Archive for the ‘کالم اور مضامین’ Category

لاہور میں حکومت پنجاب نے دکانیں بند کرنے کے لئے دفعہ 144 نافذ کردی ہے اس کے لئے پولیس کا سہارا لیا جاتا ہے پولیس شام 8 بجے سے پہلے آتی ہے اور زبردستی دکانیں بند کرادیتی ہے. جو دکاندار دکان بندکرکے گھر جائے گا جاکر ٹی وی دیکھنا شروع کردے گا تو کیا بجلی خرچ نہیں ہوگی؟

ہفتے میں دو چھٹیاں کردی گئی ہیں تاکہ لوڈشیدنگ کم ہوسکے. جب لوگ چھٹی پہ گھر پہ ہوں گے تو کیا ٹی وی، ریکارڈر، کمپیوٹر استعمال نہیں کریں گے؟ کیا لوگ گھر پہ پنکھے چلانا بندکردیں گے؟ ملک آگے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہے. دو چھٹیوں سے کیا معاشی بہتری آجائے گی ہونا تو یہ چاہئے کہ لوگ 24 گھنٹے کام کریں تاکہ معیشت بہتر ہو.

سرکاری اداروں میں صبح 11 بجے سے پہلے اے سی چلانے پر پابندی ہے تو کیا پرائیویٹ ادارے، گھر، بنکس کیا اس سے مستثنی ہیں. کیا یہ سب اے سی اس وقت تک بند نہیں ہوسکتے جب تک بجلی کا مسئلہ حل نہ ہو؟

شادی گھر رات دس بجے تک کھولنے کی اجازت ہے تو کیا لوگوں کو یہ ترغیب نہیں دی جاسکتی؟

ایک اہم چیز جس کی طرف حکومت نے توجہ نہیں دی وہ ہے بجلی چوری، لائن لاسز، سڑکوں پر کھمبوں کو دیکھیں تو ہرطرف تاروں کے گچھے نظر آتے ہیں کوئی پتہ نہیں چلتا کہ کونسی تار کس طرف جارہی ہے.

حکومت رینٹل پاور پلانٹس، تھرمل پلانٹس سے بجلی پیدا کرتی ہے تو کیا کوڑے کرکٹ سے، شمسی توانائی سے، ہوائی چکیوں سے، نہروں کے کناروں پر ٹربائن لگا کر بجلی پیدا نہیں کرسکتی؟

سوال بہت سے ہیں جواب کوئی نہیں

ہم لوگوں میں برداشت تھی اسی لئے یہ نظام سہہ گئے، ہم لائنوں میں‌لگ کر بل بھی جمع کروالیتے ہیں، ظلم وزیادتی کے خلاف بولتے نہیں تھے۔ اگر کہیں لڑائی ہوجاتی تو اپنے بچوں کو کہتے کہ پرائی لڑائی میں نہ کودو، کہیں کوئی شخص کسی حادثے میں زخمی ہوجاتا تو ہم اپنے بچوں کو یہ ہدایت کرتے کہ ان کی مدد نہ کرنا ورنہ پولیس الٹا تمہیں لتاڑ لے گی۔ لیکن ہمارے بچے بہت ہٹ دھرم اور برداشت نہ کرنیوالے ہیں۔

یہ نسل تو بڑی نرالی واقع ہوئی ہے۔ ٹیلی فون بند ہوجائے تو ٹیلیفون محکمہ سے کہتی ہے کہ ٹھیک کرو، نہ ٹھیک کریں تو یہ کہتی ہے کہ ہم اللہ واسطے آپ کو بل دیتے ہیں اور آگے سے وہ بھی الٹا کھریاں کھریاں سنا کرکہتے ہیں کہ جاؤ جو کرنا ہے کرلو۔ نادرا کے دفتر شناختی کارڈ بنوانے جائے یا بل جمع کروانے جائے لمبی لائن دیکھ کر ڈر جاتی ہے کہ اتنی لمبی لائن میں کیسے کھڑے ہوں، ان کے نخرے ان سے برداشت نہیں ہوتے آخر ہم بھی تھے کہ چپ چاپ برداشت کرجاتے تھے۔ ٹریفک پولیس روک کر چالان کردے تو ان کو گالیاں، لوڈشیڈنگ ہوجائے تو واپڈا اور حکومت کو گالیاں، بس وقت پر نہ آئے تو محکمہ ٹرانسپورٹ اور بس مالکان کو گالیاں۔

ہمیں کہتے ہیں کہ آپ کو کیا پتہ ہم تو پڑھے لکھے ہیں۔ ہم کہتے تھے کہ بیٹا ہمارا میٹرک بھی تمہارے ایم اے کے برابر ہے تو طنز کرنا شروع۔ آج کل کے نوجوان تو بزرگوں کی عزت نہیں کرتے۔ ہمارے سامنے اپنی قابلیت بتاتے ہیں انہیں کیا پتہ ہم نے انہیں کیسے پڑھایا ہے، لوگوں سے دس دس روپے رشوت لیکر، اپنے افسروں کا سودا سلف لاکر لیکن یہ ہیں کہ ہماری کسی بات پہ کان دھرتے نہیں۔ سیاست اور حالات حاضرہ پر تو اس طرح بات کرتے ہیں جیسے یہ بہت بڑے صحافی یا سیاستدان ہوں۔ ہماری ہاں میں تو ہاں ملاتے نہیں۔ کہا تھا کہ بیٹا میں تمہیں اپنے محکمے میں چپڑاسی کی نوکری دلوادیتاہوں لیکن یہ چپڑاسی کی نوکری کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں انہیں کیا پتہ کہ چپڑاسی کتنے پیسے کماتا ہے۔

سارا دن ڈگریاں لیکر نوکری تلاش کرتے رہتے ہیں، رات کو واپس آجاتے ہیں کہ ماں‌روٹی دیدو، جب پوچھتاہوں کہ بیٹا کیا بنا کہیں نوکری ملی تو کہتے ہیں کہ نہیں، میں ساتھ ہی اسے غصے سے کہتا ہوں کہ بیٹامیں تمہیں چپڑاسی کی نوکری دلوارہا ہوں تم وہ کیوں نہیں‌کرلیتے تو ساتھ ہی غصے سے روٹی چھوڑی اور کرنے لگے واک آؤٹ۔ روز کہتا ہوں اسے کہ اگر اس گھر میں رہنا ہے تو چھوٹی موٹی نوکری کرنی پڑے گی لیکن یہ صاحب لڑجھگڑ کر گھر سے باہر کہ میں اب کبھی گھر نہیں‌آؤں گا۔ ماں پیچھے لپکی اور منتیں کرنے لگی کہ بیٹا کہیں نہ جاؤ لیکن یہ سنتا ہی کہاں ہے بس گھر چھوڑا اور گھر سے باہر، میں نے بھی کہہ دیا کہ دفع ہوجاؤ میں تمہاری شکل تک نہیں دیکھوں گا۔

ماں‌روتی رہی اور کہتی رہی کہ بیٹے کو واپس لے آؤ، آخر اس کی ماں کے آنسوؤں نے مجھے پگھلا دیا اور میں اسے مناکردوبارہ لے آیا۔ ماں نے پیار سے سمجھایا کہ بیٹا محنت کرنے میں کوئی ہرج نہیں جس طرح کا کام ملتا ہے کرلو اللہ تعالٰی تمہیں ترقی دے گا۔ بیٹے نے بات مان لی اور ایک دفتر میں کلرک کی حیثیت سے نوکری پر لگ گیا۔ اس نے باس کو ڈکٹیشن دینا شروع کردیں کہ ایسا کریں تو بہتر رہے گا، باس نے غصے سےکہا کہ تم مجھ سے زیادہ سمجھدار ہو، میں کمپنی کا مالک ہوں۔ وہ سب سن کر برداشت کرگیا۔ اپنے سینئر بزرگ کلرک سے کہا کہ ایسا کرلیں تو بہتر ہے بزرگ نے کہا کہ بیٹا جتنی تمہاری عمر ہے اتنا میرا تجربہ ہے، اس لئے مجھ سے کچھ سیکھو۔

وہ محنتی بچہ تھا جلد ہی اس کی قابلیت نظر آنا شروع ہوگئی باس نے اسے ترقی دیدی، تنخواہ بھی بڑھادی۔ لیکن دفتر کے چند سینئیر اس کی قابلیت سے جلنا شروع ہوگئے کہ کل کا بچہ ہے اور ہم سے آگے بڑھنا شروع ہوگیا ہے پھر اس کی ٹانگیں کھینچنا شروع کردیں اور آخر کار ایک الزام کے تحت اسے نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے۔ پھر وہی پرانے کام نوکری تلاش کرنا اور نہ ملنا جہاں بھی جاتا تھا تو اسے یا تو یہ کہا جاتا ہے کہ آج کل لوڈشیڈنگ ہے ہمارا کام چلے گا تو آپ کو نوکری دیں گے یا پھر آج کل ملک کے حالات بہت خراب ہیں معاشی بدحالی ہے یا پھر کسادبازاری کو جواز بناکر اسے ناقابل قبول تنخواہ کی پیشکش کی جاتی۔ اس کے بعد کیا ہوا اس نوجوان کو بیروزگاری نے کیا بنایا یہ الگ بات ہے لیکن ایسے نوجوان

