Archive for the ‘عوامی شاعری’ Category

شوکت تھانوی
(۱)
پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار ایس پی سنگھا کے گیارہ بچوں کے نام کا آخری حصہ“ سنگھا” تھا۔جب ان کے ہاں بارہواں لڑکا پیدا ہواتو شوکت تھانوی سے مشورہ کیا کہ اس کا کیا نام رکھوں۔اس پر شوکت صاحب نے بے ساختہ کہا:آپ اس کا نام بارہ سنگھا رکھ دیجیے۔

(۲)
ایک ناشر نے کتابوں کے نئے گاہک سے شوکت تھانوی کا تعارف کراتے ہوئے کہا: آپ جس شخص کا ناول خرید رہے ہیں وہ یہی ذات شریف ہیں۔لیکن یہ چہرے سے جتنے بے وقوف معلوم ہوتے ہیں اتنے ہیں نہیں۔
شوکت تھانوی نے فوراً کہا: جناب مجھ میں اور میرے ناشر میں یہی بڑا فرق ہے۔یہ جتنے بے وقوف ہیں،چہرے سے معلوم نہیں ہوتے۔
پطرس بخاری
(1)
کرنل مجید نے ایک دفعہ پطرس بخاری سے کہا: اگر آپ اپنے مضامین کا مجموعہ چھپوائیں تو اس کا نام صحیح بخاری رکھیں۔
پطرس نے جواب دیا: اور اگر آپ اپنی نظموں کا مجموعہ چھپوائیں تو اس کانام کلام مجیدرکھیں۔
اسرار الحق مجاز
(۱)
رات کا وقت تھا۔مجاز کسی میخانے سے نکل کر یونیورسٹی روڈ پر ترنگ میں جھومتے ہوئے چلے جا رہے تھے۔اسی اثنا میں اُدھر سے ایک تانگا گزرا۔مجاز نے اسے آواز دی،تانگہ رک گیا۔مجاز اس کے قریب آئے اور لہرا کر بولے: اماں ، صدر جاؤ گے؟ تانگے والے نے جواب دیا:”ہاں ، جاؤں گا“
”اچھا تو جاؤ—–!“ یہ کہہ کر مجاز لڑھکتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔
(۲)
مجاز اور فراق کے درمیان کافی سنجیدگی سے گفتگو ہو رہی تھی۔ایک دم فراق کا لہجہ بدلا اور انہوں نے ہنستے ہوئے پوچھا:
”مجاز! تم نے کباب بیچنے کیوں بند کر دیے؟“
”آپ کے ہاں سے گوشت آنا جو بند ہو گیا۔“
مجاز نے اسی سنجیدگی سے فوراً جواب دیا۔
(۳)
مجاز تنہا کافی ہاؤس میں بیٹھے تھے کہ ایک صاحب جو ان کو جانتے نہیں تھے ،ان کے ساتھ والی کرسی پر آ بیٹھے۔کافی کا آرڈر دے کر انہوں نے اپنی کن سُری آواز میں گنگنانا شروع کیا:
احمقوں کی کمی نہیں غالب——–ایک ڈھونڈو، ہزار ملتے ہیں
مجاز نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ”ڈھونڈنے کی نوبت ہی کہاں آتی ہے حضرت! خود بخود تشریف لے آتے ہیں۔“
(۴)
کسی مشاعرے میں مجاز اپنی غزل پڑھ رہے تھے۔محفل پورے رنگ پر تھی اور سامعین خاموشی کے ساتھ کلام سن رہے تھے کہ اتنے میں کسی خاتون کی گود میں ان کا شیر خوار بچہ زور زور سے رونے لگا۔مجاز نے اپنی غزل کا شعر ادھورا چھوڑتے ہوئے حیران ہو کر پوچھا: بھئی!
یہ نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا؟
(۵)
سوز شاہجہانپوری ایک دن لکھنو کافی ہاؤس آ گئے اور مجاز کے میر پر آن بیٹھے۔کہنے لگے: بھائی مجاز! میں نے اپنا مجموعہٴ کلام تو مرتب کر لیا ہے۔اب اس کے لیے کسی موزوں نام کی تلاش ہے۔کوئی ایسا نام ہو جو نیا بھی ہو اور جس میں میرے نام کی رعایت بھی ہو۔
