منموہن کی تقریر سے کشمیری مایوس .منگل کی شام جب بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے خاص طور پر کشمیریوں سے ٹیلی ویژن کے ذریعہ خطاب شروع کیا تو شمالی کشمیر کے کریری قصبہ میں ایک اور نوجوان کی موت پر لوگ سڑکوں پر ماتم کرنے لگے۔فرخ بخاری نامی اس نوجوان کو فورسز نے مبینہ طور حراست کے دوران قتل کردیا تھا۔جب منموہن سنگھ نے خطاب ختم کرلیا تو سرینگر کے نوہٹہ علاقہ میں مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ سے تین نوجوان شدید زخمی ہوگئے۔اپنی نپی تُلی تقریر میں منموہن سنگھ نے حالیہ دو ماہ کے دوران فورسز کاروائیوں میں ہوئی ہلاکتوں پر گہرے دُکھ کا اظہار کیا۔ لیکن جن سیاسی حالات کی وجہ سے ہلاکتیں اور دیگر جانی و مالی نقصان ہوا وزیراعظم سنگھ نے اس کا انتظامی علاج تجویز کیا۔انہوں نے نوجوانوں کی خاطر روزگار کے مواقع تلاش کرنے کے لیے ایک دو رُکنی ٹیم تشکیل دی اور کہا کہ کشمیر میں عنقریب پنچایتی اور بلدیاتی اداروں کے چناؤ کرائے جائینگے۔ گو کہ وزیراعظم نے ایک مختصر جملے میں یہ بھی کہا کہ مذاکرات کے ذریعہ ہی کشمیر کے مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا اور یہ حل تجویز کرتے وقت یہاں کے جذباتی مطالبات کو خاطر میں لانا ضروری ہے، ان کی تقریر سے یہاں کے عوامی اور سیاسی حلقے مزید مایوس ہوگئے۔اس وقت بھارت کامن ویلتھ کھیلوں کے لئے دنیا بھر کے نوجوانوں کو خوش آمدید کہہ رہا ہے، لیکن کشمیر میں کم سن لڑکوں کے سروں اور چھاتیوں پر فائرنگ کی جارہی ہے۔ اگر کرنا ہی تھا، تو منموہن سنگھ وعدہ کرتے کہ اکاون ہلاکتوں کے لئے کشمیریوں کو انصاف ملے گا اور نظربندوں کا رہا کیا جائے گا، لیکن تقریر میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔حکمران جماعتیں نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے تو اس تقریر کو ’سنگ میل‘ قرار دیا لیکن اپوزیشن نے اپنے محتاط ردعمل میں اسے ’ناکافی‘ بتایا۔علیٰحدگی پسندوں کا ردعمل بھی ان ہی خطوط پر تھا۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارتی مؤقف میں پچھلے تریسٹھ سال سے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔سابق مسلح کمانڈر جاوید احمد میر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس وقت بھارت کامن ویلتھ کھیلوں کے لیے دنیا بھر کے نوجوانوں کو خوش آمدید کہہ رہا ہے، لیکن کشمیر میں کمسن لڑکوں کے سروں اور چھاتیوں پر فائرنگ کی جارہی ہے۔ اگر کرنا ہی تھا، تو منموہن سنگھ وعدہ کرتے کہ اکیاون ہلاکتوں کے لیے کشمیریوں کو انصاف ملے گا اور نظربندوں کو رہا کیا جائے گا، لیکن تقریر میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا‘۔اپوزیشن رہنما محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ ’منموہن نے دیر کردی، لیکن پھر بھی ہوم منسٹر کے مقابلے ان کا بیان نرم تھا۔ انہوں نے لوگوں کو اجتماعی طور مجرم نہیں بنایا۔ مگر جو کچھ کرنا ہے اس میں روزگار یا پنچایت کا رول نہیں۔ کشمیر کے لئے ایک سیاسی حل ڈھونڈنا ہوگا‘۔کشمیری فنکار اور رضاکار، ڈاکٹر امیت وانچو اس سلسلے میں کہتے ہیں ’تشدد چاہے لوگ کریں یا حکومت، تشدد کو بند ہونا چاہیئے۔ لیکن وزیراعظم نے اس سلسلے میں کوئی اعلان نہیں کیا۔