یا توبسلسلہ ملازمت بیرون ملک چلے جاتے ہیں اور اپنی قابلیت کو وہاں کیش کرواتے ہیں۔

یا پھر جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث ہوجاتے ہیں اور پھر ان کے ہاتھوں معاشرتی بدامنی، خون خرابہ، جرائم اور آخر کار اپنے کسی مخالف کی اندھی گولی کا شکار بن جاتے ہیں یا پولیس مقابلے میں پار۔

یا پھر وہ نشے کی لت میں پڑجاتے ہیں اور اپنی جوانی تباہ کرلیتے ہیں

یا پھر میری طرح حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرلیتے ہیں اور ہمارے رنگ میں رنگے جاتے ہیں اور پھر ہماری طرح بے حس ہوجاتے ہیں۔

یا پھر نظام کے باغی بن جاتے ہیں اور نظام تبدیل کرنے کی ٹھان لیتے ہیں، کسی سیاسی جماعت یا مذہبی تنظیم میں شامل ہوکر سمجھتے ہیں کہ وہ جہاد کررہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ جماعت یا تنظیم اپنے مذموم مقاصد میں استعمال کررہے ہوتےہیں پھر یہ یا تو مخالفین کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں یا پھر وہ تنظیم ہی اسے ہٹانے کا منصوبہ بناتی ہے۔ اگر یہ جماعت یا تنظیم کے منظور نظر بن بھی جائیں تو یہ کوئی اہم عہدہ یا الیکشن کوئی سیٹ‌حاصل کرکے ہماری طرح بن جاتے ہیں کہ ہم ایسے نہ تھے نظام نے ہمیں اپنے جیسا بنادیا ہے۔

آخر یہ کس طرف جارہے ہیں، ان کی منزل کیاہے؟ سوچتا ہوں‌تو ڈرجاتا ہوں، کاش ہم اپنی نسل کو ورثے میں مسائل نہ دیتے۔ ہم حالات سے سمجھوتہ نہ کرتے۔ ایسے بہت سے بچے ہیں‌جو کسی ایسی منزل کی طرف گامزن ہیں جس کی کوئی منزل ہی نہیں۔ نظام بدلے گا تو ہماری آئندہ نسل کوکوئی منزل ملے گی۔ حکومتیں بدلنے سے یا چہرے بدلنے سے کوئی فرق نہیں‌پڑےگا۔

جب میں اپنا محاسبہ کرتا ہوں تو لگتا ہے کہ ہم بے حس نہیں کنفیوژڈ قوم ہیں۔ہم ذہنی تناؤ میں رہتے ہیں، بے یقینی کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہمارا تعلق مڈل کلاس سے ہے۔ مڈل کلاس کا حال یہ ہے کہ کمائیں گے تو کھائیں گے لیکن جو مڈل کلاس سے بھی نیچے ہیں ان کا کیا حال ہوتاہوگا۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ شام کے وقت جو مزدور سارا دن دیہاڑی تلاش کرنے کے لئے اڈوں پر بیٹھے ہوتے ہیں شام کو وہ ہوٹلوں سے روٹی مانگنا شروع کردیتے ہیں۔اسی طرح سے میں نے بہت سے مزدور دیکھے ہیں۔

میں یہاں ایک واقعہ شئیر کرنا چاہتا ہوں۔
ایک مرتبہ میں ایک دکان پر کھانا کھا رہا تھا کہ ایک مزدور جس نے ہاتھ میں ہتھوڑی، تیسی وغیرہ پکڑی ہوئی تھی میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ بھائی مجھے بھی کھانا کھلا دو۔ میں نے اسے حقارت سے کہا کہ تمہیں شرم نہیں‌آتی بھیک مانگتے ہوئے ہٹے کٹے ہو۔ میرا جواب سن کر وہ کہنے لگا کہ یہ دیکھو میں نے اوزار پکڑے ہوئے ہیں۔پورا دن بیٹھا رہا کوئی کام نہیں ملا۔ یہ کہہ کر وہ چلا گیا تو مجھے بہت برا محسوس ہوا۔ وہ جارہا تھا اور میرا ضمیر جھنجھوڑ رہا تھا کہ یہ میں نے کیا کیا۔

میں نے اسے آواز دی تو اس نے نہ سنی، میں نے لپک کر اسے بٹھایا اور کھانا کھانے کو کہا تو اس نے کہا کہ آج تو کھانا کھالوں گا اگرکل کوئی کام نہ ملا تو پھر

میں نے اسے کہا کہ کیا کھانا ہے تو اس نے کہا کہ آپ مجھے پیسے دیدو میں‌خود ہی کھانا کھا لوں گا۔ میں نے اسے کچھ پیسے دئیے جس سے وہ ایک وقت کا کھانا نہیں کھاسکتا تھا۔ اس نے پیسے پکڑے اور دوکاندار کے پاس گیا، اس نے ان پیسوں سے صرف تین چار روٹیاں لیں اور دوبارہ میری طرف آگیا اور شکریہ ادا کرنے لگا۔

میں نے اس سے پوچھا کہ کہاں سے ہو اور کیا کرتے ہوتو وہ کہنے لگا کہ میرا تعلق جھنگ کے ایک گاؤں سے ہے۔ میں یہاں محنت مزدوری کرنے آیا ہوں، پیچھے کوئی زمین بھی نہیں ہے۔ پوری فیملی یہاں ہے میرے تین بچے ہیں۔ایک چھوٹا بچہ ہے جو دودھ پیتا ہے۔ میں یہ چار روٹیاں لے کر جارہا ہوں اب جاکر ہم اچار یا پانی سے روٹی کھالیں گے۔مکان کرائے پر ہے اور ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جس کا دوہزار روپے کرایہ دیتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ چلاگیا

اس کی باتیں سن کر میرا دل خراب ہونے لگا کہ جو شخص اپنے خاندان کی کفالت نہیں کرسکتا۔ وہ ملک کے لئے کیا خاک سوچے گا۔ہمارے ہاں جو شخص مانگتا ہے ہم اسے حقارت کی نظرسے دیکھتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں کہ شرم کرو ہٹے کٹے ہو۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ سارا دن بھاگ دوڑ کرکے بھی وہ روٹی نہیں کماسکتا۔

مجھے یہاں‌بنگلہ دیشی معیشت ڈاکٹر محمد یونس کی وہ بات یاد آگئی کہ لوگوں کو مچھلی نہ دو بلکہ کوئی ایسا اوزار دو تاکہ وہ اس سے مچھلی پکڑسکے۔ کتنے بدنصیب ہیں وہ وہ لوگ جو اوزار ہوتے ہوئے بھی روٹی کمانے سے محروم سے محروم ہیں۔

اب ایک مزدور نے صرف روٹی نہیں‌کھانی، اس نے دوائی بھی لینی ہے، مکان کا کرایہ بھی دینا ہے۔ بس کاکرایہ لگاکر مزدوری کرنے بھی جانا ہے۔ آپ سب کو معلوم ہے کہ بس کا کرایہ ایک سٹاپ سے دوسرے سٹاپ تک دس روپے ہے۔ اگر اس شخص کے پاس 30 روپے ہوں گے تو وہ مزدوری پہ جاسکتا ہے اگر مزدوری نہ ملے تو وہ پیسے ضائع گئے۔

ہمارا زیادہ تر کا تعلق سفید پوش طبقے سے ہے لیکن وہ لوگ غربت کی نچلی سطح پر ہیں وہ کیا کرتے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل ایک غریب آدمی بھی ہیرا پھیری کرنے پر اور مانگنے پر مجبور ہوگیا ہے۔

مگر افسوس کہ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگانے والے عوام کو ایک وقت کی روٹی بھی نہیں دےسکتے تھے۔ ہم سب کو یاد ہے کہ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگانیوالا بھٹو جہاں بھی جاتا تھا ہزاروں لوگ اس کی عقیدت میں کھڑے ہوجاتے تھے لیکن وہ شخص بھی عوام کو روٹی نہیں دے سکتا۔ آج جب یہ نعرہ لگتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے ہماری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔

محلوں میں رہنے والوں کو اندازہ نہیں ہے کہ عوام کس حال میں ہیں وہ بڑے بڑے ہوٹلوں میں جاکر عوام کی نہیں اپنی قسمت کافیصلہ کررہے ہوتے ہیں۔مذاکرات کررہے ہوتے ہیں۔ذرا ایک دن مزدوروں کے اڈوں پر جاکر دیکھیں کہ وہاں لوگوں کا کیا حال ہے، ذرا ایک دن کسی غریب کے گھر میں رہ کردیکھیں کہ ان کا کیا حال ہے۔ ایک مزدور جس کی بیٹیاں ہوں اس نے ان کی شادی کرنی ہوتو وہ کیسے کرے گاجب اس کی روٹی پوری نہیں ہوتی۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ جس دن عوام کو ایک نوالہ بھی کھانے کو نہ ملااس دن کیا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اقبال کے شعر والا حال ہوگا

جس کھیت سے دہقاق کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

وہ ایک بے حس قوم تھی، ناانصافی، مہنگائی میں پسی ہوئی، ہر ظلم وزیادتی خاموشی سے برداشت کرنیوالی، مایوسی کے اندھیروں میں پھنسی ہوئی،امیرامیر ترہوتا جارہا تھا اور غریب غریب تر، یہ فرانسیسی قوم تھی آخر کار اس قوم کی بے حسی اور برداشت غصے اور نفرت میں تبدیل ہونا شروع ہوگئی انہوں نے روٹی کے لئے احتجاج کرنا شروع کردیا تو ملکہ نے لوگوں کو احتجاج کرتے دیکھ کر کہا کہ اگرانہیں روٹی نہیں مل رہی تو کیک کھالیں۔

اس احتجاج کے کچھ دن بعد ایک مالی بادشاہ کے محل کے کسی کمرے میں غلطی سے گھس گیا، معاملہ عدالت میں چلا گیا، عدالت نے مالی کو کوڑوں کی سزاسنادی، گماشتے مالی کو مار رہاتھا اور لوگ بے‌حس ہوکرمجمع کی صورت میں تماشہ دیکھ رہے تھے، مالی گماشتے کی مار کی تاب نہ لاسکا اور مرگیا تو مجمع میں سے کسی شخص نے گماشتے کو پتھر ماردیا جواب میں گماشتے نے مجمع کو گالی دیدی توتھوڑی دیر بعد اس کی وہاں لاش ملی، یہیں سے انقلاب فرانس کا آغاز ہوا۔اس کے بعد عوام نے یہ سلسلہ پکڑلیا اور اشرافیہ، وزراء، امراء کو قتل کرکےکسی نہ کسی چوراہے پر لٹکانا شروع کردیا۔ عوام نے گردنیں کاٹنے کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع کردیا۔

مسولینی اٹلی کا ایک فاشسٹ حکمران تھا، جب لوگ اس کے ظلم و ستم سے تنگ آگئے تو لوگوں نے اسے سر عام پھانسی دیدی اور اس کی لاش کو دو دن تک لٹکائے رکھاتاکہ لوگ عبرت پکڑیں۔ مشرقی پاکستان علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بنا، ایک عرصے تک یہاں فوجی حکومت قائم رہی آخر کار جنرل ارشاد کے خلاف عوام اٹھ کھڑی ہوئی تو مرد، بچے، عورتیں سب سڑکوں پر آگئے اور اس وقت تک گھر نہیں گئے جب تک جنرل ارشاد حسن کی حکومت ختم نہ ہوئی۔

تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کوئی بھی قوم پہلے بے حس ہوتی ہے پھر اس کی بے حسی غصے اور نفرت میں تبدیل ہونا شروع ہوجاتی ہے اور یہی غصہ اور نفرت کسی بڑی تبدیلی کا موجب بنتا ہے۔ مشرف دور میں مہنگائی، بیروزگاری، ناانصافی، لاقانونیت عام ہوگئی ہے۔ پاکستانی قوم قیام پاکستان سے اب تک حکمرانوں کی ظلم وزیادتی کا شکار بنتی آرہی ہے لیکن پھر بھی ظلم وزیادتی برداشت کرتی آرہی ہے۔ ہر ایک نے عوام کی امنگوں اور امیدوں کے ساتھ کھلواڑ کیا لیکن پھر مشرف کا دور آیا۔ جس میں کبھی بے گناہوں کو گھروں سے اٹھاکر امریکہ کے حوالے کیا جاتا اور ڈالر چھاپے جاتے، کبھی بگٹی جیسے بزرگ پر فوجی یلغار کی جاتی، کبھی لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں معصوم بچیوں کو نشانہ بنایا جاتا

کبھی چیف جسٹس کو لوگوں کوانصاف دینے پر معزول کیا جاتا، ان کے بال کھینچے جاتے، کبھی 12 مئی جیسے واقعات کو اپنی طاقت کہا جاتا، کبھی وکلاء پر لاٹھی چارج اور تشدد کیا جاتا، کبھی عوام کو آٹے کے حصول کے لئے لمبی قطاروں میں‌لگایاجاتا، کبھی مخالفین کو انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جاتا، کبھی ایمرجنسی کا نفاذ کرکے میڈیا کو خاموش اور کبھی ججوں کو نظر بند کیا جاتا، کبھی سٹاک ایکسیینج کو اوپر نیچے کرکے اربوں روپے ڈبودئیے جاتے، امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا گیا۔لوڈشیڈنگ نے بیروزگاری میں اضافہ کردیا۔ این آر او کےذریعے جرائم پیشہ اور کرپٹ افراد کے گناہ معاف کرنے شروع کردئیے۔لوگوں کی بے حسی نفرت اور غصے میں تبدیل ہونا شروع ہوگئی، لوگ حکومت کی پالیسیوں اور زیادتیوں پر کڑھنا شروع ہوگئے

پھر 18 فروری آیا لوگوں نے ایک بار پھر ووٹ کا اس امید پر استعمال کیا کہ شاید یہ لوگ منتخب ہو کر ہماری پریشانیاں کم کریں لیکن پھر دھوکا، نہ جج بحال ہوئے، این آر او کے تحت گناہ معاف کرانیوالے عوام کے خیرخواہ بن کردوبارہ آگئے۔ نہ عوام کی تکالیف کم ہوئی، پھر وہی کھیل تماشے، معاہدوں کے بارے میں کہا گیا کہ یہ قرآن وحدیث نہیں ہوتے۔ ججوں کو اس ڈر سے بحال نہ کیا گیا کہ کہیں این آر او کالعدم نہ ہوجائے، حکومتی معاملات کو لٹکادیا گیا، بلوچستان کا مسئلہ حل نہ ہوسکا، صوبہ سرحد کی شورش برقرار ہے، سی این جی، بجلی کی قمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، آٹا، چینی اور دیگر بنیادی ضروریات مہنگی ہورہی ہیں۔لوگوں کو ایک بار پھر انصاف تک رسائی ناممکن بنادی گئی۔

پھر پی پی نے پنجاب کو کنٹرول کرنے کے لئے ڈوگرہ عدالتوں کے ذریعے وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف کو نااہل قراردلوایا، گورنرراج نافذ کردیا گیا، عوام پھر غصے میں، کہیں ٹائروں کو آگ لگ رہی ہے کہیں زرداری ہائے ہائے کے نعرے لگ رہے ہیں، پھر وکلاء اور سیاسی جماعتوں نے لانگ مارچ کا اعلان کیا تو تاجروں کے کنٹینرز پکڑ کر راستے بند کردئیے گئے، کبھی مخالفین کو ہراساں کیا جاتا، لوگوں کو گھروں سے اٹھا کر تھانوں میں‌بند کردیا جاتا رہا، پھر عوامی غصہ مزید بڑھ گیا اور آخر کار سولہ مارچ آگیا، وکلاء اور لوگوں کا قافلہ اسلام آباد کی طرف روانہ ہوا، حکومت بوکھلاگئی پھر وہی لاٹھی چارج، آنسوگیس لیکن لوگ کامونکی تک تھے کہ حکومت کی طاقت جواب دے گئی اور جج بحال ہوگئے،عوامی طاقت کوجھٹلایاجانے لگا، کہا گیا کہ ہم نے محترمہ کی خواہش پوری کردی، اس کا کریڈٹ صدر کو جاتا ہے، خود کو دنیا میں تماشہ بنالیا۔آئے روز اپنی نااہلی کا ثبوت دیاجارہا ہے، امریکہ سے خیرات طلب کرکے اپنے ملک میں شورش پھیلائی جارہی ہے۔

