یہ تاریخی مضمون جناب ڈاکٹر میاں احسان باری نے 1973میں تیار کیا۔ اسی کو تقسیم کرنے پر 26مئی 1974کو سابقہ ربوہ اور حال چناب نگر کے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباءکا قادیانیوں سے جھگڑا ہوا جس پر قادیانیوں نے ان پر سوات سے واپس آتے ہوئے 29مئی 1974کو اسی اسٹیشن پرمسلح حملہ کر ڈالا اور 187طلباءکو زخمی کیا۔ اس واقعہ کی بازگشت پوری دنیا میں سنی گئی تو تحقیقات کیلئے ہائیکورٹ کے فل بنچ جس کی سربراہی جسٹس صمدانی کر رہے تھے‘ کو تفویض کی گئی ۔ڈاکٹر احسان باری کے مطابق انہوں نے اسی پمفلٹ کو وجہ تنازعہ قرار دیتے ہوئے اسکے مندرجات قادیانیوں کی تمام کتب منگوا کر حوالہ جات کی نسبت سے چیک کیے‘ تو یہ تمام کفریہ کلمات اور خرافات ان کتب سے حرف بحرف ثابت ہو گئیں۔ ان کے مطابق پھر یہی پمفلٹ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا مفتی محمود اور مولانا شاہ احمد نورانی نے بحثوں کے دوران پیش کیا۔ تمام قومی اسمبلی کے ممبران نے بھی ان حوالہ جات کو دیکھا حتیٰ کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو یہ تاریخی مضمون پیش کیاگیا۔ تمام حلقے ان کفریہ کلمات کو انکی کتابوں میں مندرج دیکھ کر سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور سخت سٹپٹائے۔ بالآخر 7ستمبر 1974کو قومی اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ یہ پمفلٹ پھر عوام اور اسلامیان پاکستان کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے تا کہ وہ ان مرتدین کی سازشوں کو سمجھیں اور حکمران اور پاکستانی عوام انکی چالوں میں ہرگزہرگزنہ آئیں۔ آمین ۔
خدا کے دشمن ، خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ، عامة المسلمین کے دشمن ، ننگ دین و ننگ وطن مرزائی ٹولے کی ناپاک و مکروہ سازشوں سے پردہ اٹھتا ہے۔ان کو ان ہی کی اپنی تحریروں کے آئینوں میں دیکھئے اور خدارا سوچئے اور فیصلہ کیجئے کیا یہ ہمارے دوست ہیں یا بد ترین دشمن ….؟ کیا یہ دل آزار اور اشتعال انگیز تحریریں مسلمانوں کیلئے قابل برداشت ہیں اور امت مسلمہ ایسے لوگوں کو گوارا کر سکتی ہے….؟
دعویٰ خدائی :نمبر ۱ : میں نے اپنے تئیں خدا کے طور پر دیکھا ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور میں نے آسمان کو تخلیق کیا ہے۔(آئینہ کمالات صفحہ ۴۶۵، مرزا غلام احمد قادیانی )
نمبر۲: خدا نمائی کا آئینہ میں ہوں۔ (نزول المسیح ص ۴۸)
نمبر ۳: ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جو حق اور بلندی کا مظہر ہو گا ، گویا خدا آسمان سے اترے گا۔ (تذکرہ ط ۲ص ۶۴۶(انجام آتھم ص ۲۶)
نمبر ۴: مجھ سے میرے رب نے بیعت کی۔ ( دافع البلاءص ۶)
نبوت کے دعوے : نمبر ۱ پس مسیح موعود (مرزا غلام احمد ) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ہاں!اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔ (کلمہ الفصل صفحہ ۸۵۱مصنفہ مرزا بشیر احمد ایڈیشن اول )۔گویا ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ” کے معنی ان کے نزدیک ہیں ” لا الہ الا اللہ مرزا رسول اللہ ” (نعوذ باللہ ) جو دوبارہ قادیان میں آیا ہے۔
نمبر ۲ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تین ہزار معجزات ہیں۔(تحفہ گولڑویہ صفحہ ۷۶مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی ) میرے معجزات کی تعداد دس لاکھ ہے۔ (براہین احمدیہ صفحہ ۷۵ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )۔
نمبر ۳: انہوں نے (یعنی مسلمانوں نے) یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے ….ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی …. قدر کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے ورنہ ایک نبی تو کیا‘ میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی ہونگے۔ (انوار خلافت، مصنفہ بشیر الدین محمود احمد صفحہ ۲۶)
نمبر ۴: ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں (بدر۵مارچ 1908ئ)۔
نمبر ۵: میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا اور میرا نام نبی رکھا۔ (تتمہ حقیقة الوحی ۸۶)۔
نمبر ۶: اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے یہ کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے‘ کذاب ہے‘ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔ ( انوار خلافت صفحہ ۵۶)۔
نمبر ۷: یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ (حقیقت النبوت مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ قادیان ص ۸۲۲)۔
نمبر ۸: مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا ، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں ، اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بد قسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔ (کشتی نوح صفحہ ۶۵، طبع اول قادیان ۲۰۹۱ئ)
تمام انبیاءکا مجموعہ : دنیا میں کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ میں آدم ہوں۔ میں نوح ہوں ، میں ابراہیم ، میں اسحاق ہوں ، میں یعقوب ہوں ، میں اسماعیل ہوں۔ میں داود ہوں ، میں موسیٰ ہوں ، میں عیسیٰ ابن مریم ہوں ، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ ( تتمہ حقیقت الوحی ، مرزا غلام احمد ص ۴۸)۔
نبوت مرزا غلام احمد قادیانی پر ختم: اس امت میں نبی کا نام پانے کیلئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں ہیں۔ (حقیقت الوحی ، مرزا غلام احمد صفحہ ۱۹۳)۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ۔نمبر ۱: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھالیتے تھے حالانکہ مشہو رتھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔ (جھوٹے پر لعنت) (مکتوب مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار الفضل ۲۲فروری ۴۲۹۱ء)
نمبر ۲: مرزا قادیانی کا ذہنی ارتقاءآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا۔ ( بحوالہ قادیانی مذہب صفحہ ۶۶۲، اشاعت نہم مطبوعہ لاہور )
نمبر ۳: اسلام محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پہلی رات کے چاند کی طرح تھا اور مرزا قادیانی کے زمانہ میں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہو گیا۔ (خطبہ الہامیہ صفحہ ۴۸۱)۔
نمبر ۴: مرزا قادیانی کی فتح مبین آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح مبین سے بڑھ کر ہے۔ (خطبہ الہامیہ صفحہ ۳۹۱)۔
نمبر ۵: اس کے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لیے چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔ ( اعجاز احمدی مصنفہ غلام احمد قادیانی ص ۱۷)
نمبر ۶ :
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(قاضی محمد ظہور الدین اکمل۵۲اکتوبر ۶۰۹۱ئ)۔
نمبر ۷۔ دنیا میں کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔ (حقیقت الوحی ص ۹۸ از مرزا غلام احمد قادیانی )۔
نمبر ۸: اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد صلعم کو اتارا تا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرے۔ (کلمہ الفصل ص ۵۰۱، از مرزا بشیر احمد )۔
نمبر ۹: سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ ( دافع البلاءکلاں تختی ص ۱۱، تختی خورد ص ۳۲، انجام آتھم ص ۲۶)۔
نمبر ۰۱۔ مرزائیوں نے ۷۱جولائی ۲۲۹۱ءکے ( الفضل) میں دعویٰ کیا کہ یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ (استغفر اللہ)۔
نمبر۱۱۔ مرزا غلام احمد لکھتے ہیں : خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے۔( ایک غلطی کا ازالہ صفحہ نمبر ۰۱)۔
نمبر ۲۱: منم مسیح زماں و منم کلیم خدا منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
ترجمہ ! میں مسیح ہوں‘ موسیٰ کلیم اللہ ہوں اور محمد اور احمد مجتبیٰ ہوں۔ (تریاق القلوب ص ۵، مصنفہ غلام احمد قادیانی )
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین۔نمبر۱: آپ کا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا)خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں ، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ ( ضمیمہ انجام آتھم ،حاشیہ ص ۷ مصنفہ غلام احمد قادیانی )۔
نمبر ۲: مسیح (علیہ السلام ) کا چال چلن کیا تھا ، ایک کھاو¿ پیو ، نہ زاہد ، نہ عابد نہ حق کا پرستار ، متکبر ، خود بین ، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔ (مکتوبات احمدیہ صفحہ نمبر ۱۲ تا ۴۲ جلد ۳)۔
نمبر ۳: یورپ کے لوگوںکو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔ (کشتی نوح حاشیہ ص ۵۷ مصنفہ غلام احمد قادیانی )۔
نمبر ۴: ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو ‘ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ (دافع البلاءص ۰۲)۔
نمبر ۵: عیسیٰ کو گالی دینے ، بد زبانی کرنے اور جھوٹ بولنے کی عادت تھی اور چور بھی تھے۔ ( ضمیمہ انجام آتھم ص ۵،۶)۔
نمبر ۶: یسوع اس لیے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکتا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور خراب چلن ، نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداءہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کادعویٰ شراب خوری کا ایک بد نتیجہ ہے۔ (ست بچن ، حاشیہ ، صفحہ ۲۷۱، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )
حضرت علی کرم اللہ وجہ کی توہین : پرانی خلافت کا جھگڑا۔ چھوڑو اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی ( مرزا صاحب ) تم میں موجود ہے۔ اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی (حضرت علیؓ) کو تلاش کرتے ہو۔(ملفوظات احمدیہ ، ۱۳۱جلد اول )
حضرت فاطمہ الزاہراؓ کی توہین :حضرت فاطمہ ؓنے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔ ( ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص ۹مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )۔
حضرت امام حسینؓ کی توہین:نمبر۱ : دافع البلاءمیں ص ۳۱پر مرزا غلام احمد نے لکھا ہے میں امام حسین ؓسے بر تر ہوں۔
نمبر۲: مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ (اعجاز احمدی صفحہ ۹۶)۔
نمبر ۳: اور میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسینؓ دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔ (اعجاز احمدی صفحہ ۱۸)۔
نمبر ۴: کربلا ئیست سیر ہر آنم صد حسین اس در گر یبانم
میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ میرے گریبان میں سو حسین پڑے ہیں۔ (نزول المسیح ص ۹۹مصنفہ مرزا غلام احمد )۔
نمبر ۵: اے قوم شیعہ ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں سے ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔ (دافع البلاءص ۳۱، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )۔
نمبر ۶ : تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے۔۔۔۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔ ( اعجاز احمد ی ص ۲۸، مصنفہ مرزا غلام احمد )۔
اس عبارت میں مرزا صاحب نے حضرت حسین ؓکے ذکر کو “گوہ” کے ڈھیر سے تشبیہ دی ہے۔
مکہ اور مدینہ کی توہین ۔نمبر۱: حضرت مسیح موعود نے اسکے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں نہ آئے‘ مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماو¿ںکا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔ (مرزا بشیر الدین محمود احمد مندرجہ حقیقت الرویا ص ۶۴)۔
نمبر ۲: قرآن شریف میں تین شہروں کا ذکر ہے یعنی مکہ اور مدینہ اور قادیان کا۔ (خطبہ الہامیہ ص ۰۲حاشیہ)
مسلمانوں کی توہین۔نمبر۱: ک±ل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا اور میری دعوت کی تصدیق کر لی مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔ (آئینہ کمالات ص ۷۴۵)۔
نمبر۲: جو دشمن میرا مخالف ہے‘ وہ عیسائی ، یہودی ، مشرک اور جہنمی ہے۔ (نزول المسیح ص ۴، تذکرہ ۷۲۲)۔
نمبر ۳: میرے مخالف جنگلوں کے سور ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔ (نجم الہدیٰ ص ۳۵ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)۔
نمبر ۴: جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔ ( انوارالاسلام ص ۰۳مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)۔
اسلام کی مقدس اصطلاحات کا ناجائز استعمال ۔ نمبر۱: ام المومنین کی اصطلاح کا استعمال مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کیلئے کیا جاتا ہے۔یہ اصطلاح نبی کریم ﷺکی ازواج مطہرات کیلئے مخصوص ہے۔
نمبر۲ سیدةالنساءکی اصطلاح بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی بیٹی کیلئے استعمال کی جاتی ہے حالانکہ حدیث پاک کی رو سے یہ اصطلاح صرف خاتون جنت حضرت فاطمة الزہراءرضی اللہ تعالیٰ عنہا کیلئے مخصوص ہے۔
دین اسلام کی توہین ۔قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی نبوت کے بغیر دین اسلام لعنتی ، شیطانی ، مردہ اور قابل نفرت ہے۔ (ضمیمہ براہین پنجم ص ۳۸۱، ملفوظات ص ۷۲۱جلد۱)۔
تمام مسلمان کافر ہیں : نمبر۱: جو شخص مجھ پر ایمان نہیں رکھتا‘ وہ کافر ہے۔ (حقیقت الوحی نمبر ۳۶۱، از مرزا غلام احمد قادیانی )۔
نمبر۲: ک±ل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد ) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ (آئینہ صداقت ص ۵۳، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان )۔
نمبر ۳: تحریک احمدیت اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو اخبار بدر نمبر ۳۴، جدل ۲قادیان

