May
7
شوکت تھانوی
(۱)
پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار ایس پی سنگھا کے گیارہ بچوں کے نام کا آخری حصہ“ سنگھا” تھا۔جب ان کے ہاں بارہواں لڑکا پیدا ہواتو شوکت تھانوی سے مشورہ کیا کہ اس کا کیا نام رکھوں۔اس پر شوکت صاحب نے بے ساختہ کہا:آپ اس کا نام بارہ سنگھا رکھ دیجیے۔
(۲)
ایک ناشر نے کتابوں کے نئے گاہک سے شوکت تھانوی کا تعارف کراتے ہوئے کہا: آپ جس شخص کا ناول خرید رہے ہیں وہ یہی ذات شریف ہیں۔لیکن یہ چہرے سے جتنے بے وقوف معلوم ہوتے ہیں اتنے ہیں نہیں۔
شوکت تھانوی نے فوراً کہا: جناب مجھ میں اور میرے ناشر میں یہی بڑا فرق ہے۔یہ جتنے بے وقوف ہیں،چہرے سے معلوم نہیں ہوتے۔
پطرس بخاری
(1)
کرنل مجید نے ایک دفعہ پطرس بخاری سے کہا: اگر آپ اپنے مضامین کا مجموعہ چھپوائیں تو اس کا نام صحیح بخاری رکھیں۔
پطرس نے جواب دیا: اور اگر آپ اپنی نظموں کا مجموعہ چھپوائیں تو اس کانام کلام مجیدرکھیں۔
اسرار الحق مجاز
(۱)
رات کا وقت تھا۔مجاز کسی میخانے سے نکل کر یونیورسٹی روڈ پر ترنگ میں جھومتے ہوئے چلے جا رہے تھے۔اسی اثنا میں اُدھر سے ایک تانگا گزرا۔مجاز نے اسے آواز دی،تانگہ رک گیا۔مجاز اس کے قریب آئے اور لہرا کر بولے: اماں ، صدر جاؤ گے؟ تانگے والے نے جواب دیا:”ہاں ، جاؤں گا“
”اچھا تو جاؤ—–!“ یہ کہہ کر مجاز لڑھکتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔
(۲)
مجاز اور فراق کے درمیان کافی سنجیدگی سے گفتگو ہو رہی تھی۔ایک دم فراق کا لہجہ بدلا اور انہوں نے ہنستے ہوئے پوچھا:
”مجاز! تم نے کباب بیچنے کیوں بند کر دیے؟“
”آپ کے ہاں سے گوشت آنا جو بند ہو گیا۔“
مجاز نے اسی سنجیدگی سے فوراً جواب دیا۔
(۳)
مجاز تنہا کافی ہاؤس میں بیٹھے تھے کہ ایک صاحب جو ان کو جانتے نہیں تھے ،ان کے ساتھ والی کرسی پر آ بیٹھے۔کافی کا آرڈر دے کر انہوں نے اپنی کن سُری آواز میں گنگنانا شروع کیا:
احمقوں کی کمی نہیں غالب——–ایک ڈھونڈو، ہزار ملتے ہیں
مجاز نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ”ڈھونڈنے کی نوبت ہی کہاں آتی ہے حضرت! خود بخود تشریف لے آتے ہیں۔“
(۴)
کسی مشاعرے میں مجاز اپنی غزل پڑھ رہے تھے۔محفل پورے رنگ پر تھی اور سامعین خاموشی کے ساتھ کلام سن رہے تھے کہ اتنے میں کسی خاتون کی گود میں ان کا شیر خوار بچہ زور زور سے رونے لگا۔مجاز نے اپنی غزل کا شعر ادھورا چھوڑتے ہوئے حیران ہو کر پوچھا: بھئی!