مجاز نے برجستہ کہا: ” سوزاک رکھ لو۔“
(۶)
کسی صاحب نے ایک بار مجاز سے پوچھا: کیوں صاحب ! آپ کے والدین آپ کی رِندانہ بے اعتدالیوں پر کچھ اعتراض نہیں کرتے؟
مجاز نے کہا: جی نہیں۔پوچھنے والے نے کہا: کیوں؟ مجاز نے کہا:” لوگوں کی اولاد سعادت مند ہوتی ہے۔ مگر میرے والدین سعادت مند ہیں۔“
غالب
(۱)
ایک مرتبہ جب ماہِ رمضان گزر چکا تو بہادر شاہ بادشاہ نے مرزا صاحب سے پوچھا کہ: مرزا، تم نے کتنے روزے رکھے؟غالب نے جواب دیا: پیر و مرشد ، ایک نہیں رکھا۔
(۲)
جب مرزا غالب قید سے چھوٹ کر آئے تو میاں کالے صاحب کے مکان میں آ کر رہے تھے۔ایک روز میاں صاحب کے پاس بیٹھے تھے کہ کسی نے آ کر قید سے چھوٹنے کی مبارکباددی۔مرزا نے کہا: کون بھڑوا قید سے چھوٹا ہے۔پہلے گورے کی قید میں تھا۔اب کالے کی قید میں ہوں۔
(۳)
ایک بار دلی میں رات گئے کسی مشاعرے یا دعوت سے مرزا غالب مولانا فیض الحسن فیض سہارنپوری کے ہمراہ واپس آ رہے تھے۔راستے میں ایک تنگ و تاریک گلی سے گزررہے تھے کہ آگے وہیں ایک گدھا کھڑا تھا۔مولانا نے یہ دیکھ کر کہا: مرزا صاحب! دلی میں گدھے بہت ہیں۔
مرزا نے کہا: نہیں حضرت، باہر سے آ جاتے ہیں۔مولانا جھینپ کر چپ ہو رہے۔
جوش ملیح آبادی
(۱)
عبدالحمید عدم کو کسی صاحب نے ایک بار جوش سے ملایا اور کہا:یہ عدم ہیں۔عدم کافی جسامت والے آدمی تھے۔جوش نے ان کے ڈیل ڈول کو بغور دیکھا اور کہنے لگے:
عدم یہ ہے تو وجود کیا ہو گا؟
(۲)
جوش نے پاکستان میں ایک بہت بڑے وزیر کو اردو میں خط لکھا۔لیکن اس کا جواب انہوں نے انگریزی میں دیا۔جواب میں جوش نے انہیں لکھا:جنابِ والا،میں نے تو آپ کو اپنی مادری زبان میں خط لکھا تھا۔لیکن آپ نے اس کا جواب اپنی پدری زبان میں تحریر فرمایا ہے۔
(۳)ایک مولانا کے جوش صاحب کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔کئی روز کی غیر حاضری کے بعد ملنے آئے تو جوش صاحب نے وجہ پوچھی۔کہنے لگے:کیا بتاؤں جوش صاحب،پہلے ایک گردے میں پتھری تھی اس کا آپریشن ہوا۔اب دوسرے گردے میں پتھری ہے۔
میں سمجھ گیا۔جوش صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔الله تعالیٰ آپ کو اندر سے سنگسار کر رہا ہے۔
(۴)
کسی مشاعرے میں ایک نو مشق شاعر اپنا غیر موزوں کلام پڑھ رہے تھے۔اکثر شعراء آدابِ محفل کو ملحوظ رکھتے ہوئے خاموش تھے لیکن جوش صاحب پورے جوش و خروش سے ایک ایک مصرعے پر دادو تحسین کی بارش کیے جا رہے تھے۔گوپی ناتھ امن نے ٹوکتے ہوئے پوچھا: قبلہ، یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟
جوش صاحب نے بہت سنجیدگی سے جواب دیا: منافقت۔اور پھر داد دینے میں مصروف ہو گئے۔
مولانا محمد علی جوہر
(۱)
