Archive for the ‘سیاسی طنزومزاح’ Category

سال کے آخر تک لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا عزم کر رکھا ہے،راجہ پرویز اشرف
اللہ کرے کہ سال کا آخر آجائے ورنہ جو حال آپ نے گھنٹے کا کیا ہے مجھے تو لگتاہے کہ دسمبر آتے ہی آپ پھر کہیں گے کہ جنوری سے شروع ہوجاؤ۔

ٹرین میں سفر کے دوران درود شریف پڑھتے رہا کریں۔وزیر ریلوے
راجہ پرویز اشرف کل کو کہیں گے کہ اگر بتی چلی جائے توقل ہواللہ پڑھو، وزیر خزانہ کہیں گے اگر مہنگائی ہوگئی تو واللہ خیرارازقین پڑھیں، وزیر داخلہ بھی کوئی وظیفہ تجویز فرمادیں گے۔ کل کلاں اپوزیشن کہہ دے گی کہ زرداری کو دیکھتے ہی اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھو۔ میرا خیال ہے کہ ہر وزیر کو کام چھوڑ کر عوام کو وظیفوں پر لگادینا چاہئے

تحریک انصاف کے کارکنوں نے غلیظ ایس ایم ایس بھیجے فوزیہ وہاب
اچھا۔۔۔۔۔۔ پڑھ کر سب کو سنائیں

پیپلز پارٹی مایوس عوام کیلئے امید کی کرن ہے، وزیراعلیٰ سندھ
رحمان ملک سے رابطہ کریں وہ پی پی کو امید کا سورج بنادیں گے۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ طالبان کے خلاف ہم جنگ نہیں جیت سکے تو نواز شریف کیسے جیتیں گے
شکریہ رحمان بھائی آپ کے اعتراف کا

کثر اخبارات پڑھتے ہوئے لیڈروں کے ایک ہی قسم کے بیانات چھپتے ہیں۔ جنہیں پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہمارے سیاہ ستدانوں نے یہ الفاظ رٹے ہوئے ہیں۔ ان میں چند الفاظ پیش خدمت ہیں

1۔ ملک کے خلاف گہری سازش کی جارہی ہے۔
عموما لانگ مارچ یا مظاہروں کے دنوں سے میں یہ الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔

2۔ پاکستان کومیں نے دوٹکڑے ہونے سے بچایاتھا۔
پیپلزپارٹی کے سربراہان اور فوجی حکمرانوں کے پسندیدہ الفاظ

3۔ فلاں لیڈر پاکستان توڑنے سےبازرہے۔
جب کوئی سیاستدان زیادہ مخالف بن جائے اور ٹف ٹائم دے تو یہ الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں

4۔ جب ہم آئے تو قومی خزانہ خالی تھا۔
جب کوئی نئی حکومت منتخب ہوتی ہے تو یہ الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔

5۔ عوام دشمنوں کی سازشوں کا ڈٹ کرمقابلہ کریں۔
یہ مخالف سیاستدانوں کے لئے عام طور پر الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔

7۔ قوم میرے ہاتھ مضبوط کرے۔
تاکہ میں آپ کی دولت کو مضبوط ہاتھوں سے لوٹ سکوں

8۔ ہم اقتدار میں‌آکر عوام کو روزگار، تعلیم کی سہولتیں دیں گے۔
اقتدار میں‌آکر سیاستدان لفٹ ہی نہیں کراتے۔

9۔ ملک کی اٹھارہ کروڑ عوام میرے ساتھ ہے۔
ہرمنتخب جماعت یہی نعرہ لگاتی ہے۔

10۔ ملک سنگین بحرانوں سے گزررہا ہے۔
پچھلے 62 سالوں سے یہی نعرہ لگ رہا ہے۔

11۔ ملک کی ترقی و استحکام کے لئے قومی مفاہمت کی ضرورت ہے۔
قومی مفاہمت کا لفظ ہمارے صدر زرداری صاحب نے متعارف کرایا جسے عام طور پر مل بیٹھ کر لوٹنے سے تعبیر کیاجاتا ہے یعنی آو قومی مفاہمت سے ملک لوٹیں۔ قومی مفاہمت کے لفظ کو مولانا فضل الرحمان نے اسے بام عروج تک پہنچادیا۔

12۔ اس حملے میں‌بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔
جب پاکستان میں‌بم دھماکے ہوں تو بیرونی ہاتھ کو ملوث کیاجاتا ہے لیکن بیرونی بندے کو ملوث نہیں کیا جاتا بہرحال یہ الفاظ عام طور پر پاکستان را کے لئے اور بھارت آئی ایس آئی کے لئے استعمال کرتا ہے۔

13۔ ہم امریکہ کی نہیں اپنی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں۔
یہ الفاظ پہلے مشرف بولا کرتے ہیں اب نہ صرف زرداری بلکہ پوری پیپلزپارٹی ایک ساتھ بولتی ہے۔