عوام کی برداشت کا امتحان لیا جارہا ہے۔عوام کی برداشت کو کمزوری سمجھاجاتا ہے، عوام بظاہر بے حس نظر آرہی ہے لیکن اپنے اندر غصہ اور نفرت پال رہی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ غصہ جوالا مکھی کی صورت میں پھٹے اور ذمہ داروں کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ ان کا غصہ اور نفرت وہی فرانس والا نقشہ پیش کرے گا کہ روز گردنیں ماری جائیں، روز کسی نہ کسی چوراہے پر اشرافیہ کی لاشیں جھولتی نظر آئیں۔ کسی دانشور کا کہنا ہے کہ اگر عدالتیں انصاف کرنا بند کردیں تو لوگ خود انصاف کرنا شروع کردیتے ہیں، اگر حکومت عوام پر ظلم وستم شروع کردے تو پھر آئے روز باغی پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی اور ظلم وستم کی چکی میں پسی عوام یہ بھول جاتی ہے کہ وہ کس صوبے، کس فرقے، کس علاقے سے تعلق رکھتی ہے۔آج بھی بہت سے ہنگامے اور احتجاج نظر آرہے ہیں، بلوچستان سلگ رہا ہے، کلرک، اساتذہ اپنے حقوق کے لئے احتجاج کررہے ہیں، کوئی علاقہ پولیس کے ظلم وستم سے تنگ آکر سڑکوں پر لاشیں رکھ کرسڑک بلاک کردیتا ہے، کوئی دوسالہ بچی کے گٹر میں گرنے پر احتجاج کررہا ہے، کوئی سوات معاملہ پر احتجاج کررہا ہے، کہیں‌ لودشیڈنگ پر احتجاج ہورہا ہے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ سب احتجاج مل کر ایک بڑے احتجاج کی صورت اختیار کرلیں اور حکومت کے لئے صورت حال سنبھالنا مشکل ہوجائے۔

علی عمران

سویت یونین نے جب افغانستان پر یلغار کی تو پاکستان اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے موثر حکمت عملی نے اس سپر پاور کو حیران کر دیا۔سوویت یونین کی خفیہ ایجنسی کے۔جی۔بی نے اس وقت بھی یعنی 1982۔1983 میں پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے لئے بلوچستان لبریشن آرمی(BLA)کی بنیاد رکھی تھی جس میں بنیادی طور پر کچھ بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن(BSO) کے لوگ استعمال ہوئے بلوچستان لبریشن آرمی سوویت یونین کے افغانستان سے نکلنے کے بعد غائب ہو گئی لیکن 11/9 کے بعد جب روس اور امریکہ نے بلوچستان میں ایک دوسرے سے تعاون پر رضا مندی ظاہر کی تو جنوری 2002 میں بلوچستان میں پہلا ٹریننگ کیمپ قائم ہوا۔
اس کیمپ کو قائم کرنے کے لئے جو گروپ گیا اس میں دو ہندوستانی اور دو امریکن افراد تھے جو ایک بھورے رنگ کی ٹویوٹا ہائی لکس ڈبل کیبن تھی جس کو افغان ڈرائیور چلاتے ہوئے رشید قلعہ کے مقام سے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے اور پھر مسلم باغ سے ہوتے ہوئے 17 جنوری کو کولہو پہنچے وہاں سے دو ہندوستانی اور دو امریکن ڈیرہ بگٹی گئے اور پھر کچھ دنوں کے بعد واپس کولہو آ گئے۔
بالاچ مری جو کہ نوب خیر بخش مری کا بیٹا ہے اور جس نے ماسکو سے الیکٹرونک انجئینرنگ کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے کا اس گروپ سے رابطہ تھا چونکہ کولہو اور کوہان کے درمیان پہاڑیاں مری قبائل کی ہیں اور بالاچ مری کے ہندوستان اور روس سے رابطے ہیں اسلئے اسے بلوچستان لبریشن آرمی کا سربراہ مقرر کیا گیاتھا۔اس کیمپ میں تقریبا بیس 20 نوجوانوں کو جن مضامین پر ٹریننگ دی گئی اس میں آزاد بلوچستان کا تصور،سیاسی جدوجہد کے لئے تخریب کاری کا استعمال،پنجاب کی زیادتیاں اور اجتماعی احتجاج کے مختلف طریقے شامل تھے۔ کے۔جی۔بی کے آفیسرز کے پاس ہر طرح کی تربیت کے لئے مواد موجود رہتا ہے۔ساتھ ہی افغانستان سے اسلحہ اور بارود آنا شروع ہو گیا۔اس کے علاوہ گولہ بارود کا دوسرا راستہ کشن گڑھ جو بلوچستان اور سندھ کے ملاپ پر پاکستان ہندوستان کے بارڈر سے صرف 5 کلو میٹر کے فاصلے پر ہندوستان میں واقع ہے۔وہاں سپلائی ڈپو اور ٹریننگ کیمپ آپس میں رابطے میں رہتے ہیں۔
اس کے علاوہ ہندوستان کا شیرشاہ گڑھ جو کہ کشن گڑھ سے تقریبآ 90 کلو میٹر دور ہے سے بھی ہندوستانی ماہرین اور سپلائیرز کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔
اسلحہ اور بارود کشن گڑھ اور شیر شاہ گڑھ سے اونٹوں پر پاکستان لایا جاتا ہے اور وہاں سے ٹرکوں کے اندر دوسرے عام ضرورت کے سامان کے نیچے ڈال کر اور اوپر ترپال ڈال کر سوئی اور کوہلو پہنچایا جاتا ہے۔گولہ بارود زیادہ تر روسی ساخت کا ہوتا ہے اور اس سے کشمور،اوچ،ملتان اور سوئی سکھر والی گیس پائپ لائن کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔
اس علاقے میں تخریبی کاروائی کی ٹریننگ ہندوستان کی ایجنسی کی ذمے داری ہے بلوچ لبریشن آرمی کو قائم کرنے کے لئے را(RAW) کی مدد بہت مفید ثابت ہوئی کیونکہ را کے بہت سے رابطے بلوچستان میں ہیں اس وقت بلوچستان میں 45 سے 55 ٹریننگ کیمپ ہیں۔ اور ہر کیمپ میں 300 سے 550 تخریب کار موجود ہیں۔خفیہ رپورٹ کے مطابق جسے میں نیچے کوٹ کر رہا ہوں۔پیسے کی فراہمی کچھ اس طرح ہے۔
“A massive amount of cash in folwing into these camps from Afghanistan through U.S. Defence contractors (Pantagon Opreratives in civvies ), CIA foot soldiers(instigators in double guise), fortune hunters, rehired ex soldiers and free lancers
ان پیسوں سے دالبدین،نوشکی،کوہلو،سبی،خضدار،اور ڈیرہ بگٹی میں نئے گھر بنائے گئے ہیں۔
ہندوستانی قونصلیٹ نے ایران کے شہر زاہدان میں واقع ہوٹل امین کے پاس گھر کرائے پر لیا ہوا ہے۔ یہ گھر لوگوں کے افغانستان سے پاکستان اور پاکستان سے ایران آنے جانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
بلوچستان کے اندر تخریب کاری میں ملوث ہندوستانی،افغانی اور ایرانی باشندوں کی انکی اپنی حکومتوں سے وابستگی کی بات کو وثوق سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکنوں اور روسیوں کو پینٹاگان اور کریملین کی آشیرباد حاصل ہے۔
سویت یونین کی افغانستان میں آمد کا بڑا مقصد براستہ بلوچستان سمندر کے گرم پانیوں تک رسائی تھا۔اس مقصد کے حصول کے لئے وہ عظیم بلوچستان بنانا چاہتے تھے۔
بلوچستان لبریشن آرمی کو اب دوبارہ زندہ کرنے کی ذمہ داری اب پینٹاگان اور کریملین پر ہے جس کے لئے ان کو “را“کی مدد حاصل ہے۔امریکن روسیوں پر پورا اعتماد نہیں کر رہے۔
اس سلسلے میں(KGB) کے دو افسروں سے جو اس وقت ماسکو میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں(ان کے نام ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں) سے یہ پوچھا گیا کہ روس کی تو سمجھ آتی ہے کہ وہ پاکستان سے اپی ہار کا بدلہ چکانے کے لئے بلوچستان میں سرگرم ہے انڈیا پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ لیکن امریکہ تو پاکستان کو فرنٹ لائن اتحادی کہتا ہے۔پھر وہ اپنے اتحادی کے لئے اتنے مسائل کیوں کھڑے کر رہا ہے؟ ۔تو ان کا جواب تھا۔
“صف اول کا اتحادی؟ آپ مذاق تو نہیں کر رہے؟ امریکہ پاکستان کو صرف استعمال کر رہا ہے اور پاکستانیوں کو ابھی تک اگر یہ چیز سمجھ نہیں آئی تو جلد سمجھ آ جائے گی۔اگر امریکہ کا اس خطے میں کوئی موزوں ترین اتحادی ہے تو وہ ایک مختلف حکومت کے نیچے ایران ہے۔ اور امریکن اس مقصد یعنی ایران میں(Regime change) کے لئے کام کر رہے ہیں۔ بلوچستان کے علاوہ باقی پاکستان امریکیوں اور اس کے اتحادیوں کے لئے بے فائدہ ہے۔ افسر کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں امریکہ کے دو مقاصد ہیں ایک وسط ایشیاء سے توانائی کا حصول اور دوسرا چین کے خلاف گھیرا تنگ کرنا۔ اس مقصد کے لئے بلوچستان اور اسکی گوادر اور پسنی کی بندرگاہیں اہمیت کی حامل ہیں۔