مولانا محمد علی جوہر رام پور کے رہنے والے تھے۔ایک دفعہ سیتا پور گئے تو کھانے کے بعد میزبانوں نے پوچھا کہ آپ میٹھا تو نہیں کھائیں گے؟کیونکہ مولانا شوگر کے مریض تھے۔
مولانا بولے: بھئی کیوں نہیں لوں گا؟ میرے سسرال کا کھانا ہے کیسے انکار کروں؟
یہ سن کر سب لوگ حیران ہوئے اور پوچھا کہ سیتا پور میں آپ کے سسرال کیسے ہوئے ؟
تو مولانا بولے: سیدھی سی بات ہے کہ میں رام پور کا رہنے والا ہوں۔ظاہر ہے سیتا پور میرا سسرال ہوا۔
(۲)
مولانا محمد علی جوہر#،مولانا ذوالفقار علی خاں گوہر#، اور شوکت علی تین بھائی تھے۔شوکت صاحب منجھلے تھے۔انہوں نے 52۔54 سال کی عمر میں ایک اطالوی خاتون سے شادی کر لی۔اخبار نویس نے اور سوالات کرنے کے بعد مولانا شوکت علی سے پوچھا کہ آپ کے بڑے بھائی گوہر ہیں اور آپ کے چھوٹے بھائی جوہر،آپ کا کیا تخلص ہے تو فوراً بولے: شوہر۔
علامہ اقبال
(۱)
علامہ اقبال بچپن ہی سے بذلہ سنج اور شوخ طبیعت واقع ہوئے تھے۔ایک روز جب ان کی عمر گیارہ سال کی تھی انہیں سکول پہنچنے میں دیر ہو گئی۔ماسٹر صاحب نے پوچھا: اقبال تم دیر سے آئے ہو؟
اقبال نے بے ساختہ جواب دیا: جی ہاں، اقبال ہمیشہ دیر سے آتا ہے۔
(۲)
پنجاب کے مشہور قانون دان چودھری شہاب الدین علامہ کے بے تکلف دوستوں میں سے تھے۔ان کا رنگ کالا اور ڈیل ڈول زیادہ تھا۔ایک روز وہ سیاہ سوٹ پہنے ہوئے اور سیاہ ٹائی لگائے کورٹ میں آئے تو اقبال نے انہیں سر تا پا سیاہ دیکھ کر کہا:ارے چودھری صاحب، آج آپ ننگے ہی چلے آئے۔
(۳)
بمبئی میں عطیہ فیضی نے اقبال سے کہا:اقبال، عورت کی گود کے لیے بچے کا ہونا بہت ضروری ہے۔
اقبال نے کہا: اور مرد کی آغوش کے لیے؟
عطیہ بولی——–شٹ اپ
(۴)
علامہ اقبال کو ستار بجانے کا بہت شوق تھا۔ایک صبح ستار بجانے میں محو تھے کہ سر ذولفقار علی اور سردار جوگندر سنگھ تشریف لے آئے۔ان کو ستار بجاتے دیکھ کر جوگندر سنگھ بولے: ہر وقت ستار کو گود میں لیے بیٹھے رہتے ہو۔علامہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: کیا کروں ”سکھنی“ جو ہوئی۔
سردار صاحب نے بھی برجستہ جواب دیا: اچھا ہوا آج پتہ چل گیا کہ آپ ”سکھ دے“ ہو۔
انشاء اللہ خان انشاء
(۱)
جرات نابینا تھے۔ایک روز بیٹھے فکرِ سخن کر رہے تھے کہ انشاء آ گئے۔انہیں محو پایا تو پوچھا حضرت کس سوچ میں ہیں؟جرات نے کہا : کچھ نہیں۔بس ایک مصرع ہوا ہے۔شعر مکمل کرنے کی فکر میں ہوں۔انشاء نے عرض کیا : کچھ ہمیں بھی بتا چلے۔
جرات نے کہا: نہیں۔تم گرہ لگا کر مصرع مجھ سے چھین لو گے۔آخر بڑے اصرار کے بعد جرات نے بتایا۔مصرع تھا:
اس زلف پہ پھبتی شبِ دیجور کی سوجھی
انشاء نے فوراً گرہ لگائی:
اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی
جرات لاٹھی اٹھا کر انشا کی طرف لپکے۔دیر تک انشاء آگے اور پیچھے پیچھے ٹٹولتے ہوئے بھاگتے رہے۔