عملی مذاکرات سے ہی بات بنے گی، لیکن سب کو اپنے اپنے مؤقف سے ہٹنا ہوگا۔ اچھا موقع تھا ، وزیراعظم شروعات کرتے تو یہاں کے سیاسی حلقے اخلاقی دباؤ میں آکر سوچنے پر مجبور ہوجاتے‘۔ ‘منموہن نے دیر کردی، لیکن پھر بھی ہوم منسٹر کے مقابلے ان کا بیان نرم تھا۔ انہوں نے لوگوں کو اجتماعی طور مجرم نہیں بنایا۔ مگر جو کچھ کرنا ہے اس میں روزگار یا پنچایت کا رول نہیں۔ کشمیر کے لئے ایک سیاسی حل ڈھونڈنا ہوگا.لیکن کمپیوٹر ماہر عاصف نحوی سمجھتے ہیں کہ منموہن سنگھ نے جو کچھ کہا اس سے آگے حکومت ہند نہیں جاسکتی۔ وہ کہتے ہیں ’صرف چوبیس گھنٹے میں بی جے پی نے منموہن کی جواب طلبی شروع کردی۔ پارٹی نے ان سے وضاحت طلب کی ہے آیا وہ کشمیریوں کا کیا دینا چاہتے ہیں۔ بی جے پی قیادت تو خودمختاری کو بھی آزادی سمجھتی ہے اور زور دے کر کہہ رہی ہے کہ کشمیریوں کو سیاسی رعایات نہیں دینی ہیں بلکہ انہیں ملک میں ضم کرنا ہے۔ ایسے میں آپ کیا توقعات کی بات کرتے ہیں؟‘عالمی امور کے ماہر ڈاکٹر شیخ شوکت حُسین کے مطابق منموہن کی تقریر سے کشمیر کے حالات میں مزید شدت آسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے ’ایسا نہیں کہ کشمیریوں کو یقین تھا کہ منموہن ہی آزادی دیں گے، لیکن وزیراعظم کا خاص طور سے کشمیریوں کو خطاب کرنا ایک معنی خیز بات ہے۔ اب تو یہاں کے علیٰحدگی پسند سمجھ گئے ہوں گے کہ ان کی تحریک سے اتنے بڑے ملک کا وزیراعظم ٹی وی پر ان سے بات کرتا ہے، تو مزید دباؤ بڑھانے سے وہ بات آگے بھی بڑھائے گا‘۔ڈاکٹر حسین کا کہنا ہے کہ یہ وقت بیانات دینے کا نہیں عملی سطح پر لوگوں کو مذاکرات میں شامل کرنے اور انہیں انصاف کا احساس دلانے کا ہے۔

کشمیر ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار ہو گئی.بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیٰحدگی پسندوں کی کال پر مختلف قصبوں میں احتجاج کرنے والوں پر فورسز کی فائرنگ سے جمعہ کے روز ساٹھ سالہ ایک شہری سمیت چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
فائرنگ میں دو خواتین سمیت چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ فورسز نے ذاتی دفاع میں گولی چلائی کیونکہ مظاہرین فورسز ٹھکانوں پر دھاوا بول کر انہیں نذرآتش کرنا چاہتے تھے۔ لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ مظاہرین پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق شمالی قصبہ کپوارہ میں جمعہ کی صبح لوگوں نے شاہراہ پر جمع ہوکر مظاہرہ کرنا شروع کیا اور ہندمخالف نعرے بازی کی تو فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی جس میں سترہ سالہ مدثر احمد زرگر ہلاک ہوا اور ساٹھ سالہ جنّت بیگم زخمی ہوگئیں۔کشمیر میں اس وقت ہر طبقے کے لوگ فوج کے خلاف سراپا احتجاج ہیں.یہ واقع کپوارہ کے ترہگام علاقہ میں میرپورہ محلہ کے قریب پیش آیا۔شمال میں ہی پٹن قصبہ کے قریب فورسز کی زیادیتوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر نیم فوجی دستوں نے فائرنگ کی اور علی محمد نامی شہری کے سر میں گولی لگی۔ ساٹھ سالہ علی محمد کوہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے۔اس واقعہ میں ایک خاتون بھی زخمی ہوگئی ہیں۔ شمالی قصبہ سوپور کے بومئی علاقہ میں جمعہ کی نماز کے بعد مظاہرین پرنیم فوجی دستوں کی فائرنگ سے دو نوجوان عارف میر اور سمیر لون ہلاک ہوگئے ہیں۔فائرنگ میں شدید زخمی ہوئے نوجوانوں کو سرینگر منتقل کیا گیا ہے۔ ان ہلاکتوں سے پوری وادی میں زبردست کشیدگی پھیل گئی اور لوگوں نے احتجاج شروع کیا ہے۔اِدھر سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کے گرد چھ ہفتوں سے جاری مسلسل محاصرہ ہٹالیا گیا ہے اورحکومت نے جمعہ کے روز نماز کی اجازت دی۔ گزشتہ روز میرواعظ عمرفاروق نے جامع مسجد میں نماز پر پابندی کو ” مداخلت فی الدین” قرار دے کر عالمی اسلامی تنظیم یا او آئی سی کو ایک مکتوب ارسال کیا تھا۔
شہر کے حساس ترین علاقوں کے پولیس چیف شوکت حُسین نے بی بی سی کو بتایا: ”جمعرات کو ہی میرواعظ صاحب کو مطلع کیا گیا کہ وہ جمعہ کو جامع مسجد میں نماز ادا کرسکتے ہیں۔ ‘ ‘قابل ذکر ہے کہ میرواعظ عمر نے ہلاکتوں کے خلاف احتجاج اور مذہبی آزادی پر قدغن کے خلاف جمعہ کے روز وادی کے تمام لوگوں سے جامع مسجد میں جمع ہونے کی اپیل کی تھی۔جامع مسجد میں بھاری اجتماع سے خطاب کے دوران میرواعظ نے بھارتی وزیراعظم کی طرف سے اقتصادی پیکیج، روزگار اور اٹانومی کی پیشکش مسترد کردی اور کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی مذمت کی۔اس دوران سید علی گیلانی نے بھی لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے ضلع کی مرکزی مساجد میں جمع ہوکر احتجاج کریں۔ پچھلے دو ماہ سے جاری کشیدگی کے دوران فورسز کاروائیوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچپن ہوگئی ہے۔
گزشتہ روز بھارتی وزیراعظم نے کشمیریوں سے اپنے خاص ٹیلی خطاب میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور حکومت سے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے اور یہاں تعینات پولیس والوں اور ان کے اہل خانہ کی سلامتی یقینی بنائے۔

پاکستان میں گزشتہ اسّی برس کے دوران آنے والے سب سے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ افراد میں امداد کی فراہمی میں سست روی کے باعث بےچینی اور اشتعال پھیل رہا ہے جبکہ محکمۂ موسمیات کے فلڈ وارننگ سنٹر کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں آنے والے دوسرے بڑے سیلابی ریلے سے صوبے کے آٹھ اضلاع کے مزید متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ادھر اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے متاثر افراد کی امداد کے لیے پینتالیس کروڑ نوے لاکھ ڈالر کی عالمی اپیل جاری کر دی ہے۔نیویارک میں بدھ کو اپیل کا اعلان کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے امدادی اداروں کے رابطہ کار دفتر ’اوچا‘ کے سربراہ جان ہومز نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کی بدترین بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں چودہ ملین افراد متاثر ہوئے ہیں اور یہ حالیہ برسوں میں کسی بھی ملک کو درپیش بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے۔ادھر یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور ہمارا عیاش صدر برطانیہ کے دورے پر ہے. ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مردود سے جتنی جلدی ہو سکے چھٹکارا حاصل کیا جائے.