(اس رپورٹ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں کیا گریٹ گیم کھیلی جا رہی ہے۔ اب اگر آئی ایس آئی اس گیم کو ٹریس کر کے رکاوٹ بنتی ہے تو اس کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے۔ میں کوشش کروں گا مزید حقائق منظر عام پر آئیں تاکہ ہمارے سادہ لوح لوگوں کو بھی اصل حقائق کا علم ہو جو حکمران چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔)

علی عمران

پچھلے دنوں اسلام آباد میں چند غیر ملکی لوگوں سے بات چیت کا اتفاق ہوا۔ باتوں باتوں میں پاکستان کے حالات کے بارے میں بحث چل نکلی۔ بحث میں میں نے ایک نقطہ اٹھایا کہ آپ لوگوں نے پاکستان میں آ کر کیا محسوس کیا؟ ان غیر ملکی لوگوں کا جواب میرے لئے انتہائی خوشگوار حیرت کا باعث تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کا محفوظ ترین ملک ہے۔ میں نے کہا لیکن دنیا تو اسے اپنے لئے خطرہ تصور کرتی ہے؟ تو وفد کے سربراہ کچھ مسکرائے اور کہنے لگے یہ سب آپ لوگوں کی وجہ سے ہے۔
میں نے کہا ہماری وجہ سے کیسے؟ تو وہ کہنے لگے آپ خود پاکستان کو بکھرا ہوا دکھا رہے ہو۔ میں نے پاکستان کے لوگوں سے ملتے ہوئے ایک بات محسوس کی کہ سب لوگ اس خدشے سے دوچار ہیں کہ پاکستان کا مستقبل انتہائی تاریک ہے۔ حالانکہ یہاں مجھے ایسا کچھ دکھائی نہیں دیا سوائے اس کے کہ لوگ ایک فوبیا میں گرفتار ہیں اور خود بھی خوفزدہ ہیں اور دوسروں کو بھی خوفزدہ کر رہے ہیں اور ان کے خوف کا فائدہ دہشت گرد اور غیر ملکی عناصر اٹھا رہے ہیں۔کوئی کہ رہا ہے امریکہ پاکستان پر حملہ کر دے گا پاکستان تباہ و برباد ہو جائے گا۔
کوئی کہتا ہے طالبان اسلام آباد پر قبضہ کر لیں گے۔ کوئی کہتا ہے ملک ٹوٹ جائے گا۔ مگر ہم لوگوں نے یہاں ایسی کوئی بات محسوس نہیں کی۔ اگر آپ لوگ اس خوف سے باہر نکل آؤاور متحد ہو جاؤ تو نہ امریکہ میں ہمت ہے کہ وہ حملہ کرنے کا سوچے اور نہ طالبان اسلام آباد کی جانب دیکھ سکتے ہیں۔
یہ تاثرات تھے چند غیرملکی لوگوں کے آئیں میں ان کی باتوں کو مزید وضاحت سے پیش کرتا ہوں۔
پاکستانی لوگوں میں ایک خوف جسے مختلف ملکی اور غیر ملکی قوتیں انجییکٹ کر رہی ہیں وہ یہ ہے کہ طالبان پاکستان پر قبضہ کر لیں گے یا امریکہ پاکستان پر حملہ کر دے گا پاکستان ٹوٹ جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ میرے نزدیک یہ سب خطرات محض ایک خام خیالی کے کچھ نہیں ہاں خانہ جنگی کی کیفیت ضرور بن سکتی ہے لیکن دوسرے خطرات تب تک ممکن نہیں جب تک پاکستانی خود نہ چاہیں۔ آئیں میں کچھ وضاحت کرتا ہوں۔
1:۔ امریکہ پاکستان پر حملہ کر دے گا۔
ہمارے سادہ لوح عوام امریکہ سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ امریکہ کی جانب سے ذرا سا بیان آیا اور سب تھر تھر کانپنے لگتے ہیں۔ ایک بات طے ہے کہ امریکہ کبھی بھی پاکستان پر حملہ کرنے کی حماقت نہیں کر سکتا۔ اور اگر کبھی اس نے جرات کی بھی تو ہم تو ختم ہوں گے ہی امریکہ بھی ایسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے گا کہ موت کی دعائیں مانگے گا لیکن موت نہیں آئے گی۔ پاک فوج بے بسی کی موت نہیں مرے گی اور پھر ہم ایٹمی طاقت بھی ہیں اگر امریکہ حملہ کرے گا تو خود بھی اتنا نقصان اٹھائے گا کہ صدیوں تاریخ اسے بھلا نہیں سکے گی۔ اور اگلی نسل کو شاید یہ بھی یاد نہ رہے کہ امریکہ جیسی سپر پاور بھی کبھی ہوتی تھی۔ اس لئے خوفزدہ ہونے کی ذرا بھر ضرورت نہیں۔ ویسے بھی مسلمان موت سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔
2:۔امریکہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کر لے گا:۔
یہاں میں یہ بات واضح کر دوں کہ پاکستان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اتنا پیچیدہ اور محفوظ ہے کہ کوئی ایک طاقت بھی یہ مینڈیٹ نہیں رکھتی کہ وہ ایٹمی ہتھیار کسی کی جھولی میں ڈال سکے۔ نہ تو صدر پاکستان کو یہ اختیار حاصل ہے اور نہ ہی آرمی چیف کو کہ وہ ایٹمی ہتھیار کسی ملک کے حوالے کر سکیں۔ دوسرا پاکستان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اس قدر پیچیدہ اور تہہ در تہہ ہے کہ کوئی غیر ملکی طاقت حملے کے ذریعے اس پر کنٹرول حاصل نہیں کر سکتی۔ اس کے لئے لاذمی ہے کہ ملک میں ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ ان ایٹمی ہتھیاروں کو ایک جگہ جمع کر دیا جائے اور نقل و حرکت کی مانیٹرنگ اور ایک جگہ پر ہونے کی صورت میں کاروائی کر کے ان پر کنٹرول حاصل کر لیا جائے۔ بصورتِ دیگر ان پر کنٹرول کے لئے کاروائی چند منٹ میں مکمل کرنا ہو گی مگر پاکستان کے ایٹمی ہتھیار مختلف جگہوں پر ہونے کی وجہ سے یہ کاروائی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی اور یہ بات امریکہ سمیت پوری دنیا خوب اچھی طرح جانتی ہے۔ اس لئے یہ بات بھی ذہن سے نکال دیں کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر کوئی کنٹرول حاصل کر لے گا۔اور خوفزدہ ہونے کی بجائے متحد ہو جائیں تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ اپنی حد میں رہو۔
3:۔ طالبان اسلام آباد پر قبضہ کر لیں گے:۔
میری نظر میں اس سے زیادہ ہنسی والی بات شاید کوئی نہیں۔ طالبان اس وقت 3 حصوں میں تقسیم ہو چکے ہیں جن میں سے کچھ وہ جو صرف افغانستان میں امریکی فوج سے لڑنے کو سب سے پہلی ترجیح خیال کرتے ہیں اور اسی کو اپنا مقصد سمجھتے ہیں۔ یہ طالبان پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ پرو پاکستانی ہیں۔ دوسرا طبقہ ہے بیت اللہ محسود کا جو باجوڑ اور ارد گرد کے علاقوں میں فورسز سے بر سرِ پیکار ہے۔ اور فورسز ان کو اس حد تک نقصان پہنچا چکی ہیں کہ فلوقت یہ لوگ اپنے علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیں یہ بھی ان کے لئے بڑی بات ہو گی۔ تیسری قسم ہے سوات کے طالبان کی جن کا اثر بونیر،دیر،مالاکنڈ،اور سوات تک محدود ہے۔ اول تو ابھی تک ان طالبان کی جانب سے خفیہ ایجنسیوں کو کوئی ایسی اطلاع نہیں ملی کہ یہ اسلام
‌آباد کی جانب آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسری بات اگر بلفرض محال ان کا ایسا ارادہ ہو بھی تو یہ ان کی سب سے بڑی بیوقوفی ہو گی۔ کیونکہ جیسے ہی وہ پہاڑوں سے باہر شہروں کی جانب آئیں گے فوج کے لئے ان کی گاڑیوں کو چند فضائی حملوں سے تباہ کرنے کا بڑا آسان موقع مل جائے گا کیونکہ آبادی میں اس طرح کھلے عام فضائی حملہ نہیں ہو سکتا ورنہ کولیٹرل ڈیمج کا خطرہ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ چند ہزار طالبان ایک مکمل تربیت یافتہ فوج کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ پیرا ملٹری فورسز جنہیں نیم فوجی دستے کہا جاتا ہے ابھی تک ان سے بر سرِ پیکار ہیں اور جس قدر انہیں نقصان پہنچا چکے ہیں یہ فوج کی جانب سے طاقت کا انتہائی محتاط استعمال ہے تاکہ بے گناہ لوگوں کو بچایا جا سکے۔طالبان کا شوشہ صرف ملک میں ایک خوف کی فضاء قائم کرنے کے لئے چھوڑا جا رہا ہے۔
4:۔ ملک کے ٹوٹنے کا خدشہ:۔
زیادہ تر افراد اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ خدانخواستہ پاکستان کا مستقبل انتہائی تاریک ہے اور ملک ٹوٹنے کا خطرہ ہے۔ اس سلسلے میں بلوچستان اور سندھ کا نام لیا جاتا ہے کہ یہ صوبے جس صورتِ حال سے گزر رہے ہیں ایسی صورت میں ان کا پاکستان کے ساتھ رہنا ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ پہلے تو سندھ کے بارے میں عرض ہے کہ سندھی بھائی بھی اتنے ہی حب الوطن ہیں جتنے دوسرے پاکستانی ہاں البتہ چند عناصر لسانی فسادات کے تحت بد امنی اور افراتفری کا ماحول پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس میں کبھی تو طالبان کی آمد یا پختونوں کی آمد کو بہانہ بنایا جاتا ہے یا پنجابیوں کو تنقید کا نشانہ بنا کر ماحول خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پختون اور پنجابی کا بھی سندھ پر اتنا ہی حق ہے جتنا ایک سندھی کا اور اسی طرح سندھی کا بھی دوسرے صوبوں پر اتنا ہی حق ہے جتنا ان صوبوں کے لوگوں کا۔ نہ تو پختونوں کو سندھ میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے اور نہ ان کی جانب سے یہ خطرہ ہے کہ وہ طالبان کا ساتھ دیں گے۔ بلکہ کراچی میں سرگرم کچھ غیر ملکی اور کچھ سیاسی عناصر اور لینڈ مافیا ایسی افراتفری پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ جیسے یہ سب پختونوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ایسا کرنے سے سندھ کے علیحدہ ہونے کا خطرہ تو نہیں ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ خانہ جنگی کا ماحول بنانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ لیکن عوام ان کالے لوگوں کو پہچان کر اور متحد ہو کر ان کے آلہ کار بننے سے بچ کر اس سارے منصوبے کو خاک میں ملا سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے خوفزدہ ہونے کی بجائے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جانا چاہیے۔