یہ نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا؟
(۵)
سوز شاہجہانپوری ایک دن لکھنو کافی ہاؤس آ گئے اور مجاز کے میر پر آن بیٹھے۔کہنے لگے: بھائی مجاز! میں نے اپنا مجموعہٴ کلام تو مرتب کر لیا ہے۔اب اس کے لیے کسی موزوں نام کی تلاش ہے۔کوئی ایسا نام ہو جو نیا بھی ہو اور جس میں میرے نام کی رعایت بھی ہو۔
مجاز نے برجستہ کہا: ” سوزاک رکھ لو۔“
(۶)
کسی صاحب نے ایک بار مجاز سے پوچھا: کیوں صاحب ! آپ کے والدین آپ کی رِندانہ بے اعتدالیوں پر کچھ اعتراض نہیں کرتے؟
مجاز نے کہا: جی نہیں۔پوچھنے والے نے کہا: کیوں؟ مجاز نے کہا:” لوگوں کی اولاد سعادت مند ہوتی ہے۔ مگر میرے والدین سعادت مند ہیں۔“
غالب
(۱)
ایک مرتبہ جب ماہِ رمضان گزر چکا تو بہادر شاہ بادشاہ نے مرزا صاحب سے پوچھا کہ: مرزا، تم نے کتنے روزے رکھے؟غالب نے جواب دیا: پیر و مرشد ، ایک نہیں رکھا۔
(۲)
جب مرزا غالب قید سے چھوٹ کر آئے تو میاں کالے صاحب کے مکان میں آ کر رہے تھے۔ایک روز میاں صاحب کے پاس بیٹھے تھے کہ کسی نے آ کر قید سے چھوٹنے کی مبارکباددی۔مرزا نے کہا: کون بھڑوا قید سے چھوٹا ہے۔پہلے گورے کی قید میں تھا۔اب کالے کی قید میں ہوں۔
(۳)
ایک بار دلی میں رات گئے کسی مشاعرے یا دعوت سے مرزا غالب مولانا فیض الحسن فیض سہارنپوری کے ہمراہ واپس آ رہے تھے۔راستے میں ایک تنگ و تاریک گلی سے گزررہے تھے کہ آگے وہیں ایک گدھا کھڑا تھا۔مولانا نے یہ دیکھ کر کہا: مرزا صاحب! دلی میں گدھے بہت ہیں۔
مرزا نے کہا: نہیں حضرت، باہر سے آ جاتے ہیں۔مولانا جھینپ کر چپ ہو رہے۔
جوش ملیح آبادی
(۱)
عبدالحمید عدم کو کسی صاحب نے ایک بار جوش سے ملایا اور کہا:یہ عدم ہیں۔عدم کافی جسامت والے آدمی تھے۔جوش نے ان کے ڈیل ڈول کو بغور دیکھا اور کہنے لگے:
عدم یہ ہے تو وجود کیا ہو گا؟
(۲)
جوش نے پاکستان میں ایک بہت بڑے وزیر کو اردو میں خط لکھا۔لیکن اس کا جواب انہوں نے انگریزی میں دیا۔جواب میں جوش نے انہیں لکھا:جنابِ والا،میں نے تو آپ کو اپنی مادری زبان میں خط لکھا تھا۔لیکن آپ نے اس کا جواب اپنی پدری زبان میں تحریر فرمایا ہے۔
(۳)ایک مولانا کے جوش صاحب کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔کئی روز کی غیر حاضری کے بعد ملنے آئے تو جوش صاحب نے وجہ پوچھی۔کہنے لگے:کیا بتاؤں جوش صاحب،پہلے ایک گردے میں پتھری تھی اس کا آپریشن ہوا۔اب دوسرے گردے میں پتھری ہے۔
میں سمجھ گیا۔جوش صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔الله تعالیٰ آپ کو اندر سے سنگسار کر رہا ہے۔
(۴)
کسی مشاعرے میں ایک نو مشق شاعر اپنا غیر موزوں کلام پڑھ رہے تھے۔اکثر شعراء آدابِ محفل کو ملحوظ رکھتے ہوئے خاموش تھے لیکن جوش صاحب پورے جوش و خروش سے ایک ایک مصرعے پر دادو تحسین کی بارش کیے جا رہے تھے۔گوپی ناتھ امن نے ٹوکتے ہوئے پوچھا: قبلہ، یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟
جوش صاحب نے بہت سنجیدگی سے جواب دیا: منافقت۔اور پھر داد دینے میں مصروف ہو گئے۔
مولانا محمد علی جوہر
(۱)
مولانا محمد علی جوہر رام پور کے رہنے والے تھے۔ایک دفعہ سیتا پور گئے تو کھانے کے بعد میزبانوں نے پوچھا کہ آپ میٹھا تو نہیں کھائیں گے؟کیونکہ مولانا شوگر کے مریض تھے۔
مولانا بولے: بھئی کیوں نہیں لوں گا؟ میرے سسرال کا کھانا ہے کیسے انکار کروں؟
یہ سن کر سب لوگ حیران ہوئے اور پوچھا کہ سیتا پور میں آپ کے سسرال کیسے ہوئے ؟
تو مولانا بولے: سیدھی سی بات ہے کہ میں رام پور کا رہنے والا ہوں۔ظاہر ہے سیتا پور میرا سسرال ہوا۔
(۲)
مولانا محمد علی جوہر#،مولانا ذوالفقار علی خاں گوہر#، اور شوکت علی تین بھائی تھے۔شوکت صاحب منجھلے تھے۔انہوں نے 52۔54 سال کی عمر میں ایک اطالوی خاتون سے شادی کر لی۔اخبار نویس نے اور سوالات کرنے کے بعد مولانا شوکت علی سے پوچھا کہ آپ کے بڑے بھائی گوہر ہیں اور آپ کے چھوٹے بھائی جوہر،آپ کا کیا تخلص ہے تو فوراً بولے: شوہر۔
علامہ اقبال
(۱)
علامہ اقبال بچپن ہی سے بذلہ سنج اور شوخ طبیعت واقع ہوئے تھے۔ایک روز جب ان کی عمر گیارہ سال کی تھی انہیں سکول پہنچنے میں دیر ہو گئی۔ماسٹر صاحب نے پوچھا: اقبال تم دیر سے آئے ہو؟
اقبال نے بے ساختہ جواب دیا: جی ہاں، اقبال ہمیشہ دیر سے آتا ہے۔
(۲)
پنجاب کے مشہور قانون دان چودھری شہاب الدین علامہ کے بے تکلف دوستوں میں سے تھے۔ان کا رنگ کالا اور ڈیل ڈول زیادہ تھا۔ایک روز وہ سیاہ سوٹ پہنے ہوئے اور سیاہ ٹائی لگائے کورٹ میں آئے تو اقبال نے انہیں سر تا پا سیاہ دیکھ کر کہا:ارے چودھری صاحب، آج آپ ننگے ہی چلے آئے۔
(۳)
بمبئی میں عطیہ فیضی نے اقبال سے کہا:اقبال، عورت کی گود کے لیے بچے کا ہونا بہت ضروری ہے۔
اقبال نے کہا: اور مرد کی آغوش کے لیے؟
عطیہ بولی——–شٹ اپ
(۴)
علامہ اقبال کو ستار بجانے کا بہت شوق تھا۔ایک صبح ستار بجانے میں محو تھے کہ سر ذولفقار علی اور سردار جوگندر سنگھ تشریف لے آئے۔ان کو ستار بجاتے دیکھ کر جوگندر سنگھ بولے: ہر وقت ستار کو گود میں لیے بیٹھے رہتے ہو۔علامہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: کیا کروں ”سکھنی“ جو ہوئی۔
سردار صاحب نے بھی برجستہ جواب دیا: اچھا ہوا آج پتہ چل گیا کہ آپ ”سکھ دے“ ہو۔
انشاء اللہ خان انشاء
(۱)
جرات نابینا تھے۔ایک روز بیٹھے فکرِ سخن کر رہے تھے کہ انشاء آ گئے۔انہیں محو پایا تو پوچھا حضرت کس سوچ میں ہیں؟جرات نے کہا : کچھ نہیں۔بس ایک مصرع ہوا ہے۔شعر مکمل کرنے کی فکر میں ہوں۔انشاء نے عرض کیا : کچھ ہمیں بھی بتا چلے۔
جرات نے کہا: نہیں۔تم گرہ لگا کر مصرع مجھ سے چھین لو گے۔آخر بڑے اصرار کے بعد جرات نے بتایا۔مصرع تھا:
اس زلف پہ پھبتی شبِ دیجور کی سوجھی
انشاء نے فوراً گرہ لگائی:
اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی
جرات لاٹھی اٹھا کر انشا کی طرف لپکے۔دیر تک انشاء آگے اور پیچھے پیچھے ٹٹولتے ہوئے بھاگتے رہے۔
|
| Published on May 7th, 2010 | No Comments |
|