سیلاب سےفصلیں تباہ، مہنگائی میں اضافہ.متاثرہ آبادی میں سے پچھہتر فیصد کی زندگی کا دارومدار زراعت پر ہے.اقوامِ متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے فصلوں کی تباہی کے بعد ملک میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔اقوامِ متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے ایف اے او کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے کچھ علاقوں میں مکمل ور پر فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور مویشی لاپتہ ہیں۔سیلاب سے پاکستان میں سات لاکھ ہیکٹر رقبے پر کاشت کی گئی فصلیں یا تو تباہ ہو چکی ہیں یا زیرِ آب ہیں۔ایف اے او کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سیلاب کا اثر ملک میں گندم کی آئندہ فصل پر بھی پڑے گا۔پاکستان میں ایف اے او کے ہیڈ آف پروگرامز ڈیوڈ ڈولان کے مطابق ملک میں قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے جس کے مقامی آبادی کی ’فوڈ سکیورٹی‘ پر گہرے اور سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ آبادی میں سے پچھہتر فیصد کی زندگی کا دارومدار زراعت پر ہے اور ان کا ادارہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ان متاثرین کے پالتو مویشیوں کو مرنے سے بچایا جا سکے۔خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں سیلاب سے ایک کروڑ چالیس لاکھ کے لگ بھگ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ اب تک سیلاب سے سولہ سو کے قریب افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

مختلف امدادی تنظیموں اور اداروں کی سیلاب زدگان کی مدد کی خبریں تو ہم سنتے رہتے ہیں لیکن ایک ایسے مزدور کے بارے میں سنیے جو محلے کے چند نوجوانوں کے ساتھ متاثرین کی مدد کے لیے دن رات کی پرواہ کیے بغیر ہر جگہ پہنچا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں سائیکل ریڑھی چلانے والے ایک مزدور دین محمد مجاہد المعروف دینو سیلاب آنے کے فوراً بعد سے متاثرین کی مدد کے لیے ہر جگہ پہنچا ہے۔دینو کی کوئی تنظیم نہیں ہے، ان کے بیٹے اور محلے کے چند نوجوان ان کے مدد گار ہیں۔ دین محمد کے چار بیٹے ہیں، وہ خود مزدور ہے اور گھر کا واحد کفیل ہے۔دین محمد نے بتایا کہ ’سب سے پہلے میں تحصیل پرووا کے علاقے رشید پہنچا جہاں ما سوائے ایک مسجد کے تمام گاؤں پانی میں بہہ چکا تھا اور لوگ مسجد کی چھت پر پناہ لیے ہوئے تھے۔ یہ لوگ دو روز سے بھوکے پیاسے تھے اور ان تک پہنچنا انتہائی مشکل تھا۔ اس لیے ایک کشتی کا انتظام کیا گیا اور اس مسجد تک ہم پہنچے تو ہمارا ایک ساتھی پانی میں گر کر بہا جا رہا تھا جسے بڑی مشکل سے بچایا اور پھر خوراک کے دو دیگ ان متاثرین کو دیے‘۔انھوں نے کہا کہ کہیں خوراک کی کمی ہے تو کہیں پینے کے پانی کی قلت، کوئی کپڑے اور چپل مانگتا ہے تو کچھ خواتین اور بلکتے شیر خوار بچوں کے لیے دودھ لانے کی منتیں کرتی ہیں۔شہر میں لاؤڈ سپیکر کے ذریعے اعلانات کے ذریعے چندہ اکھٹا کر کے دین محمد متاثرین کے لیے کھانا تیار کراتا ہے اور پھر متاثرین تک یہ خوراک پہنچاتا ہےدینو کے مطابق انھوں نے ایک عورت کو دیکھا جس نے بچے کو تپتی سڑک پر لٹا رکھا تھا اور اس پر سے مکھیاں ہٹا رہی تھی۔ اس عورت کے پاس نہ کوئی خیمہ تھا اور نہ ہی کوئی ایسا سامان جس پر بچے کو لٹا سکتی۔شہر میں لاؤڈ سپیکر کے ذریعے اعلانات کے ذریعے چندہ اکھٹا کر کے دین محمد متاثرین کے لیے کھانا تیار کراتے ہیں اور پھر متاثرین تک یہ خوراک پہنچاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جب متاثرین کے لیے کھانا تیار کیا جاتا ہے تو بہت دل چاہتا ہے کہ ایک پلیٹ بچوں کو بھجوا دوں لیکن اگلے لمحے یہی خیال آتا ہے کہ کہیں اس ایک پلیٹ سے کوئی سیلاب زدہ اس کا بھائی یا بہن بھوکا نہ رہ جائے اس لیے وہ یہ خیانت نہیں کر سکتا.دینو کی کوئی تنظیم نہیں ہے، ان کے بیٹے اور محلے کے چند نوجوان ان کے مدد گار ہیں۔ دین محمد کے چار بیٹے ہیں، وہ خود مزدور ہے اور گھر کا واحد کفیل ہے۔ دینو نے بتایا کہ ان امدادی کارروائیوں کے دوران ان کا اپنا خاندان بھی متاثر ہوا ہے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ گھر میں پکانے کو کچھ نہیں تھا تو پیاز اور ٹماٹر کے ساتھ بچوں نے کھانا کھایا ہے۔انھوں نے کہا کہ جب متاثرین کے لیے کھانا تیار کیا جاتا ہے تو بہت دل چاہتا ہے کہ ایک پلیٹ بچوں کو بھجوا دوں لیکن اگلے لمحے یہی خیال آتا ہے کہ کہیں اس ایک پلیٹ سے کوئی سیلاب زدہ اس کا بھائی یا بہن بھوکا نہ رہ جائے اس لیے وہ یہ خیانت نہیں کر سکتا۔دین محمد نے بتایا کہ اس سے پہلے بھی علاقے میں اگر کہیں کوئی مشکل میں ہوتا تو وہ اس کی مدد کے لیے ضرور پہنچتا ہے اسی لیے لوگ اسے مجاہد کہتے ہیں

مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرانے والے نجی فضائی کمپنی کے مسافر طیارے کے ملبے سے بلیک باکس کی تلاش جاری ہے۔

جمعہ کو موسم بہتر ہونے کی وجہ سے اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے ارکان اور امدادی کارکنوں نے اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے۔خیال رہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سیفٹی انوسٹیگیشن بورڈ کے صدر ائر کمووڈور خواجہ ایم مجید کی سربراہی میں بننے والی سات رکنی ٹیم میں تکنیکی اور آپریشنل فیلڈ میں مہارت رکھنے والے افراد شامل ہیں اس کے علاوہ حادثے کا شکار ہونے والی نجی فضائی کمپنی کا ایک نمائندہ بھی شامل ہے۔
اہلکار نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ موسم صاف رہنے کی صورت میں بلیک باکس کی تلاش آسان ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جائے حادثہ سے مزید نمونے اکھٹے کرکے اُنہیں ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھجوادیا گیا ہے۔طیارے کے ملبے کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کرنا ممکن نہیں ہے اور ان کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں کاٹ کر امدادی کارکن اپنے کاندھوں پر رکھ کر نیچے لیکر آئیں گے
اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی آپریشن کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار بھی بلیک باکس کی تلاش کے سلسلے میں ہونے والی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزار سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو پہاڑی کے دوسری جانب بھی تعینات کیا گیا ہے جہاں پر وہ علاقے میں سرچ آپریشن کر رہے ہیں۔
اُدھر فرانس کی ماہرین کی ٹیم نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا اور حادثے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کا مذکورہ غیر ملکی ٹیم سے مکمل رابطہ ہے۔
اس حادثے میں ہلاک ہونے والے ایسے افراد جن کی شناخت ابھی تک نہیں ہوئی اُن کی شناخت کے لیے رشتہ داروں کے ڈی این اے ٹیسٹ لیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ حادثے کا شکار ہونے والہ طیارہ فرانس کی کمپنی کا ہے اور کمپنی کے اہلکار اپنے طور پر اس واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
جمعرات کو تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان نے جائے حادثہ سے کچھ شواہد اکھٹے کیے ہیں جنہیں لیبارٹری بھجوایا دیا گیاہے۔
کمیٹی کے ساتھ کام کرنے والے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جب تک حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کا بلیک باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈر نہیں مل جاتا اُس وقت تک اس بات کا سراغ لگانے میں کامیابی نہیں مل سکتی کہ حادثے کی وجوہات کیا تھیں۔
انہوں نے کہا کہ حادثہ سے پہلے طیارے کے پائلٹ اور اسلام آباد ائرپورٹ کے کنٹرول ٹاور سے جو آخری رابطہ ہوا تھا اُس کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات شفاف طریقے سے کی جائیں گی اور عوام کو اس سانحے کے بارے میں ہونے والی تحقیقات سے آگاہ کیا جائے گا۔

سڈنی (گونج خصوصی رپورٹ)ماہنامہ گونج کے جولائی کے شمارے میں پاکستان مسلم لیگ(ن) آسٹریلیا کے جنرل سیکریٹری کا انٹرویو شائع ہوا تھا جس سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے جیسے مظہر ادریس ٹیپو ہی مسلم لیگ (ن) کے عہدے دار ہیں لیکن اب انہوں نے ادارہ گونج کو ایک وضاحتی ای میل ارسال کی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ چوہدری شعیب حنیف پاکستان مسلم لیگ(ن) آسٹریلیا کے فاونڈر ہیں جبکہ حافظ شاہد اور مظہر ادریس ٹیپو کو خود قائد مسلم لیگ(ن) میاں محمد نوازشریف صاحب نے صدر اور جنرل سیکریٹری کے عہدے تفویض کئے ہیں. مظہر ادریس نے مزید لکھا ہے کہ عنقریب وہ اور حافظ شاہد پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں جب وہ مسلم لیگ (ن) کی لیڈرشپ سے ملاقات کر کے تبادلہ خیال کریں گےاور آسٹریلیا کی صورتحال کے حوالے سے لیڈرشپ کو آگاہ کریں گے.مظہر ادریس ٹیپو نے مزید وضاحت کی ہے کہ شعیب حنیف اور حافظ شاہد سے انکے برادرانہ تعلقات ہیں.