بلوچستان کا مسئلہ:۔
بلوچستان کا مسئلہ اس قدر گھمبیر نہیں جتنا بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ مجھے دنیا کی سپر پاور کی خفیہ ایجنسی کے ایک آفیسر کی بات یاد آ گئی۔اس کا کہنا تھا“کہ عام بلوچی بیوقوفی کی حد تک حب الوطن ثابت ہو رہا ہے جسے نہ تو پیسے سے خریدا جا سکتا ہے اور نہ اسے دھوکہ دے کر اس سے کام لیا جا سکتا ہے۔بلوچستان میں سب سے بڑا خطرہ سردار ہیں جو بلوچ عوام کو چند پیسوں کی خاطر بیچنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔اگر میں پاکستانی حکومت میں ہوتا تو عام آدمی کو تعلیم اور بنیادی ضرورتوں سے مالا مال کر کے ان تمام سازشوں کا جڑ سے خاتمہ کر دیتا“۔ کسی ایجنسی کی طرف سے کسی جگہ کے لوگوں کو اس طرح مخاطب کرنا میری نظر میں ان کے لئے ایک ایسا تمغہ ہے جو ملک کے سب سے بڑے اعزاز کے برابر کہا جا سکتا ہے۔ بلوچستان میں 40 فیصد پختون بھی بستے ہیں جو کسی بھی ہنگامہ آرائی میں ان شر پسند عناصر کا ساتھ نہیں دیتے۔ اور شر پسند عناصر کو بلوچستان کے چند اضلاع سے زیادہ کہیں پذیرائی حاصل نہیں۔ بلوچ عوام کی اکثریت ان شر پسند عناصر سے تنگ ہے ہاں ان شر پسند عناصر کی وجہ سے وہاں کی عوام میں یہ بیداری ضرور ہوئی ہے کہ انہیں ان کے بنیادی حقوق ملنے چاہیے۔ اور ان کا یہ مطالبہ ناجائز بھی نہیں حکمرانوں کو چاہیے کہ بلوچ عوام کو بھی تعلیم صحت اور روزگار دے تاکہ عوام ان سرداروں کے چنگل سے آزاد ہو سکے جو صرف پیسے کو خدا سمجھتے ہیں۔
اس کے علاوہ گریٹر بلوچستان کا نظریہ بھی بلکل غلط ہے۔کیونکہ اس کے لئے ایران اور افغانستان کو بھی اپنا ایک حصہ علیحدہ کرنا پڑیگا جو اس قدر آسان نہیں جتنا بتایا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ عالمی ایجنڈا بھی گریٹر بلوچستان کا نہیں بلکہ بلوچستان میں ایک ایسی شورش کا برقرار رکھنا ہے کہ گوادر اور پسنی کی بندرگاہ سے پاکستان اور چین فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اگر گوادر اور پسنی کی بندرگاہوں نے اپنا کام درست طور پر شروع کر دیا تو پاکستان اور چین گرم پانیوں کی حکمرانی دوسرے ممالک سے چھین لیں گے۔ تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ جو روس کی بندرگاہوں سے کیا جاتا ہے وہ تقریبآ اس سے چھن جائے گا اور یوں روس کی اہمیت کافی حد تک کم ہو جائے گی۔ دوسری جانب ایران کے علاقے میں بننے والی بندرگاہ کی اہمیت بھی انتہائی کم ہو جائے گی۔ جبکہ اسی بندرگاہ کے ذریعے بھارت گرم پانیوں پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے۔ بلوچستان میں شورش کا بڑا مقصد صرف اتنا ہے کہ کسی طرح چین کو گوادر اور پسنی کی بندرگاہ سے دور رکھ کر اسے گرم پانیوں پر حکمرانی سے روکا جا سکے۔اور بھی کئی محرکات ایسے ہیں جن سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بلوچستان کو علیحدہ کیا جائے گا ہاں بد امنی کے لئے اور عوام کو بےوقوف بنانے کے لئے چند ایسے نعرے ضرور دئیے گئے ہیں کہ لوگوں کے جذبات کو بھڑکایا جا سکے۔
یہ سچ ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور اس کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کرنے کے لئے تمام طاقتیں متفق ہو کر اس کے خلاف کام کر رہی ہیں۔ لیکن پاکستان کی خفیہ ایجنسیز بھی اس کے توڑ میں متواتر لگی ہوئی ہیں۔ رفتار اس لئے سست ہے کہ بیک وقت ساری دنیا سے لڑنا آسان کام نہیں۔ اور حکمران بھی اس طرح کا تعاون نہیں کر رہے جیسی ضرورت ہے۔ یعنی شورش زدہ علاقوں میں عوام کو سہولتیں اور ترقیاتی کام کروانا وغیرہ۔اگر حکمران اپنے انتظامی کاموں کو درست کر لیں تو بہت جلد تمام طاقتیں پسپا ہو جائیں گی۔
اس کے ساتھ عوام کو بھی خوفزدہ ہونے کی بجائے متحد ہو کر ایسے تمام ہتھکنڈوں کو ناکام بنانا ہو گا جو افراتفری اور بد امنی کا باعث بنتے ہیں۔
اور پاکستان کی سلامتی کے لئے قربانیاں دینے والی پاک فوج کا مکمل ساتھ دیں اور ہر سطح پر ملک کے ان جری جوانوں کو خراج تحسین پیش کریں۔جو رات کو اس لئے نہیں سوتے کہ عوام سکھ کی نیند سو سکیں جو برستے بارود کے سامنے خود کھڑے ہوتے ہیں تاکہ اسے عوام تک جانے سے روک سکیں فوج کو عوام کی حمایت کی ضرورت ہے تاکہ ملک دشمنوں کو سبق سکھایا جا سکے۔ جو بھی پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھاتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہےچاہے وہ طالبان ہوں یا کوئی جرائم پیشہ عناصر۔