باری تعالٰی

ہم نے دنیا میں مثالی جاہ و حشمت دی تجھے
جو حریفِ اہل شہرت تھی وہ شہرت دی تجھے
اک نئی جُوتدت عطا کی، اک اچُھوتا اجتہاد
اک بڑی قوت بفضلِ علم و حکمت دی تجھے
مشرق و مضرب تیرے افکار سے مرعوب تھے
خود معلم بن کے تعلیمِ سیاست دی تجھے
صرف پاکستان ہی تجھ کو نہیں بخشا گیا
پاک نیت، پاک طینت، پاک سیرت دی تجھے
قائداعظم تجھے سارا جہاں کہنے لگا
کاروانِ اہل ملت کی قیادت دی تجھے
اب جو ہو کر فائزِ منزل یہاں آیا ہے تُو
پیش کش کو کیا ہمارے سامنے لایا ہے تُو

قائدِ اعظم
ہدیہ منت بارگاہِ خدا لایا ہوں میں
اُمت ختم رُسل کا شکریہ لایا ہوں میں
اپنے کافوری کفن کے گوشہ محدود میں
خون بھر کر ملتِ مظلوم کا لایا ہوں میں
پیش کرنے کے لئے منجانب قومِ ضعیف
استغاثہ مشتمل بر خُوں بہا لایا ہوں میں
دفترِ مستقبلِ ملت ہے شایان کرم
دستخط کو محضرِاہل وفا لایا ہوں میں
دستِ لرزاں میں مرے نقشہ ہے پاکستان کا
اور اس کے ساتھ ہی یہ التجا لایا ہوں میں
بسکہ ہے آغاز تیرے ہاتھ میں انجام بھی
سلطنت دی ہے تو دے اب اس کو استحکام بھی

باری تعالٰی
ملتِ مرحوم کا ہم خوں بہا دیں گے تجھے
تیرے ایثارِ مسلسل کا صلہ دیں گے تجھے
خُونِ ناحق سے رنگے جن وحشیوں نے اپنے ہاتھ
کیا مآل ان کا ہوا یہ بھی بتا دیں گے تجھے
تجھ کو تاریخِ جہانِ نو بھلا سکتی نہیں
ارض پاکستان کے ذرے دُعا دیں گے تجھے
اب چراغ رہگزر ہوں گے نقوش پا ترے
ہم منارِ روشنِ منزل بنا دیں گے تجھے
قوت عزمِ و عمل بخشیں گے تیری قوم کو
مدعائے دل بقدرِ التجا دیں گے تجھے
حال بھی روشن ہے پاکستان کا استقبال بھی
اس کو استحکام بھی قدرت ہے استقلال بھی

قائداعظم
میں ہوں یا رب تنگ داماں، تیری رحمت کم نہیں
اپنے مرجانے کا اب مجھ کو ذرا بھی غم نہیں
اب میں ہوں اپنی قومِ پسماندہ کو دیتا ہوں پیام
ہے یہ وقتِ شادمانی، موقعہ ماتم نہیں
کُلُ و نفس پڑھنے والے کیوں ہیں مجھ پر نوحہ خواں
میرا مر جانا خلافِ فطرتِ عالم نہیں
زندگی نو دماغوں میں مچلنی چاہیے
یہ قنوط و یاس، شایانِ بنی آدم نہیں
اس کا مسلک، اس کا نصب العین تو موجود ہے
تم میں گو باقی تمھارا قائدِ اعظم نہیں
گر نہیں قائد، نہ ہو، کونین کا آقا تو ہے
زندہ و باقی خدائے اعظم و اعلٰی تو ہے

علامہ سیماب اکبر آبادی مرحوم

وطن کو کچھ نہیں خطرہ، نظامِ زر ہے خطرے میں
حقیقت میں جو رہزن ہے وہی رہبر ہے خطرے میں

جو بیٹھا ہے صفِ ماتم بچھائے مرگِ ظلمت پر
وہ نوحہ گر ہے خطرے میں، وہ دانشور ہے خطرے میں