14۔ ہم امن وامان کی صورت حال خراب کرنے کو کسی کو اجازت نہیں دے سکتے۔
جس نے امن وامان کی صورت حال خراب کرنی ہے وہ آپ سے کیا پیشگی اجازت لے گا؟

15۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں یا مسلمان دہشت گرد نہیں ہوسکتا۔
یہ الفاظ یہ صرف صدر پاکستان، مشیرداخلہ بلکہ امریکی عہدیداران کی زبان پر ہے۔

16۔ عوام کوسستا انصاف دیں گے۔
انصاف ملے تو سہی، چاہے وہ سستا ہو یا مہنگا ہو۔

17۔ مذمت کرنا۔
ہمارے ہاں ایک مذمت کرنا ایک وطیرہ بن چکا ہے وہ چاہے پاکستان میں‌ڈرون حملہ ہو یا دہشت گردی یا کوئی سانحہ ہم صرف مذمت کرتے ہیں۔ اکثر اخبارات میں‌آتا ہے کہ فلاں‌لیڈر نے فلاں سانحے پر مذمت کی۔ مذمت کرنے میں ہمارے لندن والے پیرصاحب سب سے‌آگے ہیں پاکستان میں بلی بھی سائیکل کے نیچے آجائے تو وہ وہاں بیٹھ کر ایک عدد مذمتی بیان جاری کردیتے ہیں جسے ٹی وی والے پورا دن گھماتے رہتے ہیں۔

18۔ یہ سب امریکہ کی سازش ہے۔
دہشت گردی ہویا کوئی بھی قومی مسئلہ ہر مسئلے میں امریکہ کو لتاڑا جاتا ہے۔ جیسے ایک شخص کا کتا بسکٹ کھا کرمرگیا تو اس نے کہا کہ یہ امریکہ کی سازش ہے۔ اس سے پوچھاگیا کہ وہ کس طرح تو اس نے جواب دیاکہ یہ بسکٹ دیکھو یہ امریکی کمپنی کا تیارکردہ ہے۔

19. ملک کسی محاذ‌آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

بھائی سمجھاو تو سہی کونسی محاذ آرائی؟ اقتدار کی؟ اختیارات کی؟

ہمارے ایک وزیر خوراک ہیں جن کا نام نذرمحمد گوندل ہے۔ انہوں نے اخبارنویسوں کے سامنے بڑے فخر سے بیان دیا کہ ہم گندم کی سمگلنگ روکنے میں‌کامیاب ہوگئے ہیں۔ اب گندم کی سمگلنگ نہیں ہوسکتی۔

ایک رپورٹر نے پوچھا کہ سر اس کی کیا وجہ ہے

تو وزیر خوراک نے جواب دیا کہ دنیا میں سب سے مہنگی گندم پاکستان میں ہے۔

برطانیہ کے اسی دورے کے آخر میں‌جب ان وزراء کےہوٹل کے بل وزیراعظم نواز شریف صاحب کی منظوری کے لیے لائے گئے تو ایک وزیر (گجرات کے چوہدری صاحب) کے کمرے کا بل باقی وزیروں‌کے بل سے 2 ہزار پاؤنڈ زیادہ تھا۔ ہوٹل سے وضاحت مانگنے پر پتہ چلا کہ وزیر صاحب نے پہلے دن ہی کمرے میں جا کر ویٹر کو بلانے کے لیے جو بٹن دبایا ۔ وہ دراصل فائیر برگیڈ کو بلانے کا ” ایمرجنسی بٹن ” تھا ۔ جس پر فائیر بریگیڈ کا عملہ گاڑیوں‌سمیت وہاں پہنچ گیا ۔ قانون کے مطابق اس عملے کو 2 ہزار پاؤنڈ ادائیگی کی گئی ۔ غلطی چونکہ ہمارے وزیر صاحب کی تھی ۔ اس لیے وہ بل بھی وزیر صاحب کی حکومت کو بھجوا دیا گیا۔

بہت پہلے کہیں پڑھا تھا کہ 90 کے انتخابات کے بعد نواز شریف نے بطور وزیر اعظم پہلی مرتبہ انگلینڈ‌کا دورہ کیا تو انکے ہمراہ وزیروں مشیروں کی ایک فوج بھی تھی ۔ برطانوی حکومت کے نائب وزیر خارجہ ائیر پورٹ پر استقبال کے لیے آئے ۔ (وزیر اعظم کے استقبال کے لیے پورا وزیر بھی نہیں بلکہ نائب وزیر) ۔ خیر پہلا پھڈا تو یہ ہوا کہ پرائم منسٹر صاحب ۔ جب آپکو صرف 10 ممبران پر وفد کی ” سرکاری دعوت” تھی تو آپ 28 ممبران کیوں‌لے آئے ؟ طے ہوا کہ برطانوی حکومت صرف 10 ممبران کا ہی خرچہ اٹھائے گی ۔ بقیہ حکومتِ پاکستان کے خرچے پر ہوں گے۔