مصنف: سید انجم شاہ

یکم مئی کا دن مزدورں کے حقوق کے حوالے سے منایا جا رہا ہے ایک اہم سوال یہ ہے کہ اسلام اس بارے میں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت سرمایہ دارانہ نظام پوری دنیا ہر حاوی ے سرمائے کی اتنی بڑی جکڑ بندی اس سے پہلےکبھی نہیں تھی انڈسٹریلزم آیا تو مشین کے ذریعے پیداوار میں اضافہ ہوا
ایک شخص دیکھتے ہی دیکھتے کروڑوں اور اربوں کا مالک بنن جاتا ہے جبکہ فیکٹری میں کام کرنے والے سینکڑوں ،ہزاروں،مزدور بنیادی ضروریات کو ترستے ہیں اقبال نے کہا ہے کہ
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

اسی طرح کسان کا استحصال ہو رہا ہے کسان صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کر رہا ہے صبح اٹھ کر فصل پر پانی لگا رہا ہے خون پسینہ ایک کر رہا ہے اور جاگیر دار یا وڑیدہ کسان کی محنت کی کمائی پر عیش کر رہا ہے اسکی اولاد امریکہ میں جا کر پڑھ رہی ہے جس کی محنت ہے اسی بنیادی انسانی حقوق بھی میسر نہیں ہیں اس کے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند ہیں کہ کہیں انہیں اپنے‌حقوق کا شعور حاصل نہ ہو جائے ان کو غلام ہی رہنے دو اس دور میں یہ استحصال کی بدترین شکلیں ہیں بدقسمتی سے اس قسم کا امیج دیا جاتا ہے کہ معاذ اللہ اسلام بھی سرمایہ دارانہ نظام کو سپورٹ کرتا ہے
حالانکہ یہ انتہائی غلط تصور ہےاسلام اصل میں عدل اجتماعی کا علمبردار ہے تا کہ ہر سطح پر کامل انصاف ہو اور ہر انسان کو اس کے جائز حقوق ملیں کوئی کسی کے حق پر ڈاکہ نہ ڈال سکے
نہ سیاسی اعتبار سے
نہ معاشی اعتبار سے
نہ سماجی اعتبار سے
استحصال کسے کہتے ہیں
یہ لفظ عام طور پر حق تلفی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانا
مثلا آج کل روزگار کی کمی ہے کہیں چپڑاسی کی اسامی خالی ہوتی ہے تو ایم اے پاس بھی درخواست دے رہے ہوتے ہیں اس لئے کہ بے روزگاری ہے یا ایک شخص کو اسکی صلاحیت کے مطابق کم سے کم دس پزار تنخواہ ملنی چاہیئے لیکن چونکہ وہ بے روزگار ہے لہذا پانچ ہزار کی بھی ملے گی تو وہ بھی قبول کرے گا یہ استحصال ہے اسکے علاوہ بھی استحصال کی بے شمار شکلیں ہیں اسکی اصل بنیاد انسان کی اپنے اندر کی طغیانی اور بغاوت ہے
ترجمہ:
”مگر انسان کو سرکشی پر آمادہ ہوجانا ہے“
انسان اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہے اور دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کےلئے تیار رہتا ہے
ترجمہ:
” جبکہ اہنے تئیں غنی دیکھتا ہے“
جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی پکڑ نہیں ہے میں کسی کے ساتھ زیادتی کر رہا ہوں لیکن فوری طور پر نہ میرے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہا ہے نہ کوئی پکڑ دھکڑ ہو رہی ہے عقیدہ تو ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے لیکن وہ تو آخرت کا معاملہ ہے حساب ہوا بھی تو وہاں کوئی بچا ہی لے گا لہذا وہ استحصال کرتا ہے کیونکہ اس کے اندر طبعی طور پر یہ کمزوری موجود ہے
مال کی محبت انسان کی کمزوری ہے وہ سمجھتا ہے کہ مال جیسے بھی ملے حاصل کرنا ہے چاہے دوسروں کی حق تلفی کر کے ملے یہی مال کی محبت انسان کو پستی کی انتہا تک پہنچا دیتی ہے
نبی اکرم(ص) نے فرمایا : اگر کسی شخص کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں پھر بھی اس کی حرص ختم نہیں ہو گی اسکی شدید خواہش ہو گی کہ تیسری وادی بھی مل جائے
یہ انسان کی وہ کمزوری ہے جس کی وجہ سے وہ دوسرے کا استحصال کرتا ہےخون پسینے کی کمائی وہ کرے مکھن ملائی میں کھائوں
اسی سرمایہ داری نظام کے رد عمل میں اشتراکیت کا سیلاب آیاتھا لیکن وہ بھی بہرحال ایک انسانی سوچ کا نیتجہ تھا

اسلام میں محنت کی عظمت پر بہت زور دیا گیا ہے
نبی اکرم(ص)نے فرمایا:”محنت کش کو اللہ اپنا دوست رکھتا ہے“
ہمارے ہاں بدقسمتی سے ہندوانہ پس منظر کی وجہ سے ان لوگوں کو جو ہاتھ کی کمائی کھاتے ہیں نیچ سمجھا جاتا ہے یہ بڑھئی ہے،یہ دھوبی ہے،یہ موچی ہے،یہ وہی جاہلیت ہے جس کو توڑنے کے لئے نبی اکرم (ص) تشریف لائےآپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے کوئی نبی معبوث نہیں فرمایا جس نے اجرت پر بھیڑیں نہ چرائی ہوں
آپ(ص) نے فرمایا کہ میں نے خود بھی معمولی اجرت پر یہ کام کیا ہے
حضرت دائود کے بارے میں آتا ہے کہ وہ زرہیں بنایا کرتے تھے
قرآن مجید میں انکی عظمت کو بیان کیا گیا
ترجمہ:” اور ہم نے دائود کو اپنی طرف سے برتری بخشی تھی اے پہاڑو،ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو (انکا مسخر کر دیا) اور ان کے لئے ہم نے لوہے کو نرم کر دیا“
حضرت دائود پر ایک فضل تو یہ کیا کہ ان پر زبور نازل کی جب وہ زبور سے حمد کے ترانے پڑھتے تھے تو پرندے اور پہاڑ بھی وجد میں آ جاتے تھے
دوسرا فضل یہ تھا یہ اللہ نے ان کے ہاتھ میں فولاد کو نرم کر دیا تھا تاکہ وہ زرہیں تیار کر سکیں
یہ ہے ہاتھ کی کمائی اور محنت کش کی فضیلت جو قرآن میں بیان ہوئی ہے
حاصل کلام یہ ہے کہ محمد رسول اکرم (ص) جو دین حق لے کر آئے وہ ہر قسم کی ناانصافیوں اور استحصال کو ختم کر کے ہر لیول پر عدل و قسط کی ضمانت دیتا ہےلیکن یہ سارا معاملہ دنیا سے متعلق ہے اصل کمائی آخرت کی کمائی ہے
سورۃ کہف میں ہے ”” اے نبی! اس سے کہیئے کہ کیا ہم بتائیں تمہیں ایک ایسے شخص کے بارے میں جو اپنی محنت اور عمل کے اعتبار سے خسارے میں ہے وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں““
افسوس کہ ہم بھی اسیے لوگوں ،ایسے افراد کو رول ماڈل سمجھتے ہیں فلاں شخص نے کتنی محنت کی ہے اس نے چھابڑی سے اپنے کام کا آغاز کیا تھا آج دیکھو کتنی فیکتریوں کا مالک ہے ظاہر ہے اس نے دنیا میں کامیابی کےلئے محنت کی ہے اپنی تفریحات کو چھوڑا اپنے آرام کو چھوڑا وہ راتوں کو جاگا ہو گا کیا کچھ نہیں کیا ہو گا اپنے‌حقوق سے دستبردار ہوا،اپنے بیوی بچوں کی حق تلفی کرتا رہا
بظاہر یہ شخص دنیا میں کامیاب نظر آ رہا ہے لیکن یہ سب سے زیادہ ناکام ہے اس لئے کہ اس نے محنت تو بہت کی لیکن اس محنت کا نتیجہ دنیا کے چند ٹکے کے سوا کچھ نہیں ہمیشہ ہمیشہ کی آخرت اس نے برباد کر ڈالی محنت کرنے والے دو قسم کے لوگ ہیں کچھ لوگ وہ ہیں جب وہ شام کو لوٹتے ہیں تو اپنی اخروی ہلاکت کا سامان لے کر لوٹتے ہیں
کچھ وہ ہیں جو صیحح رخ پر محنت کر رہے ہیں وہ اپنی آخرت کی فلاح اور کامیابی کا پروانہ لے کر لوٹتے ہیں محنت تو ہر شخص کر رہا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس کا رخ کدھر ہے اور اصل کامیابی کس محنت میں ہے اللہ تعالی ہمیں صیحح رخ پر محنت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ( آمین ثم آمین )

کثر اخبارات پڑھتے ہوئے لیڈروں کے ایک ہی قسم کے بیانات چھپتے ہیں۔ جنہیں پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہمارے سیاہ ستدانوں نے یہ الفاظ رٹے ہوئے ہیں۔ ان میں چند الفاظ پیش خدمت ہیں

