مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرانے والے نجی فضائی کمپنی کے مسافر طیارے کے ملبے سے بلیک باکس کی تلاش جاری ہے۔
جمعہ کو موسم بہتر ہونے کی وجہ سے اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے ارکان اور امدادی کارکنوں نے اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے۔خیال رہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سیفٹی انوسٹیگیشن بورڈ کے صدر ائر کمووڈور خواجہ ایم مجید کی سربراہی میں بننے والی سات رکنی ٹیم میں تکنیکی اور آپریشنل فیلڈ میں مہارت رکھنے والے افراد شامل ہیں اس کے علاوہ حادثے کا شکار ہونے والی نجی فضائی کمپنی کا ایک نمائندہ بھی شامل ہے۔
اہلکار نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ موسم صاف رہنے کی صورت میں بلیک باکس کی تلاش آسان ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جائے حادثہ سے مزید نمونے اکھٹے کرکے اُنہیں ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھجوادیا گیا ہے۔طیارے کے ملبے کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کرنا ممکن نہیں ہے اور ان کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں کاٹ کر امدادی کارکن اپنے کاندھوں پر رکھ کر نیچے لیکر آئیں گے
اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی آپریشن کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار بھی بلیک باکس کی تلاش کے سلسلے میں ہونے والی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزار سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو پہاڑی کے دوسری جانب بھی تعینات کیا گیا ہے جہاں پر وہ علاقے میں سرچ آپریشن کر رہے ہیں۔
اُدھر فرانس کی ماہرین کی ٹیم نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا اور حادثے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کا مذکورہ غیر ملکی ٹیم سے مکمل رابطہ ہے۔
اس حادثے میں ہلاک ہونے والے ایسے افراد جن کی شناخت ابھی تک نہیں ہوئی اُن کی شناخت کے لیے رشتہ داروں کے ڈی این اے ٹیسٹ لیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ حادثے کا شکار ہونے والہ طیارہ فرانس کی کمپنی کا ہے اور کمپنی کے اہلکار اپنے طور پر اس واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
جمعرات کو تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان نے جائے حادثہ سے کچھ شواہد اکھٹے کیے ہیں جنہیں لیبارٹری بھجوایا دیا گیاہے۔
کمیٹی کے ساتھ کام کرنے والے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جب تک حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کا بلیک باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈر نہیں مل جاتا اُس وقت تک اس بات کا سراغ لگانے میں کامیابی نہیں مل سکتی کہ حادثے کی وجوہات کیا تھیں۔
انہوں نے کہا کہ حادثہ سے پہلے طیارے کے پائلٹ اور اسلام آباد ائرپورٹ کے کنٹرول ٹاور سے جو آخری رابطہ ہوا تھا اُس کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات شفاف طریقے سے کی جائیں گی اور عوام کو اس سانحے کے بارے میں ہونے والی تحقیقات سے آگاہ کیا جائے گا۔