اگر تشویش لاحق ہے تو سلطانوں کو لاحق ہے
نہ تیرا گھر ہے خطرے میں، نہ میرا گھر ہے خطرے میں

جہاں اقبال بھی نزرِ خطِ تنسیخ ہو جالب
وہاں تجھ کو شکایت ہے، تیرا جوہر ہے خطرے میں

شاعر: حبیب جالب

بیس گھرانے ہیں آباد ہیں
اور کڑوڑوں ہیں ناشا
پرویز مشرف زندہ باد

آج بھی ہم پر حاوی ہے
کالی صدیوں کی بیداد
35روپے کلو آٹا
اس پر بھی ہے سناٹا
منشا، کریسنٹ، جنرل جی
بنے ہیں برلا اور ٹاٹ
ملک کے دشمن کہلاتے ہی
جب ہم کرتے ہیں فریاد
پرویز مشرف زندہ باد

لوٹ کا موسم ہے
پی پی کو کیا غم ہے
آج حکومت کے در پر
ہر شاہیں کا سر خم ہے
درس خودی دینے والوں کو
بھول گئی اقبال کی یاد
پرویز مشرف زندہ باد

عام ہوئی غنڈہ گردی
چپ ہیں سپاہی باوردی
شمع نوائے اہل سخن
کالے باغ نے گل کردی
بے نظیر کو قتل کرکے
کرلی ختم اپنی میعاد
پرویز مشرف زندہ باد

یہ میثاق جمہور کاکھیل۔
کیا کھولوں میں اس کا پول
بجتا رہے گا محلوں میں
کب تک یہ بے ہنگم ڈھول
سارے غریب ناراض ہوئے ہیں
سیٹھ ہوئے سیٹوں میں شا
پرویز مشرف زندہ باد

گلی گلی میں جنگ ہوئی
خلقت دیکھ کے دنگ ہوئی
اہل نظر کی ہربستی
سیاسی جہل کے ہاتھوں تنگ ہوئی
وہ دستور ہمیں بخشا ہے
نفرت ہے جس کی بنیاد
پرویز مشرف زندہ باد

روٹی، کپڑا اور دوا
گھر رہنے کو چھوٹا سا
مفت مجھے تعلیم دلا
میں بھی مسلماں ہوں واللہ
پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الا اللہ

امریکا سے مانگ نہ بھیک
مت کر لوگوں کی تضحیک
روک نہ جمہوری تحریک
چھوڑ نہ آزادی کی راہ
پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الا اللہ

کھیت وڈیروں سے لے لو
ملیں لٹیروں سے لے لو
ملک اندھیروں سے لے لو
رہے نہ کوئی عالی جاہ
پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الا اللہ

سرحد، سندھ، بلوچستان
تینوں ہیں پنجاب کی جان
اور بنگال ہے سب کی آن
آئے نہ ان کے لب پر آہ
پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الا اللہ

بات یہی ہے بنیادی
غاصب کی ہو بربادی
حق کہتے ہیں حق آگاہ
پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الا اللہ

شاعر: حبیب جالب


دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بےنور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے،تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہو
اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

شاعر حبیب جالب

اے خدا!
میرے پیارے سپاہی کی تلوار میں زنگ لگنے لگا ہے
اذانوں سے پہلے جو بیدار ہوتے تھے
اب دن چڑھے تک
چھپر کھٹ سے نیچے اترتے نہیں
دھوپ اگر سخت ہو جائے
بارش ذرا تیز ہو جائے تو
یہ جواں سال
گھر سے نکلتے نہیں
سرحدوں کے نگہبان اب کرسیوں کے طلب گار ہیں
اپنے آقا کے دربار میں
جنبش چشم و ابرو کی پیہم تلاوت میں مصروف ہیں
سر خمیدہ ہیں
شانے بھی آگے کو نکلے ہوئے
بس نصابِ تملق کی تکمیل میں منہمک!
میرا دل رو پڑا ہے
اے خدا!
میرے پیارے وطن پر یہ کیسی گھڑی ہے
تراشے ہوئے جسم
آسائشوں میں پڑے
اپنی رعنائیاں کھو رہے ہیں
ذہن کی ساری یکسوئی مفقود ہے
اہل طبل و علم
اہل جاہ و حشم بن رہے ہیں
اور اس بات پر
دیکھتی ہوں کہ مغرور ہیں!
اے خدا!
میرے پیارے سپاہی کو سرحد کا رستہ دکھا
عشق اموال و حبِ مناصب سے باہر نکال
اس کے ہاتھوں میں
بھولی ہوئی تیغ پھر سے تمھا!