معزز قارئین کرام ! السلام و علیکم: گونج اخبار کے ذریعے اور اس سے پہلے دیس پردیس، ماہنامہ پاکستان اور ہفت روزہ اوورسیز کے ذریعے میں ملک و قوم کی بہت سالوں سے خاموش خدمت کر رہا ہوں۔ آنے والے وقت میں جب کوئی شخص آسٹریلیا میں صحافت کی تاریخ رقم کرے گا اوراگر وہ باضمیر ہوا تو صحافت میں میری خدمات سے چشم پوشی نہیں کرے گا۔ اخبار نکالنا ایک کٹھن کام ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کی ناراضگی بھی مول لینی پڑتی ہے اور یہ بہت زیادہ مشکل ہو جاتا ہے کہ سبھی لوگ آپ کے ہمخیال ہوں۔میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ جسے میں صحیح سمجھتا ہوں اسے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پیش کر دیا جائے اور فیصلے کا حق قارئین کو دے دیا جائے۔اکثر یہ سوال بھی کیا جاتا ہے جسے میں تجاہل عارفانہ کا نام دیتا ہوں کہ آخر یہ ڈاکٹر خالد رشید ساگر نامی شخص چاہتا کیا ہے؟ اور اس کی گونج کو کیسے بند کیا جا سکتا ہے؟ویسے تو بہت سے مسائل ہیں لیکن آئیے ایک ایک کرکے انکا جائزہ لیتے ہیں۔میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ ذاتی حیثیت سے اگر کوئی پاکستانی کوئی غلط کام کرتا ہے تو اسکو چھیڑنا میرا شیوہ نہیں ہے لیکن جب بھی کوئی شخص کوئی پلیٹ فارم استعمال کرے گا اور پھر کوئی غلط حرکت کرے گا تو میں سمجھتا ہوں کہ ایک باضمیر انسان اور صحافی ہونے کی حیثیت سے یہ میرا فرض بنتا ہے کہ میں اس کے عمل سے دوسروں کو آگاہ کروں۔ یہاں پر یہ بھی وضاحت کرتا چلوں کہ کمیونٹی میں ایسے بھی لوگ ہیں جو اس کے بھی خلاف ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ جو کوئی جو کچھ بھی کرتا رہے اسے اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے۔ ذرا خیال کریں کہ اگر ہر شخص کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو پھر معاشرے میں کیسی افراتفری پیدا ہوسکتی ہے۔میں مثال دے کر واضح کرتا ہوں۔ گونج کی سابقہ اشاعتوں میں وجیہہ بٹر صا حبہ جو کہ آسٹریلیا کے معروف پاکستانی وکیل پرویز بٹر کی صاحبزادی ہیں کے بارے میں لکھا گیا۔اسکی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے یہاں کے ایک انگریزی میگزین کو جو انٹرویو دیا تھا وہ اپنی ذاتی حیثیت سے نہیں دیا تھا بلکہ پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا کی جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے دیا تھا۔اس لئے انکی پریشان خیالی کو دور کرنا میں نے اپنا فرض سمجھا اور ”روشن خیال مسلمان“ کے نام سے میں نے ایک مضمون لکھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آسٹریلیا میں دین کے علمبرداروں میں سے بھی کوئی اٹھتا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر وہ مہر بہ لب رہے۔ اب جبکہ وہ ایسوسی ایشن سے الگ ہو چکی ہیں اور اب وہ ایک عام پاکستانی نژاد آسٹریلوی شہری ہیں اس لئے کم از کم گونج میں انکے بارے میں آپ مزید کچھ نہیں پڑھیں گے۔ یہی حال شاعر کہلانے والے سعید خان صاحب کا تھا کہ وہ بھی اردو سوسائٹی اور ایسوسی ایشن کے اہم مناصب پر فائز رہنے کے ساتھ ساتھ کونسلر بھی تھے۔ اس لئے ان کی حرکات وسکنات پر اکثر لکھا جاتا رہا۔ خاص طور پر جب انہوں نے ایک متنازعہ شخصیت افتی نسیم صاحب (صاحبہ) کو امریکہ سے بلوایا۔ اب جبکہ سعید صاحب تمام مناصب سے فارغ ہو چکے ہیں اس لئے انکا کوئی قول و فعل میری نظر میں اس قابل نہیں ہے کہ مزید اس پر کچھ لکھا جائے اور نہ ہی کمیونٹی کو اس سے کوئی دلچسپی ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر اکرم حسن اور اعجاز خان کے کردار پر اگر گونج میں کبھی کچھ لکھا بھی گیا تو اسکی بھی یہی وجہ تھی کہ وہ پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا کا پلیٹ فارم استعمال کررہے تھے۔ اب جبکہ وہ کوئی بھی عوامی پلیٹ فارم استعمال نہیں کر رہے اس لئے وہ ایک عام شہری ہیں۔البتہ انہوں نے جاتے وقت پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا کے جو نام نہاد الیکشن کروائے وہ سخت ترین قابل اعتراض ہیں کیونکہ انہوں نے جان بوجھ کر اسی مسلسل روایت کو فروغ دیا کہ جس کے پاس پیسے ہوں وہ ادا کر کے ایسوسی ایشن کی کوئی بھی پوسٹ خرید سکتا ہے۔ اس ضمن میں گونج کی سابقہ اشاعتوں میں کافی تفصیل لکھی جا چکی ہے اور میں واضح کر چکا ہوں کہ اس ساری دھاندلی کی ذمہ داری خود پاکستانی کمیونٹی پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ خاموشی سے بیٹھی یہ سب کچھ ہوتا دیکھ رہی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آخر ہم ایسے کیوں نہ کرتے کیونکہ کوئی شخص بھی پیسے ادا کر کے ایسوسی ایشن کی رکنیت لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ میں یہ بات مانتا ہوں کہ یہ سچ ہے کوئی بھی پیسے ادا کر کے آگے نہیں آنا چاہتا لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ میدان خالی دیکھ کر پیسے ادا کرکے من پسند لوگوں میں عہدوں کو بانٹ دیا جائے اور اس طرح صحیح جمہوری طرز عمل کا گلا گھونٹ دیا جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایسوسی ایشن کی تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہوتیں کہ فلاں طالب علم کی مالی مدد کی گئی، فلاں جگہ فلاں مالی یا سماجی بہبود کا کام کیا گیا تو لوگ ضرور اسکی رکنیت حاصل کرتے لیکن جب کمیونٹی دیکھ رہی ہے کہ ان کے دئے ہوئے رکنیت کے چندے سے صرف کسی بڑے ہوٹل میں 23 مارچ یا 14 اگست کا دن منا کر چند لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ملک و قوم کی بہت زیادہ خدمت ہورہی ہے توپھر وہ دل برداشتہ ہوجاتے ہیں۔مجھے ایک دو فون بھی آئے جس میں یہ کہا گیا کہ ہم نے بھی یہاں رہنا ہے آپ نے بھی یہاں رہنا ہے کیوں نہ اس معاملے کو بات چیت سے طے کیا جائے۔میں نے یہ جواب دیا کہ آخر بات چیت سے کیا طے ہو جائے گا؟ جو کام ہی غلط طریقے سے کیا گیا ہے۔ جس چیز کی بنیاد ہی غلط ڈالی گئی ہے میں تو کیا کمیونٹی کا کوئی بھی باضمیر شخص اسکو پسند نہیں کر رہا۔ یہی لوگ جو چور دروازے سے داخل ہو کر کمیونٹی کی خدمت کا دعویٰ لے کر حاضر ہوئے ہیں۔ اوپن اور فئےر الیکشن کرائیں اور پراکسی وغیرہ کے پرانے ہتھکنڈے استعمال نہ کریں۔ باقاعدہ ووٹ لے کر آئیں خواہ یہی لوگ دوبارہ منتخب ہوجائیں کمیونٹی انکا استقبال کرے یا نہ کرے گونج اخبار ضرور کرے گا۔ اگر غریب اور مسکین پاکستانی عوام زرداری جیسے غنڈے ، چور اور ملک دشمن کو برداشت کر رہی ہے تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے۔اس ضمن میں مزید پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ چونکہ کمیونٹی کے اشخاص میں خود ہی ابھی یہ شعور بیدار نہیں ہوا کہ انہیں ایسوسی ایشن کا باقاعدہ رکن بننا چاہئے اور اپنے ووٹوں کا صحیح استعمال کرکے خود بھی سماجی خدمات میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے میں نے یہ طے کیا ہے کہ بقول شخصے اداروں کو مضبوط بنانا چاہئے۔ ©©”الیکشن“ خواہ متنازعہ ہی تھے لیکن جو لوگ اب عہدے داران منتخب ہو چکے ہیں انہیں کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے تاکہ سماجی ادارے مضبوط ہوں اور ایک اچھی روایت قائم ہو سکے۔ اس سلسلے میں ایسوسی ایشن کے چند عہدے داران سے گونج کی ملاقاتیں ہوئی ہیں جن میں گونج نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ ایسوسی ایشن کو میڈیا کے ساتھ روابط بڑھانے چاہئیں اور سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا تاکہ جو بھی سماجی خدمات ہو رہی ہیں ساری کمیونٹی اس سے آگاہ رہے۔ گونج کی سابقہ اشاعت میں پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا کے نو منتخب صدر افتخار رانا کے حوالے سے جو خبر شائع ہوئی تھی۔ رانا برادری کے ایک سرکردہ رکن نے جنہوں نے فی الحال اپنا نام شائع نہ کرنے کی درخواست کی ہے گونج سے ایک ملاقات میں یہ وضاحت کی کہ افتخار رانا کے حوالے سے جو خبر شائع کی گئی ہے وہ بے بنیاد ہے کیونکہ نیپ کی اس رپورٹ میں جس افتخار کاذکر ہے وہ رانا افتخار نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں وہ حقائق اکٹھا کر رہے ہیں۔ ادارہ گونج نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ جیسے ہی وہ تمام ثبوت پیش کر دیں گے انہیں گونج میں شامل اشاعت کر دیا جائے گا۔ یہاں پر ایک بار پھر وضاحت کرتا چلوں کہ کسی پر خوامخواہ کیچڑ اچھالنا کم از کم گونج اخبار کا شیوہ نہیں ہے۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اختلاف رائے رکھنا ایک جمہوری حق ہوتا ہے جو کوئی بھی نہیں چھین سکتا۔ پھر ملاقات ہو گی۔ اللہ نگہبان٭

