیپ کی اس رپورٹ میں جس افتخار کاذکر ہے وہ رانا افتخار نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں وہ حقائق اکٹھا کر رہے ہیں۔ ادارہ گونج نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ جیسے ہی وہ تمام ثبوت پیش کر دیں گے انہیں گونج میں شامل اشاعت کر دیا جائے گا۔ یہاں پر ایک بار پھر وضاحت کرتا چلوں کہ کسی پر خوامخواہ کیچڑ اچھالنا کم از کم گونج اخبار کا شیوہ نہیں ہے۔قارئین کرام! میرا کالم کہتا ہوں سچ میں مزید اضافے حاضرہیں. نہایت خوشی کی بات یہ ہے کہ گونج کے قارئین کی ایک قابل ذکر تعداد ہوتی جا رہی ہے اور آپکی طرف سے ملنے والی ای میلز اور دیگر ذرائع سے جو رابطے ہماری ستائش کے لئے کئے جاتے ہیں انکے لئے ہم انکے مشکور ہیں.پاکستانی کمیونٹی کی تازہ ترین صورتحال میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا. یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہی جو چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے. کہا جاتا ہے کہ پاکستانیوں کا فنکشنل لٹریسی ریٹ 6 سے دس فیصد ہے. کوئی بھی قوم اس وقت تک صحیح معنوں میں ترقی نہیں کر سکتی جب تک اسکا لٹریسی ریٹ یعنی شرع خواندگی 40 فیصد تک نہ ہو.
جس شرع سے پاکستانیوں کی استعداد ہے وہی شرع آسٹریلیا میں پاکستانی کمیونٹی میں دکھائی دیتی ہے بلکہ یہاں پر یہ شرع اور بھی کم ہے. شکایت ان پڑھ لوگوں سے تو کی جا سکتی ہے لیکن جب نام نہاد پڑھے لکھے اشخاص بھی جاہلانہ رویہ اور اجڈ پن کا مظاہرہ کریں تو وہاں پر اعتراض کی گنجائش بنتی ہے. میری صرف ایک چھوٹی سی گذارش ہے . اگر ہم میں سے ہر شخص بشمول میں یہ وتیرہ اختیار کر لے کہ کسی بھی دوسرے شخص کے بارے میں بغیرکوئی چھان بین کئے افواہ نہ اڑائی جایا کرے تو صورتحال کافی حد تک سدھر سکتی ہے ورنہ جس طرح کے حالات جا رہے ہیں ان میں کوئی اچھائی دکھائی نہیں دیتی. ہمیں ملکی مفاد کی خاطر ذاتی مفادات اور پسند و ناپسند کو پس پشت رکھنا ہو گااور ملکی مفاد کی خطر کسی ایسے شخص سے بھی ہاتھ ملانا پڑتا ہے جس کے نظریے سے اختلاف ہو تو ضرور دوستی کا ہاتھ بڑھائیں ہو سکتا ہے کہ آپ نے کسی بھی شخص کے بارے میں صرف سنی سنائی باتوں پر اکتفا کرتے ہوئے بغیر اس کو جانے اسکا کوئی غلط امیج اپنے ذہن میں بٹھا رکھا ہو جب کہ وہ شخص آپکے بنائے ہوئے خودساختہ امیج کے بالکل برعکس ہو.
اختلاف رائے رکھنا ایک جمہوری حق ہوتا ہے جو کوئی بھی نہیں چھین سکتا۔بات کچھ زیادہ لمبی ہو گئی اللہ نے چاہا تو پھر ملاقات ہو گی۔ اللہ نگہبان٭