شاعرہ : پروین شاکر

میری امید میرا پیار میری آس رہو
تم مجھے چھوڑ کے مت جاؤ میرے پاس رہو
٭٭٭٭٭٭٭
روزی روٹی کےلئے اپنا وطن مت چھوڑو
جس کو سینچا ہے لہو سے وہ چمن مت چھوڑو
جا کے پردیس میں چاہت کو ترس جاؤ گے
ایسی بے لوث محبت کو ترس جاؤ گے
پھول پردیس میں چاہت کا نہیں کھلتا ہے
عید کے دن بھی گلے کوئی نہیں ملتا ہے
٭٭٭٭٭٭٭
میں کبھی تم سے کروں گی نہ کوئی فرمائش
عیش و آرام کی جاگے گی نہ دل میں خواہش
فاطمہ بی بی کی باندی ہوں بھروسہ رکھو
میں تمہارے لئے جیتی ہوں بھروسہ رکھو
لاکھ دکھ درد ہوں ہنس ہنس کے گزر کر لوں گی
پیٹ پر باندھ کے پتھر بھی بسر کر لوں گی
٭٭٭٭٭٭٭
تم اگر جاؤ گے پردیس سجا کر سپنا
اور جب آؤ گے چمکا کے مقدر اپنا
میرے چہرے کی چمک خاک میں مل جائے گی
میری زلفوں سے یہ خوشبو بھی نہیں آئے گی
ہیرے اور موتی پہن کر بھی نہ سج پاؤں گی
سرخ جوڑے میں بھی بیوہ سی نظر آؤں گی
٭٭٭٭٭٭٭
درد فرقت غم تنہائی نہ سہہ پاؤں گی
میں اکیلی کسی صورت بھی نہ رہ پاؤں گی
میرے دامن کےلئے باغ میں کانٹے نہ چنو
تم نے جانے کی اگر ٹھان لی دل میں تو سنو
اپنے ہاتھوں سے مجھے زہر پلا کر جانا
میرے مٹی کو بھی مٹی میں ملا کر جانا

ہندوستان کی مشہور شاعرہ شبیرہ ادیب
بشکریہ: جواد رضا جامی

آہ! آج تیری قوم بھی غفلت شعار ہے
دنیا میں گم ہے دین بھی ناپائیدار ہے
ہر سمت ہے اسلام پر محشر کا سا عالم
کفار مومنوں سے برسرپیکار ہے
امریکا اس عراق کو جینے نہیں دیتا
اور اس کی پشت پر سعودی نابکار ہے
اسرائیل فلسطین کو بھنبھوڑ رہا ہے
چیچنیا پہ روس کی پیہم یلغار ہے
کشمیر پہ ہندو نے ڈھائے ہیں مظالم
مسلم ، درندے کافروں کا شکار ہے
لیکن یہ ہند و پاک کے مسلم کو کیا ہوا
کیوں کافروں کے سامنے بے اختیار ہے
کچھ تو کرم اے سرور دیں ﷺ اپنی قوم پر
اے شمع حرم ﷺ ملت بیضاءبیمار ہے

پھر ملت عاصی میں بھردے روح بیداری
پھر پشت عزازیل پہ لگا ضرب کاری

پھر جذبہ شہادت کا دے اس قوم کو اپنی
پھر سوئی ہوئی قوم کی ارواح جگا دے
پھر ہم میں بنا دے کوئی صدیق عمر عثماں
پھر حیدر کرار کے بازو کی ادا دے
پھر ہم میں پیدا کردے کوئی خالد و بلال
جو عزم سے اذان سے ہم سب کو اٹھا دے
ہم سارے فلسطین کو آزاد کرالیں
گر ہم میں خدا کربلا والوں سی وفا دے
اے بارگاہ ایزدی ، اے جان دو جہاں
ہم میں سے ہی اس قوم کو وہ مرد خدا دے
جو سارے زمانے سے مٹادے صف باطل
شیطان کے ایوان کو نعروں سے ہلا دے
پرچم تیرا ماؤنٹ ایورسٹ پہ لہرائے
باطل کے ہر نشان کو وہ آکے مٹا دے