گونج (خصوصی رپورٹ) اگر انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش کے حکومتی ریکارڈز کو سچ مان لیا جائے تو ٹینس کی سٹار کھلاڑی ثانیہ مرزا انتہائی غربت میں رہتی ہیں۔حکام کے مطابق انہیں ایک تفتیش کے دوران ایک غریبوں کو دیا جانے والا ایک خصوصی شناختی کارڈ ملا ہے جس پر ثانیہ مرزا کی تصویر اور نام ہے۔وزیاناگرام ضلع سے جاری ہونے والا یہ کارڈ بتایا ہے کہ نہ صرف ثانیہ مرزا غریب ہیں بلکہ شادی شدہ بھی ہیں۔ ان کے شوہر کی عمر بیس سال ہے۔حقیقت میں دنیا کی ٹاپ رینکنگ کھلاڑیوں میں شامل ثانیہ مرزا غیر شادی شدہ ہیں۔’بی پی ایل‘ (بیلو پاورٹی لائنز) یعنی ’غربت کی لکیر سے نیچے‘ کے نام سے جانے والے یہ شناختی کارڈز ان افراد کو دیے جاتے ہیں جو انتہائی غریب ہوتے ہیں۔ ان کارڈز کی وجہ سے انہیں سستے چاول (دو روپے فی کلو)، پینشن، گھر اور مفت علاج کی سہولت ملتی ہے۔یہ جعلی کارڈ وزیاناگرام ضلع کے ایک گاو¿ں ویپادو کے محصولات کے محکمے کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔ثانیہ مرزا انڈیا کے امیر ترین کھلاڑیوں میں سے ہیں جو حیدرآباد کے ایک انتہائی متمول علاقے میں رہتی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بی پی ایل کارڈ صرف شادی شدہ جوڑوں کو اس وقت دیا جاتا ہے جب وہ خود حکام کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور ان کی اکٹھے تصویر کھینچی جاتی ہے۔لیکن اس شناختی کارڈ پر دو الگ الگ تصویریں ہیں، ایک ثانیہ مرزا کی اور دوسری ’ان کے شوہر‘ مسٹر نارائنا کی۔ایسا لگتا ہے کہ نارائنا غیر شادی شدہ ہیں اور انہوں نے ٹینس سٹار کا نام اور تصویر اپنے سے چپکا دی ہے۔ریاست کے وزیرِ اعلیٰ وائے ایس راجہ شیکھر ریڈی اس بات پر بہت ناراض ہیں اور انہوں نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔انہوں نے غصے میں حکام سے کہا ہے کہ ’معلوم کریں کہ جس آفیسر نے ثانیہ مرزا کے نام والا کارڈ جاری کیا ہے وہ پاگل تو نہیں۔ کس طرح کوئی یہ کر سکتا ہے۔ یہ غیر ذمہ داری کی انتہا ہے۔‘حکومت کا اب کہنا ہے کہ اس طرح کے پینتالیس لاکھ کے قریب بوگس کارڈ جاری ہوئے ہیں اور ان کو ختم کرنے کے لیے اگلے ماہ سے ایک مہم شروع کی جائے گی۔