سڈنی(گونج رپورٹ) ایک باپ اپنے دو بچوں کو بچاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔ سڈنی کے رہائشی 56 سالہ شخص نے”اولاڈولا“ کے نزدیک ساحل سمندر پر جو کہ ”مولی مک بیچ“ کے نام سے جانی جاتی ہے شام کو پانچ بجے سمندر کی لہروں میں چھلانگ لگا دی۔ اس کے دونوں سترہ سالہ اور انیس سالہ نوجوان بچے تو تیر کر لہروں سے باہر نکل آئے لیکن باپ خود ایک بڑی سمندری لہر کی لپیٹ میں آ گیا۔ ساحل سمندر پر آئی ہوئی ایک اور خاتون نے اسے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے سرف کرنے والے چوبی تختے پر گھسیٹ لیا اور ایک اور مرد کی مدد لیتے ہوئے اسے ساحل تک لے آئے۔ ایک اور شخص نے جس نے مدد کیلئے چیخوں کی آوازیں سنیںپولیس کو اطلاع کر دی۔ ایک شخص نے مصنوعی تنفس کے ذریعے پانچ منٹ تک کوشش کی اور اس دوران طبی امداد مہیا کرنے والی ٹیم پہنچ گئی۔اس ٹیم نے مزید پندرہ منٹ تک شخص مذکور کو مصنوعی تنفس دے کر زندہ رکھنے کی کوشش کی لیکن بالآخر اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔

سڈنی(گونج رپورٹ) آرتھر سٹینلے ”نیڈی“ سمتھ نامی شخص کبھی بھی جیل سے باہر نہیں آ سکے گا۔ ان خیالات کا اظہار ریاستی حکومت نے کیا ہے۔ مقامی اخباروں میں اس طرح کی خبر شائع ہوئی کہ64 سالہ نیڈی اٹارنی جنرل ”جون ہیٹ زسٹرگوس“ کو رحم کی اپیل کرنے کے بارے میں سوچ رہاہے۔ایسی درخواست دائر ہونے سے پہلے ہی رد کر دی گئی ہے۔ ہیٹ زسٹرگوس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سمتھ دو قتل کرنے کی پاداش میں دوبار کی عمر قید کی سزا بھگت رہا ہے اور جو کہ ریاست کا بدنام ترین قاتل ہے اگر اسکی طرف سے رحم کی کوئی درخواست دائر کی گئی تو اسے رد کر دیا جائے گا۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ”نیڈی“ سمتھ بد لوگوں میں بدترین ہے۔ وہ متعدد قتل کرنے کی سزا بھگت رہا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ انسانی ہمدردی کی بنا پر حالانکہ ہمارے پاس کوئی درخواست نہیں آئی لیکن یہ وضاحت کر دیں کہ ہم اسے ہمیشہ کیلئے سلاخوں کے پیچھے رکھنا چاہتے ہیں۔ آج کل سمتھ سے ملنے ایک پُراسرار عورت آ رہی ہے جو اسکی گرل فرینڈ بتائی جاتی ہے۔ وہ درخواست دائر کرنے کے سلسلے میں سمتھ کے وکلاءسے بھی مشاورت کر رہی ہے۔ اس درخواست میں سمتھ کی جسمانی حالت کو سبب بنایا جائے گا کیونکہ لونگ بے جیل میں سمتھ کئی سالوں سے “پارکنسن بیماری“ میں مبتلا ہے۔ اس کے ساتھی قیدی بتاتے ہیں کہ اس بیماری کے باعث سمتھ کا جسم بری طرح کانپنا شروع ہو جاتا ہے اور وہ پہلے ہی وھیل چئیر پر بیٹھتا ہے کیونکہ اسکی پیٹھ کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے۔ چونکہ وہ عمر قید کی سزا بھگت رہا ہے وہ صرف رحم کی اپیل پر ہی باہر آ سکتا ہے۔ اس اپیل پر اٹارنی جنرل، گورنر اور ایگزیکٹو کونسل غور کرے گی۔

سڈنی کی معروف شخصیت جناب قمر الاقمار خان نے بذریعہ ای میل ادارہ گونج کو اطلاع دی ہے کہ روٹی ہل مسجد کے پہلے امام جناب محمد خواجہ حبیب اللہ صاحب آج کل گردے کے شدید عارضے میں مبتلا ہیں۔ انکے بیٹے اور بیٹی نے تمام مسلمانوں سے انکے لئے دعا کی درخواست کی ہے۔ واضح رہے کہ موصوف گزشتہ تیس برسوں سے پاکستانیوں کی بالخصوص اور مسلمانوں کی بالعموم خدمت کی ہے۔ ادارہ گونج انکی جلد صحتیابی کے لئے دعاگو ہے۔