1۔ ملک کے خلاف گہری سازش کی جارہی ہے۔
عموما لانگ مارچ یا مظاہروں کے دنوں سے میں یہ الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔

2۔ پاکستان کومیں نے دوٹکڑے ہونے سے بچایاتھا۔
پیپلزپارٹی کے سربراہان اور فوجی حکمرانوں کے پسندیدہ الفاظ

3۔ فلاں لیڈر پاکستان توڑنے سےبازرہے۔
جب کوئی سیاستدان زیادہ مخالف بن جائے اور ٹف ٹائم دے تو یہ الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں

4۔ جب ہم آئے تو قومی خزانہ خالی تھا۔
جب کوئی نئی حکومت منتخب ہوتی ہے تو یہ الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔

5۔ عوام دشمنوں کی سازشوں کا ڈٹ کرمقابلہ کریں۔
یہ مخالف سیاستدانوں کے لئے عام طور پر الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔

7۔ قوم میرے ہاتھ مضبوط کرے۔
تاکہ میں آپ کی دولت کو مضبوط ہاتھوں سے لوٹ سکوں

8۔ ہم اقتدار میں‌آکر عوام کو روزگار، تعلیم کی سہولتیں دیں گے۔
اقتدار میں‌آکر سیاستدان لفٹ ہی نہیں کراتے۔

9۔ ملک کی اٹھارہ کروڑ عوام میرے ساتھ ہے۔
ہرمنتخب جماعت یہی نعرہ لگاتی ہے۔

10۔ ملک سنگین بحرانوں سے گزررہا ہے۔
پچھلے 62 سالوں سے یہی نعرہ لگ رہا ہے۔

11۔ ملک کی ترقی و استحکام کے لئے قومی مفاہمت کی ضرورت ہے۔
قومی مفاہمت کا لفظ ہمارے صدر زرداری صاحب نے متعارف کرایا جسے عام طور پر مل بیٹھ کر لوٹنے سے تعبیر کیاجاتا ہے یعنی آو قومی مفاہمت سے ملک لوٹیں۔ قومی مفاہمت کے لفظ کو مولانا فضل الرحمان نے اسے بام عروج تک پہنچادیا۔

12۔ اس حملے میں‌بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔
جب پاکستان میں‌بم دھماکے ہوں تو بیرونی ہاتھ کو ملوث کیاجاتا ہے لیکن بیرونی بندے کو ملوث نہیں کیا جاتا بہرحال یہ الفاظ عام طور پر پاکستان را کے لئے اور بھارت آئی ایس آئی کے لئے استعمال کرتا ہے۔

13۔ ہم امریکہ کی نہیں اپنی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں۔
یہ الفاظ پہلے مشرف بولا کرتے ہیں اب نہ صرف زرداری بلکہ پوری پیپلزپارٹی ایک ساتھ بولتی ہے۔

14۔ ہم امن وامان کی صورت حال خراب کرنے کو کسی کو اجازت نہیں دے سکتے۔
جس نے امن وامان کی صورت حال خراب کرنی ہے وہ آپ سے کیا پیشگی اجازت لے گا؟

15۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں یا مسلمان دہشت گرد نہیں ہوسکتا۔
یہ الفاظ یہ صرف صدر پاکستان، مشیرداخلہ بلکہ امریکی عہدیداران کی زبان پر ہے۔

16۔ عوام کوسستا انصاف دیں گے۔
انصاف ملے تو سہی، چاہے وہ سستا ہو یا مہنگا ہو۔

17۔ مذمت کرنا۔
ہمارے ہاں ایک مذمت کرنا ایک وطیرہ بن چکا ہے وہ چاہے پاکستان میں‌ڈرون حملہ ہو یا دہشت گردی یا کوئی سانحہ ہم صرف مذمت کرتے ہیں۔ اکثر اخبارات میں‌آتا ہے کہ فلاں‌لیڈر نے فلاں سانحے پر مذمت کی۔ مذمت کرنے میں ہمارے لندن والے پیرصاحب سب سے‌آگے ہیں پاکستان میں بلی بھی سائیکل کے نیچے آجائے تو وہ وہاں بیٹھ کر ایک عدد مذمتی بیان جاری کردیتے ہیں جسے ٹی وی والے پورا دن گھماتے رہتے ہیں۔

18۔ یہ سب امریکہ کی سازش ہے۔
دہشت گردی ہویا کوئی بھی قومی مسئلہ ہر مسئلے میں امریکہ کو لتاڑا جاتا ہے۔ جیسے ایک شخص کا کتا بسکٹ کھا کرمرگیا تو اس نے کہا کہ یہ امریکہ کی سازش ہے۔ اس سے پوچھاگیا کہ وہ کس طرح تو اس نے جواب دیاکہ یہ بسکٹ دیکھو یہ امریکی کمپنی کا تیارکردہ ہے۔

19. ملک کسی محاذ‌آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

بھائی سمجھاو تو سہی کونسی محاذ آرائی؟ اقتدار کی؟ اختیارات کی؟

کچھ دن پہلے اخبار میں‌خبر آئی کہ لاہورہائیکورٹ نے گلوکارہ نصیبو لعل اور ان کی بہن نوراں لعل کے قابل اعتراض گانوں کی نمائش اور سی ڈیز پر پابندی لگا دی۔ نصیبو لعل نے بھی اعتراف کیا کہ وہ فحش گانے اپنی مرضی سے نہیں گاتی اس کے ذمہ دار نغمہ نگار ہیں جو اس کے لئے گانے لکھتے ہیں اور اسے گانا پڑتا ہے۔

مجھے اداکارہ نصیبو کی بات سن کر ایسا لگا کہ کوئی ان کی کنپٹی پر پستول رکھ کر کہتا ہے کہ یہ گانا گاؤ ورنہ تمہاری خیر نہیں اور نصیولعل کو گانا پڑتا ہے۔ اداکارہ نصیبو لعل کے گانے ہمارے معاشرے میں بہت مقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔ ملک کی اعلٰی پائے کی اداکارائیں اسی کے گانوں‌پر رقص اور ناچ کود کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ آج کل دیکھا گیا ہے کہ ہردکان اور گھر میں کیبل موجود ہے۔ کیبل پر زیادہ ترپاکستانی اداکاراؤں کے رقص کھلے عام دکھائی دیتے ہیں۔ سٹیج ڈرامہ دیکھنے چلے جائیں تو شائقین کو محظوظ کرنے کے لئے کچھ آئٹم گانے لازمی شامل کئے جاتے ہیں۔

کچھ ماہ پہلے لاہور ہائیکورٹ نے فحش رقص پر پابندی لگادی تھی اور وجہ یہ بتائی گئی کہ ان کے ہیجان آمیز رقص نئی نسل کی اخلاقیات کو تباہ کررہے ہیں۔ جس پر ان اداکاراؤں نے واویلا مچانا شروع کردیا کہ لاہورہائیکورٹ پابندی ہٹائے ورنہ ہم بھوکے مرجائیں گے یہی ہمارا روزگار کا سلسلہ ہے۔ حکومت ہم سے روزگار نہ چھینے۔ آخر کار کچھ عرصے بعد لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب میں سٹیج ڈراموں پر رقص کی پابندی معطل کردی ہے اور اسے ایک ناقابل عمل قانون قرار دیا ہے۔

ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اگر سٹیج کے رقص پر پابندی ہے تو مزاروں پر دھمال ڈالنے افراد بھی اس قانون کی زد میں آتے ہیں اور ورلڈ پرفارمنگ فیسٹول کے فن کاروں کے خلاف بھی مقدمے درج ہونے چاہیے تھے۔ پابندی کالعدم ہونے کے بعد رقاصاؤں اور دوسرے شوبز کے اشخاص نے مٹھائیاں بانٹنا شروع کردیں اور اسے ایک احسن اقدام قراردیا۔

ہمارے لیڈران بلندوبانگ دعوے کرتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیاہےاور آئین اسلامی ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔ کیا اس قلعے میں ایسے رقص کی اجازت دینا ٹھیک ہے۔ہر گھر میں کیبل موجود ہے، اس قسم کے رقص سے ہمارے بچوں اور بچیوں کی اخلاقیات پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مشرّف کے دور سے پاکستانی خواتین کا رقص نشریات پر عام ہو گیا ہے اور دن گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ فحش ہوتا جا رہا ہے۔

حکومت کافرض بنتا ہے کہ ایسے اخلاق باختہ رقص اور ایسی اداکاراؤں پر پابندی لگائے تاکہ ہماری نسل بے راہ روی کا شکار نہ ہو اور ان کی تعلیم وتربیت پر برے اثرات نہ پڑیں اور مولانا صوفی محمد جیسے لوگوں کو کوئی جواز فراہم نہ کریں۔