لاہور (نمائندہ گونج) جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر اور آخری بانی رکن میاں طفیل محمد طویل علالت کے بعد شیخ زید اسپتال میں 20 روز زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کرگئے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ،ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین ،گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ،جماعت اسلامی کے امیر منور حسن، سند ھ کے امیر اسداللہ بھٹو،کراچی کے امیر محمد حسین محنتی ، حافظ نعیم الرحمن اور برجیس احمد نے میاں طفیل محمد کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کو اپنی جوار رحمت میں جگہ اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ وزیراعظم نے مرحوم کی دینی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف، گورنر پنجاب سلمان تاثیر، میاں محمد نواز شریف، چوہدری شجاعت، پرویز الٰہی، مونس الٰہی، عمران خان، اعجازالحق ،پیپلز پارٹی کے رہنماء پروفیسر این ڈی خان ، وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی اور دیگرسیاسی رہنماو¿ں نے بھی میاں طفیل محمد کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیاہے۔ تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی پاکستان کے بانی امیر مولانا مودودی ؒکے بعد 1972ءسے 1987ءتک امیر جماعت اسلامی رہنے والے میاں طفیل محمد نے 95 سال کی عمر پائی۔ مرحوم کو 20 روز قبل برین ہیمرج ہوا تھا جن کو شیخ زید ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں پر وہ جانبر نہ ہوسکے۔ میاں طفیل محمد 1914ءمیں بھارت کی ریاست کپورتھلہ ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ میاں طفیل محمد جماعت اسلامی پاکستان کے 80 بانی ارکان میں سے ایک بانی رکن تھے جنہوں نے مولانا مودودیؒ کے ساتھ مل کر جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ میاں طفیل محمد کی نماز جنازہ آج منصورہ میں بعد نماز جمعہ ادا کی جائے گی۔ میاں طفیل محمد کی اہلیہ پہلے ہی وفات پاچکی ہیں۔ مرحوم کے پسماندگان میں 4 بیٹے اور 8 بیٹیاں شامل ہیں۔ میاں طفیل محمد نے کچھ کتابوں کے تراجم بھی کئے، خصوصاً سید علی ہجویری ؒ کی شہرہ آفاق تصنیف کشف المحجوب کا جو ترجمہ مرحوم میاں طفیل محمد نے کیا وہ سب سے زیادہ موثر اور قبول عام ہے۔ میاں طفیل محمد کا انتقال پوری اسلامی دنیا میں یقینا ایک المناک واقعہ ہے۔