اسلام چاہتا ہے محمد بن قاسم
جو ہم کو بنا ڈالے حر کی طرح مسلم

ہم میں پیدا کردے کوئی حوصلۂ بلال
روح پھونک دے ہم میں کوئی اصحاب بدر کی
جو قیصر و کسریٰ کی طرح روند دے انگلینڈ
جو روس کے ایوانوں میں دے بانگ سحر کی
اسرائیل کے پنجے سے چھڑالے جو فلسطین
تعلیم دے جو مسجد اقصیٰ کی قدر کی
امریکا کا وجود مٹادے جو عرب سے
دے ایسا کوئی شخص صدا ہے یہ عصر کی
اب تو نکال یاخدا کشمیر سے بھارت
حد ہوگئی کشمیریوں کے صبر و شکر کی
ظالم بنائے دین خدا میٹ رہے ہیں
ہر سمت حکومت ہے شیاطین و شرر کی
ہے جذبۂ جہاد ضروری برائے قوم
اسلام مانگتا ہے فتوحات عمر کی
(رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین)
ویسے تو آج بھی یہ مسلماں غیور ہے
لیکن یہ دنیا داری اب اسکا شعور ہے

دنیا نے مٹا ڈالے مسلمان کے جذبے
اے معطیٔ اسلام دنیا دار ہے مومن
باہر سے سو رہا ہے اسے ہوش نہیں ہے
لیکن یہ اپنی روح میں بیدار ہے مومن
مل جائے اگر اس کو حلاوت ایمان کی
تو اب بھی کافروں پہ بڑا بار ہے مومن
پھر جذبۂ حمزہ کی ضرورت ہے قوم کو
پھر ثبت حسینی کا طلب گار ہے مومن
مفقود ہیں فی الوقت شہادت کی امنگیں
ورنہ تو سرفروش سردار ہے مومن
پھر عزم ابوبکر کی خیرات اگر ہو
تو دیکھنا کہ کیسا وفا دار ہے مومن
ہو عشق بلالی اگر بیدار دلوں میں
تو جلتی ہوئی ریت کا انگار ہے مومن
(رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین)
اللہ گر عطا کرے ایمان دلوں میں
ہو ہاتھ میں تلوار تو قرآن دلوں میں

ہم نعرۂ تکبیر کی گردان کریں گے
اور بیت مقدس کو چھڑا لائیں جا کے
ہم روند دیں گے پاؤں سے یہ روس و امریکا
دم لیں گے اسرائیل کو دنیا سے مٹا کے
ہم حاکم حرمین کا قتال کریں جو
اندر سے یہودی ہیں مسلماں ہیں قبا کے
کشمیر کو آزاد کرائیں گے کفر سے
ہم توڑیں گے ابلیس کے سب پر فتن خاکے
چھا جائیں گے دنیا پہ مسلمان اور اسلام
مٹ جائیں گے چراغ سبھی اہل جفا کے
لیکن نہ جانے کس گھڑی اٹھیں گے مسلمان
جانے کب ہونگے محمل شیطاں میں دھماکے
اے کاش کہ ایمان کی حرارت لئے دل میں
اٹھ جائیں مسلمان بھروسے پہ خدا کے

اے جامیؔ ٹوٹے دل سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ صدا دو
اے شافع محشر ﷺکوئی اعجاز دکھا دو

لوگ اُٹھتے ہیں جب تیرے غریبوں کو جگانے
سب شہر کے زردار پہنچ جاتے ہیں تھانے

کہتے ہیں یہ دولت ہمیں بخشی ہے خدا نے
فرسودہ بہانے وہی افسانے پرانے

اے شیرِ مشرق! یہ ہی جوتے یہ بد ذات
پیتے ہیں لہو بندہِ مزدور کا دن رات

شاعر حبیب جالب