کثر اخبارات پڑھتے ہوئے لیڈروں کے ایک ہی قسم کے بیانات چھپتے ہیں۔ جنہیں پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہمارے سیاہ ستدانوں نے یہ الفاظ رٹے ہوئے ہیں۔ ان میں چند الفاظ پیش خدمت ہیں
1۔ ملک کے خلاف گہری سازش کی جارہی ہے۔
عموما لانگ مارچ یا مظاہروں کے دنوں سے میں یہ الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔
2۔ پاکستان کومیں نے دوٹکڑے ہونے سے بچایاتھا۔
پیپلزپارٹی کے سربراہان اور فوجی حکمرانوں کے پسندیدہ الفاظ
3۔ فلاں لیڈر پاکستان توڑنے سےبازرہے۔
جب کوئی سیاستدان زیادہ مخالف بن جائے اور ٹف ٹائم دے تو یہ الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں
4۔ جب ہم آئے تو قومی خزانہ خالی تھا۔
جب کوئی نئی حکومت منتخب ہوتی ہے تو یہ الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔
5۔ عوام دشمنوں کی سازشوں کا ڈٹ کرمقابلہ کریں۔
یہ مخالف سیاستدانوں کے لئے عام طور پر الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔
7۔ قوم میرے ہاتھ مضبوط کرے۔
تاکہ میں آپ کی دولت کو مضبوط ہاتھوں سے لوٹ سکوں
8۔ ہم اقتدار میںآکر عوام کو روزگار، تعلیم کی سہولتیں دیں گے۔
اقتدار میںآکر سیاستدان لفٹ ہی نہیں کراتے۔
9۔ ملک کی اٹھارہ کروڑ عوام میرے ساتھ ہے۔
ہرمنتخب جماعت یہی نعرہ لگاتی ہے۔
10۔ ملک سنگین بحرانوں سے گزررہا ہے۔
پچھلے 62 سالوں سے یہی نعرہ لگ رہا ہے۔
11۔ ملک کی ترقی و استحکام کے لئے قومی مفاہمت کی ضرورت ہے۔
قومی مفاہمت کا لفظ ہمارے صدر زرداری صاحب نے متعارف کرایا جسے عام طور پر مل بیٹھ کر لوٹنے سے تعبیر کیاجاتا ہے یعنی آو قومی مفاہمت سے ملک لوٹیں۔ قومی مفاہمت کے لفظ کو مولانا فضل الرحمان نے اسے بام عروج تک پہنچادیا۔
12۔ اس حملے میںبیرونی ہاتھ ملوث ہے۔
جب پاکستان میںبم دھماکے ہوں تو بیرونی ہاتھ کو ملوث کیاجاتا ہے لیکن بیرونی بندے کو ملوث نہیں کیا جاتا بہرحال یہ الفاظ عام طور پر پاکستان را کے لئے اور بھارت آئی ایس آئی کے لئے استعمال کرتا ہے۔
13۔ ہم امریکہ کی نہیں اپنی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں۔
یہ الفاظ پہلے مشرف بولا کرتے ہیں اب نہ صرف زرداری بلکہ پوری پیپلزپارٹی ایک ساتھ بولتی ہے۔
14۔ ہم امن وامان کی صورت حال خراب کرنے کو کسی کو اجازت نہیں دے سکتے۔
جس نے امن وامان کی صورت حال خراب کرنی ہے وہ آپ سے کیا پیشگی اجازت لے گا؟
15۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں یا مسلمان دہشت گرد نہیں ہوسکتا۔
یہ الفاظ یہ صرف صدر پاکستان، مشیرداخلہ بلکہ امریکی عہدیداران کی زبان پر ہے۔
16۔ عوام کوسستا انصاف دیں گے۔
انصاف ملے تو سہی، چاہے وہ سستا ہو یا مہنگا ہو۔
17۔ مذمت کرنا۔
ہمارے ہاں ایک مذمت کرنا ایک وطیرہ بن چکا ہے وہ چاہے پاکستان میںڈرون حملہ ہو یا دہشت گردی یا کوئی سانحہ ہم صرف مذمت کرتے ہیں۔ اکثر اخبارات میںآتا ہے کہ فلاںلیڈر نے فلاں سانحے پر مذمت کی۔ مذمت کرنے میں ہمارے لندن والے پیرصاحب سب سےآگے ہیں پاکستان میں بلی بھی سائیکل کے نیچے آجائے تو وہ وہاں بیٹھ کر ایک عدد مذمتی بیان جاری کردیتے ہیں جسے ٹی وی والے پورا دن گھماتے رہتے ہیں۔
18۔ یہ سب امریکہ کی سازش ہے۔
دہشت گردی ہویا کوئی بھی قومی مسئلہ ہر مسئلے میں امریکہ کو لتاڑا جاتا ہے۔ جیسے ایک شخص کا کتا بسکٹ کھا کرمرگیا تو اس نے کہا کہ یہ امریکہ کی سازش ہے۔ اس سے پوچھاگیا کہ وہ کس طرح تو اس نے جواب دیاکہ یہ بسکٹ دیکھو یہ امریکی کمپنی کا تیارکردہ ہے۔
19. ملک کسی محاذآرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
بھائی سمجھاو تو سہی کونسی محاذ آرائی؟ اقتدار کی؟ اختیارات کی؟