(گونج خصوصی رپورٹ)یہ اخبار پریس میں جا رہا تھا جب یہ خبر ملی کہ مشہور پاپ سنگر مائیکل جیکسن انتقال کر گئے ہیں۔ لاس اینجلس سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مشہور پاپ گلوکار مائیکل جیکسن ہسپتال میں انتقال کر گئے ۔ ان کی عمر پچاس سال تھی۔اطلاعات کے مطابق انہیں دل کا دورہ پڑا جس کی وجہ سے طبی عملے کو طلب کیا گیا۔ طبی عملے کو معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ سانس نہیں لے پا رہے جس کی وجہ سے ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ تاہم انہیں کوشش کے باوجود کبھی بھی ہوش میں نہیں لایا جا سکا۔مائیکل جیکسن کے بھائی جرمین کے مطابق خیال کیا جارہا ہے کہ انہیں دل کا دورہ پڑا تھا۔ ان کی میت کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے شہر کے کورونر کے دفتر پہنچا دیا گیا ہے۔ابتدائی طور پر مائیکل جیکسن کی صحت کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آ رہی تھیں۔ امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس اور اخبار لاس اینجلس ٹائمز کا کہنا تھا کہ ان کا انتقال ہو چکا ہے جبکہ دوسری طرف سی این این کا کہنا تھا کہ وہ ہسپتال میں کومے کی حالت میں ہیں۔لیکن بعد میں لاس اینجلس کے کورونر اس بات کی تصدیق کر دی کہ مائیکل جیکسن انتقال کر گئے ہیں۔لاس اینجلس کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق طبی عملے کو شہر کے بیل ایئر علاقے میں واقع مائیکل جیکسن کے گھر بلایا گیا تھا۔
فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق گھر سے انہیں یونیورسٹی کالج ہسپتال لے جایا گیا۔ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق راستے میں طبی عملہ ان کو ہوش میں لانے کی کوشش کرتارہا۔پاپ سٹار مائیکل جیکسن کی عمر پچاس سال تھی اور وہ جولائی میں لندن میں اپنے فن کا مظاہرہ کر کے شوبز کی دنیا میں واپس آ رہے تھے۔مائیکل جیکسن کے پرستار یونیورسٹی کالج ہسپتال اور ان کی رہائش کے باہر اکٹھے ہو گئے ہیں جبکہ پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔مائیکل جیکسن نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز اپنے فیملی گروپ جیکسن فائیومیں ایک چائلڈ سٹار کی حیثیت سے گیارہ سال کی عمر میں کیا تھا۔ بعد میں انہوں نے عالمی شہرت حاصل کر لی اور سولو آرٹسٹ کے طور ’تھرِلر‘ اور ’بیڈ‘ جیسے شہرہ آفاق گانے تخلیق کیے۔لیکن حالیہ سالوں میں ان کی شخصیت تنازعات اور مالی مشکلات میں گھری ہوئی نظر آئی اور وہ تقریباً گوشہ تنہائی میں چلے گئے۔ چار سال پہلے ان پر بچوں سے جنسی زیادتی کا مقدمہ چلایا گیا جس سے وہ بری تو ہو گئے لیکن مقدمے کی وجہ سے ان کی شہرت کو بہت نقصان پہنچا۔انہوں نے دو مرتبہ شادی کی تھی اور ان دو شادیوں سے ان کے تین بچے ہیں۔مائیکل جیکسن کے پرستاروں اور دوستوں نے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ مائیکل جیکسن کے ذاتی دوست اور امریکہ میں شہری حقوق کے کارکن ال شارپٹن کا کہنا ہے کہ مائیکل جیکسن ایک تاریخی شخصیت تھے جنہوں نے امریکی معاشرے میں سیاہ فام افراد کی سلیبرٹی کی حیثیت سے قبولیت کے عمل کو آگے بڑھایا۔
مائیکل جیکسن کی سابق اہلیہ لیزا میری پریسلے کا کہنا ہے کہ مائیکل کے انتقال کی خبر سن کر انہیں دکھ پہنچا ہے۔مائیکل جیکسن کے دیرینہ دوست ا±ری گیلر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس افسوس ناک خبر نے انہیں فرط جذبات سے نڈھال کر دیا ہے۔یہاں سڈنی میں مائیکل جیکسن کے پرستاروں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی طور پر شہرت یافتہ فنکار ریاض شاہ نے گونج کو بتایا کہ مائیکل جیکسن جیسے فنکار صدیوں میں جنم لیتے ہیں۔ پرتھ سے سڈنی کے دورے پر آئے ہوئے معروف شاعر ندیم ندوی سے فون پر بات ہوئی تھی تو انہوں نے بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔بہت سے لوگ یہ بات بھی بہت وثوق سے کر رہے ہیں کہ مائیکل جیکسن نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اسکی خبر بھی عالمی اخبارات میں کچھ اس طرح شائع ہوئی تھی۔ امریکہ اور یورپی ممالک کے مشہور پوپ سنگر نے مائیکل جیکسن نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ اس بات کا انکشاف لندن کے ایک اخبار نے اپنی اشاعت میں کیا ہے۔مائیکل جیکسن نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ لاس اینجلس میں اپنے دوست کے گھر پر کیا، ان کا نیا نام میکائل رکھا گیا ہے۔ لاس اینجلس کی ایک مسجد کے امام نے مائیکل کوکلمہ حق پڑھایا۔