ایک بار میاں نواز شریف اپنے وفد کے ساتھ چین کا دورہ کرنے گئے تو جہاز کے اندر انہوں نے سری پائے سے بھرے پیالے سب کو دیئے اور خود بھی یہ کھانا کھایا۔ اِس کے بعد ہریسہ، نہاری، حلیم، تکے ، کباب اور بہت سا دوسرا سامانِ خوردونوش آگیا۔ سب نے ڈٹ کرکھایا، پھر لسی کے بڑے بڑے گلاس بھی پینے کو ملے۔ پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد سب لوگ نیند کی آغوش میں چلے گئے، بلکہ نیند کی شدت سے میاں صاحب سمیت سب افراد گررہے تھے۔ چین میں ہوائی اڈے پر اُترے تو وزیراعظم سمیت تمام قافلے کو فوراَ ہوٹل پہنچایا گیا۔ وفد کے تمام ارکان جی بھر کر سوئے اور اگلے روز اُٹھے تو پھر سرکاری دورہ شروع ہوا۔

بلوچستان کے وزیراعلٰی سے صحافیوں نے پوچھا کہ عوام کو روٹی نہیں مل رہی وہ کیا کریں تو وہ کہنے لگے کہ پیسٹری کھالیں، جب پوچھا گیا کہ پیسٹری دستیاب نہ ہوتو کیا کریں تو فرمانے لگے کہ ڈبل روٹی کھالیں۔

ملک معراج خالد مرحوم نگران وزیراعظم بنے تو انہوں نے قوم کو سادگی سکھانے کے لیے اپنے لیے ہر قسم کا سرکاری پروٹوکول منع کردیا ۔ ایک دن وہ مال سے گذررہے تھے کہدیکھا کہ پولیس نے ہرطرف ٹریفک جام کررکھی ہے۔ آدھا گھنٹہ انتظار کے بعد انہوں نے گاڑی کے قریب گذرتے ایک پولیس کانسٹیبل سے پوچھا
” بھإئی ۔ پچھلے آدھے گھنٹے سے ٹریفک کیوں بند ہے ؟ ۔
کانسٹیبل نے انہیں پہچانے بغیر کہا ” جناب گورنر پنجاب خواجہ رحیم گذر رہے ہیں”
ملک معراج خالد نے موبإئیل پر خواجہ رحیم سے رابطہ کیا اور کہا کہ ” آپ کے پروٹوکول میں میں بھی پھنسا ہوا ہوں۔ ”
خواجہ رحیم نے قہقہہ لگایا اور کہا ” ملک صاحب ۔ معذرت۔ لیکن اب تو میرے گذرنے کے بعد ہی ٹریفک کھلے گی اور میرے گذرنے میں ابھی 1 گھنٹہ باقی ہے”
چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ خواجہ رحیم کا قافلہ کافی دیر بعد گذرا ۔ اور سادگی پسند وزیراعظم صاحب کی گاڑی کو 2 گھنٹے کے بعد آگے بڑھنا نصیب ہوا

1998ء کے شروع میں وزیر اعلٰی پنجاب جناب شہباز شریف بھل صفائی کے سلسلہ میں قصورگئے تو انھوں نے ایک گورنمنٹ پرائمری سکول کا دورہ کیا۔ اسکی پانچویں جماعت کے سترہ بچوں میں سے کسی کو معلوم نہ تھا کہ پاکستان کا دارالحکومت کہاں واقع ہے۔ حتٰی کہ کوئی بچہ بانیِ پاکستان کا نام بھی نہ بتا سکا۔ وزیر اعلیٰ نے پوچھا ‘‘نوازشریف کون ہے۔‘‘ تو ایک بچہ نے معصومیت سے جواب دیا ‘‘بابرہ شریف کا بھائی؛؛

اقتباس : حکمرانوں نے کیسے گل کھلائے ۔۔ (غریب اللہ غازی )

صدر یحییٰ خان عیش و عشرت کا دلدادہ تھا۔ ایک روز قصرِصدارت میں مشہور خوبصورت اداکارہ ترانہ کو بلوایا ۔ اداکارہ ترانہ صدر یحییٰ سے ملاقات کے لیے اپنی کار پر سوار پریذیڈنٹ ہاؤس پہنچی۔ سنتری نے گاڑی کو بلاروک ٹوک اندر جانے دیا ۔ رات گئے جب ملاقات کے بعد واپس جانے لگی تو مرکزی دروازے پر موجود چاق و چوبند جوان نے اداکارہ ترانہ کو پرزور سیلیوٹ کیا ۔ اس پذیرائی پر اداکارہ ترانہ رک گئی اور سنتری سے پوچھا
” جب میں اندر گئی تھی تو تم نے سیلیوٹ نہیں‌کیا تھا۔ جب کہ اب واپس جاتے ہوئے تم سیلیوٹ کررہے ہو؟ اسکی کیا وجہ ہے ؟ ”
سپاہی نے بلاجھجک جواب دیا
” میڈم ! داخل ہوتے وقت آپ صرف ترانہ تھیں۔ اب صدرِ مملکت سے ملاقات کے بعد آپ ” قومی ترانہ ” بن چکی ہیں۔ اور قومی ترانے کو سیلیوٹ کرنا میرا فرض ہے “