مجھے یاد ہے کہ سینتیس برس پہلے جب محمود علی قصوری اور عبدالحفیظ پیرزادہ جیسے قانونی ماہرین پر مشتمل کمیٹی کا مرتب کردہ آئینی مسودہ پارلیمنٹ میں بحث کے لئے پیش ہوا تو اسمبلی ہال میں امید کی فصل لہلہا اٹھی۔ہر کوئی متفقہ آئینی مسودہ تیار کرنے پر ایک دوسرے کومبارک باد دے رہا تھا۔ سول سوسائیٹی خوش تھی کہ بنیادی انسانی حقوق کے احترام اور بلا امتیازِ جنس و مذہب سب کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنے کی ضمانت دی گئی ہے۔مذہبی جماعتیں یوں خوش تھیں کہ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہا گیا ہے اور یہ بھی کہ شریعت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں ہوگی۔ قوم پرست اس لئے خوش تھے کہ دس برس بعد کنکرنٹ لسٹ ختم ہوجاتی اور صوبے مزید بااختیار ہوجاتے۔اپنے بل بوتے اور صلاحیت کی بنیاد پر ترقی پر یقین رکھنے والے اس لیے شاداں تھے کہ دس برس بعد تعلیم و ملازمت کا کوٹہ سسٹم ختم ہوجائے گا۔جمہو ریت پسند جشن منارہے تھے کہ آئین توڑنے یا اسکا یکطرفہ حلیہ بگاڑنے کی سزا موت ہے اور اب جمہوریت سے سنگین مذاق کرنے کا زمانہ لد چکا۔
سوائے ایک یا دو ارکانِ پارلیمان سب ہی نے آئینی مسودے پر خوشی خوشی دستخط کردئیے۔انکے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ یہ آئین بمشکل سات آٹھ گھنٹے ہی اپنی خالص شکل میں نافذ رہ سکے گا ۔
چودہ اگست انیس سو تہتر کو آئین نافذ ہوا اور پندرہ اگست کو ملک کے غیر معمولی حالات کے بہانےشہریوں کے آئینی حقوق معطل کردئیے گئے۔اور جب تک اس آئین کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت رہی ملک ایمرجنسی اور ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت ہی چلایا جاتا رہا۔جب ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کرکے آئین معطل کیا تو تہتر کے آئین پر دستخط کرنے والے ولی خان ، شاہ احمد نورانی ، پروفیسر غفور احمد جیسے رہنماؤں پر مشتمل نو جماعتی قومی اتحاد نے مٹھائیاں تقسیم کیں۔ یوں ضیا الحق کو یہ کہنے کی جرات ہوئی کہ سیاستداں میرے ایک اشارے پر دم ہلاتے آئیں گے اور آئین کیا ہے چند صفحات کی ایک کتاب جسے جب چاہوں پھاڑ سکتا ہوں۔
دوسری بار جب پرویز مشرف نے تہتر کے آئین کو معطل کیا تو آئین کی خالق پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے بھنگڑے ڈالے اور پیپلز پارٹی کے ایک ٹوٹے ہوئے گروہ کے ساتھ ساتھ تہتر کی آئین ساز اسمبلی کے رکن چوہدری ظہور الہی کے صاحبزادے شجاعت حسین نے اپنے ہم نواؤں سمیت اور تہتر کے آئین سے بھی دو ہاتھ آگے صوبائی خودمختاری کا مطالبہ کرنے والی ایم کیو ایم نے مرکز پسند جنرل مشرف کو اعتماد کی بیساکھیاں فراہم کیں۔اور تہتر کے آئین پر دستخط کرنے والی جماعتِ اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام کی نئی پود نے متحدہ مجلسِ عمل کے نام سے اس آئین کو مشرف با مشرف کرنے کے لئے ستہرویں ترمیم کی ڈولی اٹھائی۔
آج وہ تمام جماعتیں جنہوں نے اوریجنل آئین پر دستخط کرنے کے بعد یا تو خود اس کا حلیہ بگاڑنے کی کوشش کی یا حلیہ بگاڑنے والوں کا اعلانیہ اور پوشیدہ ساتھ دیا۔تہتر کے آئین کو آمرانہ ادوار کی تمام آلائشوں اور بدعتوں سے پاک کرکے اٹھارویں آئینی ترمیم کے مسودے کو متفقہ طور پر مرتب کرنے میں سرگرم ہیں۔
تو کیا یہ کہا جائے کہ صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ رہا ہے یا پھر یہ کہا جائے کہ
دامن پے کوئی چھینٹ نہ خنجر پے کوئی داغ
تم قتل کرو ہو ، کہ کرامات کرو ہو !

پاکستان کے ہر محلے میں مرغی کا گوشت بیچنے والے کی دوکان کے باہر ایک بڑا سا مضبوط آہنی پنجرہ رکھا ہوتا ہے۔ اس میں سینکڑوں بیمار اور صحت مند مرغیاں ایک دوسرے سے لگ کر بیٹھی رہتی ہیں۔ وہ اتنی تھکی اور سہمی ہوئی ہوتی ہیں کہ پھڑ پھڑاہٹ تو کجا کُڑک کُڑک کی آواز بھی نہیں آتی۔ ہر پانچ دس منٹ بعد پنجرے کا چھوٹا سا دروازہ کھلتا ہے ۔ ایک ہاتھ اندر جاتا ہے۔ پنجرے میں تیس سیکنڈ کے لیے اجتماعی سی پھڑ پھڑاہٹ اور خوفزدہ سی کُڑک کُڑک سنائی دیتی ہے مگرایک اور مرغی کم ہوجاتی ہے اور اس کی خوفزدہ چیخیں سن کر باقی مرغیاں پھر ڈری سہمی ایک دوسرے سے لگ کر بیٹھ جاتی ہیں۔ پنجرہ ہر صبح بھرتا، ہر شام تک خالی ہوتا ہے اور پھر اگلی صبح بھر جاتا ہے۔
مجھے آج کا پاکستان اسی طرح کا ایک آہنی پنجرہ محسوس ہوتا ہے۔ جس میں ایک اور مرغی کم ہونے پر ذرا سی احتجاجی پھڑ پھڑاہٹ اور کُڑک کُڑک ہوتی ہے اور باقی رہ جانے والی مرغیاں شکر ادا کرتی ہیں کہ اس دفعہ وہ بچ گئیں۔
ٹھیک ہے کہ لکی مروت کے گاؤں حسن خیل کے فٹ بال گراؤنڈ میں ایک خودکش بمبار نے سو سے زائد لوگ مار ڈالے مگر خدا کا شکر ہے کہ یہ سانحہ میرے شہر میں نہیں ہوا۔
مجھے افسوس ہے کہ پشاور کی پیپل منڈی میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ لوگ کار بم کا نشانہ بنے لیکن پشاور میں تو یہ ہوتا ہی رہتا ہے۔اس میں نئی بات کیا ہے۔توبہ توبہ پریڈ لین راولپنڈی میں نمازیوں پر خودکش حملہ لیکن فوج چونکہ قبائیلی علاقوں میں آپریشن کر رہی ہے اس لیے ردِ عمل تو ہونا ہی تھا۔ مگر سجدے میں گرے ہوؤں کو بہرحال نہیں مارنا چاہیے تھا۔
خیبر ایجنسی کے علاقے تیراہ میں چھیاسٹھ بےگناہ لوگ فوجی طیاروں کی بمباری کی زد میں آگئے لیکن قصور ان لوگوں کا بھی تھا۔وہ کیوں اپنے علاقے میں جنگجوؤں کو برداشت کرتے ہیں۔
بحیثیت انسان ہمیں افسوس ہے کہ لاہور میں دو عبادت گاہوں پر حملے میں سو سے زائد احمدی ہلاک ہوگئے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ نواز شریف ان احمدیوں کے دکھ میں شریک ہوتے ہوئے انہیں اپنا پاکستانی بھائی بھی کہیں اور دین کی حرمت کا مذاق اڑائیں۔کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں شیعہ مارے جا رہے ہیں تو سنی بھی تو مارے جا رہے ہیں۔ اگر پختون مارے جارہے ہیں تو مہاجر بھی تو ہلاک ہو رہے ہیں۔ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ بہت غلط بات ہے۔ سب کو مل جل کر رہنا چاہیے اور پولیس کو ٹارگٹ کلرز کے بارے میں اطلاع دینی چاہیے۔
پشاور میں رحمان بابا کا مزار، نوشہرہ میں بہادر بابا، لنڈی کوتل میں امیر حمزہ شنواری، مہمند میں حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار پر بم حملہ، اسلام آباد میں بری امام کے مزار پر خودکش حملہ اور سوات میں پیر سیف الرحمان کی لاش کو قبر سے نکال کر چوک میں لٹکایا جانا بہت بری بات ہے۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ دکھ ہوا یہ خبریں سن کر۔
مگر داتا صاحب کے مزار پر حملہ!! یہ تو حد ہی ہوگئی۔ ایسا کرنے والا مسلمان تو کجا انسان کہلانے کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ یہ تو پنجاب کا نائن الیون ہے۔ اس اندوہناک واقعے پر تین دن کیا سات دن کا سوگ بھی کم ہے۔ اس سانحے پر کون ہے جس کی آنکھ اشکبار نہیں ہے۔جتنا ملک گیر ردِ عمل داتا صاحب پر خودکش حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس کا صرف بیس فیصد بھی دوسرے مزاروں پر حملوں کے خلاف ملک گیر سطح پر دکھایا جاتا تو غالباً داتا صاحب کے مزار کی حرمت یوں پامال نہ ہوتی لیکن کسی کو شاید کبھی احساس تک نہ ہو کہ جتنا ملک گیر ردِ عمل داتا صاحب پر خودکش حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس کا صرف بیس فیصد اجتماعی ردِ عمل حسن خیل، پیپل منڈی، تیراہ اور پریڈ لین کے قتلِ عام اور رحمان بابا، بہادر بابا، امیر حمزہ شنواری، حاجی صاحب ترنگزئی اور بری امام کے مزار پر حملوں کے خلاف ملک گیر سطح پر اگر دکھایا جاتا تو غالباً داتا صاحب کے مزار کی حرمت یوں پامال نہ ہوتی۔
مگر ہر دس منٹ بعد پنجرے کے تنگ دروازے میں داخل ہونے والے پُر اعتماد قاتل ہاتھ کو خوب معلوم ہے کہ سینکڑوں میں سے کوئی ایک مرغی بھی اپنی نوکیلی چونچ سے کام لینا نہیں جانتی.

اسرائیل نے کہا کہ ہے کہ وہ حال ہی میں غزہ امداد لے کر جانے والے قافلے پر اپنے فوجیوں کے حملے کی خود تحقیقات کروائے گا۔ دریں اثناء بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے اسرائیل سے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کمیٹی نے غیر معمولی طور پر ایک سخت بیان میں کہا کہ اسرائیل کا محاصرہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔کمیٹی نے ضروری سامان کے بغیر کام کرنے والے ہسپتالوں، ہر روز کی بجلی کی بندش اور پینے کے لیے مضر صحت پانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ کی کل آبادی کو سزا دے رہا ہے۔
کمیٹی نے حماس پر بھی الزام لگایا کہ وہ ریڈ کراس کو چار سال سے ان کی قید میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت تک رسائی نہ دے کر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔اسرائیلی کمانڈو نے غزہ شہر کے لیے امداد لے کر جانے والی کشتیوں پر حملہ کر دیا تھا جس میں کئی ترک کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔
اسرائیلی حملے کے بعد بین الاقوامی سطح پراسرائیل کی طرف سے غزہ کے محاصرے کی پرزور مذمت کی گئی تھی۔
اسرائیلی حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اب کہا گیا ہے کہ مذکورہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس میں دو بین الاقوامی مبصر بھی شامل ہوں گے۔
بین الاقوامی مبصرین میں شمالی آئرلینڈ کے سابق سیاستدان اور امن کے نوبل انعام یافتہ ڈیوڈ ٹرمبل اور ریٹائرڈ کینیڈین جنرل کین واٹکن شامل ہیں۔
اسرائیل نے اقوام متحدہ کے زیر انتظام تحقیقات کروانے کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔ اسرائیلی کابینہ پیر کو مجوزہ تحقیقات کی منظوری دے گی۔امریکہ نے اپنے رد عمل میں امید ظاہر کی ہے کہ اسرائیل بغیر کسی تاخیر کے تحقیقات کروانے کے بعد اس کے نتائج منظر عام پر لائے گا۔
امریکی انتظامیہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کروائے گا.