ویسے تو آسٹریلیا آکر بس جانے والے بہت سے لوگ پاکستان بننے سے پہلے بھی موجودہ پاکستانی علاقوں سے آ ئے لیکن انکی شناخت پاکستان کے نام سے نہ ہوئی اور وہ سبھی ”گھان“ یا خان کہلائے۔ ۰۹۹۱ کی دہائی میں زیادہ تعداد میں پاکستانی آسٹریلیا وارد ہوئے ہیں۔انکی بالکل درست تعداد شاید کسی کو بھی معلوم نہیں لیکن اندازہ کیا جاتا ہے کہ پورے آسٹریلیا میں کئی ہزار کے قریب پاکستانی ہوں گے جن میں سے پچیس سے تیس ہزار کی تعداد سڈنی اور اس کے گردونواح میں مقیم بتائی جاتی ہے۔ان گذشتہ دس سالوں میں کمیونٹی کے افراد نے وہ دن بھی دیکھے جب ڈی پورٹ ہونے کے ڈر سے کوئی اپنا فون نمبر تک کسی کو نہیں بتایا کرتا تھا اور اس ضمن میں قیصر چیمہ صاحب نے بہت شہر ت حاصل کی کہ انہوں نے بہت سے پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کرا کے پیسے بٹورے۔ لوگ کہتے ہیں کہ آج ترقی کی جس منزل پر وہ کھڑے ہیں اس میں پاکستانیوں کا خون بھی شامل ہے۔کچھ تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو پاکستان یا دیگر ممالک سے مستقل ویزے پر آئے جبکہ بہت سے لوگ سیاحتی، طالب علم یا کسی اور غیر مستقل ویزے کی بنیاد پر آئے مثلاً کسی سیاسی لیڈر کے ساتھ آئے اور پتلی گلی سے نکل لئے یا پھر سیدھے سیدھے بحری جہاز سے ہی چھلانگ لگا دی۔ ہم کسی کو بھی مورد الزام نہیں ٹھہرا رہے۔ بہرحال جس نے جو بھی طریقہ اختیار کیا۔ خواہ جعلی شادیاں کر لیں یا کوئی اور دھوکہ دہی کی واردات کی یہ ان تمام متعلقہ پاکستانیوں کا نجی معاملہ ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب پاکستانیوں سے شادی کرنے سے پہلے لوگوں کی کافی بڑی تعدادکافی ہچکچاہٹ رکھتی ہے۔ حال ہی میں جو پاکستانی آ رہے ہیں ان میں سے اکثر کی پاکستان میں ایجنٹ حضرات غلط رہنمائی کرتے ہیں اور انہیں خوامخواہ کے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں کہ وہاں جاتے ہی ڈالروں کی بارش شروع ہو جائے گی۔ کئی ایسے بھی ہیں جو اسٹوڈنٹ ویزے پر بیوی اور بچوں کو بھی ساتھ لے آئے ہیں کہ یا بیوی تعلیم حاصل کرے گی اور وہ خود پیسہ کمائیں گے یا وہ خود پڑھیں گے اور بیوی نوکری کرے گی لیکن یہاں پر نوکریوں کی صورتحال بہت دگر گوں ہے۔ اگر غلطی سے بھی کسی نے بتا دیا کہ وہ عارضی ویزے پر ہے تو ایسی روایات بھی موجود ہیں کہ تین تین ماہ تک ان سے ٹریننگ کے نام پر کام لے کر انکے پیسے دبا لئے گئے۔ خاص طور پر سیون الیون کے چند مالکان کے نام لئے جاتے ہیں جو نئے آنے والوں یا طالب علموں کو یا تو بالکل پیسے نہیں دیتے یا پھر دیتے ہیں تو بہت کم۔ نئے آنے والوں کی رہنمائی کے لئے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستانی سفارتخانہ یا قونصلیٹ کوئی ادارہ قائم کرتا لیکن اکثر لوگ اس بات کے شاکی ہیں کہ ان اداروں سے انہیں کوئی مدد نہیں ملتی۔ ہو سکتا ہے کہ نجی طور پر چند افراد کچھ لوگوں کی مدد کر بھی رہے ہوں لیکن اجتماعی طور پر ایسا شعور ابھی بیدار نہیں ہوا اور نہ ہی اجتماعی طور پر ایسی کوئی کاوش منظر عام پر آتی ہے کہ کسی سماجی ادارے نے اس سلسلے میں کچھ کردار ادا کیا ہو۔ لے دے کے پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا ہی ایک ایسا نامی ادارہ سامنے آتا ہے جس سے کچھ لوگ بعض توقعات قائم کر لیتے ہیں لیکن اکثر کی توقعات پوری نہیں ہوتیں۔ اب چونکہ میڈیا یا ذرائع ابلاغ کے کسی بھی ذریعے سے ایسی کوئی بھی کاوش منظر عام پر نہیں آتی جو کہ ایسوسی ایشن نے سماجی بہبود کی بنا پر کمیونٹی کے افراد کے ساتھ کی ہو جس کی بنیاد انفرادی ہو۔ میں مانتا ہوں کہ ایسوسی ایشن کے افراد نے پاکستان میں پیش آنے والی افتادکے موقع پر ضرور کچھ رقوم جمع کی ہیں اور انہیں بھجوائی بھی ہیں لیکن انفرادی سطح پر اگر کوئی کام ہوا ہے تو اس کی مناسب تشہیر نہ ہوپانے کی وجہ سے عام لوگ ایسوسی ایشن کی رکنیت حاصل کرنے یا پھر اس کے سالانہ چندے کے لئے بیس ڈالر ز کی رقم دینے کے لئے خود کو آمادہ پاتے ہیں۔ ایک اور مشورہ ایسوسی ایشن کے کرتا دھرتاو¿ں کو دینا چاہوں گا کہ رکنیت کا موجودہ سسٹم غلط ہے۔ آج کل یہ ہو رہا ہے کہ عین الیکشن کے دنوں میں رکنیت سازی کی مہم شروع کی جاتی ہے اور دھڑا دھڑ ووٹ بنائے جاتے ہیں۔ اس طرح سے جو ووٹ بنتے ہیں مزے کی بات یہ ہوتی ہے کہ وہ گذشتہ سال کے لئے ہوتے ہیں اور الیکشن ہونے کے ساتھ ہی وہ رکنیت ساقط ہو جاتی ہے۔ اس مشکل کی وجہ سے ہارس ٹریڈنگ اور ووٹ بائنگ جیسی علت جنم لیتی ہے۔ میں یہ گذارش کروں گا کہ اتفاق رائے سے اس سسٹم کو ختم کر دیا جائے اور ووٹ دے سکنے کی صلاحیت کو کسی خاص مدت تک کے لئے مشروط کر دیا جائے کہ اگر کوئی الیکشن سے فوری پہلے رکن بننا چاہے تو اسے ووٹ ڈالنے کا اہل نہ سمجھا جائے۔ پراکسی کے سسٹم کو غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسکو فی الحال ختم کر دیا جائے اور اگر کوئی رکن موجود نہیں ہے تو اسکا ووٹ شمار نہ ہوگا۔ پاکستان ایسوسی ایشن کے آئین کا غور سے مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے اس کی کسی بھی شق پر عمل نہیں کیا گیا لیکن گذارش کی جاتی ہے کہ آئندہ کم از کم آئین کا ہی احترام کر لیا جائے۔ آئین کے بغور مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں ٹرسٹیز کا بہت اہم کردار ہے۔ ٹرسٹیز کا باکردار، تعلیم یافتہ اور منصف مزاج ہونا ایک اہم شرط ہونا چاہئے اور جس طرح ایسوسی ایشن کے دیگر عہدوں کے لئے انتخابات کئے جاتے ہیں بالکل اسی طرح ٹرسیٹز کے لئے بھی شفاف الیکشن ہونے چاہئیں۔ ا ب یہ تمام اراکین ایسوسی ایشن کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرتے ہوئے ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو کہ واقعی ٹرسٹی بننے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ ایک گزارش یہ ہے کہ ٹرسٹیز کے لئے تعلیم یافتہ ہونے کی شرط لازمی کر دی جائے تاکہ وہی لوگ سامنے آ سکیں جو کہ صرف جی حضوری نہ ہو بلکہ ایسوسی ایشن کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت سے کماحقہ مالا مال ہوں۔ گونج کو معلوم ہوا ہے کہ آئندہ تین ماہ کے اندر ٹرسٹیز کے انتخابات ہونے کے وقت آ گیا ہے اس لئے ہم یہ گذارش کریں گے کہ ابھی سے رکن سازی شروع کر دی جائے اور باقاعدہ صاف اور شفاف طریقے سے ٹرسٹیز کے انتخاب کے لئے مواقع فراہم کئے جائیں۔ ایسوسی ایشن کی سابقہ روایت یہ رہی ہے کہ وہ میڈیا کے سارے افراد کو چند وجوہات کی بنا پر ایک نظر سے نہیں دیکھتی رہی اس لئے یہ بھی التماس ہے کہ میڈیا کے تمام افراد سے رابطہ رکھا جائے قطع نظر اس کے کہ میڈیا کا نقطہ نظر ایسوسی ایشن کے نقطہ نظر سے مختلف ہے۔ ایک اور چیز جو ہمیں نقصان پہنچا رہی ہے وہ ہے ہماری آپس کی تقسیم۔ جن بنیادوں پر ہم پاکستان میں ایک دوسرے سے جوتم پیزار رہتے ہیں وہی تمام جھگڑے ہم بیرون ملک بھی لے آئے ہیں۔ کوئی ارائیں برادری بنانے پر خوش ہے تو کوئی رانا راجپوت برادی پر، پنجابی پنجابی دکاندار سے سودا لینے پر خوش ہے تو اردو بولنے والے صرف اردو بولنے والوں کی حمایت پر تلے ہیں۔ کچھ کسرسیاسی پارٹیوں نے پوری کر دی۔ابھی تو بیرون ممالک بھی بسنے والے پاکستانیوں کو ووٹ کا حق بھی نہیں ہے تو یہ حالت ہے فرض کریں ہمیں ووٹ ڈالنے کا حق مل جائے تو پھر یہاں جوتیوں میں دال بٹنے میں کون سے کسر باقی رہے گی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کوئی ن کا صدر ہے تو کوئی ق کا۔ کوئی پیپلز پارٹی کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے تو کوئی عمران خان کا علم تھامے کھڑا ہے۔ غریب کمیونٹی یہ خیال کرتی ہے کہ شاید اسلام کے سایہ عاطفت میں پناہ ملے تو یہاں تواور بھی آوا بگڑا ہوا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ سبھی اسلام کا نام لیتے ہوئے جگہ جگہ اپنے کاموں میں مصروف ہیں لیکن یہ بھی تو سوچیں کہ اس سے بھائی چارہ تو پیدا نہیں ہوتابلکہ چھوٹی چھوٹی جماعتوں میں کمیونٹی تقسیم در تقسیم ہوتی چلی جار ہے۔ کوئی ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کو تیار نہیں ہے۔ مسالک ، عقیدوں اور فقہی اختلافات نے ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ دس دس بیس بیس پاکستانی مسلمان بھی جگہ جگہ نماز جمعہ کے لئے جمع ہو رہے ہیں۔ ایک عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ علاقے دور دور ہونے کی وجہ سے ایک ہی جگہ نماز کی ادائیگی مشکل ہے۔ یہ عذر سمجھ میں آتا ہے لیکن عید میلاد النبیﷺ یا دیگر مذہبی پروگرام کیوں نہیں ایک جگہ پر مشترکہ طور پر کئے جا سکتے تاکہ ان میں مناسب شان پیدا ہو سکے۔ بھارت ہم سے کافی بڑا ملک ہے اور اس حساب سے انہوں نے اپنی متعدد ایسوسی ایشن بنا رکھی ہیں لیکن جب پندرہ اگست کا دن آتا ہے تو انکی تمام ایسوسی ایشنز ایک جھنڈے کے نیچے جمع ہو کر جو پروگرام پیش کرتی ہیں اس میں ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اب جو چودہ اگست آنے والا ہے اسکو اس طریقے سے منایا جائے کہ پاکستانی کمیونٹی یہ ثابت کر دے کہ مختلف زبانیں، مختلف مسالک اور مختلف عقیدے رکھنے کے باوجود بحیثیت قوم ہم ایک ہیں۔ ایک ایسا عظیم الشان پروگرام پیش کیا جائے جو کہ مثال بن کر رہ جائے۔ چودہ اگست یا تئیس مارچ کو دن منا لینا۔ اخبارات کے خاص شمارے نکال لینا اور اخبارات میں اپنی تصویریں دے کر ایک دوسرے کو مبارکباد کے پیغامات ارسال کرنے سے بڑھ کر بھی ہمیں کچھ کرنا چاہئے۔ جب تک پاکستان ایسو سی ایشن کے پلیٹ فارم سے عوامی سطح پر بہبود کے پروگراموں کی تشہیر نہیں ہوگی عام لوگوں میں سے کوئی بھی اس ادارے کا رکن بننا نہیں چاہے گا۔ صفحہ ختم ہو گیا لیکن بات ختم نہیں ہوئی، کوشش کروں گا کہ اخبار کی آئندہ اشاعتوں میں بھی اس حوالے سے مزید کوئی آگاہی دے سکوں۔ اس وقت تک لئے اجازت چاہتاہوں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان زندہ پاد۔اسلام پائیندہ باد

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے حکومت کے ساتھ ہونے والا امن معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان کے ترجمان احمداللہ احمدی نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ حکومت کے ساتھ طے پانے والا امن معاہدہ پہلے ہی سے غیر مؤثر ہوچکا تھا جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ امن معاہدے کے باوجود بھی ڈرون حملے اور فوجی سرگرمیاں جاری تھیں۔

انہوں نے دھمکی دی کہ جب تک وزیرستان میں ڈرون حملے بند نہیں ہوتے وہ سکیورٹی فورسز کے قافلوں اور ان کے مراکز کو نشانہ بناتے رہیں گے۔

اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں مولوی نذیر گروپ کے مقامی طالبان نے کہا تھا کہ ان کا حکومت کے ساتھ ہونے والا امن معاہدہ غیر مؤثر ہوچکا ہے اور وہ اس وقت تک سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنائیں گے جب تک علاقے میں امریکی ڈرون حملے بند نہیں ہوتے۔

جمعرات کو مولوی نذیر گروپ کے ایک کمانڈر شمس اللہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جنوبی وزیرستان میں اس وقت ان کےگروپ کا حکومت کےساتھ کسی قسم کا کوئی امن معاہدہ موجود نہیں۔

تقریباً دو سال قبل حکومت اور حافظ گل بہادر گروپ کےمابین ایک امن معاہدہ بھی طے پایا تھا۔

سڈنی(گونج رپورٹ) ایک باپ اپنے دو بچوں کو بچاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔ سڈنی کے رہائشی 56 سالہ شخص نے”اولاڈولا“ کے نزدیک ساحل سمندر پر جو کہ ”مولی مک بیچ“ کے نام سے جانی جاتی ہے شام کو پانچ بجے سمندر کی لہروں میں چھلانگ لگا دی۔ اس کے دونوں سترہ سالہ اور انیس سالہ نوجوان بچے تو تیر کر لہروں سے باہر نکل آئے لیکن باپ خود ایک بڑی سمندری لہر کی لپیٹ میں آ گیا۔ ساحل سمندر پر آئی ہوئی ایک اور خاتون نے اسے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے سرف کرنے والے چوبی تختے پر گھسیٹ لیا اور ایک اور مرد کی مدد لیتے ہوئے اسے ساحل تک لے آئے۔ ایک اور شخص نے جس نے مدد کیلئے چیخوں کی آوازیں سنیںپولیس کو اطلاع کر دی۔ ایک شخص نے مصنوعی تنفس کے ذریعے پانچ منٹ تک کوشش کی اور اس دوران طبی امداد مہیا کرنے والی ٹیم پہنچ گئی۔اس ٹیم نے مزید پندرہ منٹ تک شخص مذکور کو مصنوعی تنفس دے کر زندہ رکھنے کی کوشش کی لیکن بالآخر اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔

مصنف : ماہنامہ کمپیوٹنگ

جی میل کو اگر نمبرون ای میل سروس کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اپنی بے مثال سروسز کے ساتھ اس کا مفت دستیاب ہونا اس کی مقبولیت کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ اگر آپ جی میل کی ایک جیسی شکل و صورت سے بور ہو چکے ہیں تو فائر فوکس کے ایکسٹینشن Google Redesigned سے اسے ایک منفرد اور بے حد خوبصورت انداز دے سکتے ہیں۔

اس ایکسٹینشن کو فائر فوکس کے لیے Globex Designs نے ڈیزائن کیا ہے تاکہ جی میل کی خوبصورتی میں اضافہ کر کے اس سروس کی مقبولیت میں اضافہ کیا جا سکے۔

یہ تمام تر تبدیلی اس ایکسٹینشن کی اسٹائل شیٹ کی وجہ سے ہے جو جی میل کی اصل اسٹائل شیٹ سے بدل دی جاتی ہے۔ اس ایکسٹیشن کو انسٹال کر لینے کے بعد آپ جی میل کو بالکل نئے انداز میں دیکھتے ہیں۔ یہ تبدیلی اتنی خوبصورت ہے کہ اس ایکٹینشن کو بہت زیادہ تعداد میں ڈائون لوڈ کیا جا رہا ہے یعنی اسے استعمال کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

Google Redesigned کو صرف موزیلا کے برائوزرز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ خاص طور پر موزیلا فائرفوکس 3 کے ساتھ اس کی خوبصورتی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ دیگر پرانے ورژنز کے ساتھ یہ صحیح سے کام نہیں کرتا البتہ فائر فوکس 3 کے ساتھ اس کی ہم آہنگی اور رفتار بہت اچھی ہے۔

مزید برآں یہ ایکسٹینشن گوگل میل کے علاوہ گوگل کی چند دیگر سروسز کی ڈیزائنگ بھی تبدیل کر دیتا ہے۔

ڈائون لوڈنگ لنک:

https://addons.mozilla.org/en-US/firefox/addon/8434/

مصنف: راشد احمد

انٹرنیٹ کا تعارف
انٹرنیٹ ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو دنیا کے مختلف کمپیوٹروں سے بذریعہ سیٹلائٹ اور ٹیلی فون کے ذریعےکونیکٹ ہوتا ہے۔

انٹرنیٹ کی تاریخ
سائنس اور ٹیکنالوجی کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آج مختلف چیزوں کو جن صورتوں میں ہم استعمال کررہے ہیں وہ شروع سے ایسی نہ تھی بلکہ ارتقاءکا ایک طویل سلسلہ ہے جس کے دوران چیزوں میں مستقل طور پر تبدیلی اور بہتری لانے کی کوشش جاتی رہی۔ ذرائع نقل وحمل مئیں آج ہم جانوروں پر انحصار کرنے کی بجائے بڑے بڑے بحری جہازوں، گاڑیوں، دیوقامت ہوائی جہاز اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہیں چیزیں ہمیشہ ایک سی صورت میں نہیں رہتیں بلکہ جس طرح فطرت چیزوں کو وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ بدل دیتی ہیں اسی طرح سائنس میں بھی چیزوں کو وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ بدل دیتی ہے۔ اسی طرح سائنس میں بھی ایک ارتقائی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

انٹرنیٹ کا آغاز 1960کی دہائی کے آخری سالوں میں امریکی محکمہ دفاع سے ہوا۔ امریکی محکمہ دفاع نے ایک ایڈوانس ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی نیٹ کا نام دیا جسے اختصار کے ساتھ Arpanetکہا اور لکھا جاتا ہے۔ ےہ واقعہ انٹرنیٹ کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے